عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

اللہ تعالیٰ کی فطری معرفت /درس عقائد توحید قسط 4

درس عقائد توحید
مہدی مضامین و مقالات

اللہ تعالیٰ کی فطری معرفت /درس عقائد توحید قسط 4

درس عقائد (توحید) درس 4

اللہ تعالیٰ کی فطری معرفت

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ :

معرفت پروردگار اور توحید

فطری حوالے سے اللہ تعالیٰ کی معرفت سب سے واضح ، آسان اور دنیا میں ہر انسان چاہے وہ کسی مذہب یا خطے سے ہو اس کی معرفت پروردگار عالم کے بارے فطری ہے۔

فطرت کیا ہے؟

سورہ روم آیت نمبر 30 میں ارشاد پروردگار عالم ہو رہا ہے۔فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۚ فِطْرَتَ اللّـٰهِ الَّتِىْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْـهَا ۚ
پاک دل کے ساتھ دین کی طرف رخ کریں اللہ کی دی ہوئی قابلیت پر جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔

یہاں فطرت خلق کرنے کے معنی میں ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ فطرت کا مطلب لمبائی میں کھولنا ہے۔ یعنی جب ہم نہیں تھے اور پوری کائنات نہیں تھی تو اللہ نے اس عدم کو کھولا اور موجودات دنیا میں آئی۔

فطرت بمعنی تخلیق۔
اگر ہم اپنی روح اور دل پر نگاہ ڈالیں تو پروردگار پر ہمارا عقیدہ فطری ہے۔ ہر انسان چاہے کسی بھی مذہب سے ہے وہ جانتا ہے کہ اسے اور اس پوری کائنات کو خلق کرنے والا کوئی خالق ہے۔
اسے علمی اصطلاح میں ” علم حضوری ” کہتے ہیں یعنی ہم اسے اندرونی طور پر سمجھتے ہیں کہ ہمارا خالق پروردگار ہے اور ہم اسی سے وابستہ ہیں اور ہم ایک لحظہ بھی اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔

سورہ اعراف 172 نمبر

” وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِىٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِـمْ ذُرِّيَّتَـهُـمْ وَاَشْهَدَهُـمْ عَلٰٓى اَنْفُسِهِـمْۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوْا بَلٰىۚ شَهِدْنَاۚ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِيْنَ
اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پُشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان کی جانوں پر اقرار کرایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں، انہوں نے کہا ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں، (یوں نہ ہو کہ) کہیں قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہ تھی۔

ہماری تخلیق سے قبل کسی اور عالم میں ہم سے یہ عہد لیا گیا ہے وہاں ہم پروردگار عالم کے خالق ہونے کی گواہی دے کر آئے ہیں۔ لیکن اس دنیا میں آنے کے بعد ہم وہ عہد بھول گئے ہیں۔ اب ہم چاہے جس مذہب سے ہوں ہم اپنی مشکلات میں کسی ایسی طاقت کو پکارتے ہیں جس پر یقین ہوتا ہے۔ جو ہمیں نجات دے گی اور یہی اللہ کی فطری معرفت ہے جو ہمارے وجود کے اندر رچی بسی ہوئی ہے ۔

اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ دنیا کے سارے انسان تقریباً 90٪ انسان سمجھتے ہیں کہ ہمارا خالق پروردگار ہے۔

قرآن مجید کی سورہ العنکبوت میں بہت اچھی مثال دی ہے اللہ فرماتا ہے کہ:فَاِذَا رَكِبُوْا فِى الْفُلْكِ دَعَوُا اللّـٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَـهُ الدِّيْنَۚ فَلَمَّا نَجَّاهُـمْ اِلَى الْبَـرِّ اِذَا هُـمْ يُشْرِكُـوْنَ

لوگ جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور کشتی پھنستی ہے سمندروں، دریاوں میں طوفان کا شکار ہوتی ہے تو کشتی کے تمام سوار اللہ کو خلوص سے پکارتے ہیں (وہاں کسی کا دین نہیں دیکھا جاتا بلکہ سب پکارتے ہیں) لیکن جب اللہ انہیں نجات دیتا ہے پھر سب شرک کرنے لگتے ہیں یہ جو ہمارے وجود کی پکار ہوتی ہے تو یہ وہی فطری پروردگار کی معرفت ہے جو ہمارے وجود میں ہے۔

بہترین دلیل۔
آج بھی جب لوگوں کو جہاز میں مشکل پیش آتی ہے تو تمام لوگ اپنے وجود کے ساتھ اللہ کو پکارتے ہیں اور جب حالات ٹھیک ہو جاتے ہیں تو پھر سے شرک میں مشغول ہو جاتے ہیں تو یہ پکار فطری ہے جو ہمارے وجود میں بسی ہے۔ اور یہ بہترین دلیل ہے۔

اہم نکات:

1۔ اللہ کو اپنی فطرت سے پہچانو

2۔ اہل انتظار فطرتاً موحد ہیں وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں ان کے ہر ہر عمل سے خدا نطر آتا ہے۔

ترتیب و پیشکش:سعدیہ شہباز

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید