تازہ ترین پوسٹس

درس لقاء اللہ: 22۔ موضوع: گناہ گار کی تین حالتیں اور رحمت الہی

درس لقاء اللہ: 22
کتاب شریف: لقاء اللہ
آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزیؒ

موضوع: گناہ گار کی تین حالتیں اور رحمت الہی

ہماری گفتگو کا سلسلہ درسِ عرفان درسِ لقاءاللہ میں یہاں پہنچا ہے کہ مولف میرزا جواد ملکی تبریزیؒ کے ایک ہم کلاس عارفِ کامل محمد بہاری ہمدانیؒ نے توبہ کے حوالے سےفرمایا کہ توبہ کس طرح کرنی چاہیے۔

فرماتے ہیں کہ :
جب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کریں تو خدا کو اس کے مقربین کا واسطہ دیں۔ وہ ہستیاں کہ جن کا اللہ کی بارگاہ میں بہت بڑا مقام ہے جن میں انبیاءؑ، آئمہؑ ، معصومینؑ اور ملائکہ مقربین بھی ہیں۔ بلخصوص چار مقرب ملائکہ کہ جن میں جبرائیلؑ امین بھی ہیں اور انبیاءؑ میں اولُوالْعزم انبیاءؑ کرام اور بلخصوص ختمی مرتبت حضرت محمد اور تمام آئمہ معصومینؑ ان کی قسم دے کر اپنی توبہ بارگاہ خداوندی میں پیش کریں تاکہ خدا ان کے صدقے میں ہماری توبہ قبول فرمائے۔

بالآخر پروردگار اپنے گنہگار بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جس طرح رب العزت فرماتا ہے کہ خدا اپنے بندے سے اسی طرح معاملہ کرتا ہے جس طرح اس کا بندہ اپنے رب کے بارے میں حٗسن ظن رکھتا ہے کیونکہ انسان گناہ کے بعد یہ حٗسن ظن رکھتا ہے کہ یقیناً خدا اسے معاف کر دے گا۔ یعنی امید رکھتا ہے کہ گناہوں کے بعد اس کا پروردگار اسے معاف کر دے گا۔ وہ بارگاہ خداوندی میں حسن ظن اور امید رکھتا ہے کہ اللہ اسے مایوس نہیں کرے گا۔ جتنے ہمارے اچھے گمان پروردگار کے بارے میں بڑھیں گے اس سے بڑھ کر اللہ ہم پر کرم اور مہربانی فرمائے گا۔

اسی لیے جناب ہمدانیؒ فرماتے ہیں کہ:
اگر اللہ نہ کرے کہ آپ توبہ کرنے کے بعد پھر توبہ کو توڑ دیں اور گناہ کریں تو اس مسئلے میں مایوس نہ ہوں اور تھکیں نہیں ۔ بلکہ آپ کی امید اور حُسن ظن یہ ہونا چاہیے کہ
فانہ ارحم الراحمین

پروردگار تمام رحم کرنے والوں میں بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ خدا بالآخر اسے معاف کردے گا اور اپنی رحمت جاودانی سے اسے بہشت کی جانب لے جائے گا۔

اس کے بعد جناب ہمدانیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کی تین حالتیں ہیں جب وہ گناہ کرتا ہے۔

♦️گناہ سے پہلے کی حالت
♦️ گناہ کے دوران حالت
♦️گناہ کے بعد حالت

گناہ سے پہلے کی حالت:
انسان کو چاہیے کہ ان تین حالتوں میں اپنے اوپر توجہ رکھے۔ مثلاً گناہ کا غلط عمل کرنے سے قبل وہ آیات و احادیث اور روایات کہ جنہوں نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہے مثلاً ایسی احادیث و روایات کو پڑھے کہ جن میں اللہ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ بعض ایسے گناہ ہیں کہ میں تجھے کبھی بھی نہ بخشوں گا۔ مثلاً وہ شخص جو بار بار گناہ کرتا ہے تو اس کا پروردگار اسے کبھی بھی نہ بخشے۔ کیونکہ عبد اور اس کے پروردگار کے درمیان سرکشی اور مخالفت کی بھی ایک حد ہے اور اگر نعوذ باللہ کوئی شخص اس حالت سے پار ہوجائے تو ہو سکتا ہے کہ خدا اسے اپنی رحمت سے عاق کردے۔

جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور اپنا پیسہ وقت اور جوانی تک اپنے بچوں پر فدا کر دیتے ہیں لیکن جب بچے سرکشی، نافرمانی اور ماں باپ کو اذیت دینا شروع کرتے ہیں تو ماں باپ کی بخشش اور محبت کی بھی ایک حد ہوتی ہے تو والدین ان کو عاق کر دیتے ہیں۔

بالآخر وہ پروردگار ہے اور جب ہم پروردگار کے سامنے نافرمانی اور اتنی کثرت سے گناہ کرتے ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ خدا ہمارے اس فعل پر کہ جو ہم کثرت سے کر رہے ہیں خدا کے غضبناک ہونے کا باعث ہو۔

گناہ کے دوران حالت:
اگر انسان یہ سوچ لے کہ اس وقت مالک الملوک ، بادشاہوں کا بادشاہ، مالک کائنات، جَلَّ جَلالُہ وَ جَلَّ شانُہ العظیم تیرے سامنے حاضر و ناظر موجود ہے اور تو اس کی مقدس بارگاہ میں اس کی حدود کی بے حرمتی کر رہا ہے اور اس کے ادب اور احترام کو پامال کر رہا ہے حالانکہ تیرے چاروں طرف اس کی فوج کھڑی ہے۔ ملائکہ اور ان کے لشکر موجود ہیں اور اس کائنات میں تمام نباتات، حیوانات جمادات سبھی اس کے ایک اشارے کے منتظر ہیں حتی کہ تیرا اپنا جسم اور اس کا ایک ایک جزء خدا کا لشکر ہے حتی کہ اگر خدا ارادہ کرے تو اس انسان کا اپنا جسم ہی حکم خدا سے اس کو فنا کردے۔ اور اس حالت میں تو گناہ کر رہا ہے۔ جبکہ تجھ پر لرزہ ہونا چاہیے۔

اَللّٰھُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُکَ وَعَلاَ مَکَانُکَ وَخَفِیَ مَکْرُکَ، وَظَھَرَ أَمْرُکَ وَغَلَبَ قَھْرُکَ وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ وَلاَ یُمْکِنُ الْفِرارُ مِنْ حُکُومَتِکَ
اے اللہ تیری عظیم سلطلنت اور تیرا مقام بلند ہے تیری تدبیر پوشیدہ اور تیرا امر ظاہر ہے تیرا قہر غالب تیری قدرت کارگر ہے اور تیری حکومت سے فرار ممکن نہیں۔
(دعائے کمیل)
وَکُلَّ سَیِّئَةٍ أَمَرْتَ بِإثْباتِھَا الْکِرامَ الْکاتِبِینَ الَّذِینَ وَکَّلْتَھُمْ بِحِفْظِ مَا یَکُونُ مِنِّی
اور میری بدیاں جن کے لکھنے کا تو نے معزز کاتبین کو حکم دیا ہے جنہیں تو نے مقرر کیا ہے کہ جو کچھ میں کروں اسے محفوظ کریں
وَجَعَلْتَھُمْ شُھُوداً عَلَیَّ مَعَ جَوارِحِی وَ کُنْتَ أَنْتَ الرَّقِیبَ عَلَیَّ مِنْ وَرائِھِمْ وَالشَّاھِدَ لِما خَفِیَ عَنْھُمْ وَبِرَحْمَتِکَ أَخْفَیْتَہُ وَبِفَضْلِکَ سَتَرْتَہُ
اور ان کو میرے اعضاء کے ساتھ مجھ پر گواہ بنایا اور انکے علاوہ خود تو بھی مجھ پر ناظر اور اس بات کا گواہ ہے جو ان سے پوشیدہ ہے حالانکہ تو نے اپنی رحمت سے اسے چھپایا اور اپنے فضل سے اس پر پردہ ڈالاوہ معاف فرما
دعائے کمیل

گناہ کے بعد کی حالت:
اگر گناہ کرنے کے بعد اس پر پشیمانی آگئی تو پھر خدا کی رحمت کی امید کی آیات و احادیث پڑھے تاکہ یہ معلون شیطان اسے مایوس نہ کرے اور اس کے دل میں یہ وسوسہ نہ لائے کہ اب کوئی فائدہ نہیں تو نے تو نے پہلے بھی توبہ کی تھی۔ تو اب ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ اور تو قابل اصلاح نہیں لہذا اب توبہ کرنے کا فائدہ نہیں تو اب تو ایسے ہی گنہگار زندگی بسر کر۔

اس وقت جب عموماً شیطان معلون کان میں یہ کہتا ہے تو اس کے جواب میں کہنا چاہیے کہ میرا رب بڑا کریم ہے۔ وہ اَرْحَمُ الرّاحِمِیْن ہے۔ اور خود رب نے بھی یہی کہا کہ میری رحمت سے مایوسی گناہ کبیرہ ہے۔ تو میں کیون نا اپنے رب کی بارگاہ میں رحمت کی امید نہ کروں۔ وہ شخص کہ جس پر کوئی رحم نہیں کرتا اس پر رب رحم کرتا ہے۔ کہ وہ ہستی ہے پروردگار کہ جس نے اپنا اسم مبارک وھاب رکھا ہے۔ یعنی بے پناہ بخشنے والا۔ اور جس نے کہا ہے کہ میرے بارے حسن ظن رکھو۔

روایت:
روز قیامت جب ایک شخص کو اس کے اعمال کی بنا پر پرکھا جائے گا اور اس کے گناہوں کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوجائے گا اور جب جہنم کے فرشتے اس کو کھینچ کر لے جارہے ہونگے تو وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھے گا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہونگے پھر خدا کی ندا آئے گی کہ:

اے میرے بندے تو کیا دیکھ رہا ہے تیرا تو حساب ہوگیا۔ تو وہ کہے گا کہ مجھے پتہ تھا کہ میرے اعمال برے ہیں اور اگر تیری رحمت میرے شامل حال نہ ہو تو میں جہنم میں جاؤں گا لیکن میں تو تیری رحمت کی امید رکھتا تھا ۔ میرا حٗسن ظن تھا کہ تو بالآخر مجھے بخش دے گا کیونکہ میرا تیرے سوا کوئی نہیں۔ اسوقت پروردگار جہنم کے ملائکہ کو حکم دے گا کہ اسے چھوڑ دو میں کیسے اس شخص کو جہنم کی آگ میں پھینکوں جو میرے بارے میں یہ حسن ظن رکھتا تھا اور میری رحمت کی امید لے کر آیا تھا میں کیسے اسے مایوس کروں۔

خدا اتنا بڑا کریم ہے۔ اس وقت جہنم کے فرشتے اسے چھوڑ دیں گے اور جنت کے فرشتے اسے جنت کی جانب لے کر جائیں گے۔

جناب محمد بہاری ہمدانیؒ فرماتے ہیں کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے قاتل حمزہؑ کو معاف کر دیا اور اس کی بھی توبہ قبول کر لی۔ پروردگار کی رحمتوں کی کوئی حد نہیں کبھی بھی رحمت الہیٰ سے مایوس نہیں ہونا۔

آیا یہ حدیث نہیں سنی کہ:
اگر کسی نے ستر پیغمبرؐ بھی قتل کئے ہوں اور دل و جان سے توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ تو ہرگز اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرنی چاہیے۔

اس کے بعد فارسی کا شعر کہتے ہیں:

باز آ باز آ ہر انچہ ہستی باز آ
پلٹ آ پلٹ آ ، جو کچھ بھی ہوا ہے پلٹ آ
گر کافر ہ گبر و بت پرسی باز آ
چاہے تو کافر تھا ، بت پرست تھا پلٹ آ
ایں درگہ ما در گہ نومیدی نیست
کیونکہ ہماری بارگاہ میں ناامیدی کی جگہ نہیں
صد بار اگر تو بہ شکستی باز آ
اگر سو بار بھی توبہ ٹوٹ گئی ہے تو بھی لوٹ آ کہ پروردگار کی رحمتیں تیرے استقبال میں ہیں۔

یَا سَرِیعَ الرِّضا، اغْفِرْ لِمَنْ لاَ یَمْلِکُ إلاَّ الدُّعاءَ
اے جلد را ضی ہونے والے مجھے بخش دے جو دعا کے سوا کچھ نہیں ر کھتا

دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو حقیقی معنوں میں توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
الہیٰ آمین۔

والسلام،
عالمی مرکز مہدویت قم ایران

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *