عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک) – درس چہارم

سلسلہ دروس لقاء الله
کتاب لقاء اللہ کے دروس مہدی مضامین و مقالات

کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک) – درس چہارم

کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک)
( آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزی رح)
درس چہارم
نکات :سیر و سلوک کے درس کے بارے ایک بنیادی وضاحت، اسلام دین رھبانیت نہیں دین اجتماع ہے، صوفیت کی نفی، اصول کافی کی روایت میں امام صادق ع کا زندیق سے مکالمہ، معرفت کے مخالف بھی معرفت رکھتے ہیں

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

 

خلاصہ

سیر و سلوک کے درس کے بارے ایک بنیادی وضاحت

مذید مطالب بیان کرنے سے پہلے درس سیر سلوک کے حوالے سے ایک بنیادی وضاحت کرنا ضروری ہے ۔ جیسا کہ کچھ لوگ سمجھ رہے تھے ان دروس میں لمبے لمبے مراقبے، چلے،اذکار، ورد اور جو پاکیزگی کی انفرادی عبادات ہیں ان کے حوالے سے بیان ہوں گے۔ تو نہیں عزیزان ، جیسا کہ اسلام کے اندر جہاں انفرادی عبادات ہیں وہاں اجتماعی عبادات بھی ہیں۔ اور اسلام بیشتر دین اجتماعیت ہے۔ اسلام کے اندر رہبانیت اور صوفیت کی نفی ہے۔

ہمارا سیر و سلوک یا اللہ کی قربت اور معرفت میں جو سفر ہے وہ بیشتر توحید کو سمجھنا ہے اور اس کے آثار و فیض کو اپنے وجود، اپنے دل و دماغ اور اپنی روح پر لینا ہے۔

صوفیت کی نفی: 
ہم نے صوفیت کو اختیار نہیں کرنا، خانقاہی نظام کہ جس میں انفرادیت ہے اس کو اختیار نہیں کرنا۔ ہم اہل مسجد ہیں ہم اہل اجتماع ہیں ۔ پروردگار نے اسلام کو دین اجتماع قرار دیا ہے۔ مسلمان کی زندگی چاہے عبادتی زندگی کیوں نہ ہو اس کے اندر اجتماعی عبادات کو زیادہ اہمیت ہے ۔ جیسے نماز میں نماز جماعت کو اہمیت ہے۔ روزے کے اندر روزے کے ساتھ ساتھ دیگر خدمات ہیں جیسے صدقہ ، خیرات ، لوگوں کو افطاری کرانا یہ ساری چیزیں بتا رہی ہیں کہ کس طرح کا انسان اللہ کی بارگاہ میں کمال ، تکامل اور عرفان کے مراحل طے کر سکتا ہے۔

ہم نے سب سے پہلے عقیدہ توحید پر دروس دیے اور پھر کتاب لقاء اللہ سے دروس کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے فکری طور پر اور عقیدے کے لحاظ سے معرفت کا راستہ دکھائیں گے۔ اس میں جو دیگر علمائے کرام کے جو اعتراضات ہیں اور وہ اعتراضات بہت سے لوگوں کے بھی ہیں تو ان اعتراضات کے ایک شافی اور تسلی بخش جواب ہونا چاہیے۔ اور پھر ہم نے قرآن و احایث محمدؑ و آل محمدؑ ان کے فرامین، دعاؤں اور ان کی راہنمائی میں یہ سفر کرنا ہے اور یہ سفر فکر اور دلیل سے خالی نہیں۔

لہذا اگر ہم کسی چیز کو فکری اور عقیدے کے لحاظ سے قانع نہیں ہونگے اور اس کو تسلیم نہیں کریں گے تو عملی اعتبار سے بھی ہمارے اندر اس کی پیش رفت نہیں ہوگی۔ اور ہمارے وجود میں اس کے آثار اور نورانیت نظر نہیں آئے گی کیونکہ یہ ایک خطرناک مرحلہ ہے ۔

عام طور پران معاملات میں شیاطین بلخصوص اور ابلیس بھی مداخلت کرتا ہے۔ اور وہ لوگوں کو اس طرف لے جاتا ہے جہاں وہ خود چاہتا ہے۔
اور لوگ جو ہیں وہ رہبانیت کی جانب یعنی انفرادیت کی جانب مائل ہو جاتے ہیں اور ایسے لوگوں سے ہمارے آئمہؑ نے منع فرمایا ہے اور ان سے بیزاری کا اظہار فرمایا ہے۔

ہمارا عرفان ایسا ہونا چاہیے جیسے محمدؐ و آل محمدؑ کا عرفان ہے ۔ ہم ان کے غلاموں کے بھی غلام ہیں۔ تو ہم نےان کی اقتداء میں معرفت الہیٰ کی جانب جانا ہے کہ جس طرح ہمارے آئمہؑ کی زندگی ہے تو ہماری زندگی میں بھی اگر کوئی شباہت ہو تو وہ ان کی زندگی جیسی ہو۔
انشاءاللہ۔

آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریؒزی فرما رہے ہیں کہ:

یہ جو ہمارے کچھ لوگ فقط تنزیہ کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لیے اللہ کی معرفت ممکن نہیں ہے۔ تو اس کے برعکس ہماری روایات کے اندر محمدؐ و آل محمدؑ نے ایسی تنزیہ سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ جو تنزیہ ہے درواقع ایسا ہے کہ پھر کائنات میں کوئی خدا ہی نہیں ہے کہ نہ ہم اس کو درک کر سکتے ہیں نہ جان سکتے ہیں۔ گویا وہ نہیں ہے کیونکہ جو ہے اس کا ہونا ہمیں معلوم ہونا چاہیۓ۔

اس سلسے میں اصول کافی کی روایت میں امام صادق ع کا زندیق سے مکالمہ ہے۔ یہ روایت بہت طولانی ہے لیکن جتنا آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریؒزی نے اس روایت کا حصہ بیان کیا وہ درج ذیل ہے۔

ایک زندیق جو خدا کو نہیں مانتا تھا اس نے امام صادقؑ سے پوچھا کہ آیا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی وجود اور حقیقت ہے ۔

امام ؑ نے فرمایا۔ 
بلکل ہے۔ خدا کے لیے وجود اور حقیقت ہے اور اسی لیے تو وہ موجود ہے ۔ لیکن اس کی اپنی خاص حقیقت ہے۔ وہ اپنی مخصوص حقیقت کے ساتھ موجود ہے۔

زندیق نے سوال کیا:
اس کی حقیقت کیسی ہے؟

فرمایا : 
جو بھی کیفیت ہوتی ہے اس کی ایک جہت ہوتی ہے اور اگر کوئی کسی جہت میں موجود ہے تو گویا جہت اس پر غلبہ رکھتی ہے۔ اور اللہ کی ذات ایسی ہے کہ جس پر کوئ بھی احاطہ اور غلبہ پیدا نہیں کر سکتا ۔

فرمایا:
پروردگار کیفیت نہیں رکھتا کیونکہ کیفیت کسی جہت میں ہوتی ہے۔ اور وہ جگہ اس پر احاطہ رکھتی ہے اور اللہ تعالی کسی احاطے میں نہیں آتا۔

فرمایا : 
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان جو خالص تنزیہ کا قائل ہو اور پھر وہ اللہ کے مختلف نام لے اور اس کی بارگاہ میں دعائیں کرے تو یہ جو تم کسی کی بارگاہ میں ہاتھ بڑھا رہا ہے اور دعائیں مانگ رہا ہے تو کچھ نہ کچھ تو جانتا ہی ہو تو بس اجمالی معرفت تو تم بھی رکھتے ہو۔

اور یہاں سے مصنف گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں۔ کہ انشاء اللہ بعد میں بیان کریں گے۔

انشاء اللہ جب ہم اپنی عقلی اور فکری معرفت کے مراحل جب طے کریں گے تو انشاء اللہ پھر اس کے آثار اپنے وجود پر اور اپنی زندگی کو خود منقلب ہوتا دیکھیں گے اور پھر صحیح سمت میں خود کو قرار پاتا دیکھیں گے۔ انشاءاللہ۔

جاری ہے۔۔۔۔ ▪️▪️▪️▪️

پروردگار ہمیں سیر و سلوک کے اس سفر میں توفیق دے۔ وہ ہمارا راہنما ہو اور محمدؐ و آل محمدؑ کے فرامین کی روشنی میں آگے چلیں اور ہر قسم کے شیطانی ہتھکنڈے اور اس کے جال سے محفوظ رہیں۔
آمین۔

والسلام

عالمی مرکز مہدویت قم۔

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید