عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

امام مہدی عج فورم پر کچھ جوانوں کے سوالات – (دوسری قسط)

مھدویت
مہدوی سوالات و جوابات

امام مہدی عج فورم پر کچھ جوانوں کے سوالات – (دوسری قسط)

امام مہدی عج فورم پر کچھ جوانوں کے سوالات (دوسری قسط)

استاد محترم: علی اصغر سیفی صاحب

7- انتظار کیا ہے اور حقیقی منتظر کون ہے ؟

جواب: انتظار حقیقی یہ ہے کہ منتظرین حقیقی معنوں میں امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی راہ میں چشم براہ ہوں اور معاشرے کو منجی عالم بشریت اور مہدی منتظر علیہ السلام کی آمد کے لئے تیار کریں ، تیاری کے وقت توجہ رہے کہ امام زمان (عج) کس مقام و منزلت کی حامل شخصیت ہے ، مثلاً اگر کسی کے گھر کوئی اہم شخصیت مثلاً کوئی سیاسی شخصیت یا گورمنٹ کا کوئی عہدیدار آرہا ہو تو وہ دنیا کے اس مہمان کہ ممکن ہے اللہ کے دربار میں اس کا ذرہ بھر بھی مقام نہ ہو ,کس قدر تیاری کرے گا،گھر سجایے گا اسکے انتظار میں بے چین اور مضطرب ہوگا اسکا بھر پور استقبال کرے گا اور اس کی مہمان نوازی کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہوگی اسے فراہم کرے گا اور …
بالکل اسی طرح وہ شخص بھی حضرت مہدی علیہ السلام کے منتظر کہنے کا مستحق ہے کہ جو اس عظیم شخصیت کی آمد اور میزبانی کے لئے اپنے آپ کو تیار کرتے ہوئے خود کو خداوند متعال کے نیک اور صالح بندوں کی صف پہنچائے ، زندگی کے تمام پہلو میں دین کے قوانین اور احکام کو جاری کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں دستورات دین پر عمل پیرا ہو ،اپنے معاشرہ کی اصلاح ، اور اس معاشرے میں زندگی گزارنے والے دوسرے لوگوں کو امام علیہ السلام کے ظہور کے لئے تیار کرے ۔
اگر مذکورہ صفات کسی انسان میں پائی جائیں اور ان اوصاف کو اپنے اندر پیدا کرکے امام کے ظہور کے منتظر ہوں ، تو ایسا انتظار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے فرمان کے مطابق “بہترین اعمال ْ میں سے ہے ، لہذا جو شخص خداوند متعال کی عبادت و بندگی میں زندگی گزارتے ہوئے امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے لئے اسباب فراہم کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ سب سے زیادہ کامیاب انسان ہوگا ۔

8- امام زمانہ علیہ السلام ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟

جواب: امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی ہم سے سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ہم اپنے دینی وظایف اور ذمہ داریوں پر عمل کریں ،آئمہ اطہار علیہم السلام سے منقولہ روایات میں حقیقی منتظرین کے لئے متعدد وظایف اور ذمہ داریاں بیان ہو یی ہیں .
ہم یہاں پر کچھ اہم وظایف کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، ملاحظہ فرمایں :
۱۔ امام کی شناخت اور معرفت
امام مہدی علیہ السلام کے منتظرین کا پہلا وظیفہ یہ ہے کہ اپنے امام وقت کو پہچانیں اور ان کی صحیح معرفت حاصل کریں ، کیونکہ امام(ع) کی معرفت اور شناخت کے بغیر انتظار کرنا مفید نہیں ہے ،لہٰذا ضروری ہے کہ انسان منتظر امام علیہ السلام کے حسب و نسب ،صفات اور فضایل کو جاننے کے ساتھ ساتھ آپ کے مقام و منزلت کی بھی معرفت حاصل کرے ، چنانچہ روایت میں ذکر ہوا ہے کہ ایک شخص جس کا نام “ابو نصر “تھا امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے آپ(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو امام نے فرمایا:کیا تم میری معرفت رکھتے ہو؟
اس نے جواب دیا :جی ہاں آپ علیہ السلام میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ہیں .
تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :
میرا مقصد ایسی پہچان نہیں ہے (جس طرح تم نے پہچانا ہے)
ابو نصر کہتا ہے میں نے عرض کی :
آپ علیہ السلام ہی فرمائیں کہ معرفت اور شناخت سے آپ کا مقصد کیا ہے ؟تو امام علیہ السلام نے فرمایا :
“میں خدا کے آخری پیغمبر (محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ) کا آخری جانشین ہوں اور میرے وجود کی برکت سے خداوند متعال میرے خاندان اور ہمارے شیعوں سے بلاء اور گرفتاریوں کو دور کرتا ہے”
۲۔نمونۂ عمل قرار دینا :
انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے حقیقی رہبر اور وقت کے امام کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دیتے ہوئے اس کے نقش قدم پر چلیں ، تاکہ ان کے حقیقی انصار کے زمرہ میں داخل ہوں ۔
چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے منقول ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا :
“خوش نصیب ہے وہ شخص جو ہمارے قائم کو اس حال میں دیکھیں کہ ان کے قیام اور ظہور سے پہلے ، ان کی اور ان سے پہلے والے ائمہ کی پیروی کریں ، ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کرتے رہیں ، تو ایسے افراد میرے دوست ساتھی اور میرے نزدیک میری امت کے سب سے محترم اور عزیز افراد میں سے ہیں”(بحار ،ج۵۲،ص۱۲۹)
۳۔امام کو یاد کرنا
امام زمانہ علیہ السلام کے حقیقی منتظر کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت ان کی یاد کو زندہ رکھے ، اور تمام دنوں میں صبح کی نماز کے بعد “دعای عہد” پڑھ کر اپنے امام سے تجدید عہد کریں اور آپ علیہ السلام کی سلامتی، ظہور اور فرج کے لئے دعا کرتے ہوئے کہے”الّلہم کن لولیک الحجۃ بن الحسن صلواتک علیہ و علی آبائہ فی …(مفاتیح الجنان میں تییس (۲۳) شعبان کی رات کے اعمال میں مذکورہ دعا نقل ہوا ہے)
تمام محافل و مجالس میں آپ علیہ السلام کا ذکر کریں ، اور آپ کی شخصیت ، اہداف ، انقلاب ، حکومت اور آپ علیہ السلام کے پروگراموں سے لوگوں کو آشنا کریں تا کہ دوسرے لوگ بھی آپ علیہ السلام کے ظہور کے انتظار میں زندگی گزارتے رہیں ، چنانچہ خود حضرت امام مہدی علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کے نام بھیجے گئے ایک پیغام میں فرمایا :
“اگر ہمارے شیعہ ۔”خداوند عالم ان کو اپنی اطاعت و پیروی کی توفیق دیں”۔اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان پر جمع اور مصمم ہوں تو کبھی ہمارے دیدار اور زیارت کی نعمت میں دیر نہیں ہوگی اور حقیقی معرفت اور شناخت کے ساتھ ہماری ملاقات جلد ی ہی ہوجائے گی(بحار ،۵۳، ۱۷۶)

طالب دعا: علی اصغر سیفی 

اپنا تبصرہ لکھیں