عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

امام مہدی عج عقل و منطق کی رو سے قسط 3

امام مہدی عقل و منطق کی رو سے
مہدی مضامین و مقالات

امام مہدی عج عقل و منطق کی رو سے قسط 3

امام مہدی عج عقل و منطق کی رو سے قسط 3

موضوع :اہل سنت کے کلامی و عقائدی مکاتب کا نظریہ
استاد حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی

آج کا موضوع گفتگو اہل سنت کے کلامی و عقائدی مکاتب کا نظریہ
اہلسنتؔ کے کچھ تو مذاہب فقہی ہیں جیسے مالکی ،شافعی، حنبلی اور حنفی۔ اور اہلسنت کے عقائد کے لحاظ سے جو فرقے ہیں جیسے معتزلہ، ماتریدیہ اور اشاعرہ ہیں .
اس وقت عقائد کے لحاظ سے قدیم ترین مذہب معتزلہ ہے
البتہ ان کے پیروکار بہت کم ہیں اور یہ پہلی صدی کے دوسرے حصے میں یہ مذہب شروع ہوا تھا۔ یہ لوگ عقل کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ان کے مدمقابل اہل حدیث تھے جو حدیث کو اہمیت دیتے تھے اور معتزلہ کہتے تھے کہ عقل مقدم ہے۔
اہل حدیث فقط حدیث کو مقدم رکھتے تھے۔
معتزلہ کا موسس واصل بن عطا ہے جو کہ حسن بصری کا شاگرد تھا ۔ اور یہ لوگ شروع میں قدریہ کہلاتے تھے اور یہ مذہب عبدالملک المروان کی حکومت میں شروع ہوا۔
اسی کی تاریخ 65 ھ سے 86 ھ کے درمیان ہے۔ یہ اپنے عقائد کے اعتبار سے کافی حد تک تشیع کے نزیک شمار ہوتے ہیں۔ ان کو اصحاب العدلیہ کہتے ہیں۔ یہ ہماری طرح عدل پروردگار کے قائل ہیںَ ۔
ان کے مدمقابل جو فرقہ قوت سے سامنے آیا وہ اشعری مکتب یعنی اشاعرہ ہیں۔
اشاعرہ:
یہ کلامی فرقہ ہے۔ جس کے دنیا میں بہت زیادہ پیروکار ہیں اور اس مکتب کو ابو الحسن علی ابن اسماعیل اشعری نے شروع کیا۔یہ عام طور پر اہلسنت والجماعت کہلاتے ہیں۔ یہ بہت بعد میں آئے۔ مامون الرشید کے زمانے میں مکتب معتزلہ عروج پر تھا ۔ پھر بعد میں اہل حدیث آئے۔ اور وہ متوکل کے زمانے سے غالب آگئے۔ تیسری صدی کے آخر اور چوتھی صدی کے آغاز میں اشاعرہ مکتب شروع ہوا۔
یہ بعد میں اہل حدیث کے بھی مخالف ہوگئے۔ یہ عقائد کے معاملے میں بحث کو جائز سمجھتے ہیں برعکس اھل حدیث کے۔
3۔ مکتب ماتریدیہ۔
ابو منصوب ماتریدی اس کا بانی ہے یہ بھی خود کو اہلسنت والجماعت کہتے ہیںَ یہ انڈیا اور پاکستان میں زیادہ ہیں ۔ یہ معتزلہ کے نزدیک ہیں۔
شیعہ اور اہلسنت کی امامت کے حوالے سے جو فرق ہے کہ شیعہ کے مطابق ا امام اللہ کی جانب سے ہوتا ہے۔ لیکن اہلسنت کے مطابق فقہی طور پر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے امام منصوب کریں
ان کے بہت بڑے عالم قاضی عضد الدین ایجی کہتے ہیں کہ ” ہم پر واجب ہے امام کو منصوب کرنا نہ کہ یہ خدا پر واجب ہے۔
4۔ وہابی:
یہ گروہ بھی امامت اور خلافت کو واجب سمجھتا ہے لیکن اس کے وجوب کفائی کے قائل ہیں۔
ایک شخص ابن قدامہ مقدسی کہتا ہے” خلافت ایک عظیم منصب اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ خلافت مسلمانوں کے امور کی تدبیر کو اپنے ذمہ لینا ہے کیونکہ خلیفہ اور والی ہی وہ پہلا شخص ہے کہ جس سے اس سلسلے میں سوال کیا جاتا ہے۔ خلافت واجب کفائی ہے کیونکہ لوگوں کے امور کا قیام خلافت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ “
بنیادی طور پر اہل تشیع اور اہل سنت کے فرقوں میں واضح فرق یہی ہے۔ کہ ہم امامت کو اللہ کی جانب سے کہتے ہیں اور اہلسنت اپنے منتخب شدہ کو امام کہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں