عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

توحید منتظرین / اللہ کی معرفت پر برھان نظم

Untitled
مہدی مضامین و مقالات

توحید منتظرین / اللہ کی معرفت پر برھان نظم

توحید منتظرین
اللہ کی معرفت پر برھان نظم
_استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

تحریر:ردا شیرازی​

علمی اصطلاح میں برھان نظم یعنی کائنات کے اندر ہم ہر جگہ پر ایک خاص نظام دیکھ رہے ہیں، اور ہر نظام بتا رہا ہے کہ یہاں ایک بہت ہی عظیم حکمت والا، اور بہت ہی علم والا، ایک ناظم موجود ہے۔ (یعنی کائنات کے اندر نظم سے ناظم تک پہنچنا۔)
اگر ہم کاٸنات کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہی سورج چاند کی حرکت، دن رات کا آنا، موسموں کا آنا، نظامِ شمسی، کہکشاؤں کا نظام، خود زمین کے اندر نباتات کا نظام، حیوانات کا نظام، دریاؤں کا، سمندروں کا نظام اور خود ہر چیز کے اندر جب دیکھیں، انسان اپنے بدن میں دیکھے تو ہر چیز اپنے مقام پر ہے اور ایک دوسرے سے متصل ہے، اور یہ نظام ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اسی لیے نظامِ زندگی جاری ہے اور انسانی جسم میں لاتعداد نظام ہیں جیسے نظام تنفس، نظام ہضم، نظام اعصاب، خون کی گردش کا نظام، فکر کا نظام اور ۔۔۔ بہت سے نظام جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں تاکہ یہ ایک چلتے پھرتے انسان کا جسمانی نظام جو ہے وہ زندگی سے برخوردار ہو، یہ نظام ہر انسان کے اندر ہے، یا ایک چیونٹی کے وجود میں بھی ہے یہ جتنے بھی نظام ہیں اس کے چلانے والے انسان نہیں ہیں۔ تو کون چلا رہا ہے؟ کس نے بنایا ہے؟
کس طریقے سے چل رہے ہیں؟
یہ ساری باتیں بتا رہی ہیں، یہ نظم جو کائنات میں ہے یہ ایک حکمت اور علم والی ذات ہے جس نے اس انداز سے کاٸنات کو منظم کیا۔ اور ابھی اس نظم کو وہی چلا رہی ہے۔
_قرآن مجید میں سورہ آل عمران میں پروردگار اس موضوع سے پردہ اٹھاتا ہے، اور فرماتا ہے کہ! “یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور یہ جو دن رات ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہیں اس کے اندر عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔”_
یعنی اگر کسی نے پروردگار تک پہنچنا ہے تو اس کے لیے یہ نشانیاں کافی ہے۔
اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام اپنے ایک مشہور شاگرد جناب مفضل کو فرماتے ہیں کہ!
_”اے مفضل! پہلی جو دلیل ہے پروردگار پر وہ یہی ہے کہ خدا نے کس انداز سے اس کائنات کے اجزاء میں ایک نظام بخشا ہے۔ اگر تو پوری کائنات کو دیکھ تو یہ پوری کائنات کچھ اس طرح نظر آئے گی کہ آسمان جو ہے وہ ایک چھت کی مانند ہے اور زمین ایک فرش کی مانند ہے اور ستارے گھروں میں چلنے والے چراغوں کی مانند ہے۔ ہر چیز کس طرح خوبصورت انداز سے اللہ نے اس کائنات کے اندر رکھی ہوئی ہے یہ کائنات ایک گھر کی مانند ہے۔ اور اس کے اندر حیوانات اور بوٹیاں اور نباتات ہیں یہ انسان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مہیا کی ہوئی ہیں تو یہ آیااللہ کے وجود پر دلیل نہیں ہے؟_
یہ جو اتنی طاقت سے اس کاٸنات کا نظام چل رہا ہے، اس کو بنانے والا کون ہے؟
خود پروردگار جو ہے وہ قرآن میں ایک مقام پر اپنی تخلیق کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ سورہ روم میں پروردگار فرما رہا ھے۔ _کہ! “اللہ کی یہی بڑی نشانی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم جو اس بشر کی شکل میں ہر طرف پھیل گئے ہو_
*مٹی سے اس گوشت و پوش کے بدن تک کا سفر، اس سب سے حیرت انگیز کام ہے*
مٹی سے اتنی خوبصورت شکل میں انسان کو وجود میں لانا یہ دنیا کا کوئی کارخانہ، کوئی نظام، ان کا کوئی بنانے والا نہیں ہے۔
ایک ہستی جو سب سے بالاتر ہے اپنی حکمت و علم شعور میں اور طاقت میں اس نے کس طرح ایک نظم سے بھرا ہوا ایک سلسلہ ترتیب دیا کہ مٹی سے ایک جاندار مخلوق تک کا سفر جو ہے وہ قائم ہوا اور یہ کڑیاں آپس میں ملیں اور آج ایک انسان جو خوبصورت وجود میں ہم دیکھ رہے ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔ کہ!
_”مجھے تعجب ہے اس مخلوق سے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ انسانوں کی نظر سے مخفی ہے حالانکہ خدا کی شناخت اور تخلیق کے آثار جو کہ محیرالعقول ہیں جن پر عقل حیران و پریشان ہے اور جو اتنے خوبصورت اور محکم انداز سے تخلیق کے مجموعے جو ہے وہ اللہ کے پوری کائنات میں وہ دیکھتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ خدا نظر نہیں آتا۔ مولا ع آگے فرماتے ہیں کہ! مجھے اپنی جان کی قسم اس کائنات کے ان امور میں ان تخلیقات میں پروردگار کی عظیم ترکیبات اور اس کی تدبیر کی لطافتوں کو دیکھو کہ کس طرح مخلوقات کو اللہ نے عدم سے وجود بخشا اور ان کے اندر تبدیليوں میں اور ایک طبیعت سے دوسری طبیعت، ایک مادہ سے دوسرے مادہ میں، ایک حالت سے دوسری حالت میں اس میں خدا کی وجود کے روشن دلائل ہیں۔”_
پروردگار نے سورہ روم میں فرمایا:
_خدا کی نشانیوں میں سے ایک ہے کہ”اس نے ان آسمانوں اور زمین کی خود تخلیق کی اور اس کے بعد فرمایا! تمہاری زبانوں میں اختلاف ہے، (زبان تو ایک ہے لیکن مختلف بولیاں بولی جا رہی ہیں،) رنگوں میں اختلاف ہے اس میں نشانیاں ہیں اہل علم کے لیے اس لیے دیکھتے ہیں۔_
امام صادق علیہ السلام جناب مفضل کو اسی آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں:
_کہ! “اے مفضل غور کر کے اللہ نے انسان کو بولنے کی نعمت عطا کی ہے وہ اس بولنے کی طاقت سے جو کچھ اس کے اندر ہے اس کو بیان کرتا ہے اور لوگوں کے اندر جو ہے اس سے آگاہ ہوتا ہے۔”_
_اگر انسان بولنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو جو کچھ بھی انسانوں کے اندر ہے وہ ظاہر نہ ہوتا تو پھر یہ ایک ایسے حیوان کی مانند ہو جاتا۔_
_جیسے ہم دیکھ رہے ہیں چار پاؤں والا حیوان کہ جو نہ تو دوسروں کو اپنے اندر سے آگاہ کر سکتا ہے اور نہ دوسروں سے باخبر ہو سکتا ہے اس طرح تو انسان اور حیوان کا فرق ہی ختم جاتا۔_
سب سے بڑی دلیل پروردگار کے وجود پر اور اس کی توحید پر کائنات کے اندر نظم ہے ہر چیز میں نظم ہم دیکھ رہے ہیں، اور جہاں بھی نظم ھو وھاں ناظم ہوتا ہے۔
اور اس کائنات کا ناظم وھی بلند و بالا وجود ہے جو علم میں سب سے بڑھ کر، قدرت میں سب سے بڑھ کر اور حکمت میں سب سے بڑھ کر ہے۔ اور یقینا وہی خدا ہے جو ہمارا خالق ہے اور ہمارا رب ہے۔
*اہل انتظار کے لیے درس*
جو ہے وہ باعث ایمان قلب ہے جب کائنات کو اہل انتظار دیکھتے ہیں، اس میں پروردگار کی موجودگی کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو پروردگار پر انکا ایمان بڑھتا ہے، توکل بڑھتا ہے اور وہ سچے دل سے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے طالب ہوتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح اللہ نے کائنات میں اتنا خوبصورت نظام قاٸم کیا ہے، اسی طرح لوگوں کے امور کے سیاسی، اجتماعی اور معاشرتی تمام امور میں بھی وہ نظم قائم ہو جو ولی خدا کی عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے اور اس کے لئے کوشش کرتے ہیں تاکہ خدا کے خلیفہ کی حکومت کی راہ ہموار ہو اور وہ آکے لوگوں کے ظاہری امور میں بھی ایسا نظام بخشے، کہ لوگ اپنے اجتماعی، سیاسی زندگی کے تمام امور میں جو بےضابطگیوں کا شکار ہیں آپس کے غیر عادلانہ رویوں اور ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی وجہ سے جو درد دے رہے ہیں اس سے رہا ہوں اور بہتر زندگی گزاریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں