عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ بحث مہدویت( پانچویں قسط)_موضوع:فوائد امام غائب (عجل الله تعالی فرجه الشریف)- مصنف: استاد مهدویت جناب آغا علی اصغر سیفی صاحب

مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ بحث مہدویت( پانچویں قسط)_موضوع:فوائد امام غائب (عجل الله تعالی فرجه الشریف)- مصنف: استاد مهدویت جناب آغا علی اصغر سیفی صاحب

غیبت کبری میں امام غائب عج کے فوائد اور فیوضات مندرجہ ذیل ہیں ؛

1-امام واسطۂ فیض ہے :

یعنی امام کے وجود کا پہلا اثر اور فایدہ یہ ہے کہ امام معصوم(ع) خدا اور اسکے بندوں کے درمیان فیض پہنچانے کا واسطہ اور ذریعہ ہے ، اور جو بھی فیض اور نعمات انسان تک پہونچتی ہیں وہ سب امام معصوم (ع) کے ذریعہ ہم تک پہونچتی ہیں اور امام کا واسطہ فیض ہونا دو طرح سے تصور کے قابل ہے :
الف۔ دنیا کا نظام اسباب و مسببات پر قائم و جاری ہے اور ہر چیز ایک سبب یا علت کی وجہ سے وجود میں آتی ہے ، یہ ممکن نہیں کہ کسی سبب اور علت کے بغیر کوئی چیز وجود میں آئے ،اور ان تمام اسباب و علل کا سلسلہ خدا کی حجت ہی کی وجہ سے قائم ہے, چونکہ حادیث و روایات میں بار بار اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ اگر خدا کی حجت سے دنیا ایک ساعت یا پلک چپھکنے کی مدت خالی ہوجائے تو یہ دنیا اور کرۂ ارضی نابود ہوجائیگی ۔
عن ابي حمزة الثمالي عن ابي عبدالله (ع) قال: قلت له اتبقي الارض بغير امام؟ قال لو بقیت الأرض بغیر امام ساعة لساخت.
ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں:میں نے امام جعفر صادق (ع) سے پوچھا: آیا زمین امام کے بغیر باقی رہ سکتی ہے؟
فرمایا:اگر زمین ایک ساعت امام کے بغیر باقی رہے تباہ ہوجائیگی.(کمال الدين و تمام النعمه ص 308 )
اس طرح کی تمام روایات کے پیش نظر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زمین پر حجت خدا کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ حجت ظاہر بظاہر ہو, خواہ وہ پوشیدہ اور غائب ہو.
حجت خدا کے وجود کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ زمین اپنی تماتر نباتاتی,حیوانی اور انسانی حیات کے ساتھ موجود ہے.ورنہ سب کچھ ختم ہوجائیگا.
ب۔ بلاوں کا رفع ہونا: خدا کی حجت اور امام معصوم(ع) کےوجود سے بلائیں رفع ہوجاتی ہیں .
چنانچہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ فرماتے ہیں:
جعل اللہ النجوم اماناً لاھل السّماء و جعل اہل بیتی امانا لأھل الأرض(بحار،۲۷ ، باب ۸، ص۳۰۸)
خدا نے ستاروں کو اہل آسمان کے لئے امان(اور محافظ ) قرار دیا ہے اور اسی طرح میری اہل بیت(ع) ؑ کو(زمین) اور اہل زمین کے لئے امان قرار دیا ہے۔
خود حضرت مہدی (عج) فرماتے ہیں کہ:”انا خاتم الأوصیاء و بی یدفع اللہ عزوجل البلاء عن اہل بیتی و شیعتی(کمال الدین ، ج۲، باب ۴۳،ح۱۲
میں رسول اللہ کا آخری وصی ہوں اور میرے (وجود کی برکت اور) ذریعہ سے اللہ عزوجل میری اہل بیت(ع) اور شیعوں سے بلاوں کو دور کردیتا ہے ۔
حدیث میں غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا سے مراد وہ عذاب ہیں جو انسان کے برے اعمال اور کردار کی وجہ سے انسانوں پر ہونا چاہتا تھا ، لیکن چونکہ خدا کی حجت(امام زمانہ(عج) لوگوں کے درمیان موجود اور زندگی گزار رہے ہیں (و لو نا شناختہ طور پر) لہٰذا ان کے وجود کی برکت کی وجہ لوگوں سے خدا کا عذاب دفع ہوتا ہے ، اور قرآن مجید بھی صراحت کے ساتھ اس بات کی تائید کرتے ہوئے فرماتاہے:
و ما کان اللہ لیعذبہم و انت فیہم(میرے حبیب) جب تک آپ ان کے درمیان میں ہیں اللہ ان پر عذاب نہیں کرے گا ۔
البتہ روایات میں وارد ہوا ہے کہ بلا کبھی پورے اہل زمین سے رفع ہوتی ہے ، کبھی امت اسلامی سے اور کبھی صرف شیعیان علی(ع) سے بلا رفع ہوتی ہے.
چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ایک طولانی حدیث میں آیا ہے کہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا :”النجوم امان لأھل السماء و ال بیتی امان لأھل الأرض…و اذا ذھب اھل بیتی أتیٰ الأرض ما یکرھون…بہم یمھل اہل المعاصی ، و لا یجعل علیہم بالعقوبتی و العذاب…(بحار، ج۲۳، ص۱۹، ج۱۴).
ستارے آسمان والوں کے لئے امان(اور محافظ) ہیں اور میری اہل بیت(ع) اہل زمین کے لئے امان ہے … اور جب میری اہل بیت اس (کرۂ خاکی) سے چلے جائیں (اور موجود نہ ہوں) تو زمین والوں پر وہ چیزیں آئیں گی جن کو وہ پسند نہیں کرتے … اور یہ میری اہل بیت ہیں جن کی وجہ سے گنہکاروں کو مہلت دی جاتی ہے اور خدا ان پر عذاب(نازل) نہیں کرتا.

2-امید دلانا:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان امید کی وجہ سے زندہ ہے .
ایک روشن مستقبل جس میں کسی قسم کی مشکل موجود نہ ہوں ، انسان ایک ایسے دن کے منتظر ہیں ، اور منتظرین کا سب سے افضل ترین عمل فرج و گشایش کی امید میں زندگی گزارنا یے.
چنانچہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:”أفضل اعمال امتی انتظار الفرج(کمال الدین ، ج۲، باب۵۵)
میری امت کا سب سے افضل عمل انتظار فرج ہے ۔
امام منتطر کا وجود انسان کو قوت قلب عطا کرتا ہے اور انتظار کی راہ میں ثابت قدم رکھتا ہے.​

3-خود سازی :

امام کے وجود مبارک کے آثار اور فواید میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کا امام پر عقیدہ و ایمان ,اس میں خود سازی اور تزکیہ نفس کی تقویت کا سبب بنتا ہے .
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
(وَقُلْ اِعْمَلُوا فَسَیَرَی اللَّہْ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہُ وَالمُؤمِنُونَ) سورہ توبہ،آیت١٠٥.
اور پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمھارے عمل کو اللہ ،رسول اور صاحبان ایمان سب دیکھ رہے ہیں…”۔
روایات میں منقول ہے کہ آیہ شریفہ میں ”مومنین” سے مراد آئمہ معصومین عليھم السلام ہیں .اصول کافی،باب عرض الاعمال،ص١٧١.
اصول کافی کےحجت خدا پر عرض اعمال کے باب ، میں نقل ہونے والی حدیثوں کے مطابق ، امام معصوم (ع)اور خدا کی حجت ، ہمارے اعمال پر ناظر اور گواہ ہیں اور ہر روز اور ہر ہفتہ انسان کے اعمال آپ کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں ایک حقیقی شیعہ کبھی بھی اس بات پر راضی نہ ہوگا کہ زمانے کے امام اس کے برے اعمال پر ناظر ہوں اور اس کے نامہ عمل دیکھ کر امام غمگین اور ناراض ہوجائیں ، لہٰذا ایسا انسان اپنے گفتار اور کردار کے بارے میں بہت احتیاط سے کام لے گا ، اور وہ اس طرح سے عمل انجام دے گا کہ اپنے زمانہ کے امام کی خوشنودی حاصل کریں ۔
یہ چیزتربیتی لحاظ سے بہت زیادہ اثرات کی حامل ہے اور شیعوں کو اپنے افعال کی اصلاح کی ترغیب دلاتی ہے۔ یعنی حجت خدا اورخوبیوں کے امام کے سامنے برائیوں اور گناہوں سے آلودہ ہونے سے روکتی ہے۔
البتہ یہ بات مسلّم ہے کہ انسان اس پاکیزگی اور روحانیت کے سرچشمہ پر جتنی توجہ دے گا اس کے دل اور روح کا آئینہ اتنا ہی پاکیزگی اور معنویت حاصل کرے گا اور یہ نورانیت اور شفافیت اس کی رفتار و گفتار میں نمایاں ہوتی جائے گی۔
مذکورہ آثار و فواید کے علاوہ اور بھی بہت سے فواید و آثار امام کے وجود کے لئے روایات میں ذکر کیے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر امام انسان کی ہدایت کرتے ہیں اور ان کے سوالات کا جواب دیتے ہیں اور …
آپ کے وجود کے فواید اور آثار کو بہت سے بزرگان نے واضح طور پر درک کرلیا ہے ،مثال کے طور پر شیعوں کی حفاظت اور دشمنوں کے ظلم سے نجات دلانا …
چنانچہ حضرت مہدی علیہ السلام نے شیخ مفید کے نام توقیع (خط) میں لکھا :”ہم تمہارے تمام حالات سے آگاہ ہیں اور کوئی بھی چیز ہم سے مخفی نہیں ہے اور ہم نے بھی تم (شیعوں) سے مربوط امور اور مسایل کے بارے میں کوئی سستی نہیں کی ہے اور تمہیں فراموش نہیں کیا ہے (احتجاج طبرسی،ج۲، ص۵۹۶)

غیبت امام عج کے اس پر مصائب اور فتن و حوادث سے بھرے دور میں ہم کیسے اپنے محبوب امام عج سے فیضیاب ہوں ؟
یہ وہ سوال تھا جس نے ہمارے بہت سے تشنہ حقیقت اذھان کو پریشان کیا ہوا ہے.اس سوال کے جواب میں گذشتہ کچھ اقساط میں ہم نے قران و احادیث کی رو سے بحث کی اور کائنات بالخصوص اپنی دنیاوی زندگی میں وجود امام عج کے محسوس اثرات بیان کیے ہیں.
اگرچہ گذشتہ قسط میں کوشش کی ہے کہ اس بحث کو سمیٹ دیا جائے اور ایک نیا موضوع شروع کریں, لیکن کچھ احباب کا اصرار ہے اس بحث کو مزید بڑھایا جائے اور غیبت کے باوجود یوسف زھراء عج کے ہمارے درمیان فیوض و برکات پر روشنی ڈالی جائے.اسی لیے چند نکات کا اضافہ کیا جاتا ہے.

4– مکتب تشیع کا تحفظ:

ہر معاشرے کو اپنے نظام کی حفاظت اوراپنے مطلوبہ مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک آگاہ رہبر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کی اعلیٰ قیادت اور رہنمائی میں معاشرہ صحیح راستہ پر قدم بڑھائے۔
ایک رہبر اور ہادی کا وجود معاشرے کے افراد کے لئے بہت بڑی پشت پناہی ہے تاکہ معاشرہ ایک بہترین نظام کے تحت اپنی حیثیت کو باقی رکھ سکے اور آئندہ کے پروگرام کے استحکام کے لئے کمر ہمت باندھ لے۔
ایک زندہ اورمتحرک رہبر اگرچہ لوگوں کے درمیان نہ بھی ہو پھر بھی اعلی مقاصد تک پہنچنے کے لئے پروگرام اور اصول پیش کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا اور مختلف طریقوں سے منحرف راستوں سے خبردار کرتا رہتا ہے۔
امام عصر عليہ السلام اگرچہ پردہ غیبت میں ہیں لیکن آپ کا وجود مذہب شیعہ کے تحفظ کا عظیم اور حقیقی عامل ہے۔ آپ دشمنوں کی سازشوں سے مکمل آگاہی کے ساتھ شیعہ عقائد کی فکری سرحدوں کی مختلف طریقوں سے حفاظت کرتے ہیں اور جب مکار اور فریب کار دشمن مختلف چالوں اور حیلوں کے ذریعہ مکتب شیعہ کے اصول اورلوگوں کے عقائد کو نشانہ بناتا ہے، اس وقت امام عليہ السلام علماء اور برگزیدہ افرادکو ہدایت و ارشاد کرتے ہوئے دشمن کے نفوذ کے تمام راستے بند کر دیتے ہیں۔
نمونہ کے طور پر بحرین کے شیعوں پر حضرت امام مہدی عليہ السلام کی عنایت اورلطف کو علامہ مجلسی(رہ) کی زبانی سنتے ہیں:
‘گزشتہ زمانہ میں بحرین پرایک ناصبی حاکم حکومت کرتا تھا جس کا وزیر وہاں کے شیعوں کے ساتھ بادشاہ سے بھی زیادہ دشمنی رکھتا تھا۔
ایک روز وزیر ، بادشاہ کے پاس حاضر ہوا، جس کے ہاتھ میں ایک انار تھا جس پر طبیعی شکل میں یہ جملہ نقش تھا:
لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَسُوْلُ اللّٰہ، وَ اَبُوبَکر و عُمْر و عُثْمَان و عَلِی خُلُفَائُ رَسولِ اللّہِ”۔
بادشاہ اس انار کو دیکھ کر تعجب میں پڑگیا اور اس نے اپنے وزیر سے کہا: یہ تو شیعہ مذہب کے باطل ہونے کی واضح اور آشکار دلیل ہے۔ بحرین کے شیعوں کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟
وزیر نے جواب دیا: میری رائے کے مطابق ان کو حاضر کیا جائے اور یہ نشانی ان کو دکھائی جائے، اگر ان لوگوں نے مان لیا تو انہیں اپنا مذہب چھوڑنا ہوگا، ورنہ تین چیزوں میں سے ایک چیزکا انتخاب کرنا ہو گا! یا تو اطمینان بخش جواب لے کر آئیں، یا جزیہ دیا کریں، یا ان کے مردوں کو قتل کردیں ، ان کے بچوں اور عوتوں کوقید کرلیں اور ان کے مال و دولت کو غنیمت میں لے لیں۔
بادشاہ نے اس کی رائے کو قبول کیا اور شیعہ علماء کو اپنے پاس بلا بھیجا اور ان کے سامنے وہ انار پیش کرتے ہوئے کہا:
اگرتم اس سلسلہ میں واضح اور روشن دلیل پیش نہ کرسکے تو تمھیں قتل کردوں گا اور تمھارے اہل و عیال کو اسیر کر لوں گا یا تم لوگوں کو جزیہ دینا ہوگا۔
شیعہ علماء نے اس سے تین دن کی مہلت مانگی چنانچہ ان حضرات نے بحث و گفتگو کے بعد یہ طے کیا کہ بحرین کے دس صالح اور پرہیزگار علماء کا انتخاب کیا جائے اور وہ دس افراد اپنے درمیان تین لوگوں کا انتخاب کریں .
چنانچہ ان تینوں میں سے ایک عالم سے کہا: آپ آج صحرا کی طرف نکل جائیں اور امام زمانہ عليہ السلام سے استغاثہ کریں اور ان سے اس مصیبت سے نجات کا راستہ معلوم کریں, کیونکہ وہی ہمارے امام اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہمارا وسیلہ ہیں۔
چنانچہ اس عالم نے ایسا ہی کیا لیکن امام زمانہ عليہ السلام سے ملاقات نہ ہوسکی، دوسری رات ، دوسرے عالم کو بھیجاگیا لیکن ان کو بھی کوئی جواب نہ مل سکا .
آخری رات تیسرے عالم بزرگوار بنام محمد بن عیسیٰ کو بھیجاگیا چنانچہ وہ بھی صحرا کی طرف نکل گئے اور روتے پکارتے ہوئے امام عليہ السلام سے مدد طلب کی۔ جب رات اپنی آخری منزل پر پہنچی تو انھوں نے سنا کہ کوئی شخص ان سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے:
اے محمد بن عیسیٰ! میں تمہیں اس حالت میں کیوں دیکھ رہا ہوں اور تم جنگل و بیابان میں کیوں آئے ہو؟
محمد بن عیسیٰ نے ان سے کہا کہ مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو. انھوں نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! میں تمہارا صاحب الزمان(عج) ہوں، تم اپنی حاجت بیان کرو!

محمد بن عیسیٰ نے کہا: اگر آپ ہی صاحب الزماں(عج) ہیں تو پھر میری حاجت بھی آپ جانتے ہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
فرمایا: تم صحیح کہتے ہو، تم اپنی مصیبت کی وجہ سے یہاں آئے ہو۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، آپ جانتے ہیں کہ ہم پر کیا مصیبت پڑی ہے، آپ ہی ہمارے امام اور ہماری پناہ گاہ ہیں۔
اس کے بعد امام عليہ السلام نے فرمایا:
اے محمد بن عیسیٰ! اس وزیر (لعنة اللہ علیہ) کے گھر میں ایک انار کا درخت ہے، جس وقت اس درخت پر انار لگنا شروع ہوئے تو اس نے انار کے مطابق مٹّی کا ایک سانچا بنوایااور اس کو دو حصو ں میں تقسیم کر دیا اور اس پر یہ جملے لکھے اور پھر ایک چھوٹے انار پر اس سانچے کو چڑھادیا اور جب وہ انار بڑا ہوگیا تو وہ جملے اس پر کندہ ہوگئے!
تم اس بادشاہ کے پاس جانا اور اس سے کہنا کہ میں تمہارا جواب وزیر کے گھر جاکر دوں گا اور جب تم وزیر کے گھر پہنچ جاؤ تو وزیر سے پہلے فلاں کمرے میں جانا! اور وہاں ایک سفید تھیلا ملے گا جس میں وہ مٹّی کا سانچا ہے، اس کو نکال کر بادشاہ کو دکھانا اور دوسری نشانی یہ ہے کہ:
بادشاہ سے کہنا: ہمارا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ جب انار کے دو حصے کریں گے تو اس انار میں مٹّی اور دھوئیں کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہوگی!
محمد بن عیسیٰ ، امام عليہ السلام کے اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور شیعہ علماء کے پاس لوٹ آئے.
دوسرے روز وہ سب بادشاہ کے پاس پہنچ گئے اور جو کچھ امام عليہ السلام نے فرمایا تھا اس کو بادشاہ کے سامنے واضح کردیا۔
علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ بحرین کے بادشاہ نے اس معجزہ کو دیکھا تو مذہب شیعہ اختیار کرلیا اور حکم دیا کہ اس مکّار وزیر کو قتل کردیا جائے”۔ (بحار الانوار,ج52،ص 178)
امام زمانہ(عج) مرحوم شیخ مفید رح کی طرف ایک توقیع میں فرماتے ہیں:
ہم تمہاری خبروں اور حالات سے آگاہ ہیں اور تمہاری کوئی بھی چیز ہم پر پوشیدہ اور مخفی نہیں ہے ہم نے تمہارے امور کے حل کرنے اور تمہاری سرپرستی میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے اور تمہیں بھلایا نہیں ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو مشکلات اور مصیبتیں تم پر نازل ہوجاتیں اور دشمن تم کو نیست و نابود کردیتے.(حتجاج طبرسی جلد۲ ص ۵۹۸، باب توقیعات)
پہلی جنگ عظیم کے دوران کہ جب ایران انگریز اور روسی افواج کے قبضہ میں تھا اور ان کے ایران کی مظلوم ملت پر حملے عروج پر تھے تو یہ حالات دیکھ کر عالم تشیع کے مرجع آیت اللہ العظمی نائینی قدس سرہ شیعوں کے حوالے سے بہت پریشان اور متفکر رہا کرتے تھے.
ایک رات انہوں نے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف سے توسل کیا اور گریہ و توسل کی حالت میں سوگئے تو عالم خواب میں دیکھا کہ ایران کے نقشہ کی شکل میں ایک بہت بڑی دیوار گرنے کے قریب ہے اور عورتوں اور بچوں کی ایک جماعت اس کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں.
یہ منظر ایسا ھولناک تھا کہ انہوں نے خواب کی حالت میں فریاد بلند کی اور اسی حالت میں دیکھا کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف تشریف لائے ہیں اور اپنی مبارک انگلی کو دیوار کی طرف کیا اور اسے اپنی جگہ پر قائم کیا اور فرمایا یہ شیعوں کی جگہ ہمارا گھر ہے ٹوٹ جائے خم ہوجانے کا خطرہ ہے لیکن ہم اسے گرنے نہیں دیں گے اور سنبھال کر رکھیں گے. (عنایات حضرت مہدی(عج) بہ علماء و طلاب محمد باقر اصفہانی حکایت ۱۵۱ ص ۳۱۵)

5-فریاد کو پہنچنا:

امام(عج) بے آسرا اور بے پناہ لوگوں کی فریاد کو پہنچتے ہیں.بہت سے لاچار اور گمشدہ لوگ حضرت کی لطف و عنایت کے ساتھ نجات پاتے ہیں کہ ان واقعات کو لکھنے اور نقل کرنے بیٹھ جائیں تو سیکنڑوں جلد کتاب تیار ہوجائے گی۔
ایک قابل اعتماد شخص نقل کرتے ہیں کہ: میں تعلیمی حوالے سے ایک یورپی ملک میں مشغول تھا میرے محل سکونت اور یونیورسٹی کے درمیانی فاصلہ میں سوائے ایک بس کے کوئی اور ذریعہ آمد و رفت نہ تھا.
جب میں آخری امتحان کے لئے یونیورسٹی روانہ ہوا یک دم وسط راہ میں بس خراب ہوگئی ،ڈرائیور کی ہر سعی و کوشش بھی بیکار گئی ،کوئی اور ذریعہ بھی نہ تھا.
میں مضطرب اور ناامید ہوگیا کہ ایک دم میرے ذہن میں کوند سی لپکی کہ جب ہم ایران میں ہوتے تھے تو مشکلات میں “امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف “سے توسل کرتے تھے.
میرے دل ٹوٹ سا گیا اور آنسو جاری ہوگئے میں نے اپنے آپ سے کہا :اے بقیۃ اللہ عج اگر آج میری مشکل حل کردیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہمیشہ اول وقت نماز پڑھوں گا۔
کچھ دیر بعد کوئی شخص آیا اس نے ڈرائیور کے ساتھ کوئی بات کی اور بس کے انجن کو کچھ کیا اور کہا سٹارٹ کرو جیسے ہی ڈرائیور نے سٹارٹ کی,ا گاڑی درست سٹارٹ ہوگئی. میں بے پناہ خوش اور جلدی میں تھا , بالکل اس شخص کی طرف متوجہ نہ ہوا جیسے ہی گاڑی چلنے لگی, اس شخص نے میرا نام لیکر مجھے پکارا اور کہا :جو ہم سے وعدہ کیا ہے اسے بھولنا نہ …(سابقہ ماخذ ص ۲۴۴)

 

6-علمی اور فکری پنا ہ گاہ

آئمہ معصومین عليھم السلام معاشرہ کے حقیقی معلم اور اصلی تربیت کرنے والے ہیں اورہمیشہ لوگ انہی ہستیوں کی تعلیمات کے پاکیزہ و شفاف سرچشمہ سے فیضیاب ہوتے ہیں۔
غیبت کے زمانہ میں بھی اگرچہ براہ راست امام عليہ السلام کی خدمت میں شرفیاب اور براہِ راست فیض حاصل نہیں کرسکتے، لیکن آپ الٰہی علوم کے معدن و سر چشمہ ہیں کہ جومختلف راستوں سے شیعوں کی علمی اور فکری مشکلات کو دور فرماتے ہیں۔
غیبت صغریٰ کے زمانہ میں مومنین اور علماء کے بہت سے سوالوں کے جوابات ،امام کے خطوط جو کہ توقیعات کے نام سے مشہور ہیں ان کے ذریعہ دیے جاتے تھے ۔ (کمال الدین ، ج٢، باب ٤٥،ص٢٣٥۔٢٨٦.)
امام زمانہ عليہ السلام اسحاق بن یعقوب کے خط اوران کے سوالات کے جواب میں یوں تحریر فرماتے ہیں:
خداوندعالم تمھیں ہدایت کرے اور تمھیں ثابت قدم رکھے! آپ نے ہمارے خاندان اور چچا زاد بھائیوں میں سے منکرین کے بارے میں جو سوال کیا، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کے ساتھ کسی کی کوئی رشتہ داری نہیں ہے، لہٰذا جو شخص بھی میرا انکار کرے وہ میرا پیروکار نہیں ہے اور اس کا انجام حضرت نوح عليہ السلام کے بیٹے کے انجام کی طرح ہے… اور جب تک تم اپنے مال کو پاکیزہ نہ کرلو ہم اس کو قبول نہیں کرتے ۔اور جو رقم تم نے ہمارے لئے بھیجی ہے اس کو اس وجہ سے قبول کرتے ہیں کہ پاک و پاکیزہ ہے… اور جو شخص ہمارے مال کو (اپنے لئے) حلال سمجھتا ہے اور اس کو ہضم کرلیتا ہے گویا وہ آتشِ جہنم کھا رہا ہے… اب رہا مجھ سے فیض حاصل کرنے کی کیفیت کا مسئلہ تو جس طرح بادلوں میں چھپے سورج سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اسی طرح مجھ سے بھی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اور میں اہل زمین کے لئے امان ہوں، جس طرح ستارے اہل آسمان کے لئے امان ہیں اور جن چیزوں کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہے ان کے بارے میں سوال نہ کرو ،اور اس چیز کو سیکھنے کی زحمت نہ کرو جس چیز کو تم سے طلب نہیں کیا گیا اور ہمارے ظہور کے لئے بہت دعا کیا کرو کہ جس میں تمہارے لئے بھی گشائش(اور آسانیاں) ہوں گی۔
اے اسحاق بن یعقوب تم پر ہمارا سلام ہو اور ان مومنین پر جو راہ ہدایت کے پیروکار ہیں”۔
(کمال الدین،ج٢،باب٤٥،ص٢٣٧.)
غیبت صغریٰ کے بعد بھی شیعہ علماء نے متعدد بار اپنی علمی اور فکری مشکلات کو امام عليہ السلام سے بیان کرکے ان کا راہ حل حاصل کیا ہے۔
میر علّام ، مقدس اردبیلی کے ایک شاگرد کہتے ہیں:
”آدھی رات کے وقت میں نجف اشرف میں حضرت امام علی عليہ السلام کے روضہ اقدس کے صحن میں تھا، اچانک میں نے کسی شخص کو دیکھا جو روضہ کی طرف آرہا ہے، میں اس کی طرف گیا جیسے ہی نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ہمارے استاد علامہ احمد مقدس اردبیلی ہیں تو میں جلدی سے چھپ گیا۔
وہ روضہ مطہر کے نزدیک ہوئے جبکہ دروازہ بند ہوچکا تھا، میں نے دیکھا کہ اچانک دروازہ کھل گیا اورآپ روضہ مقدس کے اندر داخل ہوگئے! اور کچھ ہی دیر بعد روضہ سے باہر نکلے اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔
میں چھپ کر اس طرح ان کے پیچھے چلنے لگاکہ وہ مجھے نہ دیکھ لیں، یہاں تک وہ مسجد کوفہ میں داخل ہوئے اور اس محراب کے پاس گئے جہاں پر حضرت علی عليہ السلام کو ضربت لگی تھی۔ کچھ دیر وہاں رکے اور پھر مسجد سے باہر نکلے اور پھر نجف کی طرف روانہ ہوئے۔ میں پھر ان کے پیچھے پیچھے چل رہا تھایہاں تک کہ وہ مسجد حنّانہ میں پہنچے، اچانک مجھے بے اختیار کھانسی آگئی، جیسے ہی انہوں نے میری آواز سنی میری طرف ایک نگاہ کی اور مجھے پہچان لیا اور فرمایا: آپ میر علّام ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں. انہوں نے کہا: یہاں کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا: جب سے آپ حضرت علی عليہ السلام کے روضہ میں داخل ہوئے تھے میں اسی وقت سے آپ کے ساتھ ہوں، آپ کو اس صاحب قبر کے حق کا واسطہ آج جو واقعہ میں نے دیکھا ہے اس کا راز مجھے بتائیں!
موصوف نے فرمایا: ٹھیک ہے، لیکن اس شرط پر بتاتا ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں کسی کے سامنے بیان نہ کرنا! اور جب میں نے انہیں مطمئن کر دیاتو انھوں نے فرمایا: کبھی کچھ مسائل میں زیادہ مشکل پیش آتی ہے تو اس کے حل کے لئے حضرت علی عليہ السلام سے توسل کرتا ہوں آج کی رات بھی ایک مسئلہ میرے لئے مشکل ہوگیا اور اس کے بارے میں غور و فکر کر رہا کہ اچانک میرے دل میں یہ بات آئی کہ حضرت علی عليہ السلام کی بارگاہ میں جاؤں اور آپ ہی سے اس مسئلہ کا حل دریافت کروں۔
جب میں روضہ مقدس کے پاس پہنچا تو جیسا کہ آپ نے بھی دیکھا کہ بند دروازہ کھل گیا، میں روضہ میں داخل ہوا ، خدا کی بارگاہ میں گریہ و زاری کی تاکہ امام علی عليہ السلام کی بارگاہ سے اس مسئلہ کا حل مل جائے ۔اچانک قبر منور سے آواز آئی کہ:
مسجد کوفہ میں جاؤ اور حضرت قائم عليہ السلام سے اس مسئلہ کا حل معلوم کرو کیونکہ وہی تمہارے امام زمانہ ہیں۔
چنانچہ اس کے بعد (مسجد کوفہ کی) محراب کے پاس گیا اور امام مہدی عليہ السلام سے اس سوال کا جواب حاصل کیا اور اب اس وقت اپنے گھر کی طرف جارہا ہوں”۔ (بحار الانوار ،ج٥٢، ص١٧٤.)


(جاری ہے….)
طالب دعا: علی اصغر سیفی

اپنا تبصرہ لکھیں