عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

آيات مہدويت(حصہ اول) – تحریر: حجت الإسلام و مسلمین علی اصغر سیفی

آیات مهدویت(حصه اول)
مہدی مضامین و مقالات

آيات مہدويت(حصہ اول) – تحریر: حجت الإسلام و مسلمین علی اصغر سیفی

تمہید

ایک نجات دہندہ کي عالمی حکومت کا قیام اور عالمی عدالت کا قائم ہونا، سب مسلمان حتی تمام آسمانی ادیان نیز کچھ دوسرے اديان اور مذاھب کا مشترکہ عقیدہ ہے۔

قران مجید میں شخصیات کا تین طریقوں سے  تعارف  کروایا گیا ہے:نام کے ساتھ،عدد کے ساتھ اور صفات کے ساتھ ۔ امام مہدی( عج )کے تعارف میں تیسرا طریقہ سامنے آیا  ہے،یعنی  ان کو صفات و خصوصیات کی راہ سے متعارف کروایا گیا ہے۔

قران مجید میں تین مقامات پر اسلام کے تمام  ادیان پر غلبہ کی خبر دی گئی ہے جو روایات کی رو سے امام مہدی (عج) کے عصر ظہور میں انکے ذریعے محقق ہوگی۔

اسی طرح سورہ نور میں پروردگار نے صالح اعمال انجام دینے والے راسخ مومنین سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمين پر خلافت بخشے گا۔روایات کی رو سے یہاں مکمل زمین پر حکومت  کرنے والے مومنین  سے مراد امام مہدی(عج) اور انکے انصار ہیں۔

سورہ انبیاءکے مطابق اللہ تعالی نے گذشتہ آسمانی کتب میں بھی بشارت دی تھی کہ زمین کے وارث و مالک اسکے صالح بندے ہیں جو کہ روایات کے مطابق امام مہدی (عج)اور انکے اصحاب ہیں  اور عصر ظہور میں ساری زمین انکے قبضہ قدرت میں ہوگی۔

بنیادی الفاظ: قران،آیت ، مہدویت، روایت تفسیری،ظہور.

امام مہدی عليہ السلام پر عقيدہ:

ایک نجات دہندہ کي عالمی حکومت کا قیام اور عالمی عدالت کا قائم ہوناکہ جو عدالت پرور معاشرے کی اصلاح کرنے والا ہے یہ سب ایسے  مسائل ہیں جو انسان کے ظلم کے خلاف اٹھنے والي فطرت اور عدالت کی خواہش (یا عدالت طلبی) کے ساتھ خمیر کئے گئے ہیں سب مسلمان حتی تمام آسمانی ادیان نیز کچھ دوسرے اديان اور مکاتب بھی ايسے عالمي نجات دہندہ کی حکومت پرعقيدہ و یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے پیروکاروں کو ان کی آمد کی بشارت دی ہے۔

صرف ایک نکتہ باقی رہ جاتا ہے کہ یہ نجات دہندہ اور مصلح عالم کائنات کی اصلاح کرنے والا کون ہے؟ کیا ابھی زندہ ہے یا بعد میں پیدا ہوگا؟ اس لحاظ سے مہدویت پرعقيدہ ایک عمومی مسئلہ ہے اور اسلامی اصولوں کے مسلمّات میں سے ہے ۔

قرآن میں شناخت کے طریقے:

ایک سوال اکثر پیدا ہوتا ہے کہ کیوں امام مہدی (عج) کا نام قرآن میں واضح طور پر نہیں آیا؟ تاکہ منکرين  کے لئے بہانے کا راستہ بند ہوجاتا؟کیا امام مہدی(عج) کا نام قرآن میں آتا تو لوگ بہتر انداز میں قبول نہ کرتے؟ اس طرح کے سوالات ولایت حضرت علی علیہ السلام کے متعلق بھی ہوئے ہیں ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن  ،بلاغت و حکمت کے تقاضے کے مطابق تین طرح سےشخصيتوں کا تعارف کرواتا ہے :

۱): نام کے ساتھ تعارف: قرآن کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ مورد نظر شخصیت کي نام کے ساتھ شناخت کرواتا ہے مثال کے طور پر﴿ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُولٌ  قَد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ[2] و ﴿وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأتِي مِنْ بَعْدِي اِسْمُهُ اَحْمَد[3]

۲): عدد سے تعارف:دوسرا طريقہ عدد کے ذريعے تعارف کروانا ہے، جیسا کہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے حواریوں کا اس طرح تعارف کروا رہا ہے  : ﴿وَبَعَثْنَا مِنهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا)[4] “ہم نے ان لوگوں میں سے بارہ افراد کو نقیب بنایا” اس طرح ايک گروہ کو منتخب کرکے حضرت موسیؑ کوہ طور پر لے گئے تھے کہ قرآن  ان کا عدد سے تعارف کروا رہا ہے﴿وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا﴾[5] “حضرت موسیؑ نے اپنی قوم میں سے ستر افراد کو منتخب کیا”۔

۳): صفت و خصوصیت سے تعارف: تيسرا طريقہ کسي شخص کی صفت و خصوصیت سے اس کي شناخت کروا رنا ہے قرآن نے پیامبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کی اس طرح شناخت کروائی:( ﴿ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأُمِّيَّ … يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ … ﴾[6] “وہ لوگ جو پیغمبراکرمﷺکی پیروی کرتے ہیں پیغمبر(ص )انہیں بہترین کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں اور ان کے لئے پاکیزہ کاموں کو حلال اور ناپسندیدہ کاموں کو حرام قرار دیتے ہیں “۔

قرآن مومنین کے ولی وسرپرست کی شناخت اس طرح کروا رہا ہے : ﴿إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ[7] “تمہارے صاحب امر خدا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ،نماز پڑھتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوۃ ادا کرتے ہیں”۔

اس طرح صفات کے ذریعہ شناخت کروانا تعارف کروانے کا بہترین راستہ ہے جو غلط فائدہ اٹھانے والوں کے لئے ایک رکاوٹ کی حثیت رکھتی ہے یا ان کا راستہ بند کردیتی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ جعلی (جھوٹا) نام پیش کریں لیکن صفات کو بدلنا اور اس سے غلط فائدہ اٹھانا آسان نہیں ہے۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم حضرت طالوت کے قصے کو ان کے نام کے ساتھ بیان کرنے کے بعد بلافاصلہ ان کی صفات و نشانی بیان کرتا ہے تاکہ یہ واقعہ ہر قسم کی غلطی سے مبرا ہو ۔[8]

﴿وَقَالَ لَهُمْ نِبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلآئِكَةُ…﴾[9]“ان کے پیغمبر ؑنے ان سے کہا اس کی حکومت کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایک صندوق کو لائے گا جس میں خدا نے تمہارے لئے آرام و سکون رکھا ہے اس میں جو کچھ بھی ہے و آل موسی علیہ السلام و ہارون کی میراث ہے اور ملائکہ اس صندوق کو حمل کررہے ہیں” ۔

واضح ہوگیا کہ حضرت امام مہدی( عج )کے تعارف یا شناخت ميں ان کے اسم گرامی کا ذکر نہیں بلکہ ان کو صفات و خصوصیات کی راہ سے متعارف کروایا گیا ہے، قرآن نے مختلف انداز میں ان کے وجود ،صفات اور ان کی عالمی حکومت کی جانب اشارہ کیا ہے ۔

اسي طرح آئمہ معصومين عليھم السلام کے قرآن ميں نام نہ ذکر ہونے کي وجوہات ميں ہے ايک

يہ بھي ہے کہ قرآن مجيد کو تحريف سے محفوظ رکھا جائے۔ بلکہ يہاں  وہی علت  ہے جس کی بنا پر اکمال دین کی آیت ،[10] تحریم خبائث کي آيات ميں اور آیہ تطھیر [11] نساء النبی کي آيات کے درمیان قرار دی گئی تاکہ يہ اہم پیام، حق کے متلاشی افراد تک با آسانی پہنچ جائے اور ہر قسم کی تحریف سے بھی محفوظ رہے ۔

تحقیق کا طریقہ کار:

حضرت امام مہدی عليہ السلام سے مربوط آیات کے متعلق تحقیق کی مختلف صورتیں ہیں ؛

الف: سب سے پہلے ان آیات پر تحقیق کریں گے کہ  جو حضرت امام مہدی کے متعلق تفسیر بیان کرتی ہیں اورپھر ان آیات کی تحقیق کا مرحلہ ہے جو تاویل کے لحاظ سے حضرت امام مہدی عليہ السلام  پر دلالت کرتی ہیں ۔

ب: موضوع کے لحاظ سے آیات پر تحقیق کرنا، مثال کے طور پر وہ آیات جو غیبت ،حکومت، و .. کو بیان کرتی ہیں ۔

ج: قرآن کی ابتدا سے جو آیت حضرت امام مہدی (عج) کے متعلق ہے اس پر تحقیق کرنا۔

و: آیات کی شان نزول کے لحاظ سے تحقیق کرناکہ  جو امام مہدی(عج) کے متعلق ہیں۔

اس مقالہ میں پہلے راستے پر عمل کریں گے کیونکہ وہ آیات قرآن کہ جو تفسیر بیان کرتی ہیں وہ زیادہ کار آمد ہیں بلکہ تفسیری روایات ہمارے موقف کی تائید کرتی ہیں ۔حصہ اول میں تین آیات مورد بحث ہیں:

 (۱) اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ:

﴿يُرِيدُونَ أَن يُطْفِؤُواْ نُورَ اللّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ[12]

وہ اپنی پھونک کے ذريعے خدا کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں لیکن خدا انہیں مہلت نہیں دے گا جب تک اس کا نور کمال کے مراحل طے نہ کرلے۔اگرچہ کافروں کو یہ بات ناگوار کیوں نہ گزرے وہ خدا جس نے اپنے پيغمبر کو صحیح دین اور  ہدایت کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر کامیاب قرار دے اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گذرے۔

﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا[13]

(۲)وہ خدا ہے جس نے اپنے نبی کو اس مقصد سے صحیح دین و ہدایت دے کر بھیجا تاکہ وہ انہیں سب ادیان پر کامیاب قرار دےاور خدا کا شاھد ہونا کافی ہے۔

﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾ ﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ[14]

 (۳)وہ اپنی پھونک سے خدا کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں لیکن خدا اپنے نور کو کامل کرکے رہے گا اگرچہ کافروں کو يہ بات ناگوار گزرے۔ خدا وہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو دین حق و ہدایت دے کر بھیجا تاکہ وہ تمام ادیان پر غلبہ پاسکے اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہو۔

لغت کے لحاظ سے (یظھرہ) باب افعال کا فعل مضارع  ہے جب یہ (علی) کے ساتھ آتا ہے تو (یغلبہ) کا معنی يعني (غلبہ و برتری) دیتا ہے خداوند عالم ان آیات میں اشارہ کررہا ہے کہ دین کے دشمن چاہتے ہیں کہ  خدا کے نور  کو بجھا دیں حالانکہ ان کی یہ کوشش بیکار ہے کیونکہ خدا اپنے نور کو کامل کرکے رہے  گا اور ان کي کوششيں بے کار رہ جائيں پروردگار عالم جب دشمنوں کے اس ارادے کی خبر دیتا ہے کہ وہ دین کی نابودی اور نور خدا کو بجھانا چاہتے ہیں تو صرف ان کی ناکامی کی خبر نہیں دیتا کہ ہم نور خدا کو بجھانے نہیں دیں گے بلکہ نور کی تکمیل کی نوید دیتا ہے کہ خدا اس نور کو مکمل کرے گا۔ پھر وضاحت کے ساتھ ارشاد ہوتا ہے: کہ خدا نے اپنے نبی کو ہدایت (روشن اور واضح دلائل) و دین حق (وہ قانون جس کے اصول و فروع حقیقت کی بنیاد پر ہیں)دے کر بھیجا۔

ایسی ہدایت و دین کا نتیجہ جو اپنے ساتھ شفاف مطالب  اور حقیقت پرمبنی دلائل رکھتا ہو وہ یہ ہے کہ تمام ادیان پر غلبہ پائے گا۔ جس کا خدا نے ارادہ کیا ہے ۔(لیظھرہ) کے اندر موجود (ہ) کي ضمیر دین کی طرف پلٹے گي کیونکہ عبارت کے ظاھری الفاظ دین کے غلبہ کی طرف اشارہ کررہے ہیں نہ شخص کی  طرف  يہ بات ضروری ہے کہ غالب و مغلوب کے درمیان تناسب و توازن ہو۔

اسلام کا دوسرے ادیان پر غلبہ منطقی و استدلالی ہونے کے ساتھ ساتھ حقيقي و عملی بھی ہے یعنی ایک دن ایسا آئے گا کہ اسلام اپنی آفاقی تعلیمات کی بدولت تمام ادیان پر غلبہ پائے گا دین مقدس اسلام کی ظاہری حکومت پوری دنیا پر حکم فرما ہوگی اور اس کی نورانی شعاعیں تمام کائنات کا احاطہ کرلیں گی۔

تحقيقي رو سے اللہ تعالي نے قرآن میں تین مقامات پر ایک دوسرے سے مشابہ مطالب بیان کئے ہیں جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مسئلہ نہایت ہی اہمیت کا  حامل اور لازم الوقوع ہے کہ دین اسلام غالب ہوگا، خاص طور پر سورہ فتح کی آیت نمبر ۲۸ کے آخر میں (و کفی باللہ شھيداً)سے یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ اس واقعہ کا اہم گواہ و شاہد خود اللہ تعالي ہے ۔توجہ رہے کہ یہ واقعہ ابھی تک پیش نہیں آیا، یہ خبر خدا کا وعدہ ہے جو آیندہ زمانے میں لازمی طور پر ظہور پذیر ہوگا ۔دوسری جانب امام مہدی علیہ السلام کا عالمی قیام اسلامي تعليمات کي رو سے یقینی امر ہے۔وہ قیام جس کا نتیجہ شرک کی نابودی اور تمام کرہ ارض پر دین اسلام کا کامیاب ہونا  ہے۔

محمد بن فضیل کہتے ہیں کہ حضرت امام کاظم علیہ السلام سے خدا کے اس  فرمان (لِیُظْھِرَہُ  عَلَي الدِّيْنِ کُلِّہ )کےمتعلق سوال کیا تو فرمایا:(لِيُظْھِرَہُ عَلي جَمِيْعِ الاَدْيانِ عِنْدَ قِيَامِ الْقائِمِ)[15] اس سے مراد یہ ہے کہ قیام امام مہدی علیہ السلام کے وقت  اللہ تعالي دین اسلام کو تمام ادیان پر کامیابی و کامرانی عطا کرے گا۔

اس روایت سے یہ استفادہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ دین اسلام کی کامیابی سے مرادروی زمین پر اسلام کی حاکمیت کا مکمل طورپر رونما ہونا ہے۔

 ابوبصیرکہتے ہيں کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے (ھُوَ الَّذِي اَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالھُدَي وَدِيْنِ الحَقّ لِيُظْھِرَہُ عَلَي الدِّين کُلّہ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُونَ) کے متعلق سوال کیا تو فرمایا:

(وَللَّہِ !مَا نَزَلَ تَأويلُھا بَعْد، ولا يَنُزِلُ تَأويلُھَا حَتّي يَخْرُجَ القَائِمُ عليہ السلام فَاذا خَرَجَ القائم عليہ السلام لَمْ يَبْقِ کَافِرُ باللہِ العَظيم وَلاَ مُشْرِکُ بالامام الاّکَرِہَ خُرُوجَہ حَتّي ان لو کَانَ کَافِرُ اَوْ مُشْرکُ فِي بَطْنِ صَخْرَۃٍ لَقالَتُ: يَا مؤمنُ في بَطْنِي کَافرُ فَاکْسِرْني وَاقتُلْہُ)[16]

خدا کی قسم ابھی تک اس کی تاویل نہیں آئی اور نہیں آئے گی جب تک حضرت قائم خروج و ظہور نہ فرمائیں۔ بس جب قائم خروج کریں گے تو کوئی کافر و مشرک باقی نہیں بچے گا مگر یہ کہ وہ قائم کے ظہور سے ناگواری محسوس کرے گا اور ناراض ہوگا حتی اگر کافر و مشرک کسی پتھر کے درمیان بھی پنہان ہوجائے گا تو وہ  پتھر گویا ہوگا: اے مومن میرے اندر کافر چھپا ہوا ہے مجھے توڑ کر اسے قتل کرديجئے۔

دین اسلام کے غلبہ و ظہور سے مراد کرہ زمین پر اسلام کی برتری ہے اس طرح کہ شرک کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی دوسرے لفظوں میں جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا انسانی معاشرہ ایک دوسرے سے نزدیک اور باخبر ہوتا جائے گا۔

(دنیا کا ايک چھوٹی بستی کي مانند ہونا)تو یہ حقیقت قابل لمس ہوجائے گی۔ ایک حاکم ،عادل ،حکیم دانشمند سربراہ جس کی قدرت و توانائی مافوق بشر ہو اور جو انسان کے مادی و معنوی کمال اور سعادت کے لئے جامع اور مکمل قانون رکھتا ہو، اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ آشکار ہوجائے گی کیونکہ انسانی قوانین کی تنگ نظری اور نقائص ،ہوس پرست، خود خواہ اور خود سر (ہٹ دھرم) حکمرانوں کی بدولت روزبروز اقدار کی پامالی اور امن و امان کا خاتمہ ہوگیا ہے کہ جس نے اس چھوٹي سي بستي کا سکون برباد کردیا ہے ، اور مستقبل کے تاریک اور مبہم حالات نے خوف و ھراس کی کیفیت پیدا کردی ہے نیز مضطرب اور پريشان دلوں ميں ایک نجات دہندہ  اورمصلح کا انتظار جو عالمی عدالت قائم کرے گا زیادہ بڑھ گیا ہے ۔

خداوندعالم نے کہ جو انسان کے ظاھر و باطن سے آگاہ ہے، اس دن کے لئے خاص تدبیر و پروگرام رکھا ہے  اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام اپنی آفاقی تعلیمات کے ذریعہ تمام ادیان پر غلبہ پائے گا تاکہ بشر تباہی کے بھنور ، فقر و فساد سے نجات پاسکے۔ اس حوالے سے  روایت کے ذریعے دو اھم نکات کا استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔

الف: کرہ ارض پر دین اسلام کی حاکمیت:

حضرت علی علیہ السلام سے آيت (ھو الذی اَرْسَلَ)  کے متعلق نقل ہوا ہے :

(…لاَيَبْقَي قريۃُ اِلاّ وَنُودِيَ فِيْھَا بِشَھَادَۃِ اَنْ لا اِلَہ اِلاّ اللہُ وَ اَنْ مُحَمَّداً رَسُول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم بُکْرَۃً وَعَشِياً)[17]

کوئی بستی باقی نہیں رہے گی مگر یہ کہ وہاں صبح و شام توحید اور پیامبر کی رسالت کی گواہی دی جائے۔

(ب)ظہور امام مہدی (عج) کے وقت اس کا رونما ہونا:

ولایت و امامت ،نبوت و رسالت کاہي استمرار کا جانشین امام تمام امور میں نبی کي مانند وظائف رکھتا ہے، صرف اس پر وحی نازل نہیں ہوتی۔ لہذا اگر یہ قرآنی بشارت پیامبر اکرم  صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے آخری وصی کے ہاتھوں انجام پذیر ہو تو ایسے ہی ہے گویا خود پیامبر اکرم  صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اس حقیقت کو عملی جامہ پہنایا ہے ۔شیخ صدوق امام حسین عليہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں ۔

(مِنّا اثنا عَشَرَ مَھْدِياً اَوَّلُھُمْ اَمِيْرُ الْمؤمِنينَ عَلي ابن ابي طالب وَآخرُِھُمْ التاسِعُ مِنْ وُلْدِيْ، وَھُوَ الامامُ القائمُ بِالْحَقَّ، يَحْيَ اللہُ بِہِ الارض بَعْدَ مَوتِھَا، وَيُظْھِرُ بہ دِيْنَ الحَقِ عَلي الدين کُلِہِ وَلَوکَرِہَ الْمُشْرِکُون.لَہُ غَيبَۃُ يَرتَدُّ فِيھا اَقوامُ وَيَثْبُتُ فِيھا عَلي الدّين آخِرُون، فَيؤذَونَ وَيُقَال لَھُمْ: مَتّي ھَذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنتُمْ صَادِقِيْنَ اَما اِنّ الصابِرَ فِيْ غَيبَتِہِ عَلي الأذي و التَّکذِيب بِمَنْزلَۃِ المُجَاھِدِ بالسيف بَيْنَ يَدَيْ رَسولِ اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم).[18]

ہم میں سے بارہ افراد مہدی (ع)ہيں (مہدی کا لقب تمام آئمہ کے لئے ذکر ہوا ہے )کہ ان میں سے پہلے امام علی علیہ السلام اور آخری میری نسل سے آخری فرزند ہوگا ۔وہ ایسا امام ہے جو حق کے ساتھ قیام کرے گا۔ خدا اس کے وسيلے سے زمین کو زندہ کرے گا۔ جب وہ مردہ ہوچکی ہوگی۔ دین حق کو اس کے ذریعہ سے تمام ادیان پر کامیاب قرار دے گا اگرچہ مشرکوں کو ناگوار گزرے ۔اس کے لئے غیبت ہے کہ ایک گروہ ان کی غیبت کے دوران مرتد ہوجائے گا اور دین سے خارج ہوجائے گا اور دوسرا گروہ اپنے عقیدے اور دین پر ثابت قدم رہے گا اور ان سے کہا جائے گا اگر سچ کہتے ہو کہ مہدی برحق ہے تو پھر یہ کيا گيا وعدہ کب پورا ہوگا ۔درحقیقت غیبت کے دوران جھٹلانے والوں اور اذیت دینے والوں کے مقابلے میں صابروں کی مثال ان مجاھدوں جيسی ہے جو رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے ہیں اور دین کا دفاع کرتے ہیں ۔

(۲)اللہ تعالي کا وعدہ ، مؤمنين کي خلافت:

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ[19]

خدا نے تم لوگوں میں سے جو ایمان لائے ہیں اور اچھے  شایستہ کام بھي انجام دئیے ہيں، ان سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں لازمی طور پر زمین پر اپنا جانشین قرار دے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں زمین پر جانشین قرار دیا ہے اور وہ دین جو ان کے لئے پسندیدہ ہے ان کے نفع میں قرار دیا اور  ان کے خوف کو امن میں تبدیل  کرديا ہے  تاکہ وہ میری عبادت کریں ، کسی کو میرا شریک قرار نہ دیں، اس کے بعد جو بھی کفر اختیار کرے وہ نافرمانوں میں سے ہے ۔

یہ آیت مبارکہ بہت سے خوبصورت وعدوںکی خبر دے رہی ہے کہ خدا نے صالح مومنین سے یہ وعدہ کيا ہے:

(۱)ان کے لئے ایک مخصوص صالح معاشرے کو قائم کرے گا کہ اس  دورمیں زمین پر انہیں حکمران قرار دے گا۔

(۲)ان کے دین کو تمام ادیان پر برتری عطا کرے گا ۔

(۳)ان کے ڈر و خوف کو امن و امان میں تبدیل کردے گا۔

(۴)صرف خدا کی اطاعت کریں گے۔

اس آیہ مبارکہ  ميں امت محمدی سے خطاب ہے کہ خدا نے اس کی تعبیر (وعد) سے کی ہے اور خدا کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے ۔لہذا اس آیت سے یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ پروردگار عالم نے امت محمدی میں سے ایک گروہ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین پر اپنا خلیفہ قرار دے گا اور اس گروہ کی دو بنیادی خصوصیات ہیں:

(۱)ایمان راسخ ،کہ يہ  ان کے پورے وجود کا احاطہ کيے ہوئے ہے ۔

(۲)عمل صالح، ان کے اعضاء و جوارح اپنے خدا کی اطاعت وفرمانبرداري میں مصروف عمل ہیں۔

یہ وعدہ بھی چند خصوصیات رکھتا ہے :

(الف)روئے زمين پر خلافت:

خلافت يعني زمین پر مکمل طور پر اختیار اور الہي نعمات سے استفادہ کرنا ہے۔ البتہ خداوندمتعال نے گذشتہ امتوں کو بھی زمین پر خلافت عطا کی تھی مثال کے طور پر (قوم نوح و صالح) ظاھری طور پر حکومت و خلافت سے مراد صرف جانشینی ہے نہ اس کي وسعت یا احاطہ وغیرہ،یعنی جس طرح دوسرے زمین پرحکومت و خلافت (اگرچہ علاقہ محدود ہو) تک پہنچے آپ بھی پہنچ جائیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کلمہ( ارض )سے تمام زمين کا کیوں استفادہ کیا گیا ہے؟ اس کے مختلف دلائل ہیں:

(۱)اصل (مطلق) ہے قید و شرط لگانے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے ۔

(۲)اللہ تعالي کے پسنديدہ دين کا استحکام اور مکمل امن و امان اس وقت سامنے آئے گا کہ جب تمام زمین پر ان کی دسترس ہوگی ۔

(۳)وہ روایات جو اس آیہ کے ضمن میں وارد ہوئی ہیں۔

(ب) اللہ تعالي کے پسنديدہ دين کا استحکام :

(تمکین) یعنی ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنا یہ پائيداري اور استحکام سے ایک کنایہ ہے يعني متزلزل نہ ہونا اور  زوال پذیر نہ ہونا ،اس طرح سے کہ اگر اپنا اثر رکھتا ہو تو کوئی چیز اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے آيت ميں(تمکن دین)کا اس معنی يہ ہے کہ اس کی راہ میں کسی قسم کا کفر و شرک حائل نہ ہوسکے، اس کے احکام و قوانین کو محترم شمار کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوا جائے اور اس کے اصول و معارف تمام لوگوں کے لئے مورد قبول ہوں نيز سب اس دین کے معتقد ہوں اور اس کے بارے میں اختلاف نہ کریں۔

(ج)خدا کا پسندیدہ دین:

وہ دین جو خدا کا پسندیدہ ہے وہ دین مقدس (اسلام )ہے جو غدیر خم کے واقعہ میں ولایت علی علیہ السلام کے اعلان کے ساتھ ہی کامل ہوگیااور کافر اس کی نابودی و بربادی سے مایوس ہوگئے۔

﴿الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمْ فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا[20]

وہ دین جس کے اندر ولایت اھل بیت عصمت و طہارت علیھم السلام قرار پائی ہے وہ (اسلام) ہے جو حضرت علی علیہ السلام سے حضرت امام مہدی عج کی ولایت پر مبنی ہے (دین مرضی) یعنی وہ دين کہ جومورد رضائے خدا ہے۔

(د)امن و امان:

اس زمانے میں ڈر و خوف امن میں تبدیل ہوجائے گا طبیعی طور پرہر خوف کا کوئی عامل و سبب ہوتا ہے جب ڈر و خوف کے اسباب ختم ہوجائيں گے تو اس کے نتیجے میں ڈر و خوف بھی ختم ہوجائے گا بس اس زمانے میں کوئی ايسي چيز نہیں ہوگي جو مومنین کے لئے پریشانی یا خوف کا سبب بنے۔

(ھ)صحیح عبادت:

ایسی حکومت کی برکت یہ ہے کہ وہاں صرف خدا کی عبادت ہوگی شرک کے تمام مظاہر مٹ جائیں گے، خدا کی خالصانہ عبادت ہوگی اورخدا کےعلاوہ کسی کی پرستش و عبادت نہ ہوگی۔

آیت میں غائب (وعد اللہ)سے خطاب تبدیل کرکے متکلم وحدہ میں یعنی (یعبدوننی) اور سیاق نفی ميں نکرہ( شیئا) سے استفادہ عموم کا فائدہ دیتا ہے یہ دونوں  بخوبي شرک کو کلی طور پر ختم کرنے اور توحید کے حاکمیت کے اثبات پر دلالت کرتے ہیں۔

علامہ طباطبائی رہ (من کفر بعد ذلک…) کے متعلق فرماتے ہیں:( ذالک اشارہ) کے لئے ہے اور (يہ موعود خدا) کے وعدے کی طرف پلٹ رہا ہے لہذا مناسب ہے لفظ (کفر) کو شکر کے مقابلے معنی میں لیں اور ایسے معنی کریں اس وعدہ کے محقق واقع ہونے کے بعد جو بھی کفران کرے وہ در حقیقت فاسق ہے۔

اس کلام کے مطابق کفر کا دائرہ بہت وسیع ہوجاتا ہے اس طرح کہ اگر کوئی اس ھدیہ اور نعمت الھی کو ضائع کرے اور فائدہ نہ اٹھائے ،تو وہ فاسق ہے۔ نیز عبودیت و بندگی کی راہ سے خارج ہوگیا ہے۔[21]

اس آیت کے مختلف حصے بیان کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پروردگار کا مقصود و مراد کون افراد ہیں جو اس وعدہ کے شامل حال ہوں گے ؟

بعض مفسرین جیسا کہ تفسیر نمونہ کے مصنف یہ عقيدہ رکھتے ہیں کہ یہ آیت عمومیت رکھتی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس وقت بھی ایمان  اور عمل صالح مسلمانوں کے درمیان استحکام پائے ، اس وقت وہ ایک عالمی حکومت کے مالک ہوجائیں گے بے شک امام مہدی عج کی حکومت اس آیت کا کامل مصداق ہے ۔[22]

علامہ طباطبائی اس بحث میں ایک بہترین نظریہ رکھتے ہیں کہ جس کا خلاصہ یہ ہے : ظاہری طور پر جو آیت سے استفادہ کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ آیت امت اسلام کے بعض افراد سے مخصوص ہے اور وہ صالح ماحول و معاشرہ رکھتے ہوں گے کہ  جس میں خدا کا مورد رضایت دین ہوگا اور اسلام اس طرح معاشرے پر چھا جائے گا کہ اس میں بے ثباتی کا وجود نہ ہوگا۔ معاشرے میں امن و امان کی کیفیت یہ ہوگی کہ کسی قسم کے دشمن (بيروني ، اندروني ظاہري اور مخفي) سے کوئی خوف زدہ نہ ہوگا  کيونکہ خوف کے تمام راستے ختم ہوجائیں گے  اور  خوف امن میں بدل جائے گا۔ ایسا امن و امان صرف احسان پروردگار ہے کیونکہ آیت بھی لوگوں پر اس احسان کا تذکرہ کررہی ہے اور یہ احسان اس وقت مناسب اور قابل قبول ہے جب معاشرے میں ہر لحاظ سے شرعی  آزادی اور امن و امان سب کے لئے ہو۔ ایسے معاشرے میں پرخلوص عبادت عام ہوجاتي ہے  اورتقوی کے علاوہ ہر کرامت کی بنیاد منھدم ہوجاتی ہے ۔ ایسا معاشرہ ان صفتوں کے ساتھ ابھی تک وجود میں نہیں آیا ہے اگر مصداق رکھتا ہو تو یہ امام مہدی (عج)کے ظھور کے وقت وجود میں آئے گا ۔

حق مطلب یہ ہے اگر چاہتے ہیں آیت کا حقیقی معنی کریں تو یہ آیت صرف ظہور امام مہدی (عج)کے بعد رونما ہونے والے اس مخصوص معاشرے پر دلالت کرتی ہے وہ خاص اجتماع  کے افراد ہيں جن کا کسی بھی دوسرے سے مقایسہ ممکن ہي نہیں ہے۔[23]

ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ صحیح ہے یہ آیت حضرت امام مہدی کی (عج)حکومت سے مربوط ہے لیکن کیا اس سے یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ زندہ و حاضر ہیں ؟( ضروری ہے جواب میں یہ کہا جائے :جی ہاں امام مہدی عج زندہ و حاضر ہیں اس آیت اور دوسری آیات کی مدد سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے:

(۱)خدا کا پسندیدہ دین:اسلام ہے اور یہ دین اس وقت مکمل طور پر خدا کا مورد نظر قرار پایا ہے کہ جب حضرت پیامبر اکرم (ص) نے غدیر خم میں حضرت علی عليہ السلام کی امامت کا تعین کيا اور اس ولایت و خلافت کو دین کا جزو قرار دیا اور اس کے وجود کو دین کی تکمیل کا سبب بتایا (اليوم اکملت …)

پس جب تک دین ہے ولایت و خلافت بھی موجودہوني چاہئے چونکہ دین ہر زمانے میں موجودہےتوخلیفہ کو بھی ہر زمانے میں موجود ہونا چاہئے ۔

(۲)جو رہبر بھی حکومت کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ خود اپنی حکومت کے لئے مواقع فراہم کرے۔اور يہي سنت خدا ہے۔گذشتہ پیامبروں کی حکومت و رہبری کی جانب رجوع کیا جائے تو یہي مطلب واضح ہوجاتا ہے۔

 امام ز مانہ عجل اللہ فرجہ الشريف جو چاہتے ہیں کہ اپنے ظہور کے بعد حکومت کریں تو ان کے لئے بھی ضروری ہے کہ قيام اور حکومت کی تشکیل کے لئے خود کوشش و آمادگی کریں پس يہاں ضروری ہے کہ وہ زندہ ہوں اور حاضر ہوں تاکہ عالمی انقلاب و حکومت کے لئے کوشش کریں۔

(۳)خدا کا وعدہ اس وقت پورا ہوگا جب تمام اسباب فراہم ہوچکے ہوں گے اور ساري  رکاوٹیں ختم ہوچکي ہوں گي  ۔

خالق کائنات نے یہ اہم ذمہ داری انسانوں پر ڈالی ہے کہ وہ یہ اسباب فراہم کریں ﴿… إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ… ﴾ [24] جب انسان چاہے گا اس وقت خدا تغییر دے گا بس جب انسان حکومت امام مہدی (ع)کے خواہش مند ہوں گے تو اس وقت خدا ان کی حکومت کو  قائم کرے گا اسی بنا پر امام و رہبر کو ہر زمانے میں زندہ ہونا چاہئے تاکہ انسان کی خواہش کے مطابق ایک عالمی حکومت اور الہي عدالت برقرار ہوسکے  ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:«اِنّہُ لَمْ يَجِيء تَأويلُ ھذِہ الآيَۃِ وَلَو قَامَ قَائِمُنَا،سَيَري مَنْ يُدْرِکُہُ مَا يَکُونُ مِنْ تَأويلِ ھذِہِ الآيۃ، وَلَيَبلُغَنَّ دِيْنُ مُحَمَّدٍ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم مَا بَلَغَ اللَّيلُ حَتّي لاَتَکُونَ مُشرِکُ عَليَ ظَھْرِ الاَرضِ کَمَا قَالَ اللہ تَعالي وَيَعْبُدوُنَنِي لاَيُشْرِکُونَ بِيْ شَيئاً»[25]    اس آیت کی تاویل و مصداق ابھی تک انجام پذیر نہیں ہوئی ہے جب ہمارا قائم قیام کرے گاتو جو ان کے زمانے کو درک کرے گا وہ اس آیہ کی تاویل کو دیکھے گا پھر دین محمدی (ص) ہر اس جگہ تک پہنچے گا جہاں تک رات پہنچےگی (یعنی تمام کرہ ارض پر) اس طرح کہ روی زمین پرکوئی مشرک باقی نہیں رہے گا جیسا کہ خداوندعالم فرماتا ہے (يعبدوننی)

نوٹ: نزول کے ترتیب کے لحاظ سے سورہ (نور) کی آیت ۵۵ ، سورہ( انبياء) کی آیت ۱۰۵، کی تفسیر ہوسکتی ہے اس ترتیب سے کہ سورہ انبیاء کی آیت ۱۰۵ اس کے اجراء کرنے والے اور اس کي وسعت کو بیان کرتی ہے لیکن سورہ نور کی آیت ۵۵ اس کی خصوصیات و اہداف کو بیان کرتی ہے۔

(3)خدا کے صالح بندے زمین کے وارث ہوں گے:

﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ[26]

درحقیقت ہم نے آسماني تورات کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ ہمارے صالح بندے زمین کے وارث ہوں گے تمام مفسرین یقین رکھتے ہیں کہ پروردگار عالم نے اس موضوع کی جانب مختلف انبیاء کی کتابوں میں اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم نے پیامبروں کی کتابوں میں لکھ دیا ہے کہ زمین پرہمارے صالح بندے وارث ہوں گے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ آیا اللہ تعالي نے تمام پیامبروں کی کتابوں میں اس آیۃ کی جانب اشارہ کیا ہے یا بعض کتابوں میں ؟

ایک گروہ معتقد ہے کہ (زبور) سے مراد حضرت داؤود علیہ السلام کی کتاب ہے اور(ذکر)سے مراد حضرت موسي عليہ السلام کي کتاب تورات ہے جبکہ بعض ذکر سے مراد قرآن کریم سمجھتے ہیں (البتہ توجہ رہے کہ خود قرآن میں ذکر کا کلمہ قرآن کے لئے آیا ہے) اس صورت میں کلمہ(بعد) سے مراد  آیہ کے اندر رتبہ کے لحاظ سے ہے  بعد ہونا نہ زمان کے لحاظ سے۔

(ارض) کا کلمہ جب مطلق صورت میں بغیر قرینہ کے آتا ہے تو یہ تمام کرہ ارض کو شامل ہوتا ہے اور(زمین کے وارث) سے مراد یہ ہے کہ تمام زمینی ذخائر دوسروں سے منتقل ہوکر خدا کے صالح بندوں کی دسترس میں آجائیں نیز زمین کی تمام برکات بھی ان کے لئے مخصوص ہوں گی۔

آيت شريفہ کے مطابق زمين کي وراثت ان انسانوں کو عطا ہوگي کہ جن ميں دو اہم صفات ہوں گي:

(۱)عبد خدا: خدا کے بندے ہوں اور کسی چیز ميں اپنے آپ کو مستقل نہيں سمجھتے ان کا وجود خدائی ہے  اورعبودیت کی مہر ان کی پیشانی پر درخشاں ہے ۔یہ ایمان راسخ اور حقیقی توحید تک پہنچ گئے ہیں اورتمام اشیاء کو خدا کے نورانی وجود سے ، خدا کے لئے اور خدا ہی کی جانب حرکت کا محور سمجھتے ہیں ۔

(۲)صالح: شایستہ افراد ہوں گے اور استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بعض افراد یہ یقین رکھتے ہیں کہ آيت کی تفسیر امام مہدی (عج)سے مربوط ہے حتی اگر روایت میں ان کی جانب اشارہ نہ بھی ہو پھر بھی یہ آیت ان کی حکومت کےمتعلق ہے۔کيونکہ:

(۱)حضرت امام مہدی عج کا عالمی قیام اسلامی معارف ميں ايک مسلم امر ہے۔

(۲)آیت میں خدا کا بیان وعدہ کی صورت میں ہے یعنی وعدہ کیا ہے کہ زمین صالح بندوں کے اختیار میں دی جائےگی۔اصطلاح ميں (کتب ) ايک ضروری اور یقینی امر کے لئے ہوتا ہے۔ مفردات راغب میں آیا ہے دستخط ہوئے حکم اور اثبات سے کتابت کی تعبیر ہوتی ہے کہ ايک ايسي چيز ہے کہ جو سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے پھر گفتگو کے بعد اسے صحیح قرار دے کر اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے لکھا جاتا ہے۔

(۳)آیت میں (ارض) کا لفظ تمام کرہ زمین کے لئے آیا ہے یہ واقعہ صرف امام مہدی (عج) کے ظہور کے وقت انجام پذیر ہوگا۔

(۴)ارث پانا ،یعنی وارث تمام مال و منافع سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے مکمل اختیار رکھتا ہے زمين سے ایسا استفادہ صرف ظہور کے بعد ہی خدا کے صالح بندوں کے لئے فراہم ہوسکتا ہے۔

البتہ کچھ لوگ اس نظرئیے کو قبول نہیں کرتے بلکہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آیۃ عام مفہوم پر دلالت کرتی ہے جس میں ہر زمان و مکان شامل ہے ، صالح بندوں کا ایک گروہ زمین پر وارث ہوگا اگرچہ زمین کا ایک حصہ ہی ان کے اختیار میں ہو وہ اس میں دینی حکومت برقرار کرکے اس کے فوائد سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ پھر بھی امام مہدی( عج) کی حکومت آیت کا مکمل مصداق ہے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:وقولہ﴿وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذّکرقال: اَلکُتُبُ کُلها ، ﴿وَاَنَّ الارضَ يَرِثُها عِبَادِي الصالحِونَقَالَ: اَلقائمُ عليه السلام وَاَصْحابُهُ.[27]

ذکر کے کلمہ سے مراد تمام پیامبروں کی کتابیں ہیں (ان الارض..) سے مراد قائم علیہ السلام اور ان کے انصار ہیں ۔

مندرجہ بالا آیت سے استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ خدا کا وعدہ تمام آسمانی کتابوں میں بیان ہوا ہے ۔

آغاز سے ليکر اب تک انسان کی زندگی اور اس کي آرزؤں پر ایک مختصر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم یہ ہوگا کہ تمام پیامبر اور اولیاء نیز وہ انسان جو حق کے طلبگار اورآزاد فکر ہیں سب کی ايک دیرینہ خواہش يہ رہی ہے کہ آسمانی فرامین اور عالمی الہی عدالت کے مطابق توحیدی معاشرہ اور حکومت برپا ہو کہ جس کے زير سايہ اور عدل و حق کي بناء پر موجود ذخائر اور فوائد حاصل کرتے ہوئے انسان جس قدر ہو سکے سعادت اور بروز بڑھتے ہوئے کمال و ترقيف کے مدارج پر پہنچے۔

واضح ہے کہ یہ امید و آرزو اس وقت پوری ہوگی جب ايک عادل،مدیر و مدبر اور طاقتور حاکم ہو جو خود کو اس خدائی وظیفہ کا ذمہ دار سمجھتےھوں سب کام انجام دے۔

اس وقت ہم جس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں اس ميں ہماری امید صرف ہدایت و امامت کا آخری سورج ہے کہ جس کا انتظار کیا جارہا ہےيہ وہ ہيں کہ جن کا نام پیامبروں اور معصومین علیھم السلام کی روایات میں متواتر آیا ہے  اور اس ميں کسي قسم کا شک و ترديد نہيں ہے۔

آیت کے ذیل (وعد اللہ) پر توجہ کرنے سے بھی حضرت امام مہدی( عج )کے موجود اور حاضر ہونے کےبارے میں استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔

نتیجہ:

ایک نجات دہندہ کي عالمی حکومت کا قیام اور عالمی عدالت کا قائم ہونا سب مسلمان حتی تمام آسمانی ادیان کا مشترکہ عقیدہ ہے ۔قران مجید نے بہت سی آیات میں اس موضوع پر بشارت دی ہے اور احادیث کی رو سے یہ سب آیات آخری زمانہ میں امام مہدی (عج)کے زمانہ ظہور سے تفسیر ہوتی ہیں ۔یہاں تین موضوعات کو حصہ اول کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔

قران مجید تین مقامات (سورہ توبہ،فتح اور صف ) میں اسلام کے تمام ادیان پر غلبہ کی بشارت دیتا ہے کہ جو احادیث کی رو سے امام مہدی کی عالمگیر حکومت کے زمانہ میں وقوع پائے گا ۔یہاں غلبہ سے مراد کرہ ارض پر اسلام کی حاکمیت ہے۔

سورہ نور میں پروردگار باعمل مومنین کے ساتھ ایک عظیم وعدہ کررہا ہے ،یہ وعدہ چند موارد پر مشتمل ہے:

الف:زمین پر مومنین کی خلافت

ب:اللہ کے پسندیدہ دین کا استحکام

ج:مکمل امن و امان

د:اللہ کی خالصانہ عبادت اور شرک کا خاتمہ

روایات کی رو سے یہاں صالح مومنین سے مراد امام مہدی (عج) اور انکے انصار ہیں۔

سورہ انبیاء  میں پروردگار بشارت دے رہا ہے کہ صالح بندے زمین کے وارث ہیں اورواضح فرمایا ہے  یہ بشارت اس سے پہلے دیگر آسمانی کتب میں بھی دے چکا ہے ۔ یہاں بھی احادیث صالح بندوں کو  امام مہدی(عج)  اور انکے شیعوں سے تفسیر کرتی ہیں ۔پس واضح ہوا کہ مہدویت کا عقیدہ  محض ایک روائی اور حدیثی موضوع نہیں ہے بلکہ اسکی اساس اور بنیاد قران مجید ہے ۔

 

فہرست منابع:

1- حجت الإسلام و المسلیمن جناب آقای علی اصغر سیفی-مہدویت میں ایم فل اور فقہ و کلام میں سطح  ۴۔saifi512@gmail.com

2-آل عمران، آيت١٤٤.

3-صف،آيہ ٦.

4-مائدہ، آيہ ١٢.

5- اعراف، آيہ ١٥٥.

6-اعراف، آيہ ١٥٧.

7-سورہ مائدہ، آيہ ٥٥.

8-جعفر سبحاني، سوال و جواب، ص١٨٥.پبلشر موسسہ امام صادق(ع)،قم.

9-بقرہ،آيہ ٢٤٨.

10-مائدہ ، آيت ٣.

11-احزاب، آيت ٣٣.

12-توبہ، آيہ ٣٢و٣٣.

13-فتح ، آيہ ٢٨.

14-صف،آيہ ٨و٩.

15-کافي،ج١،ح٩،ص٤٣٢.

16-کمال الدين و تمام النعمہ، ج٢ ، باب٥٨، ح٧.پبلشر جامعه مدرسین،قم.

17-بحارالانوار، ج٥١ ، ص٦٠.

18-کمال الدين و تمام النعمۃ، ج١ ،باب٣٠، ح٣.  شیخ صدوق،کمال الدين و تمام النعمہ، پبلشر جامعه مدرسین،قم.

19-نور، آيہ ٥٥.

20-مائدہ، آيہ ٣.

21-تفسير الميزان،ج١٥، آيہ کے ذيل ميں۔طباطبائی ،سید محمد حسین ،تفسير الميزان، ج١٥، دار الكتب الاسلامیه،تہران.

22-تفسير نمونہ، ج١٤، ذيل آيہ.مکارم شیرازی ،ناصر ،تفسير نمونہ، پبلشر دار الکتب الاسلامیہ ،تہران.

23-تفسير الميزان، ج١٥، ذيل آيہ.طباطبائی ،سید محمد حسین ،تفسير الميزان، ج١٥، دار الكتب الاسلامیه،تہران.

24-رعد، آيہ ١١.

25-بحارالانوار،ج٥١، ص٥٥ ، ح٤١.مجلسی،محمد باقر،بحارالانوار ، دار الكتب الاسلامیه،تہران.

26-انبياء(١٠٥).

27-مجمع البيان،ج٤ ، ذيل آيہ.طبرسی ،فضل بن حسین،مجمع البيان،پبلشر دار المعرفۃ،تہران.

 

 

اپنا تبصرہ لکھیں