عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

آیات مہدویت (حصہ دوم) – تحریر: حجت الإسلام والمسلمین علی اصغر سیفی

آیات مہدویت (حصہ دوم) - تحریر حجت الإسلام والمسلمین علی اصغر سیفی
مہدی مضامین و مقالات

آیات مہدویت (حصہ دوم) – تحریر: حجت الإسلام والمسلمین علی اصغر سیفی

خاکہ:

 سنی اور شیعہ روایتوں میں آیا ہے کہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ امامَ زمانِہِ ماتَ ميتَۃً جَاھِليۃً

جو اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے اور مرجائے وہ جہالت کی موت مرا ۔ [1]

اسی بنا پر تمام لوگوں پر واجب ہے کہ اپنے زمانہ کے امام کی شناخت کے لئے  کوشش کريں اور بہترین اور محکم ترین ذرائع سے استفادہ کریں ۔

امام کی شناخت کے لئے مختلف اسباب و ذرائع موجود ہیں جن میں سب سے بہتر اور ہر خدشہ و اعترض سے پاک ذریعہ  کلام الہی کا لازوال منبع قران مجید ہے۔

لہذا اس  تحقیق میں معرفت ِقرآن  کے سرچشمہ سے استفادہ کیا گیا ہے  کہ جو کائنات کے حقائق کي شناخت کے حوالے سے انسان کے لئے سب سے  بنیادی سرچشمہ ہے اور تمام مسلمان فرقوں کے لئے مورد اتفاق و اطمینان بھي ہے ۔

گذشتہ مقالہ میں تین آیات مہدویت کو احادیث و روایات کی رو سے بیان کیا گیا اور اس مقالہ میں بھی مزید چند آیات سے مہدویت کے مختلف موضوعات کا جائزہ لیا جائیگا ۔

بنیادی الفاظ:قران،آیت،مہدویت،ظہور

4)خدا کي جانب سےروي زمين پرمستضعفین  کي حکومت اور وراثت:

 ارشاد ہورہا ہے کہ ﴿وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ [2]ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کو جو زمین پر کمزور کرديئے گئے ہیں ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنا زمین پر وارث قرار دیں۔

یہ آیت حضرت موسی علیہ السلام کی داستان سے مربوط ہے کہ اللہ تعالي فرماتا ہے حضرت موسیٰ عليہ السلام جس زمانے میں پیدا ہوئے اور بڑے ہوئے ،فرعون نے بغاوت کے ساتھ ربوبیت کا دعوی کیا۔ اس نے بنی اسرائیل کو مستضعف (کمزور و ناتوان، بنایا، ان کے فرزندوں کو قتل کيا اور چاہتا تھا کہ انہیں برباد کردے ،حالانکہ خدا کا کچھ اور ارادہ تھا ۔

خدا چاہتا تھا کہ ان پر احسان کرے اور انہیں رھبر و پیشوا قرار دے تاکہ بہت سالوں بعد وہ زمین کے وارث اور پیشوا ہوں جب کہ اس سے پہلے زمین دوسروں کی دسترس میں تھی ، خدا چاہتا ہے کہ انہیں زمین پراستحکام بخشے تاکہ وہ ایک مضبوط حکومت برقرار کرکے اس سے استفادہ کرسکیں ۔

اگرچہ آیت کے ظاہری بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی قوم اور حضرت موسی عليہ السلام کے  زمانے کے حوادث میں سے ایک حصے کو بیان کررہی ہے ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ان واقعات کو بیان کرنے سے خداوند عالم کوئی مقصد رکھتا ہے۔

ارشاد فرما رہا ہےکہ قدرت طلب اور آمريت پسندیہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کی زندگی اور حکومت کا دوام (مستضعفین) کے استحصال اور ان کے حقوق ضبط کرنے میں ہے اور ان سے  اس طرح مفاد اٹھاتے ہیں کہ انہیں زندگی سے بھی محروم کر ديتے ہیں لیکن خدا کا ارادہ مستکبرین کے ارادے کی مخالفت کرتا ہے اور وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ لہذا یہاں فعل مضارع کا  صيغہ (نريد) استعمال ہوا ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا کا ارادہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ( مستضعفین )کی مدد کرتا رہے ۔

یہ آیت تمام حق پرستوں اور خواہان عدالت کے لئے ایک بشارت ہے کہ ظلم و جور کی حکومت دائمی نہیں ہے بلکہ آخر کار کامیابی ہمیشہ رنج و الم اٹھانے والوں کے لئے ہے ۔اگر غور و خوض کيا جائے تو واضح طور پر یہ آیت خود حضرت امام مہدی( عج)کے نورانی و عالمی انقلاب اور حکومت سے مربوط ہے امام زمانہ عليہ السلام کا قیام اس آیت کا مصداق کامل ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں :

«ھُمْ آلُ مُحَمَّد يَبْعَثُ اللہُ مَھْدِيَھُمْ بَعْدَ جَھْدِھِمْ فَيَعِزُّھُمْ وَيَذِّلُ عَدُوَّھم»[3]

یہ خاندان پیغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے افراد ہیں اللہ تعالي ان کے مہدی (عج)کو اٹھائے، انہیں عزت بخشے گا اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و خوار کرے گا ۔

خداوند عالم نے اس آیت میں (منت) یعنی (احسان) سے تعبیر کیا ہے یہ بات اس کی عظمت و بزرگی کی نشاندہی  کررہي ہے کیونکہ خدا نے صرف خاص مقامات پر یہ تعبیر استعمال کی ہے مثال کے طور پر پيغمبروں کو دنیا میں بھيجنے پر (منت) کی تعبیر  استعمال کی ہے۔

﴿لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا ﴾[4]

بے شک خدا نے مومنین پر احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان سے رسول مبعوث کیا ہے۔

اسی بنا پر خدا کا ارادہ یہ ہے کہ مظلوم و محروم افراد کو ظالم و جابر لوگوں پر غلبہ عطا کرے اور انہیں زمین پر وارث اور صاحب اختيار قرار دے تاکہ وہ عادلانہ حکومت قائم کرتے ہوئے، ہمیشہ بشریت کی رہبری کا فریضہ انجام ديں اور خدا  ہرگز وعدہ خلافي نہيں کرتا۔

شیخ صدوق (رہ)( کمال الدین) میں آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کی ولادت سے مربوط روایات نقل کرتے ہیں کہ جب امام مہدی عليہ السلام دنیا میں تشریف لائے تو سب

سے پہلے خدا کی وحدانیت ،پیامبر کی رسالت اور ائمہ اطہار علیھم السلام کی ولایت کی گواہی دی پھر مذکورہ آیت کی تلاوت فرمائي۔[5]

اگر آیت کے ذیل ميں توجہ کی جائے تو وعداللہ سے امام (عج)کے زندہ وجود پر استفادہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہر حکومت حاضر اور زندہ رہبر کا تقاضا کرتي ہے۔

(۵)دوبارہ زندگی:

﴿اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ[6]

جان لو کہ خدا زمین کی موت کے بعدپھر  اسے زندہ کرتا ہے، بے شک ہم نے تمہارے لئے (اپنی)روشن آیات بھیجی ہیں تاکہ تم  غوروفکر کرو۔

اللہ تعالي مومنین کی سرزنش کے بعد فرماتا ہے کیا خشوع کا وقت نہیں آیا ہے پھر زمین کی حیات کی طرف اشارہ  کرتے ہوئے گویا فرماناچاہتا ہے کہ وہ قلوب جو مردہ ہوچکے ہیں انہیں ذکر الھی سے زندہ کرو ،جس طرح مردہ زمین جوبارش کے قطروں سے دوبارہ زندہ ہوکر سرسبز ہوگئی ہے اس  بناء پر اس کی شباہت برقرار کرتاہے۔

یہاں خدا ارشاد فرماتا ہے کہ ایسی زندگی محقق ہوگی (یحی الارض) اگر یہ آیت پہلی والی آیت سے مربوط ہو (جیسا کہ ہے )تو یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ مردہ قلوب بھی اس کے ارادہ سے زندہ ہوسکتے ہیں۔ حضرت امام باقر عليہ السلام اس آيت کے بارے ميں  ارشاد فرماتے ہیں :

«يُحيِيھا اللہُ عَزَّوَجلَّ بِالقَائِمِ عليہ السلام بَعْدَ مَوتِھا، بِمَوتِھا، کفرُ اَھْلِھا، وَالکَافِر مَيِّتُ»[7]

اللہ تعالي زمین کو قائم علیہ السلام کے وسیلے سے زندہ کرے گا جبکہ وہ مردہ ہوچکی ہوگی يہاں مردہ ھونے سے مراد اھل زمین کا کفر ہے ،کافر وہي مردہ ہے۔

شیخ کلینی رہ امام صادق علیہ السلام سےاللہ تعالي کے اس ارشاد ﴿اعلموا ان اللہ يحي الارض بعد موتھا﴾ سے متعلق نقل کرتے ہیں کہ امام نے فرمایا ﴿العَدلُ بَعدَ الجُورظلم و جور کے بعد عدل ہوگا۔

چند نکات: (۱)جس طرح زمین کی حیات خدا کے ارادے سے برقرار ہے اور خدا زمین کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے انسان کی حیات سے بھی اس کے  ارادے پر منحصر ہےاللہ تعالي چاہتا ہے انہیں دوبارہ زندگی عطا کرے۔

(۲)جس طرح زمین کو دوبارہ حیات کے حصول کے لئے آمادگی اور شرائط کی ضرورت ہے اسی طرح انسان کو بھی دوبارہ حیات کے حصول کے لئے آمادگی و شرائط کی ضرورت ہے ۔

(۶)خدائی نعمت:

﴿أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ[8]

کیا وہ نہیں جانتے ہيں کہ خدا نے آسمان و زمین کے درميان تمام ظاھری و باطنی نعمتوں کو ان کے لئے مسخر کردیا ہے اور ان پر اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں ؟ بعض لوگ بغير علم ودانش ،واضح راہنمائي اور کتاب خدا کے متعلق بحث کرتے ہیں۔

آیت کی تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالي نے انسانوں سے خطاب کیا ہے اور اپنی بے شمار نعمتوں کی جانب ان کی توجہ دلائی ہے کیا تم زمین و آسمان پر نگاہ نہیں ڈالتے اور اس کے حیرت انگیز مناظر پر غور و فکر نہیں کرتے کہ پروردگار نے کس طرح تمام کائنات کو اس نظام کے تحت مسخر اور پابندکیا ہے تاکہ انسان اشرف المخلوقات پيدا ہو اور ان نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے منزل کمال تک پہنچے، خداوند عالم نے اس کام کے لئے حجت تمام کردی ہے اور ظاھری وباطنی نعمتوں کو وسیع پیمانے پرتمہارے لئے انہيں کامل کرديا ہےفراھم کیا ہے اور( نعمت) کا لفظ اس چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے مزاج اور وجودکے مطابق ہو، خدا کی ظاھری نعمتیں وہ ہیں کہ جنہيں انسان آسانی کے ساتھ محسوس کرسکتا ہے جیسے اعضاء بدن کا سالم ہونا، رزق حلال و طيب و…،اورباطنی نعمتوں سے مراد مثلاً شعور، عقل اور ارادہ وغیرہ۔

اگرچہ لطف پروردگار عالم بہت اور ناقابل انکار ہے اس کے باوجود لوگوں کا ایک گروہ کہ جو علم و دانش سے محروم ہے ليکن حق کے مقابلے میں جنگ و جدال  پربا کرتا ہے اورحق کا منکر ہوتا ہے یہ افراد کسی بھی معتبر دلیل کے بغیر بحث کرتے ہیں يعني علم و عقل، حقائق، خدائی الھام، آسماني کتاب وغیرہ سےقطع نظر بحث وجدال کرتے ہيں اور حقیقت کا انکار کرنا چاہتے ہیں!

آیت کی تاویل: ظاہري و باطني نعمت  کا ایک مصداق جو ذکر ہوا ہے وہ امام ظاھر و امام غائب  ہيں محمد بن زیاد ازدي کہتے ہيں کہ:«سَألتُ سَيِّدي مُوسي بنَ جَعْفَر عليہ السلام عَنْ قَول اللہِ عزَّوجَلّ﴿وَأَسبَغَ عَلَيْکُمْ نِعْمَهُ ظَاهِرَﺓً وَ بَاطِنَۀ﴾ فقال عليہ السلام : النعمۃ الظاھرَۃُ الامامُ الظاھرِ وَالباطِنَۃُ الامامُ الغايبُ فقلتُ لَہُ وَيکون في الائمۃ من يغيبُ؟ قال: نَعَم يَغيبُ عَنْ ابصار الناسِ شخصُہُ وَلاَ يغيبُ عَنْ قُلُوبِ المؤمنينَ ذِکرُہ وَھُوَ الثاني عَشَر مِنّا يسھلَ اللہ لَہُ کُلّ عسير و يذلل لہ کل صعبٍ ويظھرُ لہ کُنُوزَ الارض و يقربُ لَہُ کُلّ بعيدٍ وَ يَبيرُ بہ کلّ جبارٍ عَنيدٍ وَيَھْلُکُ علي يدہ کُلّ شيطانٍ مريد: ذلک ابن سيدۃ الاماء الذي تخفي علي الناس ولادتُہ ولاَيحل لھُمُ تسميتہ حتي يظھرہ اللہ عزّوجل فيملاُ الارضَ قسطاً وعدلاً کما مُلئت جوراً و ظلماً»[9]

اپنے مولا امام موسی بن جعفر (ع) سے خدا کے اس فرمان( واسبغ علیکم…) کے متعلق سوال کیا تو حضرت نے  فرمایا: نعمت ظاھری سے مراد امام ظاھر اور باطني نعمت سے مراد امام غائب ہے، ميں نے سوال کیا: کیا آئمہ اطہار (ع)کے درمیان کوئی ہے جو غائب ہو ؟ فرمایا: ہاں ایک شخص لوگوں کی نگاہوں سے چھپا ہوا ہوگا لیکن اس کی یاد ہمیشہ مومنین کے دلوں سے غائب نہیں ہوگی، وہ ہم میں سے بارہواں امام(عج) ہے۔ خدا اس کے لئے ہر سخت کام کو آسان اور ہر دشواری کو ہموار کردے گا، زمین کے خزانوں کو اس کے لئے آشکار کردے گا، ہر دوری کو اس کے لئے نزدیک کردے گا، اس کے ہاتھوں سے تمام سرکش ستمگروں کو نابود کرے گا، ہرمغرور شیطان اس کے ہاتھوں ہلاک  ہوگا، وہ کنیزوں کی ملکہ  کا بیٹا ہے، جس کی ولادت  لوگوں سے پوشیدہ رہے گي اور اس کا نام لینا روا نہیں ہے یہاں تک کہ خدا ان کو ظاھر کرے اور زمین کو عدل سے بھر دے  کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی ۔

چند نکات:

(۱)نعمت: وہ چیز ہے جو انسان کی طبیعت اور مزاج کے مطابق ہو اور اسے کمال تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو۔ امام غائب کی باطنی نعمت سے تشبیہ دی گئی ہے تو اس کی دلیل یہ ہے کہ اگرچہ ان کی غیبت کچھ وجوھات کی بنا پر انسان کے لئے مشکلات کا سبب ہے لیکن دوسری جانب یہی غیبت انسان کے کمال تک پہنچنے میں موثر ثابت ہوتی ہے کہ جس سے انسان کو غافل نہیں ہونا چاہئے مثال کے طور پر خاص امتحان بے شمار اجر و ثواب ۔

(۲)خداوندعالم نے بہترین نظام خلق کیا اورامامت کی نعمت کو انسانوں کے لئے کامل کردیا، لیکن اس نعمت سے فائدہ اٹھانا خود انسان کے اختیار میں ہے ضروری ہے کہ وہ خود چاہے تاکہ اس سے فائدہ اٹھا سکے نہ یہ کہ جبر کی کیفیت ہو ۔

(۳)امام غائب نعمت ہيں لہذا ان سے استفادہ کرنے کا امکان فراھم ہونا چاہئے۔ دوسری جانب امام کی غیبت مؤمنين کے لئے صرف ان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہونا ہے نہ کہ ان کے دل سے لہذا ان کی یاد ہمیشہ مومنين کے قلوب میں موجود ہے یہی چيز اس کی کوشش و جدت کا عامل ہے ۔

(۴)امام خدا کی کامل نعمت ہيں،ان کا ظہور اور غیبت دراصل لوگوں کي مدد کرنے اور فائدہ پہچانے میں زیادہ موثر ثابت نہیں ہوتا، اسی بنا پر پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور آئمہ اطہار علیھم السلام  کے وجود گرامی حتی خود امام زمان عجل اللہ فرجہ الشريف کو امام غائب اور بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

(۷)اپنے رہبر کے متعلق امتوں کی شناخت:

﴿يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُوْلَئِكَ يَقْرَؤُونَ كِتَابَهُمْ وَلاَ يُظْلَمُونَ فَتِيلًا﴾[10]

یاد کرو اس روز کو جب ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا پھر ہر شخص کہ جسے اس کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ اپنے اعمال ناموں کو پڑھیں گے ان پر کھجور کے دانے (بیج) کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا ۔

آيت کي تفسیر:

اللہ تعالي آیت کی ابتدا میں بہت اہم مسئلہ کی جانب توجہ دلا رہا ہے وہ مسئلہ رہبری کا ہے کہ جو انسان کی تقدير میں اہم کردار ادا کرتا ہے فرما رہاہے: قیامت کے دن ہر گروہ کو اس کے رہبر و پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا ۔

اس آیہ میں مراد یہ ہے کہ ہر انسان نے جو رہبر و پیشوا دنیا میں اپنے لئے منتخب کیا ہو گا قیامت میں وہ اس کے ہمراہ ہوگا ۔اگر وہ دینی رہبر و پیشوا (پیامبر یا وصی) کو منتخب کریں گے تو ان کے ساتھ محشور ہوں گے  اور اگر ان کا رہبر شیطان  اور پیشوا گمراہ ہوگا تو وہ اس کے ساتھ محشور ہوں گے۔ لہذا ہر زمانے میں امام نور بھی موجود ہے اور امام نار بھی موجود ہيں جو شخص جس امام کا انتخاب کرے گا ،محشر کے روز وہ اسی کے ساتھ محشور ہوگا۔

یہ تعبیر نہ صرف انسان کےکمال پانے کے ايک سبب کو بیان کررہی ہے بلکہ اسے ہوشیار بھي کررہی ہے کہ وہ رھبرکو منتخب کرنے میں لازمی طور پر بہت دقت کرےاور ان کے عقيدہ اور زندگي کي قيادت کو ہر رہبر کے سپرد نہ کرے۔ضروری ہے کہ وہ جانتا ہو کہ رہبر اس کی زندگی اور اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے اوريہ وہي ہے کہ جو اسے قیامت کے دن اصحاب یمین کی  صف (وہ افراد جن کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں ہوں گے) میں قرار دے یا اسے اصحاب شمال (وہ جن کے نامہ اعمال الٹے ہاتھ میں ہوں گے)کی صف میں پہنچا دے۔

آیت کی تاویل:

اس آیت سے استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر زمانے میں ضروری ہے کہ آسمانی رہبر اور نوري امام موجود ہو تاکہ روز قیامت اس کے زمانے کے لوگ اس کے ساتھ محشور ہوں ۔ضروری ہے کہ اس نکتہ پر توجہ کی جائے کہ رسول اکرم(ص) آخری نبی ہیں اور اہل سنت وشیعہ روايات مطابق آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ میرے بعد میرے بارہ خلیفہ ہوں گے ۔روایت میں پہلے امام علی علیہ السلام سے آخری امام مہدی (عج) کا ذکر ہوا ہے ۔مذکورہ بالا مطالب سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس آیت میں امام کے مصادیق میں سے ایک مصداق حضرت مہدی (عج )ہیں۔

کلینی (رہ) فضیل بن یسار سے نقل کرتے ہیں کہ :

«سَألتُ ابا عبداللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم عَنْ قَولِ اللہ تبارک و تعالي﴿يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ﴾؟فقال: يا فُضَيل اِعْرِفْ اِمامک لَمْ يضُرُّکَ تَقَدَّمَ ھَذا الامر أو تَأَخّرَ وَمَنْ عَرَفَ اِمَامَہُ ثُمّ مَاتَ قَبْلَ اَنْ يَقُوم صَاحِبُ ھذَا الاَمْرِ کَانَ بِمَنْزِلَۃِ مَنْ کَان قَاعداً فِيْ عَسکَرِہِ لابَلْ بِمَنْزَلَۃِ مَنْ قَعَدَ تَحْتَ لِوائِہِ »[11]

حضرت امام صادق علیہ السلام سے آيت کريمہ (یوم ندعو …)کے متعلق سوال کیاتوحضرت عليہ السلام نے فرمایا اے فضیل امامت کو پہچانو، بس اگر تم نے امامت کو پہچان لیا تو تمہیں کوئی نقصان نہ ہو گا کہ یہ امر (قيام و ظہور کا زمانہ) جلدی واقع ہو یا دیر میں۔ جواپنے  امام کو پہچان لے اور قائم کے قیام سے پہلے مر جائے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے وہ ان کے لشکر میں ہو، نہیں بلکہ ایسے ہے جیسے ان کے پرچم تلے ہو۔

امام صادق علیہ السلام امام کے کلمہ کو مفرد کی صورت میں لائے ہیں اور مخاطب کی ضمیر سے استفادہ کرتے ہیں، جس سے معلوم یہ ہوا اگرچہ تمام آئمہ عليھم السلام کی شناخت و معرفت ضروری ہے لیکن امام زمان علیہ السلام کی شناخت و معرفت خاص اہميت کی حامل ہے انسان کو اس پر خصوصي توجہ دینی چاہئے۔ اس بیان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لازم ہے کہ ہرزمانے میں امام کا وجود ہو۔دوسری روایت میں امام ايسے فرماتے ہيں:

«فَمَنْ عَرَفَ اِمَامَہُ کَانَ کَمَنْ کَانَ فِيْ فُسطاطِ المُنْتَظَر عليہ السلام»[12]

ترجمہ: جو اپنے امام کي معرفت پيدا کرے وہ ايسے ہے کہ جيسے امام منتظر عليہ السلام کے خيمہ ميں موجود ہو۔

اس انداز بیان سے یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت امام صادق (ع) امام منتظر(عج) کی تعارف میں (امام کے مصداق (آيت ميں امام کے مصداق کے عنوان سے)خاص عنایت رکھتے ہیں اور گزشتہ روایت کو صاحب الامر کے قیام سے ربط ديتے ہیں ۔[13]

چند نکات:

امام کی معرفت کی نسبت اس روایت میں خاص توجہ دی گئی ہے اور ہر شخص کا اہم ترین فریضہ اپنے زمانہ کے امام کی معرفت کو بتایا گیا ہے۔

(۱)معرفت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے یہ کہا  جاسکتا ہے کہ انسان ایسی مخلوق ہے کہ  جو اختیار و ارادہ رکھتا ہے نیز اپنے انتخاب میں آزاد اور مستقل ہے۔ انتخاب کے لئے بہت سے راستے موجود ہیں صحیح راہ انتخاب کہ جو انسان کو اس کے مقصد و کمال تک پہنچائے، ضروری ہے کہ اس کے لئے صحیح اور مکمل شناخت و معرفت کا حصول ہو، ناقص شناخت یا غلط معرفت باعث بن سکتي ہے کہ انسان نامناسب اور غلط راہ کا انتخاب کربيٹھے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کا انجام بخيرنہ ہوگا ۔

(۲)تمام معرفتوں ميں امامت کی معرفت خاص اہمیت کی حامل ہے کیونکہ پروردگار عالم نے انسانوں کی سرپرستی کے امور کی ذمہ داری امام (ع)کے سپرد کی ہے۔ لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کی اطاعت کریں ، اپنی زندگی کے امور ان کے سپرد کردیں اور  ان کے گرد ہمیشہ رہیں فطري طور پر انسان کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے اختیارات کس کے سپرد کئے ہیں۔

(۳)امام کی معرفت: سبب بنتی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے وظائف سے آگاہ ہو اور امام اس سے جو چاہیں اس پر عمل کرے ۔ امام کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے ﴿…أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ…﴾[14] ایسا شخص خدا کی بندگی کی راہ پر گامزن ہے  وہ کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ خدا اس کا سرپرست ہے۔﴿اللّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُواْ…﴾[15]

(۴)ایسے شخص کا اجر و ثواب یہ ہے کہ جیسے وہ حضرت امام مہدی عليہ السلام کے لشکر میں تھا اور ان کے دوستوں میں شمار ہوتا ہے۔

نتیجہ:

سورہ قصص کی  آیت ۵ ساری دنیا کے مظلومین، حق پرستوں اور خواہان عدالت کے لئے ایک بشارت ہے کہ ظلم و جور کی حکومت دائمی نہیں ہے بلکہ آخر کار کامیابی ہمیشہ رنج و الم اٹھانے والوں کے لئے ہے ۔

اگر غور و خوض کيا جائے تو واضح طور پر یہ آیت خود حضرت امام مہدی( عج)کے نورانی و عالمی انقلاب اور حکومت سے مربوط ہے  اور احادیث محمد و آل محمد علیہم السلام کی رو سے امام زمانہ عليہ السلام کا قیام اس آیت کا مصداق کامل ہے ۔

سورہ حدید میں اللہ تعالی زمین کی موت کے بعد دوبارہ زندگی کی طرف اشارہ فرمارہا ہے۔ روایات کی رو سے زمیں کی موت دراصل زمین والوں کی موت ہے اور یہ موت کثرت ظلم و گناہ سے حاصل ہوتی ہے اللہ کی نافرمانیوں اور گناہوں میں غرق یہ مردہ دنیا بالآخر امام مہدی( عج) کی عدالت سے دوبارہ حقیقی زندگی کی طرف لوٹے گی۔

سورہ لقمان کی آیت کی تاویل روایات اہل بیت کی رو سے یہ کی گئی کہ نعمت ظاھری سے مراد امام ظاھر اور باطني نعمت سے مراد امام غائب ہے۔اور ہر دور میں حجت خدا ہی اللہ کی سب سے بڑی اور کامل نعمت ہے۔

سورہ اسراء کی آیت زمانہ کے امام کی معرفت اور انکی اطاعت کے لیے تیار ہونے پر تاکید کررہی ہے کیونکہ امتوں کی روز محشر شناخت انکا وہ امام ہے کہ جس کے پیچھے چلتی رہیں۔

 

فہرست منابع:

1-اصول کافي، ج١ ، ح٣ ، ص٣٧١.کلینی،اصول کافی،ناشر علمیہ اسلامیہ،تہران.

2-قران کریم،قصص، آيہ٥.

3-شيخ طوسي،کتاب الغيبۃ، ص١٨٤.دار الکتب الاسلامیہ،تہران.

4-قرآن کریم،آل عمران،آيہ١٦٤.

5-کمال الدين و تمام النعمہ،ج٢، باب ٤١، ح١، ٢.ناشر جامعہ مدرسین،قم.

6-قرآن کریم،حديد، آيہ ١٧.

7-کمال الدين، تمام النعمۃ، ج٢ ، باب٥٨،ح٤. //  //  //

8-قرآن کریم،لقمان، آيہ ٢٠.

9-کمال الدين، و تمام النعمہ، ج٤ ، ب٣٤ ، ح٦. //  //  //

10-قرآن کریم،اسراء، آيہ ٧١.

11-کافي، ج١ ، ص٣٧١ ،ح٢.کلینی،اصول کافی،ناشر علمیہ اسلامیہ،تہران.

12-کافي،ج١،ص٣٧٢،ح٧. //  //  //

13-يہ روايت مختلف کتابوں ميں نقل ہوئي ہيں،معجم احاديث الامام مھدي عليہ السلام ،ج٥،ص٢٣١ کي طرف رجوع کريں۔ اساتید کا گروہ،معجم احاديث الامام مھدي عليہ السلام،مرکز مہدویت،قم.

14-قرآن کریم،نساء، ٥٩.

15-قرآن کریم،بقرہ، آيہ ٢٥٧.

Leave your thought here

ٹیگز

icm313.com www.icm313.com آڈیوز آیات مهدویت آیندہ کے حوالے سے کیا پروگرام اخلاق منتظرین استاد حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی استاد محترم حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی استاد مہدویت علی اصغر سیفی امام(عج) کی معرفت امام زمانه امام زمانہ امام زمانہ عليہ السلام کے انتظار کی خصوصیات امام مہدی (عج) امام مہدی عج نہج البلاغہ کی رو سے انتظار حقیقی انتظار کے اثرات آغا علی اصغر سیفی آیۃ اللہ نجم الدین طبسی تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت) جلد ۲ جوان حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی حضرت مہدی علیہ السلام روح و روان انسان سوالات و جوابات سوالات وجوابات شرائط اور علامتيں(تعريف اور فرق) ظہور ظہور تک فاصلہ اور حجاب کا باعث قیام حضرت مہدی(عج) منتظرین کے فرائض مهدویت آڈیوز مهدوی پروگرامز مھدویت مھدویت آڈیوز مہدویت ویڈیوز ناصرین اور حقیقی منتظرین نهج البلاغہ نہج البلاغہ وہ تیاری ویڈیوز کتاب کیا پانچ سال کا بچہ امام بن سکتا ہے؟