مہدوی سوالات
سوال : کیا جو امام زمانہ ع کے 313 ناصران ہوں گے۔۔۔اُن کے نام کہیں درج ہیں۔اگر وہ درج ہیں تو ہمارے زمینہ سازی کی کوشش کا کیا فائدہ ہے؟
جواب: یہ جو شبہات ہیں عام عوام الناس کے اندر اور اس میں کچھ خطیب بھی یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ ایا یہ تین سو 313 جو افراد ہیں ان کے نام کسی روایت میں موجود ہیں اور یہ اس وقت موجود ہیں ؟ایا یہ زمین پر ہیں یا امام زمانہ ع کے گرد موجود ہیں۔ ایا ان میں ایک شخص ایک عام مومن ان 313 میں شامل نہیں ہو سکتا اگر یہ لوگ پہلے سے ہی معین شدہ ہیں موجود ہیں تو پھر میرا تیاری کرنے کا اور بعنوان منتظر کردار ادا کرنے کا کیا فلسفہ ہے یہ سوالات ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس ان 313 ناصران کے کہیں نام ذکر نہیں ہیں۔ اگر کسی نے کوئی ذکر کیے ہیں تو وہ روایت صحیح نہیں ہے ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ 313 وہی ہونگے جو پہلے دنیا سے وفات پا چکے ہیں اور وہ واپس پلٹیں گے مراد ہیں رجعت کنندہ لوگ اس سے مراد ہیں؟ اس کا جواب ہے کہ نہیں رجعت کنندہ لوگ مراد نہیں ہیں 313 سے مراد اُسی زمانے کے زندہ لوگ اور وہ 313 رہبر ہیں 313 خواص ہیں۔ یعنی اُسی زمانے میں 313 ہستیاں ہوں گی پوری زمین پر جو مولا ع کے ظہور کے لیے کوشش کر رہی ہوں گی۔ *”کلچر انتظار تحریک انتظار”*۔ ہو سکتا ہے حکومتیں قائم کی ہوں ہو سکتا ہے بڑی بڑی تنظیمیں بڑی بڑی انجمنیں ہوں۔ کوئی معاشرہ سوسائٹیاں پیدا کی ہوں۔یہ 313 اس زمانے کے فعال 313 رہبر ہیں جو پوری دنیا تشیع میں پوری دنیا اسلام کے اندر مولا ع کے ظہور کے لیے کوشش کر رہے ہوں گے۔ اسی لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ امام کے ظہور سے پہلے کا دور بہت اچھا دور ہے کیونکہ 313 رہبر پوری دنیا میں کام کر رہے ہیں اور وہ 10 سے یا 12 ہزار جو جوان ہیں جن میں سے ہر جوان 10 مومنوں کے برابر عظمت رکھتا ہے یہ موجود ہیں۔ زمانہ ظہور سے پہلے کا دور بہت اچھا دور ہے عام طور پر ہمارے بعض خطیب حضرات اسے بڑے برے دور سے توصیف کرتے ہیں ایسی بات نہیں ہے وہ ایک رخ پیش کرتے ہیں روایات نے دو رخ پیش کیے ہیں۔درست ہے ظالموں کی حکومتیں ہیں اور ظالم زیادہ ہیں لیکن ان کے مد مقابل نیک لوگ بھی بڑی تعداد میں ہیں۔ ایک چھوٹی مثال کہ فرض کریں ابھی دنیا کی ابادی چھ ارب ہے یا اٹھ عرب ہے فرض کریں چلیں ہم کہتے ہیں چھ ارب سات ارب ظالم ہوں گے گنہگار ہوں گے فسق و فجور میں پڑے ہوں گے۔ لیکن اس کے مدمقابل ایک ارب نیک لوگ ہوں گے صالح ہوں گے اور ان کے اندر وہ 10 12 ہزار خالص ترین اور پھر ان کے اندر وہ 313 اُن سے زیادہ خالص تو جس دنیا کے اندر ایک ارب نیک لوگ ہوں۔وہ دنیا بہترین دنیا ہے اس لیے امام اسی بڑی تعداد میں جو نیک لوگ ہیں انہی کی وجہ سے امام زمانہ ع سات مہینے میں پوری زمین پہ جو قبضہ کریں گے وہ نیکوں کی کثرت کی وجہ سے کریں گے۔ ورنہ اگر برے لوگ زیادہ ہوں تو پھر تو یہ کام سینکڑوں سالوں میں بھی نہیں ہونا تھا تو لہذا کبھی بھی ظہور سے پہلے والا جو زمانہ جو ہے اسے برے انداز سے توصیف نہیں کرنا چاہیے اور خود بھی اپ دیکھیں کہ ہم بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یعنی 50 سال پہلے کی نسبت اج بہتر ہیں۔حقوق کی تنظیمیں زیادہ ہیں حقوق انسان حقوق حیوان اب تو درختوں کے حقوق اب تو جمادات کے حقوق کی تنظیمیں بھی ہیں۔ اب دنیا رشد کی حالت میں ہے اور اہستہ اہستہ اتنا ہو جائے گا کہ پوری دنیا مولا ع کے ظہور کو مانگے گی چاہے وہ کسی بھی ملت اور مذہب کا ہو وہ خود کہیں گے کہ یہ اب ہمارا کام نہیں ہے دنیا کے امور چلانا ہم ناکام ہو چکے ہیں اب کوئی اسمانی شخص ائے۔ تو یہ رشد کی علامت ہے، کیوں کہ مولا جب ظہور کریں گے ہر ملت سے ہر مذہب سے لوگ جو ہیں وہ جوق در جوق امام ع کے گرد جمع ہو جائیں گے۔حتی کہ مسلمان بھی نہیں ہوں گے لیکن وہ مہدی ع کو پکاریں گے وہ کہیں گے ہمیں اس قسم کے مسیحا کی ضرورت ہے اپنی ظالم حکومتوں کو گرائیں گے کہیں گے اپ ہمیں مل گیا۔یہ ہیرو ہیں۔ یعنی رشد فکری کا مقام ہے یعنی ظلم کے خلاف ہمہ گیر پوری دنیا میں کوششیں ہوں گی نہ کہ یہ مٹھی بھر چند لوگ کریں گے یہ صرف کمانڈ کریں گے یہ ہواؤں کو یہ جو مزاجوں کے ہیں۔۔۔۔ مسائل لوگوں کے جو مسائل ہیں لوگوں کے اندر یہ جو ہوائیں چلیں گی نیکی کی ان کو کنٹرول میں رکھیں گے تاکہ لوگ شیطان اور ابلیسیت کے دام میں نہ ائے۔
اُستاد محترم اغا علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم