عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ بحث مہدویت ( تیسری قسط)_ غیبت امام زمان (عج) (1) – مصنف: جناب حجت الإسلام والمسلمین استاد علی اصغر سیفی صاحب

مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ بحث مہدویت ( تیسری قسط)_ غیبت امام زمان (عج) (1) – مصنف: جناب حجت الإسلام والمسلمین استاد علی اصغر سیفی صاحب

بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ
غیبت کے زمانے میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مکان اور مسکن کہاں ہے؟ کیا جزیرہ خضراء اور برمودا کی مثلث حقیقت رکھتی ہے؟

جواب : ۱۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مسکن اور مکان کے بارے میں جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ صحیح نہیں ہے اور فقط خیال و گمان کی بنیاد پر ہے،خود حضرت امام مہدی(عج) کا پردۂ غیبت میں رہنا اس بات پر بہترین دلیل ہے کہ غیبت کے زمانے میں زندگی گزارنے کے لئے کوئی خاص جگہ اور مکان معین نہیں ہے ، بلکہ زمانۂ غیبت میں آپ مختلف مکانوں اور شہروں میں ناشناس طور پر زندگی گزارتے ہیں ۔( بحار الانوار, جلد 52 ,صفحہ 153،158 )
بعض روایات کی رو سے آپ مدینہ یا اسکے اطراف میں ساکن ہیں ( تفسیر عیاشی, جلد 2 ,صفحہ 152)

۲۔ جہاں تک “خضرا نامی جزیرہ” کا تعلق ہے تو ، اس داستان کو علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں نقل کیا ہے ، لیکن شیعہ علما اور دانشوروں نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور مذکورہ داستان کے معتبر نہ ہونے پر دلایل پیش کئے ہیں(اس سلسلہ میں تفصیل کے شاثقین حضرات کے لئے بہترین کتاب علامہ ابراہیم امینی کی کتاب “داد گستر جہان “ جو “آفتاب عدالت”کے نام سے اردو میں بھی چھپ چکی ہے)ہم یہاں پر اس داستان کے معتبر نہ ہونے کی وجوہات میں سے کچھ وجوہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

1 اس داستان کے راوی نے دعوی کیا ہے کہ حضرت امام مہدی(عج) اپنی اولاد کے ساتھ اس سر سبز و شاداب جزیرہ میں بہت ہی آرام اور خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں! اور یہ بات اہل بیت اور ائمہ اطہار(ع) کی سیرت کے خلاف ہے ، جو ہمیشہ معاشرہ کے عام لوگوں کی طرح زندگی گزارتے تھے اور سختی اور مشکلات میں لوگوں کے ساتھ ہوتے تھے ، اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے ماننے والے اور شیعہ تو اتنی سختی کے ساتھ زندگی گزاریں اور آپ اپنی اولاد اور خاندان کے ساتھ عیش و عشرت کی زندگی گزاریں؟!

2 دوسرا یہ کہ مذکورہ داستان میں بہت ہی متناقض باتیں پائی جاتی ہے ۔

3- تیسرا یہ کہ اس داستان میں”تحریف قرآن یعنی قرآن میں کمی بیشی ہونے پر تصریح کی گئی ہے جو کسی بھی صورت میں شیعہ عقیدہ سے سازگار نہیں ہے ، اور اسی طرح یہ بات نصّ قرآنی کے خلاف ہے ، لہٰذا قابل اعتبار نہیں ہے ۔

4 مذکورہ داستان کی راوی مجہول الحال ہیں اور اس کی حقیقت معلوم نہیں ہے کہ وہ کون ہے اور کہاں کے رہنے والا ہے و … کیونکہ رجال اور حدیث کی کتابوں میں مذکورہ شخص کے بارے میں ذکر نہیں ہوا ہے ۔

5 اور سب سے اہم یہ کہ خود علامہ مجلسی (رہ) مذکورہ داستان کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے اس داستان کو ایک خطی نسخے سے نقل کر رہا ہوں ، لیکن کسی معتبر کتاب میں یہ داستان نقل نہیں ہوا ہے (اس لئے میرے نزدیک بھی یہ داستان قابل اعتبار نہیں ہے )۔

6 جہاں تک مثلث برمودا کا تعلق ہے ، امریکا کے نزدیک سمندر میں تقریباً ۳۶۰ چھوٹے جزیرے پائے جاتے ہیں ، کہ ان میں سے ۲۰ جزیروں پر لوگ زندگی گزار رہے ہیں ، اور ان چھوٹے چھوٹے جزیروں کے مجموعہ کوجزیرۃ برمودا “کہتے ہیں ۔

7 جب ہم جزیرۃ خضرا کے قائلین سے پوچھتے ہیں، اگر ایسا کوئی جزیرہ اس روی زمین پر موجود ہے تو ابھی تک کسی نے اس کو کیوں نہیں دیکھا ہے ؟ تو جواب دیتے ہیں کہ خدا قادر ہے لہٰذا ممکن ہے کہ معجزانہ طور پر اس جزیرے کو لوگوں کی نظروں سے غائب رکھے اور کوئی اس کو نہ دیکھ سکے ! ان لوگوں سے پوچھنا چاہئے کہ اگر خداوند متعال معجزہ کے ذریعہ اس جزیرہ کی حفاظت فرما رہا ہے تو پھر آیا ممکن ہے وہی خدا ، اس جزیرہ سے قریب ہونے والی کشتیوں اور جہازوں کو نابود کرکے بے گناہ لوگوں کو قتل کرتا ہے؟ جیسا کہ مذکورہ داستان اس بات پر تصریح کی گی ہے ؟ کیا اس جزیرہ سے گذرنے والے سب کے سب اللہ تعالی اور امام زمانہ(عج) کے دشمن ہیں؟ اور جو بھی وہاں سے گذرے کیا ان سب کو خدا یا امام زمانہ (عج) خدا کے حکم اور معجزہ سے نیست و نابود کردیتے ہیں؟
یہ بات نہ دین اسلام کے اصولوں سے سازگار ہے اور نہ خداوند متعال اور امام زمانہ(ع)کی محبت و عطوفت سے ، بلکہ یہ داستان اسلام کے قوانین اور امام زمانہ علیہ السلام کی شخصیت کو خدشہ دار بنا دیتی ہے ۔
8 ایک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ جزیرہ خضراء کی داستان حدیث و روایت ہی نہیں ہے کہ مورد توجہ قرار پائے ساتویں یا آٹھویں صدی کے ایک شخص کا خیالی افسانہ ہے اور وہ صحیح احادیث کے خلاف ہے کہ جو کہتی ہیں کہ امام زمان عج کی غیبت میں خاص جگہ نہیں بلکہ آپ سفر میں ہیں اور وہیں رھتے ہیں جہاں مومنین رہتے ہیں یا کہتی ہیں کہ آپ بیشتر مدینہ اور اسکے اطراف میں ساکن ہیں.
مختصر یہ کہ ، جزیرہ برمودا کے نام سے ایک جزایر کامجموعہ پایا جاتا ہے لیکن یہ جزیرہ ، جزیرہ خضرا نہیں ہے ، حقیقت میں جزیرہ خضرا ایک خیالی داستان ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ شیعہ علما اور دانشور حضرات اس داستان کو قبول نہیں کرتے ، یہاں تک کہ خود علامہ مجلسی(رہ) بھی اس داستان کے معتبر نہ ہو

بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ آیا اس سے پہلے بھی کوئی حجت خدا غائب ہوئی ہے ؟
جواب:
اس سوال کے جواب کو چند قسطوں میں پیش کیا جائیگا.اس سوال کا جواب دینے سے پہلے واضح کریں گے کہ یہ کوئی نیا سوال نہیں ہے بلکہ یہی سوال خود آئمہ علیہم السلام سے بھی کیا گیا حتی اوائل غیبت میں یہ سوال اتنی شدت سے پیدا ہوا کہ امام عصر عج کے حکم سے شیخ صدوق علیہ الرحمۃ جیسی شخصیت نے شہرہ آفاق کتاب کمال الدین تحریر فرمائی.. ہم اس سوال کی اہمیت اور مکمل شافی جواب سے آگاہ ہونے کے لیے سب سے پہلے ایک تمہید بیان کریں گے.

تمہید بحث:

پروردگار متعال نے کائنات کو ایک تعجب خیز نظم اور ظرافت کے ساتھ پیدا کیا ۔ ہر طرح کي مخلوق کو اس کی حقیقت و ماھیت کے مطابق ایک مناسب ھدف کے ساتھ آگے بڑھایا۔ديگر مخلوقات کي مانند نوع انسان کو بھی ان کی حیات کے مراحل کے پيش نظر ایک راہ دیا کہ وہ علم و شناخت کے ساتھ اس راہ میں قدم اٹھائیں۔اب یہاں جو چیز ناقابل یقین محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ افراد بشر میں سے کسی ایک کے لئے ایسے حوادث ظاہر ہوں کہ اس کی زندگی کے خد و خال دوسروں سے مختلف ہوجائیں ٬ باالفاظ ديگر لوگ نفساتي طور پر ايک نئي اور منفرد چيز کو جب ديکھتے ہيں اور اس کے پيچيدہ ہونے کي بناء پر اسے واضح انداز سے درک نہ کرسکيں يا کسي اسي چيز کو جو عادي اور طبيعي راہ سے ہٹ کر سامنے آئے تو مدافعانہ روّيہ بناتے ہيں اور آساني سے اسے قبول نہيں کرتے۔
ايک ايسا فرد کہ جو انسانوں کا رہبر اور ہادي ہو اور لوگ کمال کي طرف سفر کے لئے اس کے دامن سے وابستہ ہوں وہ غائب ہوجائے تو يہ ايک ايسي چيز ہے کہ جو ايک عام رہنما اور عادي انسان کي روش کے خلاف ہے۔ لہذا اسے بعيد سمجھتے ہوئے انکار کرديا جائے گا ليکن گزشتہ بعض پيغمبروں عليھم السلام غيبت کا تحقق اور تاريخ پڑھنے سے امام مہدي عليہ السلام کي غيبت کے مسئلہ کہ آساني اور صحيح طريقہ سے سمجھا اور قبول کيا جاسکتاہے۔

مرحوم شیخ صدوق (رح)کی پریشانی اور عظیم خواب:

مرحوم شيخ صدوق (رح) جو کہ عالم تشيع کے بزرگان اور عظيم علماء ميں سے تھے اور غيبت صغري کے زمانہ کو پايا اور غيبت کبري کے اوائل تک زندہ تھے اپني کتاب (کمال الدين و تمام النعمہ) کے مقدمہ ميں لکھتے ہيں : اس کتاب کے مصنف شيخ ابوجعفر محمد بن علي بن حسين بن موسي بن بابويہ قمي کہتے ہيں: کہ ميرا اس کتاب کو لکھنے کا مقصد يہ تھا کہ جب ميري امام رضا عليہ السلام کي زيارت کي آرزو پوري ہوئي تو زيارت کے بعد ميں نيشابور لوٹا اور وہاں اقامت کي, تو ديکھا بہت سے شيعہ کہ جو ميرے پاس آمد و رفت رکھتے تھے غيبت کے مسئلہ ميں حيران و پريشان تھے اور امام قائم عليہ السلام کے حوالے سے شک و ترديد ميں تھے اور راہ مستقيم سے منحرف ہوکر گمان و قياس ميں پڑے ہوئے تھے.تو ميں نے پيغمبراکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور آئمہ اھلبيت عليھم السلام کي احاديث کي مدد سے ان کي راہنمائي کي کوشش شروع کي تاکہ انہيں حقيقت و سچائي کا راستہ دکھلاؤں کہ ايک دن قم کے علماء ميں سے ايک اھل فضل وعلم شخصيت بخارا سے ہمارے پاس آئي … اور ايک دن مجھ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بخارا کے ايک بزرگ فلسفي و منطقي شخص کي کلام ميرے ليے نقل کي کہ اس کلام نے انہيں حضرت قائم عليہ السلام کے حوالے سے انہيں حيران کيا ہوا تھا۔
امام کي طولاني غيبت اور ان سے احاديث و اخبار کا سلسلہ منقطع ہونے سے وہ شک و ترديد ميں پڑا ہوا تھا۔
تو میں نے حضرت قائم علیہ السلام کے وجود کے اثبات میں چند فصل بیان کیں اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اطہار(ع) سے کچھ روایات ان کی غیبت کے حوالے سے بیان کیں تو ان احادیث و روایات کو سن کر وہ مطمئن ہوا , شک و تردید اس کے دل سے نکل گیا اور مجھ سے کچھ صحیح احادیث اس مورد میں قبول کیں اور یہ درخواست کی اس موضوع میں اس کے لئے ایک کتاب تالیف کروں۔

دیدار جمال حضرت عج:

اسی دوران ایک رات شہر ری میں اپنے خاندان ، بچوں اور بھائیوں اور الہی عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ایک دم نیند کا مجھ پرغلبہ ہوا اور ميں نے خواب دیکھا گویا میں مکہ میں ہوں اور بیت اللہ الحرام کا طواف کررہاہوں ساتویں طواف میں حجر الاسود کے پاس پہنچا اور اسے بوسہ دیا یہ دعا پڑھی : أمانَتِی أدّیتُمَا و میِثَاقِیْ تَعَاھَدْتُہُ لِتَشْھَدَ لِیْ بالمُوَافَاہ یہ میری امانت ہے کہ اسے اداکررہاہوں اور یہ میرا ایمان ہے کہ اسے پورا کررہاہوں کہ تم اس کے ادا کرنے پر گواہی دینا۔
اسی وقت میں نے اپنے مولی صاحب الزمان صلوات اللہ علیہ کو دیکھا کہ آپ خانہ کعبہ کے دروازہ پر کھڑے تھے.​

میں اضطراب اور پریشان انداز میں ان کی طرف بڑھا انہوں نے میرا چہرہ دیکھا اور میرے دل کا حال پڑھا٬ میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے مجھے جواب دیا ۔ پھر فرمایا : غیبت کے موضوع میں ایک کتاب کیوں تحريرنہیں کرتے تاکہ تمہارا حزن و غم دور ہو؟ عرض کی : یا ابن رسول اللہ غیبت کے بارے میں کچھ چیزیں تحریر کیں ہیں،فرمایا: نہ اس طرح ٬میں تمہیں حکم دیتا ہوں غیبت کے بارے میں ایک کتاب تحریر کرو اور اس میں انبیاء کی غیبت کو بیان کرو ٬پھر آنحضرت صلوات اللہ علیہ چلے گئے اور میں خواب سے بیدا ر ہوگیا اور طلوع فجر تک دعاء گریہ زاری اور درد دل و شکوہ بیان کرنے میں وقت گزارا ٬جیسے ہی صبح ہوئی میں نے اس کتاب کو تحریر کرنے کا آغاز کیا تاکہ حجت خدا کا حکم بجا لاؤں اس طرح کہ اس معاملے میں پروردگار سے نصرت چاہتاہوں اور اس پر توکل کرتاہو اور اپنی خطاؤں کی مغفرت طلب کرتا ہوں جو کچھ توفيق ہے اس کی طرف سے ہے٬ اس پر میں توکل کرتا ہوں اور اس کی طرف لوٹ کر جاؤں گا ۔

کتاب کمال الدین سے کچھ مثالیں:

امام عصرعج کے حکم مبارک سے عظیم عالیقدر محدث تشیع ,شیخ صدوق نے کتاب کمال الدین تحریر کی .یہ کتاب مہدویت کے موضوع میں انتہائی معتبر اور قدیم ترین ماخذ شمار ہوتی ہے اور اپنی ھزار سالہ تاریخ میں شیخ صدوق رح کی دیگر کتب کی مانند ہمیشہ متکلمین,محققین ,محدثین اور فقہاء کی مورد توجہ قرار پائی. اب اسي کتاب سے انبیاء کي غيبت کے بارے میں چند مثالیں بیان کی جاتی ہیں:

گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی غیبت:
 حضرت صالح علیہ السلام:

زید شحاّم امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہيں : کہ انہوں نے فرمایا: حضرت صالح عليہ السلام نے ایک مدت تک اپنی قوم سے غیبت اختیار کی اور جب وہ غائب ہوئے تو اس وقت ایک مکمل اور خوش اندام مرد تھے کہ ان کے چہرے پر گھنی داڑھی اور متوسط قد کے دبلے سے بدن کے مالک تھے اور جب اپنی قوم کی طرف لوٹ کرآئے تو اس وقت لوگ تین گروہوں میں بٹ چکے تھے:
ایک گروہ منکرین کا تھا کہ جو کبھی بھی راہ راست پر نہ آئے ۔ دوسرا گروہ اہل شک و تردید تھے اور تیسرا گروہ اھل ایمان و یقین تھے ۔ بلاشبہ قائم بھی حضرت صالح علیہ السلام کی مانند ہیں۔

حضرت موسی علیہ السلام:

امیر المؤمنین علیہ السلام نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب حضرت یوسف علیہ السلام کا وقت وفات آپہنچا تو انہوں نے اپنے پیروکاروں اور خاندان والوں کو جمع کیا اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا بجالائے اور پھر انہیں فرمايا: ان پر ایک نہایت سخت دور آئے گا٬ ان کے مردوں کو قتل کیا جائے گا اور ان کی حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کئے جائے گے اور بچوں کے سر جدا کئے جائیں گے٬ یہاں تک کہ اللہ تعالی لاوی بن یعقوب کی اولاد میں سے ایک قائم میں حق کو آشکار کرے گا٬ وہ گندمی رنگت اور بلند قامت مرد ہوں گے اور ان کی صفات بيان کيں پھر ان لوگوں نے اس وصیت کو یاد رکھا یہاں تک کہ بنی اسرائیل پر غیبت اور مصائب کا زمانہ آیا کہ وہ چار سو سال تک قائم کے قیام کے منتظر رہے . پھر انہیں قائم کی ولادت کی بشارت دی گئی اور انہوں نے ان کے ظہور کی علامات کا مشاہدہ کیا جب ان پر مصائب بڑھے تو انہوں نے سنگ و چوب سے (بيان کرنے والے)ان پر حملہ کیا اور وہ عالم دین کہ جس کی باتوں سے انہیں اطمینان حاصل ہوتا تھا اس کے پیچھے لگ گئے اور وہ مخفی ہوگیا ٬انہوں نے اس سے خط و کتابت کی اور کہا ہم پریشانیوں اور مشکلات میں تمہاری باتوں سے سکون و اطمینان حاصل کرتے تھے ٬تو وہ عالم دین انہیں صحراء میں لے گیا اور وہاں ان سے نشست و برخاست کي اور قائم کي ذات٬ اس کي صفات اور ان کے نزديک ميں ظہورکے بارے میں گفتگو کی۔ وہ چاندنی رات تھی اس وقت وہاں حضرت موسی (ع) چلے آئے وہ اس وقت نوجوان تھے اور فرعون کے محل سے سيرگاہ کے عقب سے آئے اور اس فقیہ نے انہیں دیکھا اور ان کی صفات کو پہچانا تو اٹھ کر ان کے قدموں میں گرگیا اور ان کے پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا: شکرہے اس خدا کا کہ جو مجھے اس قت تک دنیا سے نہ لے گیا کہ آپ کی زیارت کروادی٬ جب اس کے پیروکاروں نے یہ منظر دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ وہی حجت خدا ہیں توسب سجدہ شکر میں گر پڑے ٬ حضرت موسی علیہ السلام نے صرف یہ کہا کہ مجھے امید سے اللہ تعالی تمہاری مشکلات سے رہائی میں جلدی کرے گا ٬اس کے بعد وہ غائب ہوگئے اور شہرمدینہ چلے گئے اور کئی سال تک حضرت شعیب (ع) کے پاس رہے یہ دوسری غیبت پہلی غیبت سے بھی زیادہ سخت تھی۔
ابوبصیر نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ حضرت نے فرمایا: حضرت موسی علیہ السلام نے اس وقت تک قیام نہیں کیا جب تک بنی اسرائیل میں پچاس ایسے کذّاب ظاہر ہوئے کہ ان سب کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ موسی بن عمران(ع) ہیں۔

حضرت ادریس علیہ السلام کی غیبت:

روایات کی رو سے انبیاء علیہم السلام میں سب سے پہلے حضرت ادریس (ع) نے غیبت اختیار کی وہ بیس سال تک اپنی گمراہ امت کے خوف سے پردہ غیبت میں رہے, جو کہ ان کی ھدایت و تبلیغ کے مدمقابل ان سے لڑنے جھگڑنے لگی اور انہیں قتل کرنا چاہتی تھی.
تاریخ کی رو سے حضرت ادریس (ع) لوگوں کی نگاہوں سے دور ایک بلند پہاڑ کی غار میں عبادت اور روزہ داری میں مشغول رہے.
لوگ ان بیس سالوں میں قحط اور مختلف مصائب کا شکار ہوئے اور سب بڑی مصیبت طاعون تھا جس نے بہت سے لوگوں کو ھلاک کیا. اس زمانے کے ظالم حکمرانوں نے بہت زیادہ قتل عام کیا اور اکثر لوگ فقر و غربت کی زندگی گزار رہے تھے.اس دوران ایک واقعہ کے نتیجہ میں حضرت ادریس (ع) پہاڑ سے نیچے اترے بیس سال کی غیبت کے باوجود انکے سچے پیروکاروں نے انہیں پہچان لیا اور فقر و تنگدستی کا اظہار کیا اور زمانہ کے ظالم حکمرانوں کی شکایت کی…
حضرت ادریس(ع) امت میں واپس لوٹ آئے اور اپنے پیروکاروں کو ظلم سے رہائی اور فرج کا وعدہ دیا …کہ زمانہ کے ظالم ذلیل ہونگے .. اسی طرح انہوں نے وعدہ دیا کہ آئندہ انکی نسل ایک شخص قیام کرے گا جسکا نام نوح(ع) ہوگا...پھر اللہ نے ادریس (ع) کو اپنی طرف اٹھا لیا.
پھر ادریس(ع) کے شیعہ اور مومنین نسل در نسل نوح(ع) کے قیام کے انتظار میں رہے اور اس انتظار میں انہوں ظالموں کے ستم کے مدمقابل صبر سے کام لیا یہانتک کہ حضرت نوح علیہ السلام کی نبوت کا پرچم بلند ہوا.( کمال الدین،ج1،ص 254)

حضرت خضر(ع) کی غیبت:

اللہ تعالی نے حضرت خضر(ع) کو 6000 سال سے لوگوں کی نگاہوں سے مخفی اور غائب رکھا ہے.اس مسئلہ میں تمام الہی ادیان متفق ہیں.
قران کریم کی صراحت کے مطابق حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت خضر(ع) کی غیبت کے زمانہ میں ہی انکے علم سے استفادہ کیا, اگرچہ وہ غائب تھے لیکن حالات اور حوادث زمانہ سے مکمل باخبر تھے اور اللہ کے دئیے ہوئے علم و اختیارات سے لوگوں کے اموال و نفوس میں تصرف کرتے تھے.
انکی حضرت موسی (ع) کے ساتھ داستان قران مجید میں سورہ کھف کی 59 سے 82 آیات میں ذکر ہوئی ہے.
امام صادق علیہ السلام سے حضرت خضر(ع) کے بارے میں ایک طولانی فرمان نقل ہوا کہ جسکا خلاصہ یہ ہے: اللہ تعالی نے حضرت خضر(ع) کو انکی غیبت میں طولانی عمر اس لئے نہیں دی کہ انہوں نے بعد بعنوان نبی یا امام مبعوث ہونا ہے بلکہ اس لئے کہ اللہ کے علم ازلی میں یہ طے ہوچکا تھا کہ ہمارے قائم کی زمانہ غیبت میں عمر بہت طولانی ہوگی اور بہت سے لوگ انکی طولانی عمر کا انکار کریں گے تو حضرت خضر(ع) کی غیبت و طولانی عمر سے اللہ نے ایسے ھٹ دھرم لوگوں پر حجت تمام کی ہے…( غیبت, شیخ طوسی, ص 259)
اسی طرح امام رضا علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
حضرت خضر (ع) نے آب حیات نوش کیا ہے.. وہ قیامت تک زندہ ہیں.البتہ ہمارے پاس آتے ہیں سلام کرتے ہیں, انکی آواز سنی جاتی ہے لیکن خود دیکھے نہیں جاتے… اللہ تعالی ہمارے قائم کی غیبت میں انکی تنہائی کو حضرت کی خضر کی ہمراہی اور انسیت سے معمور کرے گا..(بحار الانوار ,ج 52،ص 273)
آیا حضرت خضر(ع) کی چند ھزار سالہ غیبت کہ جسے تمام ادیان الہی قبول کرتے ہیں عجیب تر ہے یا امام زمان عج کی ایک ھزار سالہ غیبت ؟!!

حضرت ابراھیم علیہ السلام کی غیبت:

مرحوم شیخ صدوق (رح) فرماتے ہیں: حضرت ابراھیم (ع) کی حضرت
مھدی (عج) کی غیبت سے مشابہ ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ عجیب تر.
شـیـخ صـدوق حضرت ابراہیم (ع) کے لیے تین غیبت کا ذکر کرتے ہیں:
پہلی غیبت انکی ولادت سے بعثت تک: اللہ نے آپکو اسی وقت سے مخفی رکھا جب آپ شکم مادر میں تھے یعنی حمل ظاھر نہیں تھا اور جب وضع حمل کا وقت آیا تو اس وقت سے آپکو ایک غار میں پنہاں رکھا جس سے صرف آپکی والدہ گرامی مطلع تھیں.
دوسری غیبت آپکے زمانہ رسالت میں تھی جب مصر کے طاغوت اور ستمگر نے آپکو جلا وطن کیا اور انہوں نے کہا:
(وَ اَعْتَزِلُکُمْ وَ ماتَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللّهِ.)
تم اور جو تم لوگ غیر خدا کو پکارتے ہو اس سے دوری اختیار کرتا ہوں.
تیسری غیبت: یہ غیبت حضرت ابراھیم (ع) نے دور دراز کے شہروں اور صحراؤں میں سیر و سیاحت کے لیے اختیار کی تاکہ عبرت و نصیحت لیں.(کمال الدین, ج1, ص 273)
امام صادق (ع) فرماتے ہیں:
ان ولی الله یعمر :عمرابراهیم الخلیل عشرین وماة سنة ،وکان فی صورة فتی موفق ابن ثلاثین سنة لو خرج القائم انکره الناس یرجع شابا موفقا…
ولی خدا (عج) عمر طولانی رکھیں گے, حضرت ابراهیم خلیل (ع) نے 120 سال عمرکی لیکن لوگوں میں ایک 30 سالہ طاقت ور جوان کی صورت میں ظاھر رہے. ھمارے قائم بھی ایک طاقت ور جوان کی شکل میں ظاھر ہونگے اور لوگ انکا انکار کریں گے…(غیبت, شیخ طوسی, ص 258 )

امام زین العابدین (ع) حضرت امام مہدی (عج) کی حضرت ابراھیم (ع) سے شباھتوں پر طولانی حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں:
«واما من ابراهیم فخفاء الولادة واعتزال الناس ….حضرت ابراھیم کی ایک شباھت مخفی ولادت اور لوگوں سے جدا اور دور زندگی گزارنا ہے.. (اثبات الھداٰۃ, ج3،ص 466)

حضرت اسماعیل(ع) کی غیبت : بعض روایات کی بناء پر حضرت اسماعیل (ع) ایک سال تک اپنی امت سے غائب رہے.

 غیبت حضرت یوسف(ع):

شیخ صدوق (رح) کی تحریر کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام کی غیبت بیس سال تک رہی بلآخر اپنے خاندان اور قوم سے یہ فراق , اللہ نے وصال میں تبدیل کیا.
اپنے گھر اور قوم سے غیبت کی مدت میں وہ کچھ دن کنویں, کچھ سال قیدخانہ اور باقی مدت مصر کے حاکم رہے.
انکے والد بزرگوار حضرت یعقوب علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ اس غیبت میں زندہ ہیں اور پروردگار جلد انہیں ظاہر فرمائے گا. لھذا جب انکے بیٹوں نے کہا وہ بھیڑیوں کا شکار ہوگئے ہیں تو حضرت نے فرمایا:(اِنّی اَعْلَمُ ما لاتَعْلَمُونَ.)
میں (اللہ کی جانب سے)وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو.(شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمة، ج 1 ، ص 280.)
امام زین العابدین (ع) فرماتے ہیں:

« …وهی غیبته عن خاصته وعامته واختفاوه عن ابیه واخوته مع قرب المسافة : اور قائم میں حضرت یوسف (ع) کی شباہت ہے اور وہ خاص و عام سے مخفی ہونا ہے, حتی کہ اپنے والد اور بھائیوں سے غائب ہونا, حالانکہ وہ (فاصلے کے اعتبار سے )قرب و جوار میں رہتے تھے.(بشارة الاسلام ص 98 وکشف الغمه ج 3 ص 313)
اسی طرح امام زین العابدین (ع) فرماتے ہیں :
«غیبته کغیبة یوسف ،ورجعته کرجعة عیسی الذی انکر الکثیرون کونه حیا واختلاف الامة فی ولادته کاختلاف الناس فی موت عیسی : قائم کی غیبت یوسف(ع) کی غیبت کی مانند ہے.اور انکی رجعت عیسی(ع) کی رجعت کی مانند ہے, کہ بہت سے لوگوں نے انکے زندہ ہونے کا انکار کیا ہے ، اور امت کا اختلاف قائم کی ولادت میں اسطرح ہوگا جس طرح دوسروں کا عیسی(ع) کی وفات میں اختلاف ہے. (غیبت شیخ طوسی ص 77 وبشارة الاسلام ص 98 و189)
امام صادق (ع) اس بارے میں فرماتے ہیں:
اس امر کے صاحب (امام مہدی) حضرت یوسف (ع) سے بھی ایک شباھت رکھتے ہیں.
کیوں یہ امت انکار کرتی ہے کہ اللہ تعالی ایک مدت تک اپنی حجت کو غائب رکھنا چاہتا ہے ؟! حضرت یوسف (ع) مصر کے حاکم تھے اور انکے اور والد کے درمیان اٹھارہ دن کا فاصلہ تھا, اگرخدا چاہتا تو انکی جگہ سے انکے والد کا آگاہ کر سکتا تھا, خدا کی قسم جب حضرت یعقوب(ع) اور انکی اولاد انکی جگہ سے آگاہ ہوئے,اس سفر کو نو دنوں میں طے کیا! کیوں انکار کرتے ہیں کہ حضرت حجت حضرت یوسف(ع) کی مانند ہوں کہ وہ انکے بازاروں میں چلیں گے اور انکے دستر خوانوں پر بیٹھیں گے,لیکن انہیں نہیں پہچانیں گے یہاں تک کہ وہ وقت آپہنچے کہ پروردگار انہیں اجازت دے اور وہ اپنا تعارف کروائیں جس طرح کہ حضرت یوسف (ع) کو اللہ نے اجازت دی …(منتخب الاثر ص 255 و300 ،اصول کافی ج 1 ص 337 )

