عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سوالات و جوابات

سوالات و جوابات
مہدوی سوالات و جوابات

سوالات و جوابات

استاد حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی

سوال:
جو جھوٹے مہدی کا دعوی کرتے ہیں وہ کون لوگ ہیں اور ان کے پیروکار کون ہیں، حالانکہ ایسے لوگوں کا دین اسلام سے کوئی واسطہ نہیں پھر بھی ان کے ہزاروں پیروکار بن جاتے ہیں
غالی فرقہ میں بڑے مشہور نوحہ خواں بھی شامل ہیں جیسے لندن میں خاک امام حسین علیہ سلام کی بولی لگائی اس گروہ نے۔آخر ان غالی لوگوں کا بائیکاٹ کیوں نہیں کیا جاتا ان پر ہمارے فقہاء فتویٰ کیوں نہیں لگاتے حالانکہ وہ ہماری آنے والی نسلوں کی ایمان کو تباہ کر رہے ہیں اور ہمارے امام عج کے ظہور کے راستے کی دیوار ہیں.؟

جواب: قادیانیت ہو یا جمن شاہی یہ لوگ، لوگوں کی جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی حماقت سے۔
ہمیشہ ہر دور میں ایسے فریبکار لوگ رہے ہیں کہ جنہوں نے ہمارے آئمہ علیہم السلام کے مدمقابل یا مکتب حق کے مدمقابل اپنی علمی دینی جعلی دکانیں بنائی اور ہزاروں لاکھوں لوگوں کی گمراہی کا باعث بنئے۔
خود ابوحنیفہ نے امام صادق علیہ السلام کے پاس دو سال پڑھ کر اس نے اپنی ایک علیحدہ دوکان کھڑی کردی اور دین حق کے مدمقابل دینِ حنفی شروع کر دی اور آج بھی آپ دیکھ رہے ہیں پوری دنیا میں ابو حنیفہ کی کتنے پیروکار پھیلے ہوئے ہیں ۔
اسی طرح ہر دور میں مذہب کے نام پر بدعتیں اور انحرافات کھڑے کئے گئے اس کی جدید مثال جو ہے وہ قادیانیت ہے قادیانیت نے بہت زیادہ انحراف اور بدعت پھیلائی۔
باقی مکاتب تو چلیں اجتہاد کے بات کرتے تھے فقہی مسائل اور کچھ نہ کچھ عقائد کے مسائل میں اختلاف کا باعث بنتے تھے۔
قادیانیت نے ڈائریکٹ مہدویت کا دعوی کیا اور پھر حضرت عیسی علیہ السلام ہونے کا دعوی کیا اور پھر نبوت کا دعوی کیا اور پھر وحی کا دعوی کیا اور پتا نہیں کیا کچھ کیا۔
یا جمن شاہی گروپ جو ہے اس نے بھی امام مہدی سے ملاقاتوں کے جھوٹے دعوے کیے اور کئ عجیب و غریب عقائد اور چیزیں جو ہیں وہ دین میں مخلوط کیں۔
اب یہ لوگ جو ہیں ظاہر ہے ان کے پاس کچھ نہ کچھ علم تو ہوتا ہے جس سے یہ استفادہ کرتے ہیں اور اگر علم کے ساتھ روحانیت نہ ہو، معنویت نہ ہو علم کے ساتھ اگر عمل نہ ہو تو یہ علم خود حجاب ہے بلکہ حجاب اکبر جیسے معصومین علیہم السلام کہتے ہیں۔
ابلیس سے بڑھ کر کون عالم ہے خدا ،نبی اور امام کے بعد ابلیس سے بڑھ کر کون عالم ہے جس نے اتنے انبیاء کے تبلیغ سنی، اتنی کتابیں جو نازل ہوئی وہ دیکھیں، صحیفے آئے سب اس نے سنے اور دیکھے ہیں اور دنیا کے اندر جتنے بھی لیکچر ہو رہے ہیں سب وہ دیکھ رہا ہے سن رہا ہے لیکن چونکہ عمل نہیں کر رہا ہے لہذا وہ ابلیس ہے تو ابلیس کی راہ پر چلنے والے بھی بہت سارے لوگ ہیں عالم نما لوگ جو لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور ان کے جو پیروکار ہیں وہ دو طرح کے ہیں یا وہ بالکل جاھل ہیں اور ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں اسی لئے تو کہاں گیا ہےکہ معارف ضروری ہے یا بالکل جاھل ہیں یا پھر بصیرت نہیں ہے مثلا ہو سکتا ہے کہ کچھ نہ کچھ علم ہو لیکن فکر نہیں ہے غور نہیں ہے نتیجتاً حماقتوں کا تسلسل جاری ہے لیکن ان کے اندر کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں توفیق الہی ہوتی ہے راہ حق کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور بلآخر دین حق کو اختیار کر لیتے ہیں۔
غالی بھی ایسے ہیں غالیوں کے بارے میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی توقیع بھی ہے فرماتے ہیں کہ ان احمق شیعوں سے یہ جو احمق شیعہ ہیں مراد یہی تھے کہ جو ہمارے بارے میں غلو کرتے ہیں جو ہمیں خدائی کے مقام تک پہنچاتے ہیں فرماتے ہیں ان احمق شیعوں سے ایک مچھر کا پر بھی بہتر ہے جو اللہ کی راہ میں پر حرکت کر رہا ہے جبکہ یہ شیطان کی راہ میں چل رہے ہیں خدا کے بندوں کو خدائی کے مقام پر پہنچا رہے ہیں اور پھر یہ جس قسم کی محبت کے دعوے کر رہے ہیں خدا کو چھوڑ کر یہ محبت نا انہیں فائدہ دے گی یہ تو جہنم کی خوراک ہے اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے آئمہ علیہم السلام نے غالیوں پر لعنت بھیجی ان کے قتل کا فتوی دیا ان کی تکفیر کی اور کہا کہ اپنے جوانوں اور بچوں کو ان کے شر سے بچائیں چونکہ یہ زہر ہے امام صادق علیہ السلام، امام رضا علیہ السلام، امام ہادی علیہ السلام اور امام عسکری علیہ السلام نے بڑا جہاد کیا غالیوں کے خلاف اس سے پہلے امیرالمومنین علیہ السلام نے بھی لیکن یہ غالی ختم ہوئے نہیں کیونکہ یہ ایک طرح کی ایک شیطانی چال ہے جوتشعیوں کے اندر بظاہر محبِِ علی ہیں لیکن مقاصد شیطان کے ہیں۔
اب آپ فتوے کی بات کر رہی ہیں ہمارے پاس تو احادیث ہیں جس میں آئمہ علیہم السلام نے ان پر لعن کی ہے اور ہمارے علماء یہ بیان بھی کرتے ہیں تو ان کے بارے میں فتوی دینے کی ضرورت نہیں کیوں کہ جب خود واضح طور پر حدیث ہے تو اب کوئی مجتہد مزید کیسے فتویٰ دے امام کا واضح صراحت سے فرمان موجود ہے کہ جو بھی غالی ہے یہ ہماری توضیح المسائل کے اندر بھی لکھا ہوتا ہے کہ غلات جو ہیں یہ مشرک ہیں کافر ہیں صرف مسئلہ یہ ہے کہ کس کو غالی کہیں۔
اس حوالے سے انسان کو خود تھوڑا سا سوچنا چاہیے، دیکھنا چاہیے، کہ کون جو ہے غلو کر رہا ہے اور خدا کے علاوہ کچھ اور ہستیوں کو مقام خدائی، مقام ربوبیت، مقام رازقیت دے رہا ہے جو بھی اس زمرے میں آ رہا ہے وہ تمام فقہائے اسلام کے نزدیک وہ مسلمان ہی نہیں ہے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کا اہل نہیں ہے اب یہ چیزیں ہماری احادیث میں موجود ہیں علماء حقہ بھی بیان کرتے ہیں لیکن مسئلہ یہی ہے جو آپ فرما رہے ہیں کہ کچھ جو حق کے عاشق نہیں ہیں آواز کے عاشق ہیں، سونگ کے عاشق ہیں، ساز کے عاشق ہیں ان کو معنی الفاظ سے تعلق نہیں ہے انکو اشعار سے، مختلف قسم کے قصیدوں سے، ان کا جو لحن ہے، ان کا جو انداز ہے وہ اس کے عاشق ہیں تو وہ ان چیزوں کے پیچھے ہوتے ہیں اور ان چیزوں کو بیان کرنے والوں کے عاشق ہوتے ہیں یہ جو منقبتیں پڑھنے والے ہوتے ہیں اور آج کل تو خیر مختلف سازوں کے ساتھ پڑھی جا رہی ہیں یہ کون سن رہے ہیں کون انہیں پسند کر رہے ہیں وہی جو گانے سنتے ہیں، گانے پسند کرتے ہیں انڈیا، پاکستان یورپ کے گلوکاروں کو سنتے ہیں اب اس کی جگہ ان کو سننا شروع کر دیا تاکہ ان کے اندر کی وہ جو ہوس ہے وہ جو شہوت ہے وہ اس طرح پوری ہو۔
خیر اس حوالے سے بھی ہمارے فقہ کے فتوے موجود ہیں کہ ایسا ساز، ایسی موسیقی، ایسا لہن، ایسا غناء، ایسا انداز، ایسی گلے میں آواز کو گھمانا کہ جو باعث بنے لوگوں کو حق سے دور کرنے کا، مست کرنے کا وہ سننی حرام ہے اس سے دوری کرنی چاہیے۔
اب ظاہر ہے جب مولا اللہ فرجہ شریف کی حکومت قائم ہوگی تو ان تمام انحراف اور بدعات کا سختی سے خاتمہ ہوگا جب تک یہ قائم نہیں ہوتی اس وقت تک ہم نظریاتی طور پر فکری طور پر ان کا مقابلہ کریں اور عملی طور پر اپنے الفاظ، عمل میں تو یہ محاذ چل رہا ہے وہ بھی یہی کام کر رہے ہیں ہم بھی کر رہے ہیں جس چیز کی وہ تبلیغ کر رہے ہیں جس چیز کو وہ نشر کر رہے ہیں ہم اس کے مد مقابل حقائق کو نشر کریں یہ کورس پڑھنے کا اور علماء کو سننے یہ سب ھدف یہی ہے کہ یہ جو محاذ حق و باطل میں اس میں اپنی جگہ دیکھیں کہاں ہے اور اس کے بعد باطل کے خلاف کام کریں، دین حق کا دفاع کریں۔
ابھی ہماری جو نظریاتی اور فکری اور تبلیغی اور یہ گھر گھر اور محلے میں یہ جو جنگ ہے لفظوں میں، عمل میں یہ جنگ آہستہ آہستہ حضرت امام زمانہ عج اور ان کے مد مقابل والی جنگ میں بدل جائے گی جو آج امام عج کے تقاضے ہیں اور امام عج کے لشکر میں فطری طور پر علمی اور قولی طور پر کام کر رہے ہیں یہی کل عملی میدانوں میں مولا عج کے ساتھ کام کریں گے انشاءاللہ۔

اللہ تعالی ہم سب کو ہمارے بچوں کو اور اولادوں کو ہمارے عزیزوں کو بالآخر ان تمام قسم کے شر سے محفوظ رکھے اور مولا عج کا خدمت گزار ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین۔

Leave your thought here

ٹیگز

icm313.com www.icm313.com آڈیوز آیات مهدویت آیندہ کے حوالے سے کیا پروگرام اخلاق منتظرین استاد حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی استاد محترم حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی استاد مہدویت علی اصغر سیفی امام(عج) کی معرفت امام زمانه امام زمانہ امام زمانہ عليہ السلام کے انتظار کی خصوصیات امام مہدی (عج) امام مہدی عج نہج البلاغہ کی رو سے انتظار حقیقی انتظار کے اثرات آغا علی اصغر سیفی آیۃ اللہ نجم الدین طبسی تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت) جلد ۲ جوان حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی حضرت مہدی علیہ السلام روح و روان انسان سوالات و جوابات سوالات وجوابات شرائط اور علامتيں(تعريف اور فرق) ظہور ظہور تک فاصلہ اور حجاب کا باعث قیام حضرت مہدی(عج) منتظرین کے فرائض مهدویت آڈیوز مهدوی پروگرامز مھدویت مھدویت آڈیوز مہدویت ویڈیوز ناصرین اور حقیقی منتظرین نهج البلاغہ نہج البلاغہ وہ تیاری ویڈیوز کتاب کیا پانچ سال کا بچہ امام بن سکتا ہے؟