عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

امام عصر عج کے ظہور کی شرائط اور علامات (2)

مہدی مضامین و مقالات

امام عصر عج کے ظہور کی شرائط اور علامات (2)

سلسلہ بحث مہدویت(11 قسط)

موضوع:امام عصر عج کے ظہور کی شرائط اور علامات(2) 

مصنف: استاد محترم مهدویت آغا علی اصغر سیفی

شرائط ظہور:

عالم ہستي مسببات اور سببات کا جہان ہے۔ اپنے اردگردپائي جانے والي چيزوں ميں غور کرنے سے ہميں معلوم ہوتاہے کہ ہر چيز کے وجود ميں آنے کےلئے خاص قسم کي شرائط ہيں۔
مثلاً گندم کے بيج کو ايک پربار پودا بننے کيلئے خاص شرائط مثلاً سورج کي روشني ٬ پاني ٬مناسب زمين اورايک ماہرکاشتکار کي ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ گندم کي نشوونما ميں پائي جانے والي رکاوٹوں کو نيزدور کرنے کي ضرروت ہے ۔
تاريخ بشريت کا اگر غور سے مطالعہ کيا جائے تو انساني معاشرے ميں ايک نہايت مؤثر چيز يعني انقلاب آشنا ہوں گے۔
جب ہم وقوع انقلاب کے بارے ميں فکر کريں تو يہ بات اچھي طرح ہمارے ليے واضح ہوتي ہے کہ ہر انقلاب کي کاميابي کيلئے خاص شرائط کا ہونا ضروري ہے.
مثال کے طورپر اگر امام خميني (رح) کا با برکت وجود نہ ہوتا تو انقلاب ايران کبھي کا مياب نہ ہوتا۔
امام زمانہ عليہ السلام کا عالمي انقلاب نيز کچھ ايسي شرائط کا حامل ہے، جن کا وجود اس کے وقوع پذير ہونے کيلئے ضروري ہے.
بزرگان دين کے فرمودات کي روشني ميں صاحبان فکر نے امام زمانہ عليہ السلام کے انقلاب کيلئے چار شرطوں کو ذکر کيا ہے:
(الف). مکمل ضابطہ حيات
(ب) ۔ قيادت اور رہبري
(ج) ۔ انصارو مددگار
(د) : عام لوگوں کي آمادگي

(الف):۔ مکمل ضابطہ حيات:

کسي بھي معاشرہ کي موجودہ حالت ميں تبديلي اور اچھے ماحول اور معاشرے ميں بدلنے کيلئے جب بھي کوئي تحريک چلتي ہے تو اسے اپني کاميابي کيلئے دو چيزوں کي ضرورت ہوتي ہے:
1- معاشرے ميں موجود برائيوں اور خرابيوں کے خاتمے کيلئے بہترين طريقہ و روش کي ضرورت ہوتي ہے۔
2-بہترين اور نيک معاشرے کے تحقق اور پھر اس کي ترقي اور استحکام کيلئے ايک منظم اور مکمل قانون اور لائحہ عمل کي ضر ورت ہوتي ہے۔
حضرت ولي عصر (عج)کے عالمي قيام ميں يہي دو شرطيں پائي جاتي ہيں.
يعني آنحضرت کا قيام پہلے ايک منظم اورمکمل پروگرام کے تحت پورے عالم سے ظلم و ظالمين کا خاتمہ کردے گا اورپھر دنياوالوں کو ايک صحيح و سالم ٬ پر امن اور عدل وانصاف کي بنيادوں پر قائم زندگي عطا کرے گا۔
اور يہ کام حضرت وليعصر (عج) کے قيام ميں ہوکر ر ہے گا کيونکہ اللہ رب العزت نے اپنے لامحدود علم و حکمت اور بے نہايت قدرت کے ذريعے اپني بہترين مخلوق يعني حضرت انسان کي مادي ٬ معنوي٬ فردي اور اجتماعي ضروريات کو مدنظر رکھتے ہوئے ايک مکمل اور صحيح دستور العمل وضع فرمايا.
پھر اسے دين اسلام اور قرآن کي صورت ميں اپنے آخري نبي نازل فرمايا ہے وہ آنحضرت کے آخري جانشين حضرت وليعصر (عج) کے ذريعے اجراء ہوگا۔
اسي سلسلے ميں رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا:
(سُنَّتُہ سنّتي يُقيمُ الناسَ عَلي مِلّتي وَشَريعَتي وَيَدْعُوھُمْ الي کتابِ رَبّي عزّوَجل)
اس کي سيرت اور سنت ميري ہي سيرت و سنت ہے اور وہ لوگوں کو ميرے دين اور آئين پر چلائے گا اور انہيں کتاب خدا کي طرف دعوت دے گا۔ (کمال الدين ج۲/ب۳۹ ٬ ح۶.)
تفسير عياشي ميں اس آيت (وقاتلوا المشرکين کافہ….) کے ذيل ميں امام جعفر صادق عليہ السلام سے منقول ہے کہ:
ابھي تک اس آيت کی تاويل نہيں آئي ہے اور جب ہمارا قائم قيام کرے گا ٬ جو بھي اسےدرک کرے گا اس آيت کي تاويل پالے گا۔ وہ دين محمدي کو پوري دنيا ميں پھيلادے گا،يہاں تک کہ وہ روئے زمين پر شرک کي کوئي چيز بھي باقي نہ رہے گي۔ (تفسير عياشي ج۲ ٬ ص۵۶ ٬ ح۴۸.)

(ب) ۔ قيادت اور رہبری

کسي بھي مفيد اور مؤثر اسلامي تحريک کي کاميابي کيلئے ايک آگاہ ٬ دلير اور درد دل رکھنے والا رہبر کا ہونا ضروري ہے۔ تاکہ وہ تحريک کے اھداف اور اغراض کو مدنظر ر کھتے ہوئے صحيح معنوں ميں اس کي رہبري اور قيادت کرے ،تمام رکاوٹوں کو عبور کرےاور اسے اپنے مقدس اھداف تک لے جائے.
جيسا کہ بني اسرائيل کي داستان ميں اللہ نے اسي بات کي طرف اشارہ فرماياہے۔
(اَلَمْ تَرَ اِليَ الملأ من بني اسرائيل من بعد موسي قالو لِنَبّي لھم ابعث لَنَا مَلِکاً نقاتل في سبيل اللہ )
کيا آپ نے نے بني اسرائيل کے ايک گروہ کو نہيں ديکھا کہ انہوں نے حضرت موسي کے بعد اپنے نبي سے کہا کہ ہمارے ليے حکمران معين کرتا کہ ہم (اس کي حکمراني ميں)راہ خدا ميں جہاد کريں۔ (سورہ بقرہ/آيۃ246.)
اور جب اللہ تعالي نے حضرت طالوت کو ان کے لئے حکمران کے طور پر معين فرمايا تو انہوں نے اعتراض کيا.
تب اللہ کے نبي نے ان کے اعتراض کے جواب ميں يوں فرمايا:
(قال ان اللہ اصطفينہ عليکم و زادہ بسطۃ في العلم والجسم)
اس (نبي) نے کہا خدا نے اسے تم پر فضيلت دي ہے اور اسے علم اور جسم ميں تمہاري نسبت وسعت عطا فرمائي ہے۔ (سورہ بقرہ/ آيۃ 247.)
اللہ تعالي نے اس آيت ميں جنگ اور جہاد في سبيل اللہ کي دو اہم ترين شرطوں کي طرف اشارہ کيا ہے ايک علم و آگاہي اور دوسري قدرت اور توانائي۔ حضرت وليعصر (عج)کے قيام ميں بھي يہ دونوں شرطيں پائي جاتي ہيں۔اور يہاں يہ شرائط موجود ہيں کيونکہ اس عالميگر قيام کا رہبر و رہنما ايسي شخصيت ہے کہ جو آغوش امامت کا پر وردہ اور سر چشمہ وحي سے متصل ہے.
اپ وجہ قرآن اور معارف دين پر مکمل احاطہ رکھتے ہین ، انبيائے ماسلف کے علوم کا وارث اور خدا کے مورد تائيد ہیں.
يہ وہ ہستي ہے کہ جس نے ايک ہزار سال سے زيادہ اپني پر برکت زندگي سختيوں ميں گزار دي ہے اور حکومتوں اورملتوں کے انقلابوں اور تحريکوں پر کڑي نظر رکھے ہوئے ہیں.
(المھدي رجل من اھل بيتي يملا الارض عدل و قسطا کما ملئت ظلما و جوراً)
مہدي ميري اہلبيت ميں سے ايک فرد ہے جو زمين کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جيسا کہ ظلم و جور سے بھري ہوئي ہوگي۔

 

Leave your thought here

ٹیگز

icm313.com www.icm313.com آڈیوز آیات مهدویت آیندہ کے حوالے سے کیا پروگرام اخلاق منتظرین استاد حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی استاد محترم حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی استاد مہدویت علی اصغر سیفی امام(عج) کی معرفت امام زمانه امام زمانہ امام زمانہ عليہ السلام کے انتظار کی خصوصیات امام مہدی (عج) امام مہدی عج نہج البلاغہ کی رو سے انتظار حقیقی انتظار کے اثرات آغا علی اصغر سیفی آیۃ اللہ نجم الدین طبسی تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت) جلد ۲ جوان حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی حضرت مہدی علیہ السلام روح و روان انسان سوالات و جوابات سوالات وجوابات شرائط اور علامتيں(تعريف اور فرق) ظہور ظہور تک فاصلہ اور حجاب کا باعث قیام حضرت مہدی(عج) منتظرین کے فرائض مهدویت آڈیوز مهدوی پروگرامز مھدویت مھدویت آڈیوز مہدویت ویڈیوز ناصرین اور حقیقی منتظرین نهج البلاغہ نہج البلاغہ وہ تیاری ویڈیوز کتاب کیا پانچ سال کا بچہ امام بن سکتا ہے؟