حضرت عیسی علیہ السلام کی غیبت:

یهود و نصارى کا انکے قتل پر اتفاق ہے، لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے :
« وَ قَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیحَ عِیسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَ ما قَتَلُوهُ وَ ما صَلَبُوهُ وَ لکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَ إِنَّ الَّذِینَ اخْتَلَفُوا فِیهِ لَفِى شَکّ مِنْهُ ما لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْم إِلاَّ اتِّباعَ الظَّنِّ وَ ما قَتَلُوهُ یَقِیناً بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَیْهِ وَ کانَ اللَّهُ عَزِیزاً حَکِیماً» (نساء, 156)
اور انکا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح عیسی بن مریم کو قتل کیا, در حالیکہ نه انہوں نے اسے قتل کیا ہے اور نہ صلیب پر لٹکایا, لیکن امر ان پر مشتبہ ہوگیا. جنہوں نے انکے (قتل)کے بارے میں اختلاف کیا وہ شک میں ہیں علم نہیں رکھتے ,صرف گمان کی پیروی کررہے ہیں,اور قطعاً انہوں نے اسے قتل نہیں کیا….
عیسی بن مریم علیہ السلام ابھی بھی زندہ ہیں اور غائب ہیں اور روایات کے مطابق ، حضرت مہدی عج کے زمانہ ظہور میں آسمان سے زمین پر آئیں گے, جیسا کہ رسول خدا(صلى الله علیه وآله) نے فرمایا :
« یلتفتُ المهدیّ و قد نزلَ عیسى بنُ مریمَ کانما یقطُرُ من شعرهِ الماءُ فیقولُ المهدیُّ: تقدّم صلّ بالنّاس فیقُولُ عیسى: امّا اُقیمتِ الصّلوةُ لکَ، فیصلّى خلفَ رجل من وُلدى : مهدى(عج) متوجه ہونگے کہ عیسى بن مریم(ع) آسمان سے زمین پر نازل ہوئے ہیں گویا انکے بالوں سے پانی کے قطرے گر رہے ہیں. مہدی انہیں کہیں گے کہ: آگے آئیں اور لوگوں کے ساتھ نماز قائم کریں. حضرت عیسى(علیه السلام)کہیں گے : نماز تو ضروری ہے آپکے ذریعے قائم ہو پس عیسی میری نسل کے شخص کے پیچھے نماز پڑھیں گے » (عقد الدرر, ص 38 )
احادیث و روایات میں اور بھی بہت سے انبیاء علیہم السلام جیسے حضرت داؤود,حضرت سلیمان, حضرت لوط حضرت شعیب, حضرت یونس,حضرت عزیر…..علیہم السلام اور حتی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کی غیبت نقل ہوئی ہے. اسی طرح اولیاء خدا اور صالح افراد کی غیبت مثلا حضرت ذوالقرنین, اصحاب کھف.. کی غیبت بھی نقل ہوئی ہے.

نتیجہ:

ہم یہاں اس سوال کے تفضیلی جواب دینے کے بعد ایک نتیجہ لیں گے کہ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت ایک انہونی یا کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ حجج الہی کی تاریخ میں اس سے پہلے بھی یہ موضوع بارھا تکرار ہوا ہے اور یہ سنت و قانون الہی ہے کہ جب بھی کسی نبی یا ولی کی جان کو خطرہ ہوتا تھا اور خداوند کو ابھی اسکی دنیا میں زندگی کی ضرورت ہوتی تھی تو اسے ایک مدت تک لوگوں کی نگاہوں سے غائب کر دیتا, اب یہ مدت ممکن ہے کچھ دنوں پر مشتمل ہو جیسے ہمارے پیغمبر( ص) کی کفار کے شر سے بچنے کی غار ثور میں تین روزہ غیبت ہو یا ممکن ہے کچھ مہینوں یا سالوں یا صدیوں بلکہ ھزاروں سالوں پر محیط غیبت ہو جیسے حضرت خضر یا حضرت عیسی (ع) کی غیبت ہو.

غیبت کے موضوع پر دیگر سوالات کے جواب بعد والی اقساط میں دئے جائیں گے.انشاء اللہ

آخر میں بارگاہ حضرت حق میں عاجزانہ دعا ہے کہ مولاعج کے معارف کو سمجھنے کی ہماری اس حقیر سی کاوش کو مورد رضایت قلب مبارک امام زمان عج قرار فرما.آمین.
(جاری ہے…… اللھم عجل لولیک الفرج……)
طالب دعا: علی اصغر سیفی

اپنا تبصرہ لکھیں