عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

امام زمان عج کی غیبت پہلا درس

اسد
مہدی مضامین و مقالات

امام زمان عج کی غیبت پہلا درس

پہلا درس
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
خلاصہ
امام زمانہ عج شریف کی غیبت کے اسباب
دور حاضر میں یہ ایک اہم ترین بحث ہےکہ امامؑ کیوں غائب ہیں ؟ اور غیبت کیا ہے؟ اور وہ ہستی جنہیں اللہ نے ہماری ہدایت کے لیے بھیجا ان کی غیبت میں ہم ان سے کیسے فیض حاصل کر سکتے ہیں ؟ یہ غیبت کب ختم ہوگی ؟
ایسے اور بھی دیگر سوالات ہیں ۔
یہ طے ہے کہ امام ؑ عج الشریف کی غیبت واقع ہو چکی ہے۔ امامؑ 260 ھج سے اب تک غائب ہیں اور آپ کی غیبت کی خبریں پہلے آچکی تھی اور اس کی وجوہات بھی بیان ہو چکی تھی جو اس مذہب کی حقانیت پر دلیل ہے۔ جو کہ ہمارے لیے باعث اطمینان اور باعث فخر ہے۔
اور جب ہم اس موضوع پر بیش قیمت دلائل حاصل کرتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے مولاؑ کی مذید معرفت حاصل ہوتی ہے ان سے ہمیں تمسک حاصل ہوتا ہے۔
غیبت کے معنی:
لفظ غیبت عربی زبان کا لفظ ہے۔
صاحب ” مقالیس اللغۃ” غیبت کے بارے میں کہتے ہیں : اصل صحیح یدل علی تستر الشی ء عن العیون ثم یقاس۔ من ذلک الغیب ما غاب مما لا یعلمہ الا اللہ۔
” غیب ” وہ لفظ ہے کہ جو کسی چیز کے آنکھوں سے پوشیدہ اور مخفی ہونے پر دلالت کرتا ہے پھر یہ لفظ دیگر موارد میں بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً غیب وہ چیز ہے کہ جو مخفی ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ اسے کوئی نہیں جانتا۔
غیبت دو قسم کی تصور کی جاسکتی ہے:
الف: شخص کی غیبت:
اس کا معنی یہ ہے کہ خود حضرت اور ان کا جسم مخفی ہے اور دیکھا نہیں جا سکتا اس کے معنی کی رو سے ممکن ہے کہ حضرت لوگوں کے درمیان میں ہوں لیکن وہ امامؑ کو دیکھ نہیں سکتے۔
ب:شخصیت کی غیبت:
اس کا معنی یہ ہے کہ امامؑ کی شخصیت اور مقام مخفی اور پوشیدہ ہے نہ کہ ان کا جسم مخفی ہے۔ اس معنی کی رو سے ممکن ہے کہ امامؑ لوگوں کے درمیان موجود ہوں اور لوگ آپ کو دیکھیں لیکن نہ پہچانیں۔ اور یہ علم نہ رکھیں کہ یہ شخص وہ امام مہدی ؑ ہیں۔
احادیث کی رو سے دیکھیں تو احادیث میں دونوں طرح کی غیبت بیان ہوئی ہے۔
کچھ وہ احادیث ہیں کہ جن میں آئمہؑ بیان کرتے ہیں کہ ہم امامؑ کا جسم اقدس بھی نہیں دیکھ سکتے۔ اور بعض ہیں کہ
جن میں امامؑ کی غیبت کو حضرت یوسفؑ کی غیبت سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ کہ جس طرح حضرت یوسف ؑ کے بھائی ان کو دیکھتے تو تھے لیکن پہچانتے نہیں تھے۔

احادیث میں شخص کی غیبیت:
امام رضاؑ ع سے نقل ہوا ہے: لا یری جسمہ ولا یسمی باسمہ۔ ان کا جسم نہ دیکھا جائے گا اور نہ ان کا نام لیا جائے گا۔(کمال الدین،ج 2, باب 35, ح2)
اسی روایت کی مانند امام نقی ہادیؑ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے۔ “انکم لا ترون شخصہُ ولا یحل لکم ذکرہ بسمہ ” بلا شبہ تم ان کے وجود کو نہیں دیکھو گے اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم ان کے نام سے انہیں یاد کرو۔ (اصول کافی ، ج1 ،ص 328)
آغاز غیبت میں نام لینا منع تھا کیونکہ ظالم حکومت آپ عج کو ڈھونڈ رہی تھی جو مومن نام لیتا گرفتار ہوتا مارا جاتا،لیکن آج کے دور میں نام لیا جاسکتا ہے جیسے باقی آئمہ علیہم السلام کا لیتے ہیں ھاں چونکہ زندہ حجت ہیں تو آداب کا خیال رکھیں اور نام لیتے وقت اگر ہوسکے تو کھڑے ہوں
احادیث میں شخصیت کی غیبت
سدیر صیرفی کہتے ہیں۔
امام جعفرصادقؑ فرماتے ہیں:
” بلاشبہ قائمؑ میں حضرت یوسف کی ایک شباہت موجود ہے۔ میں نے عرض کی : گویا آپ کی مراد حیرت یا غیبت ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس امت میں خنزیر کی مانند کس طرح اس کا انکار کرتے ہیں ؟ یوسفؑ کے بھائی پیغمبروں کی اولاد اور نسل سے تھے ۔ یوسفؑ کے ساتھ تجارت کی اور اسے بیچ دیا۔ نعمانی کی روایت یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائی ” اس کے پاس آئے ، اس سے گفتگو کی، اسے مخاطب کیا، اسکے ساتھ تجارت کی اور اس کے پاس آمدرفت کی۔ حالانکہ ان کے بھائی تھے اور وہ بھی ان کا بھائی تھا اسے انہوں نے نہیں پہچانا۔ یہانتک کہ انہوں نے خود کہا: میں یوسف ہوں۔
بس وہ کیسے انکار کرتے ہیں کہ جب خود اللہ تعالی ارادہ فرمالے کہ کسی زمانہ میں اپنی حجت کو مخفی کرے؟ بس وہ کیسے انکار کرتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنی حجت کے ساتھ وہ کرے جو یوسف ؑ کے ساتھ کیا؟
وہ ان کے بازاروں میں جاتی ، ان کی بساط پر پاؤں رکھتی ہے لیکن وہ اس نہیں پچانتے یہاں تک کہ خود اللہ تعالیٰ اجازت فرما دے کہ اپنی پہچان کروائیں کہ جس طرح یوسف کو اجازت دی اور انہیں کہا: آیا تم جانتے ہو کہ تم نے نادانی میں یوسف ؑ کے ساتھ کیا کیا؟ انہوں نے کہا : گویا تم خود یوسفؑ ہو؟ تو انہوں نے کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرے بھائی ہیں۔(کمال الدین ، ج2 ، باب 33 ، ح 21)
اس روایت میں امام مہدی ؑ کی غیبت کو حضرت یوسف ؑ کی غیبت سے تشبہیہ دی گئی ہے۔
ایک اور روایت میں امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں :
” صاحب امر میں انبیاؑ کی سنتیں موجود ہیں۔۔ حضرت یوسف ؑ کی سنت ان میں مخفی اور پوشیدہ ہونا ہے اللہ تعالی ان میں اور مخلوق میں ایک حجاب قرار دے گا کہ لوگ انہیں دیکھں گے لیکن نہیں پہچانیں گے۔(کمال الدین ,ج2,ص33,ح46)

(جاری ہے )

اپنا تبصرہ لکھیں