عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

گیارھواں کتابچہ ” عصر ظہور” – درس 17 – امام کی سیرت کا تجزیہ

کتابچه 11
مہدی مضامین و مقالات

گیارھواں کتابچہ ” عصر ظہور” – درس 17 – امام کی سیرت کا تجزیہ

گیارھواں کتابچہ ” عصر ظہور”
درس 17
 امام کی سیرت کا تجزیہ
نکتہ:ایک رات میں سارے امور کا صحیح ہونے سے مراد،کون لوگ بغاوت کریں گے ، حکومت مہدی عج کا ھدف

استاد مہدویت علامہ علی اصغر سیفی صاحب

ہماری گفتگو عصر ظہور میں امام زماںؑ عج کی بعنوان حاکم سیرت مبارکہ ہے۔ جیسا کہ بیان کیا تھا کہ امام ؑ عج کی سیرت پیغمبرؐ کی سیرہ مبارکہ ہے۔ اس حوالے سے آج مذید نکات بیان ہوں گے۔

نکتہ :
جب امام زماںؑ ظہور فرمائیں گے توایک رات میں سارے امور کا صحیح ہونے سے مراد،

روایت ہے کہ جب امام زماں عج ظہور فرمائیں گے تو اللہ ایک رات میں ہی تمام امور دنیا کو صحیح فرما دے گا اور امام پوری دنیا پر قبضہ کر لیں گے۔

تو اس روایت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ یہ تاثر لیتے ہیں اور ذہن میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ بس مولاؑ عج کو ہماری نصرت کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ ایک رات میں ہی امامؑ کے تمام امور دنیا کو درست فرما دے گا تو پس یہ کہنا کہ امام ؑ عج کے ظہور کی تیاری کریں اور اپنے اندر مہدوی صفات کو پیدا کریں تو اس کا کیا فلسفہ ہے حالانکہ اللہ نے تو تمام امور کو ایک رات میں صحیح کر دینا ہے فرشتوں کی جماعت نازل ہو گی جنگ ہوگی اور ایک ہی رات میں سب دنیا ٹھیک ہو جائے گی اور مولا ؑ پوری دنیا پر قابض ہو جائیں گے؟

ایک طرف تو ہم بہت ساری روایات کی رو سے یہ کہتے ہیں کہ مولاؑ عج کے ظہور کی تیاری کریں مولاعج کو 313 ناصرین کی ضرورت ہے مولاؑ عج کے 313 کمانڈر ہیں اور اس کے علاوہ ہزاروں لاکھوں ناصروں کی ضرورت ہے۔

عرض خدمت یہ ہے کہ جب اتنی ساری روایات ہیں کہ جو ہمیں مولاؑ عج کے ظہور اور ان کی نصرت کے لیے تیاری کا حکم دے رہی ہیں اور فلسفہء انتظار بیان کر رہی ہیں تو ان تمام روایات کو دیکھتے ہوئے ہمیں واضح طور پر درج بالا روایت کا موضوع بھی واضح سمجھ آرہا ہے۔

روایت کہہ رہی ہے کہ مولاؑ عج کے امور جلد سمٹ جائیں گے اور مولا عج ایک رات میں دنیا پر قابض ہو جائیں گے۔ یہاں ایک رات ضرب المثل کے طور پر ہے جیسے ایک انسان کسی کو کہتا ہے کہ تم یہ کام شروع کرو بس چٹکیوں میں یہ کام ہوجائے گا جبکہ وہ کام چند دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔

تو اب پوری دنیا پر جو قبضہ ہے یہ دنیا کے حاکموں سے ممکن نہیں خود سکندر اعظم کی تمام عمر صرف ہو گئی لیکن پوری دنیا پر قبضہ نہ کر سکا۔ اور اس وقت بھی دنیا کے اندر امریکہ جو خود کو سپر پاور کہتا ہے وہ ویتنام، افغانستان ، عراق جیسے ممالک پر بھی قبضہ نہ کر سکا۔ تو کجا دنیا کے طاقتور ترین چین اور روس جیسے ممالک۔

اگر دنیا کا طاقتور ترین حاکم بھی ہو تو اس کو ایک تو طول عمر اور سینکڑوں سال اس کام کو انجام دینے کے لیے درکار ہیں۔ لیکن امام زماں عج نے صرف سات یا آٹھ مہینوں میں پوری دنیا پہ قابض ہونا ہے تو یہ ایک رات ہی تو ہے ۔ کہ جس کام کو کرنے کے لیے سینکڑوں سال درکار ہیں۔ پروردگار عالم امام زماں عج اور ان کے سپاہیوں کو اتنا طاقتور بنا دے گا کہ سینکڑوں سال کا کام سات یا آٹھ مہینوں میں ہو جائے گا۔

اس قسم کی روایات خدائی امداد ہے جیسے امامؑ عج اور ان کے سپاہیوں کا دشمنوں کے دلوں میں رعب طاری ہونا ، فرشتوں کی نصرت ، الہی تائید ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے جو سال سو سالوں میں مکمل ہونا تھا امام اسے چند مہینوں میں مکمل کر لیں گے۔

روایت :

کمال الدین اور دیگر کتابو میں یہ فرمان موجود ہے
رسولؐ خدا کا فرمان ہے۔
مہدیؑ عج ہم اہلبیتؑ میں سے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے امور کی اصلاح ایک ہی رات میں کر دے گا۔
یعنی امامؑ عج کا خروج اور تسلط دنیا پر ایک ہی رات میں ہو جائے گا۔

اسی طرح امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں۔
امام زماں ؑ عج کے اندرجو حضرت یوسفؑ کے ساتھ ہے وہ یہ ہے کہ اللہ ان کے امور کو ایک رات کے اندر صحیح کرے گا۔

حضرت یوسفؑ کو سال ھا لگے کہ بلآخر ان کا مصر پر تسلط ہوا اسی طرح امامؑ عج چند مہینوں میں پوری دنیا پر تسلط قائم کریں گے۔

اب یہ ممکن ہے کہ وہ متبرک لحظے اس رات سے مشابہت رکھتے ہوں کہ جس میں وہ آخری کام ہونا ہو جیسے حضرت یوسفؑ کے لیے وہ ایک رات تھی کہ جب بادشاہ مصر کو ایک خواب آیا اور وہ اس خواب کی تعبیر کے لیے مجبور ہوا جناب یوسف کو رہائی ملی اور بادشاہ نے انہیں ترقی دیتے ہوئے عزیز مصر قرار دیا۔

تو اب اس ایک رات سے مراد وہ مبارک رات ہوگی کہ جس میں اللہ انہیں اذن فرمائے گا اور امام زماں عج ظہور اور خروج فرمائیں گے اور پوری دنیا پر ان کا تسلط قائم ہوجائے گا۔

امام کو اللہ کی جانب سے حکم ہو گا کہ وہ اعلان کریں اور اپنے انصار کی نصرت کے ساتھ اس مبارک امر کا آغاز کریں ۔ نہ کہ اس سے مراد ایک رات میں مولاؑ کا پوری دنیا پر تسلط ہے۔ کیونکہ اس کے مدمقابل بہت سی روایات ہیں جو یہ بیان کر رہی ہیں کہ امام کی کئی مہینوں کی جنگوں کو بیان کر رہی ہیں اور پھر امام کا تسلط ہے۔

کون لوگ بغاوت کریں گے :
ایک اسی سے ملتا جلتا موضوع یہ ہے کہ جب مولاؑ عج پوری دنیا پر تسلط قائم کریں گے تو بہت ساری جگہوں پر مولاؑ عج کے مدمقابل بغاوتیں ہوں گی۔ ان بہت سارے گروہوں اور ملتوں کی جانب سے کہ جن کو ہوائے نفس اور سرکشیِ پروردگار کی عادت ہوگی اور ظالمین اور شیطان کے پیروکار اور خوارج جو دشمن اہلبیتؑ جو بار بار بغاوت کریں گے کیونکہ یہ سرکش چین سے نہیں بیٹھیں گے اور مسلسل کوشش کریں گے کہ امام کے خلاف بغاوت کریں۔
مولاؑ عج اور ان کے ناصرین بار بار ان کی بغاوت کو دبائیں گے اور ان کی سرکشی کو ختم کریں گے انہیں سزائیں دیں گے۔ بلآخر یہ فتنے ختم ہونگے۔

امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ:
تیرہ شہر اور قبائل ہیں جو حضرت عج کے ساتھ جنگ کریں گے اور امام زماں عج ان کو اس جنگ میں شکست دیں گے۔ انشاءاللہ

ان شہروں میں جو لوگ شامل ہونگے جن میں مکہ ، مدینہ، شام ، بصرہ اور دنستیان شامل ہیں۔ اور قبائل میں کرد، بنی ذبح، غنی، باہلہ وغیرہ ہیں۔

روایت میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ مکہ پر تسلط قائم کریں گے اور وہاں اپنا ایک گورنر بنائیں گے اور جب آپ مدینہ کی جانب بڑھیں گے تو مکہ کے لوگ آپ کے گورنر کو شہید کر دیں گے اور آپ ؑعج واپس پلٹیں گے پھر ایک شخص کو گورنر بنائیں گے پھرآگے بڑھیں گے تو مکہ کے لوگ اسے بھی شہید کر دیں گے۔ آخر میں حضرت عج واپس پلٹیں گے اور مکہ کے ظالمین اور خوارج سے سخت انتقام لیں گے۔

اسی طرح مدینہ میں بھی ایک یا دو مرتبہ بغاوت کا ذکر ہے۔ اور بعض دیگر اسلامی ممالک کے اندر بغاوت ہوگی جو فرزند رسولؐ کی حکومت کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے کہ جن کو ناصبیت، منافقت، دشمنی اہلبیتؑ، شیطانی عزائم اور بلخصوص شیطانی عزائم کی عادت پڑی ہو۔

اور ایسی بیشتر بغاوتیں عالم اسلام کے اندر موجود ہیں کہ جن سے حضرت بار بار نبٹیں گے۔

اسی طرح کی ایک بغاوت کے بارے میں امام محمد باقرؑ کا فرمان ہے کہ فلاں بغاوت آخری بغاوت ہوگی جسے امام قائم ختم کریں گے۔

بلآخر سات آٹھ ماہ کا جو قیام ہے جس کے بعد پوری دنیا پر مکمل قبضہ ہو جائے گا اور کوئی ایسی شیطانی طاقت باقی نہیں رہے گی کہ جس سے حضرت جنگ کریں گے۔ اس کے نتیجے میں حضرت اپنی فوجی وسائل کو ان وسائل میں تبدیل کریں گے کہ جو لوگوں کی فلاح کے لیے ہوں۔ امام فوج کو ختم کریں گے کیونکہ فوج کی ضرورت تب ہوتی ہے جب کوئی دشمن موجود ہو تو جب دنیا میں کوئی دشمن ہی نہیں رہے گا اور صرف لوگوں کو منظم رکھنے کے لیے پولیس کی حد تک ایک نظامی قوت ہوگی۔ باقاعدہ فوج اور فوجی ساز و سامان کی ضرورت نہیں ہوگی۔

امیرالمومنینؑ کا فرمان ہے کہ امام قائمؑ عج کے آنے کے بعد دنیا سے جنگیں ختم ہو جائیں گی۔
اہلسنت کے ایک عالم کہتے ہیں کہ پھر تلوار سے اور استفادے ہوں گےاس سے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اوزار بنیں گے۔

حکومت مہدی عج کا ھدف:
درست ہے امام مہدیؑ پوری دنیا پر قبضہ کریں گے اس کا صرف ایک ہدف ہے حق کو قائم کرنا اور باطل کو ختم کرنا۔ سیرہ پیغمبرؐ ، سیرہ امام حسینؑ اور امام مہدیؑ یعنی چہادہ معصومینؑ کی سیرت ایک ہے۔

جب امیرالمومنینؑ کو پوری دنیا پر حکومت ملی تو امامؑ نے اپنی پھٹی ہوئی جوتی کو لوگوں کے آگے پیش کر کے فرمایا کہ یہ پھٹی ہوئی جوتی تمھاری اس دنیا کی حکومت سے بہتر ہے۔ مگر یہ کہ میں حق کو قائم کروں اور باطل کو ختم کروں اگر میں یہ نہیں کر سکتا تو یہ پھٹی ہوئی جوتی بہتر ہے۔

امام مہدیؑ عج کی حکومت کا بھی ہدف یہی ہے کہ وہ عدالت کو قائم کریں گے اور ظلم اور فتنہ و فساد اور گناہوں کو دنیا سے ختم کریں گے۔

تو پس یہ جنگیں ختم ہو جائیں گی اور یہ حکومت لوگوں کی تربیت ، اخلاق اور رشد پر توجہ کرے گی اور لوگوں کو دنیاوی، دینی اور اخروی ہر لحاظ سے کمال تک پہنچائے گی۔

مولاؑ کا حکومت لینے کا ہدف یہ نہیں تھا ہم صرف اہلبیتؑ حکومت کریں اور ہمارے پاس طاقت ہو۔

*امامؑ کا ہدف یہ تھا کہ حکم خدا قائم ہو اور انسانیت اپنے اصلی معنی میں جلوہ گر ہو۔ حقوق اللہ پر لوگ عمل کریں اور حقوق العباد پورے ہوں اور دنیا سے یہ ظلم و ستم ختم ہو۔*
یہ بغض و عناد کی کیفیت یہ ایک دوسرے کو مارنا قتل کرنا جو بھی رنج ہے وہ ختم ہو۔ اللہ نے اس لیے تو ہمیں نہیں بنایا کہ ہم لڑائی کریں۔ آج گھر گھر میں لڑائی ہے۔ اگر انہی لوگوں کو دنیا کی حکومتیں دے دیں تو یہ دوسرے لوگوں کو چین سے جینے نہیں دیں گے۔

انسان اندر سے کتنا ظالم ہیں کہ گھر میں ایک چھوٹی سے طاقت کے ذریعے ظلم کر رہا ہے۔ اگر اسے حکومت دے دیں تو یہ چنگیز خان اور ہلاکو خان سے بھی ظالم ہوگا۔

یہ حکومت انسان کی اندرونی اصلاح کو جلوہ گر کرے گی۔ اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے گی۔

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ حقیقی جہاد آخرالزماں میں ہیں کیونکہ ہم جو یہ دنیا کی جنگیں دیکھ رہے ہیں یہ صرف مال غنیمت اور ممالک پر قبضہ کرنے کے لیے ہو رہی ہیں۔

جہاد فقط آخرالزماں میں ہے کہ جس کے اندر انسانیت کی نجات اور انہیں سعادت واقعی تک پہنچانے کے لیے جنگ ہوگی۔

پس امامؑ عج کا اصلی ہدف لوگوں کی نجات اور سعادت ہے۔ امامؑ عج کی زندگی زاہدانہ ہے وہ دنیا کی حکومت سے اپنی آسائش کے لیے کچھ بھی نہیں لیں گے۔

امام ؑ عج کی زندگی مولا علیؑ جیسی ہوگی۔ امام کا بیٹا امامؑ جیسی زندگی گذارے گا۔ اور دنیا کے اندر صلح اور لوگوں کے رویوں میں آسائش ہوگی۔
سبحان اللہ۔
قربان۔

جب لوگوں کے اخلاق اور رویے درست ہو جائیں تو ساری چیزیں درست ہو جاتی ہیں اور دنیا سے غربت اور فقر خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

امام مہدیؑ عج ایسے لوگوں کو ختم کریں گے جو ظالمین ، منافیقین، مفسدین مستکبرین کو ختم کریں ہر قسم کے شر سے نجات دیں گے۔ لوگ حقیقی معنوں میں ایسے زندگی گذاریں گے جیسے گذارنی چاہیے۔ اور ان کی دنیاوی دینی مادی، روحی فکری تربیت محمدؐ و آل محمدؑ کی حکومت کرے گے۔
سبحان اللہ۔
العجل یا امامؑ عج۔

دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں ایسی حکومت کو دیکھنے اور پانے کی توفیق عطا فرمائے الہیٰ آمین۔
والسلام،

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید