عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید دوسرا درس

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید دوسرا درس

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید
دوسرا درس آیت (2,3)
_آیات کا ترجمہ ، پروردگار کی قدرت و حکومت ، اللہ کی عظیم صفات ، حضرت زھرا سلام اللہ علیہا کو عطا کی گئی ایک دعا،مہدوی پیغامات، عقیدہ توحید کی پختگی، اللہ تعالیٰ سے حقیقی زندگی اور اعلی موت طلب کریں ، امام زمانہ عج کے ظہور میں خدمت کے لیے طاقت مانگنا۔_

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ:
آیت نمبر: 2
لَـهٝ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ ۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ
_آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کے لیے ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔_

دنیا کی حکومت اعتباری اور عارضی ہے ۔ دنیا کا حاکم چند روز حکومت کرتا ہے اور پھر کوئی اور حاکم آجاتا ہے۔
حتی کہ انسان کی اپنے گھر کی ہر چیز پر ملکیت بھی عارضی ہے۔ کچھ عرصے کے بعد کوئی اور اس کا مالک بن جاتا ہے۔

لیکن پروردگار عالم وہ ہے جو زمین و آسمان کا مالک حقیقی ہے۔ جو کچھ بھی ان میں ہے اس کا حقیقی مالک وہی ہے حتی کہ ہمیں جو کچھ بھی ملاہے سب رب العزت عطا فرماتا ہے۔

تمام مخلوق کا مالک پروردگار ہے۔ وہ بہت بڑی طاقت رکھتا ہے وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ اور یہ مالک ہونے کی بہت بڑی نشانی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰؑ نے فرعون سے کہا تھا کہ اگر تو خدا ہے تو میرا خدا وہ ہے زندہ کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ تو اگر یہ دعویٰ رکھتا یے تو یہ مجھے یہ دکھا۔

پروردگار عالم کی قدرت کا اعلیٰ ترین مظہر زندہ کرنا اور مارنا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ہمیں زندگی اور موت کی پیچیدگیوں کا پتہ نہیں ہوتا۔ بعض لوگ زندہ ہوتے ہیں لیکن مردہ نفس ہوتے ہیں یعنی ان میں حیوانیت زندہ ہوتی ہے اور انسانیت مردہ ہوتی ہے۔ اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے جسم تو خاکی ہو جاتے ہیں لیکن وہ دوسرے عالم میں زندہ ہوتے ہیں۔

زندگی اور موت پییچدہ ترین چیز ہے کہ جس کے اسرار سے اللہ تعالیٰ واقف ہے اور محمؐد و آل محؐمد واقف ہیں ۔ ہم اگر واقف ہیں تو فقط انہیں کی تعلیمات کی بدولت کچھ جانتے ہیں۔
زندگی کی کئی اقسام ہیں
حیواناتی زندگی
نباتاتی زندگی
انسانی زندگی
مادی زندگی
معنوی زندگی
روحانی زندگی
برزخی زندگی
بہشتی زندگی
اسی طرح موت کی اقسام ہے۔
جسم زندہ اور روح مردہ
بعض افراد نباتاتی یا حیوانی زندگی رکھتے ہیں لیکن انسانی طور پر مر چکے ہوتے ہیں۔
موت کے بعد کی زندگی دینا نہایت عجیب اور پراسرار ہے
اور وہ خدا ہے جو ہر شئی پر قادر ہے اور زندگی اور موت اس کی قدرت کا اعلیٰ ترین شاہکار ہے۔

آیت نمبر 3:
هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِـيْمٌ
_وہی سب سے پہلا اور سب سے پچھلا اور ظاہر اور پوشیدہ ہے اور وہی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔_

ہر چیز اس پروردگار عالم کے سامنے ہے ۔ اللہ تعالیٰ زمانے کی قید میں نہیں بلکہ ہم زمانے کی قید میں ہیں۔

ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جنت میں جائیں گے یا پھر جہنم میں اور جنت میں ہمارا کیا مقام ہے لیکن پروردگار عالم جانتا ہے۔ کیونکہ وہ زمانے کی قید سے باہر ہے زمانہ پروردگار کو قید نہیں کر سکتا۔ وہ زمانے کا بھی خالق ہے ۔ وہ جس نے ہمارا آغاز کیا اور وہی ہے جو ہمارا انجام کرے گا۔

خالق اکبر انبیاؑ اور آئمہؑ کا انتخاب بھی اسی بنیاد پر کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کون ہیں جنہوں نے اللہ کی فرمانبرداری آخر تک کرنی ہے۔ اور معرفت کے اعلیٰ ترین درجات کو پاناہے۔ اسلئے اللہ تعالیٰ ان ہستیوں کا اعلان پہلے سے فرما دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں وہ ہر شئی سے آگاہ ہے۔
اہلسنت کی تفاسیر میں آیا ہے کہ یہی آیت جس میں اللہ کے نام ہیں اور سورہ حدید کی چند دیگر آیات کہ جن میں صفات پروردگار عالم بیان ہوئیں ان کے حوالے سے رسولؐ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہراؑ کو ایک دعا پڑھنے کی تاکید فرمائی ۔
روایت ہے کہ جو لوگ قرض اور مالی تنگیوں کا شکار ہیں ان کے لیے یہ دعا بہت مفید ہے اور اس دعا کے آثار ہیں کہ انسان مالی طور پر خوشحال ہو جاتا ہے ۔ اور جو اوصاف سورہ حدید میں بیان ہوئے وہ اس دعا میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ بیان ہوئے ہیں ۔

یہ دعا (صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء باب ما يقول عند النوم وأخذ المضجع) میں بیان ہوئی ہے اور اہل تشیع میں بھی اس کا مختصر ذکر ہے۔

اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِه، اللَّهُمَّ أَنْتَ الأوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ البَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ»
_ترجمہ: اے پروردگار جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور عرش عظیم کا پروردگار ہے۔ جو ہمارا پروردگار ہے اور ہر چیز کا پروردگار ہے۔ (یہاں اللہ کی قدرت کی طرف اشارہ ہے) جو دانے کو اور دانے کے اندر مغز کو کھولنے والا ہے۔ جس نے تورات و انجیل کو نازل کیا اور اسی نے قرآن کریم کو نازل کیا۔ میں ہر اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کی لگام تیرے ہاتھ میں ہے۔_
_اے پروردگار تو وہ پہلا ہےجس سے پہلے کوئی شئی نہیں اور تو وہ آخر ہے جس کے بعد کوئی نہیں۔ اور تو وہ ظاہر ہے کہ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں (ظاہر سے مراد پروردگار عالم کی طاقت اور غلبہ ہے )۔ اور تو وہ باطن ہے کہ تجھ سے کوئی چیز پنہاں نہیں۔_
_پروردگارا تو ہمارے قرضے کو ادا کر اور ہم سے یہ غربت اور فقر کو دور فرما۔_

مہدوی پیغامات:
1:ہم پروردگار عالم کے مالک حقیقی ہونے پر اعتقاد رکھیں
دنیا عارضی ہے اس سے دلبستہ نہ ہوں ان سب چیزوں کا حقیقی خالق اللہ ہے۔
2:اللہ سے حقیقی زندگی طلب کریں
3:اور موت بھی وہ مانگیں کہ جس کے اندر زندگی ہو
4:پروردگار عالم کی قدرت کا واسطہ دے کر برائیوں اور شر کے مقابلے میں اس سے طاقت طلب کریں۔
5:ہم اپنی بھی اصلاح کریں اور لوگوں کی بھی اصلاح کریں اور اپنے مولاؑ کے ظہور کے لیے راہ ہموار کریں۔

والسلام۔
تحریر و پیشکش:
سعدیہ شہباز

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید