سو سوال سو جواب ورکشاپ:
تیسرا سوال اور جواب
اثبات خدا پر دلائل
علامہ حلی کا ملحدین سے مناظرہ
ایک عالم کی مادر محترمہ کا خوبصورت برھان
استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب
ہمارا تیسرا سوال یہ تھا کہ: اللہ تعالیٰ کے وجود کو کس طرح ثابت کیا جاسکتا ہے؟
The Big Bang Theory:
بالآخر آج کے دور میں ملحدین شبھے ہی تو ڈال رہے ہیں اور یہ مشہور شبہ ہے جو ہمارے تعلیم یافتہ طبقے میں خصوصاً بچوں اور جوانوں میں پھیل رہا ہے کہ کائنات خود بہ خود بنی ہے اور یہ ایک بِگ بینگ تھیوری ہی تو ہے کہ لاکھوں سال قبل کائنات میں ایک دھماکہ ہوا اور یہ کائنات ایک ذرے سے پھیلنا شروع ہوئی اور یہاں تک پہنچ گئی ہے اور مزید پھیل رہی ہے۔ یعنی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کوئی مادہ تھا کہ جو خود بہ خود بنا اور پھر خود بہ خود دھماکے کے بعد پھیل رہا ہے۔ خیر، یہ ایک مضحکہ خیز تھیوری ہے اور لوگ اسے علمی تھیوری کہتے ہیں کہ ایک چیز کا خود بخود بننا پھر اس میں دھماکہ ہونا اور پھر اتنی خوبصورت کائنات کا بن جانا۔
علامہ حلی(رح) کا ملحدین سے مقابلہ:
کہتے ہیں کہ ایران کے ایک بہت بڑے مغل بادشاہ تھے ان کا نام “خدا بندہ” تھا تو ان کے دربار میں کسی ملحد نے تمام علمائے اسلام کو چیلنج کیا۔ تو کوئی بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکا، اس زمانے میں بہت بڑے شیعہ عالم، علامہ حلی(رح) کا دور تھا۔
علامہ حلی اس کے مقابلے میں آئے اور اس کو کئی گھنٹے انتظار کروانے کے بعد آئے تھے۔ جب علامہ حلی(رح) پہنچے تو سب ناراض تھے، بادشاہ نے کہا کہ آپ نے بڑی دیر کر دی، یہ دربار کتنے وقت سے لگا ہوا ہے۔
علامہ حلی(رح) نے کہا: اصل میں میں جس راستے سے آرہا تھا وہاں ایک نہر تھی اور وہاں کوئی کشتی کا انتظام نہیں تھا پھر میں وہاں بیٹھ گیا اور میں نے دیکھا کہ خود بہ خود لکڑیوں کے تختے آرہے ہیں اور جمع ہونے شروع ہوگئے پھر وہ جڑنے شروع ہوئے یہاں تک کہ ان میں کیل لگنے شروع ہوئے یہاں تک کہ وہ کشتی بن گئی پھر چپو بنا، پھر میں اس پر سوار ہوگیا اور کشتی خود بہ خود چلنے لگی، پھر میں کنارے تک پہنچ گیا تو بس اسی میں وقت لگ گیا، وگرنہ میں بروقت پہنچ جاتا۔
اب وہاں بیٹھے ملحد چیخ پڑے اور کہنے لگے: دیکھیں یہ تو بےوقوفی والی بات ہوئی اور یہ کس آدمی کو آپ نے ہمارے مناظرے کے لیے بلایا ہے کہ جو کتنی مضحکہ خیزبات کہہ رہے ہیں، ہمیں تو ان کے دماغ پر شک ہے کہ یہ دماغی طور پر سالم ہیں یا نہیں۔
اب سارا دربار بھی حیران تھا تو علامہ حلی(رح) نے فرمایا: کہ ہم مناظرہ جیت گئے۔ جب ان ملحدوں کے نزدیک ایک چھوٹی سی کشتی نہیں بن سکتی تو اتنی بڑی کائنات کیسے بن گئی۔ جب کشتی بنانے کے لیے کوئی انجینئر چاہیے اور اسے چلانے کے لیے کوئی ملاح چاہیے تو کائنات بنانے کے لیے بھی خالق چاہیے اور اسے منظم چلانے کے لیے ایک ناظم چاہیے اور ظاہری بات ہے کہ ایک چھوٹی سی کشتی کے بارے میں جب ہم چیخنے لگ گئے کہ نہیں ہوسکتا تو پھر اتنی بڑی کائنات میں ہم کیوں نہیں سمجھ رہے؟؟
یہاں سے ملحدین مبہوت ہوگئے اور مناظرہ ختم ہوگیا اور یہ ایک بہترین جواب تھا (یہ جواب برھان نظم پر ہے)۔
برھان یعنی وہ دلیل جو یقین کے مقام پر پہنچی ہو کہ جسے پھر رد کرنا ناممکن ہو، ہماری اپنی عام فہم گفتگو میں ہم اسے برھان کہینے گے یعنی بہت پکی اور پختہ دلیل۔
تو اب اس دلیل کے اندر نظم بیان ہوا ہے اور خود کائنات کی خلقت کا بھی ذکر ہے اور یہ تو کوئی بچہ بھی سمجھتا ہے کہ کوئی چیز تب تک نہیں بنتی کہ جب تک اسے کوئی نہیں بنائے گا اور کوئی بھی چیز خود بہ خود نہیں چلتی اسے کوئی چلائے گا تب وہ چلے گی جیسے (مثلاً گھڑی، موبائل وغیرہ) یعنی ایک چھوٹی سی چیز ہی لے لیں۔ اب موبائل کے اندر کتنے ہی لوگوں نے کتنا ٹیکنکل کام کیا ہے کہ وہ چل رہا ہے، اب اس کے پیچھے بنانے میں انسان ہیں اور جو اسے اپڈیٹ کرنے والے انسان ہیں تو ایک چھوٹی سی مشینری بغیر انسانی دخالت کے نہیں چل رہی تو کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑی کائنات بغیر کسی کی دخالت کے چلے۔ یا میرا اپنا وجود خود میں تو نہیں چلا رہا کون میرے خون کی گردش، میرا نظام ہاضمہ، میرے دل کی دھڑکن، کون میرے اعصاب کو اور کون میرے دماغ کو چلا رہا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: کہ
آفاق اور اَنفُس دونوں میں میری نشانیاں دیکھیں۔
سورہ فصلت۔ (سَنُرِيْهِـمْ اٰيَاتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِىٓ اَنْفُسِهِـمْ (53))
ایک عالم کی مادر محترمہ کا خوبصورت برھان
کہتے ہیں کہ ایک بہت بڑے مفکر اور عالم تھے اور ایک کتاب لکھ رہے تھے انہوں نے اللہ کے وجود پر دلائل اکھٹے کرنے شروع کئے۔ ان کی والدہ بہت ہی سادہ سی خاتون تھیںو ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ کسی یونیورسٹی سے نہ پڑھے ہوں لیکن کائنات میں ان کی فکر بڑی عمیق ہوتی ہے اور ان کے تجربات ہوتے ہیں تو ان کی والدہ کوئی پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن بہت فھمدیدہ تھیں۔
مادر گرامی نے کہا بیٹا کیا لکھ رہے ہو؟ کہا: کتاب لکھ رہا ہوں۔ پوچھا: کس پہ؟ کہا: کہ میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے، کوئی چلانے والا ہے۔
والدہ نے کہا: میں اپنا ایمان بتاتی ہوں کہ میں کس طرح سمجھی ہوں کہ یہ کائنات بغیر خالق کے نہیں ہے۔ کہا: جی ماں جی بتائیے۔
اس نے کہا: یہ میں ایک چرخہ کات رہی ہوں اور میری انگلی سے آگے حرکت آرہی ہے اور آگے دھاگہ سوت لینے والا کام کر رہا ہے تو ایک چھوٹا سا چرخہ جب میری انگلی کی حرکت کے بغیر نہیں چل سکتا کہ جب میں ہاتھ پیچھے کر لوں اور انگلی ہٹا لوں تو یہ سارا چرخے کا نظام رک جاتا ہے اور جب میں انگلی کو حرکت دیتی ہوں تو یہ دھاگہ بن رہا ہے تو جہاں ایک دھاگہ بننے کے لیے میری ایک انگلی کی حرکت ضروری ہے اور یہ ایک چھوٹا سا نظام نہیں چل سکتا تو اتنا بڑا نظام کہ جس میں انسان بن رہے ہیں، جانور، پودے بن رہے ہیں، یہ شب و روز کا آنا، موسموں کا آنا اور جہاں میں کیا کچھ نہیں ہورہا۔ تو یہ کیسے ایک حرکت دینے والے کے بغیر چلے گا اور بنے گا۔
تو انہوں نے اس دلیل کو اپنی کتاب میں لکھا اور ہم اسے بچوں اور جوانوں کو سمجھانے کے لیے ایک بہترین دلیل سمجھتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی کہا تھا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ مادہ ہی ہے تو پھر ان لوگوں سے ہمارا سوال یہی ہے کہ مادہ کیسے بنا؟
مادہ تو شعور و آگاہی نہیں رکھتا پھر کون اسے مختلف اشکال میں ڈھال رہا ہے انسان، جانور اور پودے بن رہے ہیں، آخر ہمارے ہاتھوں میں بھی مادہ ہوتا ہے ہم نے مادے سے موبائل بنایا اس میں کتنا ٹیکنکل کام ہوتا ہے، کتنے انجینئر بیٹھتے ہیں اور موبائل کے ایک ایک پرزے کے علیحدہ انجینئر ہیں کتنے ماہرین بیٹھتے ہیں تب جا کر ایک چھوٹا سا موبائل مادہ سے بنتا ہے۔
تو انسان کا باڈی کہ جس کے اندر فقط آنکھ میں ہی کئی لاکھ اعضاء ہیں یعنی ایک آنکھ کے اندر پانچ لاکھ سے زیادہ اعضاء ہیں اور یہ آنکھ دنیا کے ہر کیمرے سے بہتر ہے یعنی رنگوں کو دیکھنے میں تو پھر کس طرح یہ آنکھ خود بہ خود بن گئی جبکہ ایک موبائل کیمرہ خود بہ خود نہیں بن سکتا کہ جس کی کیفیت ہماری آنکھ سے کم ہے۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ تھیوری مضحکہ خیز ہے۔
پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہم ان تمام چیزوں میں غور و فکر کرنے کے ساتھ خود کائنات میں اور بالخصوص خود اپنے وجود میں غور و فکر کریں اور اس پروردگار عظیم، اس خالق عظیم ، اس ناظم عظیم کے جلوے دیکھیں اور الہیٰ معرفت پیدا کریں۔ آمین
والسلام
عالمی مرکز مہدویت۔قم