۱۷ ربیع الاول، میلادِ نور و علم
رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سیدنا ونبینا محمد وآلہ الطیبین الطاہرین، واللعنۃ الدائمۃ علیٰ أعدائهم أجمعین۔
۱۷ ربیع الاول اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور بابرکت دن ہے جسے مکتبِ اہل بیتؑ میں دو عظیم ولادتوں کی نسبت سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ایک طرف اسی دن عالمِ ہستی میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے، اور دوسری طرف آپؐ کی پاک نسل میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت ہوئی گویا یہ دن نبوت کے طلوع اور امامت کے تسلسل کا دن ہے۔
وحی کے آغاز کی یاد اور علومِ محمدیؐ کے احیاء کا دن ہے۔
شیعہ مصادر میں مشہور قول کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی ولادت ۱۷ ربیع الاول، عام الفیل، بروز جمعہ ہوئی، جبکہ امام جعفر صادقؑ کی ولادت ۱۷ ربیع الاول ۸۳ ہجری، مدینہ منورہ میں ہوئی۔ علامہ مجلسی نے بھی ۱۷ ربیع الاول کو دونوں ولادتوں کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ: رحمتِ الٰہی کا عظیم ترین مظہر
قرآن مجید نے رسول اکرم ﷺ کی بعثت کو پوری انسانیت کے لیے رحمت قرار دیا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔”(سورۃ الأنبیاء، 21:107)
رسول اللہ ﷺ صرف ایک قوم یا خطے کے نبی نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے رحمت ہیں۔ آپؐ نے انسان کو اس کے حقیقی مقام سے آشنا کیا، توحید کو زندہ کیا، ظلم و جاہلیت کے نظام کو چیلنج کیا اور اخلاق، عدالت، علم اور بندگی کی بنیاد پر ایک الٰہی معاشرہ قائم کیا۔
قرآن آپؐ کے اخلاق کی عظمت کو یوں بیان کرتا ہے:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
“اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے مرتبے پر فائز ہیں۔”(سورۃ القلم، 68:4)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ رسولِ خدا ﷺ کی عظمت صرف معجزات یا ظاہری اقتدار میں نہیں، بلکہ عظیم اخلاق میں بھی ہے۔
رسولؐ کی سیرت: قرآن کی عملی تفسیر
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَدَّبَنِي رَبِّي فَأَحْسَنَ تَأْدِيبِي
“میرے پروردگار نے میری تربیت فرمائی اور بہترین تربیت فرمائی۔”
یہ جملہ رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کا بنیادی راز بیان کرتا ہے: آپؐ کی پوری زندگی اللہ کی تربیت کا عملی نمونہ تھی۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی پیروی صرف محبت کا نام نہیں بلکہ قرآن کے مطابق کامیابی کا راستہ ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
“یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ موجود ہے”۔(سورۃ الأحزاب، 33:21)
لہٰذا میلادِ رسول ﷺ کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ ہم صرف جشن نہ منائیں بلکہ محمدی اخلاق کو اپنی زندگی میں پیدا کریں۔
رسولؐ اور اہل بیتؑ: دو جدا نہیں، ایک الٰہی سلسلہ
مکتبِ اہل بیتؑ کی نظر میں رسول اللہ ﷺ کے بعد ہدایت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ امامت کے ذریعے جاری رہا۔
قرآن فرماتا ہے:
قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ
“کہہ دیجیے: میں تم سے اپنی رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اپنے قرابت داروں کی محبت کے۔”(سورۃ الشوریٰ، 42:23)
اور حدیثِ ثقلین میں رسول اللہ ﷺ نے قرآن اور اہل بیتؑ کو امت کی ہدایت کے لیے ساتھ ساتھ پیش فرمایا۔ شیعہ حدیثی ذخیرے میں اس مضمون کی متعدد روایات موجود ہیں۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ۱۷ ربیع الاول کی دونوں ولادتوں میں ایک گہرا معنوی ربط ہے: محمد مصطفیٰ ﷺ نے دین کو پیش فرمایا اور جعفر صادقؑ نے اسی محمدی دین کے علم و معارف کو پوری قوت سے دنیا تک پہنچایا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام: مدرسۂ محمدؐ کے عظیم معلم
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے فرزند اور امام علیؑ، حضرت فاطمہ زہراؑ اور رسول اللہ ﷺ کی پاک نسل سے ہیں۔ آپؑ کی ولادت ۱۷ ربیع الاول ۸۳ھ میں ہوئی۔ آپؑ کا مشہور لقب “الصادق” ہے۔
آپؑ کا زمانہ سیاسی اعتبار سے انتہائی حساس تھا۔ اموی حکومت کے زوال اور عباسی اقتدار کے آغاز کے دوران پیدا ہونے والے نسبتاً محدود علمی مواقع سے امام صادقؑ نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اسلامِ محمدیؐ کے اصیل معارف کو منظم انداز میں بیان کیا۔
امام صادقؑ کی سب سے بڑی خدمت: علم کی حفاظت اور نشر
امام جعفر صادق علیہ السلام کی سب سے نمایاں خدمت علومِ اہل بیتؑ کی تدوین، تعلیم اور نشر و اشاعت ہے۔
آپؑ کے علمی حلقے میں بڑی تعداد میں شاگردوں نے تربیت پائی۔ شیعہ تاریخی مصادر میں آپؑ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں تک بیان ہوئی ہے، اور اس دور میں کوفہ اور مدینہ کے علمی حلقوں میں آپؑ کی علمی مرجعیت نمایاں تھی۔
آپؑ نے: قرآن کی تفسیر بیان کی فقہِ اہل بیتؑ کی بنیادوں کو واضح کیا۔ علمِ حدیث کو منظم کیا۔ عقائدِ توحید، نبوت اور امامت کی تشریح فرمائی۔ اخلاق و تربیت کی تعلیم دی۔مختلف فکری و اعتقادی شبہات کا جواب دیا شاگردوں کی ایسی نسل تیار کی جس نے علومِ اہل بیتؑ کو بعد کی نسلوں تک منتقل کیا، اسی علمی ورثے کی وجہ سے آج فقہِ جعفری کے نام سے اہل بیتؑ کی فقہی تعلیمات دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہیں۔
امام صادقؑ: علم کے ساتھ اخلاق
امام صادقؑ کی تعلیم صرف کتابی علم تک محدود نہیں تھی۔
آپؑ نے اپنے پیروکاروں کو تقویٰ، صلۂ رحم، بیماروں کی عیادت، غریبوں کی مدد اور اجتماعی اخوت کی تاکید فرمائی۔
آپؑ نے اپنے ایک صحابی کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:
أَبْلِغْ مَوَالِيَنَا السَّلَامَ، وَأَوْصِهِمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ…
“ہمارے موالیوں کو سلام پہنچاؤ اور انہیں تقوائے الٰہی اور عملِ صالح کی وصیت کرو…”
پھر آپؑ نے مؤمنین کے باہمی تعلق، بیمار کی عیادت، فقیر کی مدد اور دینی علم کی گفتگو کو امرِ اہل بیتؑ کی حیات قرار دیا۔ یہاں ایک بہت اہم نکتہ سامنے آتا ہے: جعفری ہونا صرف ایک فقہی شناخت نہیں؛ بلکہ تقویٰ، علم، اخلاق، عبادت اور مؤمنین کے ساتھ خیر خواہی کا نام ہے۔
۱۷ ربیع الاول ہمیں کیا پیغام دیتا ہے؟
اگر ہم اس دن کو صرف محفل، چراغاں اور مبارک باد تک محدود کر دیں تو ہم اس دن کی حقیقی روح کو نہیں پا سکتے۔ ۱۷ ربیع الاول ہم سے کم از کم پانچ عہد چاہتا ہے:
۱۔ محمدی اخلاق اپنائیں۔ زبان سے جھوٹ، غیبت، تہمت اور بدکلامی کو ختم کریں۔
۲۔ قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔ جس نبی ﷺ کی بعثت قرآن کے ساتھ ہوئی، اس نبیؐ کی امت قرآن سے دور نہیں رہ سکتی۔
۳۔ اہل بیتؑ کی معرفت حاصل کریں۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت کو اہل بیتؑ کی محبت اور اتباع سے جدا نہ کریں۔
۴۔ علم حاصل کریں۔ امام صادقؑ کا مدرسہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مکتبِ اہل بیتؑ علم، دلیل اور بصیرت کا مکتب ہے۔
۵۔ اتحاد و اخوت کو فروغ دیں۔ میلادِ رسول ﷺ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بہترین موقع ہے۔
ہفتۂ وحدت اور ۱۷ ربیع الاول
مکتبِ اہل بیتؑ میں ۱۷ ربیع الاول کی خوشی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ امتِ محمدی کی وحدت کا ایک عظیم موقع بھی ہے۔ جب پوری امت کا مرکز محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں تو اختلافات کے باوجود ہمیں مشترکات کو مضبوط کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ایک امت بنایا۔ آج ضرورت ہے کہ ہم آپؐ کے نام پر ایک دوسرے کے قریب آئیں، نہ کہ ایک دوسرے سے دور ہوں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیمات بھی مؤمنین کے باہمی تعاون، خیر خواہی اور اخوت پر زور دیتی ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ مؤمنین کا ایک دوسرے کے گھروں میں ملنا اور دین کے بارے میں گفتگو کرنا امرِ اہل بیتؑ کی حیات کا سبب ہے۔
اختتامیہ
۱۷ ربیع الاول دراصل دو عظیم نوروں کی یاد کا دن ہے:
ایک نور وہ ہے جس نے جہالت کے اندھیروں میں توحید کا چراغ روشن کیا؛ اور دوسرا نور وہ ہے جس نے اسی محمدی نور کے علم کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔
محمد ﷺ نبوت کے آفتاب ہیں، اور جعفر صادقؑ اس آفتاب کے علوم کے عظیم ترجمان۔ لہٰذا آج اگر ہم واقعی رسول اللہ ﷺ کا میلاد منانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اخلاق کو محمدی بنانا ہوگا؛ اور اگر ہم امام صادقؑ کی ولادت منانا چاہتے ہیں تو ہمیں علم، تقویٰ، عبادت، صدق اور معرفتِ اہل بیتؑ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ آئیے اس ۱۷ ربیع الاول پر عہد کریں:
ہم محمدؐ کے اخلاق کو اپنائیں گے، قرآن سے وابستہ رہیں گے، اہل بیتؑ کی معرفت حاصل کریں گے، امام صادقؑ کے علمی و اخلاقی مکتب کو زندہ کریں گے اور امتِ محمدی میں محبت، اخوت اور وحدت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ۔
اہم مراجع
قرآن کریم: سورۃ الأنبیاء 21:107؛ القلم 68:4؛ الأحزاب 33:21؛ الشوریٰ 42:23۔
شیخ مفید، الإرشاد۔
شیخ کلینی، الکافی۔
شیخ صدوق، الأمالی۔
علامہ مجلسی، بحار الأنوار، خصوصاً جلد 15–16 اور امام صادقؑ کے احوال سے متعلق ابواب۔ ولادتِ رسول ﷺ کے ۱۷ ربیع الاول والے قول اور امام صادقؑ کی ولادت کے حوالے سے بحار میں مختلف اقوال بھی نقل ہوئے ہیں؛ اس لیے تاریخی تاریخ کے مسئلے میں “مشہور قول” کہنا زیادہ دقیق ہے۔