عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

کچھ اعتراضات کا جواب

سوالات و جوابات
مہدوی سوالات و جوابات

کچھ اعتراضات کا جواب

کچھ اعتراضات کا جواب
استاد حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی

پہلا اعتراض کیوں احادیث مہدویت صحیح بخاری اور مسلم میں نہیں ؟ اور اسکا جواب

پہلا اعتراض:
امام مہدیؑ کے بارے میں احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کیوں نہیں؟
آیا ان کے نزدیک مہدویت کا موضوع ایک اسلامی عقیدہ نہیں تھا ۔ آیا وہ اسے ایک حقیقی معنوں میں ان موضوعات میں نہیں لیتے جنہیں رسولؐ اللہ نے بیان کیا۔
ہم اس سوال کا جواب چند نکات کی صورت میں دیتے ہیں۔

1۔ صحیح بخاری کے اندر اور صحیح مسلم کے اندر احادیث مہدویت موجود ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہیں کہ اعتراض کرنے والے نے ان دونوں کتابو ں کا مطالعہ نہیں کیا۔
2۔ یہ درست ہے کہ تمام احادیث مہدویت ان کے اندر موجود نہیں لیکن ایک بہت مناسب تعداد اور بہت سے مہدوی موضوعات کا ذکر ہے۔
اب یہ ہے کہ تمام کیوں نہ ذکر ہوئیں تو جناب بخاری کہتے ہیں کہ میں نے اپنی اس کتاب میں ایک لاکھ احادیث اور پھر ایک مقام پر کہتے ہیں کہ دو لاکھ احادیث سے احادیث نقل کیں اور ایک کثیر تعداد کو چھوڑ دیا۔
بہت سارے علما اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جو احادیث چھوڑی گئی وہ بھی صحیح ہیں اور دوسری کتابوں میں ذکر ہوئیں۔ یعنی صحیح ستہ میں ذکر ہوئیں۔
3:اہل سنت کے کسی عالم نے یہ نہیں کہا کہ کسی حدیث کے صحیح ہونے کا معیا ر یہ ہے کہ وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہو۔ یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں احادیث ان کے لیے اہم ہیں۔ لیکن ایک حدیث جو ان کے نزدیک صحیح ہے وہ عشرہ مبشرہ ہے۔ اب اس کو نہ صحیح بخاری نے نقل کیا اور نہ ہی صحیح مسلم نے۔
4:صحیح بخاری میں امام مہدی ؑ عج کے بارے میں احادیث مثلاً آپ کا نام مبارک ، آپؑ کے اوصاف، آپ کی حکومت یہ ساری حدیثیں ان دونوں کتابوں میں موجود ہیں لیکن کلمہ مہدیؑ کے ساتھ نہیں بلکہ کلمہ رجل (مرد) کے ساتھ آئیں ہیں۔لیکن دوسری کتابوں میں لفظ مہدی ؑعج کے ساتھ آئیں ہیں۔
5:بہت سی احادیث کتابوں سے نکالی گئیں ۔ آج بھی یہی کام ہو رہا ہے۔ بہت سی احادیث جن سے مکتب اہلبیتؑ واضح ہوتا ہے اسے کتابوں سے نکالا جا رہا ہے۔ مثلاً خود اہلسنت کے چار بڑے علما نے اپنی کتابوں میں صحیح مسلم سے وہ حدیث نقل کی تھی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ صحیح مسلم کے موجودہ ایڈیشن میں وہ حدیث موجود نہیں ہے۔
حدیث ہے کہ المھدی حق و ھو من ولد فاطمۃ ” مہدی عج حق ہیں اور وہ نسل فاطمہؑ سے ہیں”۔
اہل سنت کے چار بڑے علماء ہیں
جس میں
: 1۔ ابن حجر ھیثمی اپنی کتاب الصواعق المحرقہ،
2۔: متقی ھندی حنفی نے اپنی کتاب کنز العمال
3۔ : شیخ محمد علی صبان کتاب اسعاف الراغبین
4۔ شیخ حسن عدوی حمزاوی مالکی اپنی کتاب مشارق الانوار
میں
تو اب بھی ان کتابوں سے احادیث کو نکالا جا رہا ہے۔
6:صحیح بخاری و مسلم کی حدیثیں جن کی تفسیر حضرت مہدی عج کے متعلق ہے۔صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے لیکن صحیح مسلم میں 10 احادیث ہیں جن میں دجال کا خروج و فتنہ اور پھر امام مہدیؑ عج کے ظہور کے متعلق احادیث ہیں۔
اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق احادیث ہیں۔ دونوں کتابوں میں اپنی اپنی سندوں کے ساتھ ابو ہریرہ سے نقل ہے۔ کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا” تم کیا محسوس کروگے اگر مریم ؑ کا بیٹا تمہارے پاس اس حال میں نازل ہو کہ اس کا امام تم ہی میں سے ہو۔ ”
مسلم نے جابر بن عبد اللہ سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر ؐ اسلام سے سنا کہ آپ ؑ نے ارشاد فرمایا: میری امت کا ایک گروہ قیامت آنے سے پہلے حق کے لئے قیام کرے گا، پھر عیسیٰ ؑ بن مریمؑ نازل ہوں گے۔ تو اس گروہ کا سپہ سالار کہے گا کہ آؤ ہمارے لئے نماز پڑھاؤ تو وہ کہیں گے نہیں اس امت کی عظمت کی بنا پر تم میں سے بعض دوسوں پر امیر ہیں۔ ”
اگر اہلسنت کی دوسری کتب احادیث خواہ وہ صحیح، مسند ہوں ، ان کی طرف رجوع کیا جائے تو بہت سی ایسی روایات ملیں گی جن میں سے اس بات کی صراحت موجود ہے کہ یہ بات امام مہدی ؑ کے نام سے منسوب کیا۔
الف: ابن ابی شبیہ نے ابن سیرین سے المصنف میں نقل کیا ہے۔ مہدیؑ عج اس امت سے ہیں اور یہ وہی ہیں جو عیسیٰ بن مریم کی امامت کریں گے”۔
ب۔ ابو نعیم نے ابن عمرو دانی سے اور اس نے حزیفہ سے الحادی للفتاوی میں نقل کیا ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: مہدیؑ نگاہ کریں گے تو اسی اثناء میں عیسی بن مریم نازل ہوں گے گویا ان کے بالوں سے پانی گر رہا ہو ۔ پھر حضر مہدی عج کہیں گے : آگے آئیے اور لوگوں کے لئے نماز قائم کیجئے تو عیسیٰؑ کہیں گے۔ نماز صرف آپ کے لئے منعقد کی گئی ہے۔ پس عیسیٰ ؑ میرے بیٹوں میں سے ایک مرد کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔
کتاب فتح الباری فی شرح صحیح “بخاری میں احادیث “مہدویت” کے متواتر ہونے کی صراحت موجود ہے۔ اوراس میں صاحب کتاب یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کا اس امت کے ایک مرد کی اقتداء کرنا اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ آخر الزمان قیامت کے نزدیک ہے ۔ یہ اس بات کے صحیح ہونے اور ان اقوال کے درست ہونے کی نشانی ہے کہ بیشک زمین حجت خدا جو اللہ کے لیے قیام کرنے والے سے خالی نہ ہوگی۔
قسطلانی نے بخاری کی شرح میں اسی حدیث کی تفسیر حضرت مہدی عج سے کی ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ نماز میں حضرت مہدی عج کی اقتداء کریں گے۔
یہی مطلب کتاب عمدۃ القاری فی شرح ” صحیح البخاری میں بھی موجود ہے۔
کتاب فیض الباری میں حدیث بخاری کی تفسیر میں ان مطالب پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ یہ ابن ماجہ سے حدیث لاتے ہیں کہ ” الامام کا مصداق اس حدیث میں صرف وہی ” امام المہدیؑ عج “ہیں۔

7:صحیح مسلم کی احایث: اس شخص کے بارے میں کہ جو اموال کی بخشش کرتا ہے۔
مسلم نے اپنے اسناد کے ساتھ جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ رسول ؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: ” آخری زمانے میں میرے امت سے ایک خلیفہ آئے گا جو مال کی بہت زیادہ بخشش کرے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔
یہاں امام مہدی عج کے بجائے خلیفہ کا لفظ آیا
ترمذی نے ابو سعید خدری کی سند سے رسولؐ اللہ سے نقل کیا۔ کہ بے شک مہدی میری امت میں سے ہیں۔ یہاں تک کہ فرمایا: پس اس کے پاس ایک شخص آئے گا اور عرض کرے گا اے مہدی ؑ عج کچھ مال مجھے عطا کرو پس وہ اس قدر اس کے دامن میں رقم ڈالے گا کہ وہ اسے اٹھا سکے۔ ”
یہ حدیث ابوھریرہ ، ابو سعید خدری اور دسیوں سندوں سے بھی منقول ہوئی ہے۔
8:صحیح مسلم میں احادیث ” خسف بیداء
مسلم اپنی کتاب صحیح میں اپنی اسناد کے ساتھ عبید اللہ بن قبطیہ سے نقل کیا ہے کہ میں اور حارث بن ربیعہ بن صفوان ، ام المومنین ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اور ان سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا کہ جو زمین کے اندر دھنس جائے گا۔ ( یہ واقعہ عبد اللہ بن زبیر کے دور کا ہے) ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا ” ایک شخص خانہ خدا میں پناہ لے گا پھر اس کے پیچھے ایک گروہ کو بھیجا جائے گا کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچے گا تو زمین ان کو نگل لے گی۔”
یہاں بھی ایک شخص کہا گیا۔ اب انہوں نے کیوں لفظ مہدی ؑ عج ہٹا یا گیا۔ اب اس کے پیچھے کیا سیاست اور تعصب ہے اور ان لوگوں نے بار بار صحیح بخاری اور مسلم میں امام ؑ کے نام اور احادیثت کو مٹایا گیا۔ لیکن ان کتابوں امام ؑ کے نام کے بغیر بھی احادیث اور امام ؑ کا ذکر موجود ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں