عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

گیارھواں کتابچہ ” عصر ظہور” – درس 18 – حجت خدا کی حکومت کی خصوصیات

کتابچه 11
مہدی مضامین و مقالات

گیارھواں کتابچہ ” عصر ظہور” – درس 18 – حجت خدا کی حکومت کی خصوصیات

گیارھواں کتابچہ ” عصر ظہور”
 درس 18
 حجت خدا کی حکومت کی خصوصیات
نکتہ: سیاست سے مراد اور اسلامی سیاست

استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب 

موضوع گفتگو عصر ظہور اور امام زماںؑ عج کی حکومت طیبہ ہے۔

ایک حجت خدا کی حکومت اور باقی دنیا کی حکومت میں فرق یہی ہے کہ حجت خدا کی حکومت میں سیاست اور اخلاق دونوں اکٹھے ہیں۔ بلکہ یہ دونوں ایسی چیزیں ہیں جو آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ اگر سیاست ہو اور اخلاق نہ ہو تو پھر یہ مفادات، پارٹی بازی ظلم اور فرعونیت اور لوگوں کے دینی و دنیاوی حقوق ضائع کرنے والی حکومت ہے۔ جو لوگوں کو ان کے دینی و دنیاوی اور آخرت کے حقوق سے محروم رکھتی ہے اور مفید ثابت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر اس حکومت کے اندر اخلاق الہیٰ شامل ہو جائیں تو پھر یہ حکومت انسان کو اس کے ہدف، اس کے کمال دنیوی اور کمال اخروی تک پہنچاتی ہے۔

حجت خدا کا دنیا میں آنے کا ہدف ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور صفات الہیہ کو مکمل کرے۔ اور لوگوں کو الہیٰ انسان بنائے۔ جیسے ہمارے پیغمبرؐ نے اپنے معبوث ہونے کا جو ہدف بیان کیا ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے پیغمبرؐ کی اخلاقی شخصیت اور ان کو خلق عظیم قرار دیا ہے۔

پیغمبرؐ نے فرمایا ہے کہ :
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاق
میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔

فرمایا:
میرا آپ لوگوں کے درمیان بعنوان نبیؐ معبوث ہونے کا ہدف یہی ہے کہ میں آپ لوگوں کے اندر جو اخلاقی صفات ہیں انہیں کامل کروں۔

انسان کے اندر کچھ نہ کچھ اخلاقی چیزیں ہوتی ہیں ایسا نہیں کہ انسان شروع سے اخلاق سے خالی ہوتا ہے۔ تو ان کو کمال تک پہنچانا ایک پیغمبرؐ ، نبیؐ اور امامؑ کا ہدف ہوتا ہے۔ کہ ان کو شگوفہ کریں ان میں نکھار آئے اور وہ گردوغبار جو ہماری خطائیں اور گناہ ہیں ان کو ہٹائیں تاکہ انسان کی اصلی الہیٰ شخصیت سامنے آئے۔

اب یہی حجت جب حاکم بنتے ہیں تو وہ اس اپنی قوت سے اس ہدف کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے اور اپنے سامنے جتنے بھی مانع ہیں یعنی گمراہ لوگ، منافق، ظالم سب کو ختم کرتی ہے اور دنیا کو حکمت اور علم الہیٰ سے بھر دیتے ہیں۔

سیاست سے مراد اور اسلامی سیاست 
اب ہمارے سامنے دنیا میں سیاست سے ایک بُرا معنی سامنے آرہا ہے۔ سیاست سے مراد پارٹیوں کے مفادات، حقوق کا ضائع ہونا ، خودغرضیاں اور دنیادار حاکم ہیں لیکن دراصل سیاست ایک مقدس لفظ ہے۔ یہ لفظ ہمارے انبیاءؑ اور آئمہؑ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔

سیاست کیا ہے؟
اسلامی نقطہ نگاہ سے سیاست یہ ہے کہ لوگوں کو کمال تک پہنچایا جائے اور لوگوں کی اخلاقی صفات کو کمال تک پہنچایا جائے کہ ایک معاشرہ جو ہے وہ ایک پُر آسائش معاشرہ ہو جس میں ایک دوسرے کے لیے ایثار ہے ایک دوسرے کی مدد ہے ، ہمدلی، ایمان ، خوف خدا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوں۔

رہبر کبیر امام خمینؒی فرماتے ہیں کہ: 

سیاست کا معنی یہ ہے کہ معاشرے ، ملت ، رعایا، ملت کو ایک حاکم ایسی راہ پر لے کر چلے اور ان کی ہدایت کرے کہ اس راہ کے اندر اُس قوم وملت کی مصلحت و فلاح ہو۔
(فردی اور مجموعی بھلائی ہو)

فرماتے ہیں کہ روایات میں ہمارے پیغمبرؐ کے لیے لفظ سیاست آیا ہے کہ پیغمبرؐ اس لیے مبعوث ہوئے ہیں تاکہ امت کی سیاست کواپنے ہاتھوں میں لیں اور لوگوں کی خیر و بھلائی ہو۔

آیت اللہ مکارم شیرازی فرماتے ہیں کہ:

سیاست یعنی ایک ایسی حکومت ایک ایسا حاکم جو لوگوں کے امور کو ایک ایسا نظم دیتا ہے کہ لوگوں کا ہدف الہیٰ قرب کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اور اس نظم کے اندر لوگوں کی تربیت ہوتی ہے۔

تو جب کسی ملت کے اندر پروردگار کے تقرب کی خواہش بڑھے اور ملت کی تربیت شروع ہو جائے تو یہاں یہ وہ مقام ہے کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلامی سیاست ہے۔

لہذا جب بھی کسی پیغمبرؐ یعنی چاہے حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ ہوں یا ہمارے پیغمبرؐ ہوں یا کوئی حجت خدا ہوں جیسے امیرالمومنینؑ تو ان کی حکومت جب بھی محقق ہوتی ہےسب سے پہلی چیز جو سامنے آتی ہے وہ عدالت الہیٰ ہے۔ یعنی ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنا۔ ہر انسان کو اس کے مکمل حقوق ملتے ہیں جو اس کی دنیا اور آخرت کو مکمل کرتے ہیں۔

تو بس امامت کی شکل میں اب جو حکومت سامنے آئے گی وہ ہماری صفات و اخلاق کی تکمیل کے لیے ہوگی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ سعادت مند ہونگے۔ کیونکہ جتنے بھی مسائل ہیں وہ ہمارے اندر ہیں ہمارا باہر صاف ہے۔ کچھ لوگوں کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے جب وہ حاکم بنتے ہیں تو پورا معاشرہ شکار ہوتا ہے۔

آج جو ملتیں ترقی کر رہی ہیں تو ان پر ایسے حاکم ہیں کہ جن کی کچھ نہ کچھ ترقی ہوئی ہوئی ہے۔ وہ لوگوں کو دنیاوی حقوق پورے دے رہے ہیں۔ اگر وہ باطنی طور پر بھی صالح ہو جائیں تو پھر ان کی حکومت حجت الہیٰ کی حکومت کی طرح ہو جائے گی کہ جس میں لوگوں کو دنیا حقوق بھی مل رہے ہیں اور ان کی باطنی تربیت بھی ہو رہی

ہے اور تقرب الہیٰ پر بھی کام ہو رہا ہے۔ اور ایسی حکومت کے لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ حکومت ایک معاشرے کو سعادت مند بنانے کے لیے قدم اٹھا رہی ہے۔

حکومت اسلامی کا بنیادی ہدف انسانی اخلاق کی تکمیل ہے ۔ اور یہ تب ہو گا جب نبیؐ یا امامؑ حاکم ہو اور عدالت کو بحال کرے اور جب عدالت بحال ہوگی تو رعیت اور ملت کے مسائل ایک ایک کر حل ہوتے جائیں گے اور ظالمین، گناہ گاروں اور فتنہ کرنے والوں سے جب ان کی جان چھوٹتی جائے گی اور ان کی تربیت کے لیے اقدامات ہونگے تو یہی لوگ ایک دوسرے کے حق میں اتنا بہترین پرمحبت پر ایثار رویہ دکھائیں گے اور ایک دوسرے کے حق میں سخاوت دکھائیں گے کہ نتیجتہً یہی دنیا ان کے لیے بہشت اور مدینہ فاضلہ بن جائے گی۔

چونکہ بلآخر خیر و شر کی لڑائی تو ہمارے اندر ہے ہی لیکن یہ حکومت خیر کو شر پر غلبہ دے گی۔ جب انسان کے باہر کے حالات (حکومت کے حالات) برے ہوں تو شر غالب آجاتا ہے لیکن جب انسان کے باہر کے حالات اچھے ہوں یعنی حجت خدا کی وجہ سے شر کمزور ہو جاتا ہے اور خیر کا غلبہ ہوتا ہے اور انسان فردی اعتبار سے بھی قوی اور مفید ہوجاتا ہے اور اجتماعی اعتبار سے بھی اور تب ملت مفید ہوتی ہے۔

امام زماںؑ عج کی حکومت اخلاق کی حکومت ہے جس کے اندر اخلاق پر کام ہوگا لوگوں کے فکر و روح پر کام ہوگا۔ جس میں حقیقی شکل میں شریعت پیغمبرؐ سامنے آئے گی جو ہر قسم کی تحریف اور فرقے سے پاک ہوگی۔ اور حقیقی اسلام سامنے آئے گا اور امام زماںؑ عج لوگوں کی روحی ، معنوی اور فکری حیثیت پر کام کریں گے۔

جب مولا کو حکومت ملے گی تب لوگوں کو امامت سمجھ آئے گی کیونکہ اس وقت امامت اپنی تمام تر حالت میں سامنے آئی گی۔ ابھی جو ہم امامت کے حوالے سے مطالعہ کرتے ہیں وہ اس حوالے سے ہے کہ آئمہؑ کو حق حکومت نہیں ملا۔ انہوں نے اپنی محدود حالت میں افعالیت کی ہے لیکن جب امامؑ عج کو امامت کے ساتھ حکومت مل جائے گی پھر امامت اپنے تمام تر اوصاف کے ساتھ سامنے آئے گی پھر لوگوں کو پتہ چلے گا کہ امام کیا ہوتا ہے اور امام کہاں کہاں تک ایک انسان کی مشکلات کو حل کرتا ہے اور اس کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

جیسے قرآن مجید میں سورہ حج کے اندر اللہ تعالیٰ صالحین کی حکومت کو اس طرح بیان فرما رہا ہے کہ:

اَلَّـذِيْنَ اِنْ مَّكَّنَّاهُـمْ فِى الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٰتَوُا الزَّكَاةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَـهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ۗ وَلِلّـٰهِ عَاقِـبَةُ الْاُمُوْرِ ( 41)
وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں، اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔

نماز سے مراد لوگوں کے دلوں میں خوف خدا اور توجہ خدا بڑھے گی۔ زکوۃٰ دیں گے یعنی لوگوں میں فقر ختم ہوگی۔

آج ہم نے زکوۃ نہ دے کر الزام گورنمنٹ پر لگا دیے ہیں۔ یہ درست ہے کہ حکومت بھی ٹھیک نہیں لیکن ہم نے بھی مالی حقوق ادا نہیں کئے جس کی وجہ سے امیر امیر ترین ہے اور غریب غریب تر ہے۔ جب ہم مالی حقوق ادا کریں گے جو اللہ نے ہم پر فرض کئے ہیں تو کتنی حد تک مالی مسائل حل ہونگے اور جب نیکی کی طرف ابھاریں گے اور برائی کی طرف روکیں گے تو پھر معاشرہ اخلاقی اور بافضیلت معاشرے میں تبدیل ہو جائے گا۔ اور امام زماںؑ عج اور ان کے انصار ایسے ہی ہیں۔

جیسا کہ خواجہ نصیر الدین طوسیؒ جو علامہ حلیؒ کے بھی استاد ہیں فرماتے تھے کہ :

امام ؑ وہ سیاست دان ہے کہ جو عدالت سے تمسک کرتے ہیں اور اپنی ملت کو صدیق لوگوں کی شکل میں تبدیل کرتے ہیں اور یہ مملکت کو خیر و بھلائی سے بھر دیتے ہیں اور اپنے خواہشات اور شہوات پر قابو رکھتے ہیں۔ یعنی امام زماںؑ عج کی حکومت ایسی ہوگی۔

پروردگارہم سب کو توفیق دے کہ ہم اس عظیم الہیٰ حکومت کا حصہ بنیں اور اس کی راہ ہموار کریں اور ہماری تیاری سے ہمارے مولاؑ عج کا انتظار ختم ہو۔

الہیٰ آمین۔
انشاءاللہ
والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید