عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک) – درس پنجم

سلسلہ دروس لقاء الله
کتاب لقاء اللہ کے دروس مہدی مضامین و مقالات

کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک) – درس پنجم

کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک)
( آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزی رح)

درس پنجم

نکات :معرفت کے منکر بھی اللہ کی کچھ معرفت رکھتے ہیں، نور خدا سب سے زیادہ ظاہر ، امام صادق کا فرمان ہر چیز سے پہلے اللہ کو دیکھتا ہوں۔۔،جو سمجھ نہیں آرہا اللہ سے مانگنا چاھیئے دعائے معرفت ، نبی کریم ص اور امام سجاد ع کے فرمان کی رو سے دو باطنی قلبی آنکھیں ، خدا کب انسانی کی باطنی آنکھیں کھولتا ہے؟

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ :
مرحوم آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزیؒ فرماتے ہیں کہ:

وہ لوگ جو اس بات کے قائل ہیں کہ کسی صورت میں خداکی معرفت نہی ہو سکتی تو وہ لوگ بھی جب اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو وہ بھی کچھ نہ کچھ معرفت تو رکھتے ہیں۔

وہ جب کہتے ہیں کہ یا رحمٰن یا رحیم (یہاں رحمٰن و رحیم سے انسانوں والی رحمت مراد نہیں لیکن اس کے وجودمیں کہیں نہ کہیں شعور ہوتا ہے کہ یہاں عقلی اعتبار سے کونسی رحمت ہے کہ جس کو مانگ رہا ہے۔ )

بس تنزیہ کہہ کے بات کو ختم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ خالی تنزیہ تو اس طرح ہی ہے کہ گویا خدا نہ ہو اور جہاں کا رب نہ ہو۔

فرماتے ہیں کہ:
ہمارے علماء کلام یعنی عقائد کے موضوع پر گفتگو کرنے والے بھی اس بات کے قائل ہیں کہ بلآخر پروردگار عالم کا نور عظمت ظاہر بھی ہے اور مُظہِر بھی ہے۔ یعنی وہ خود بھی ظاہر ہے اور ظاہر کرتا بھی ہے اس کا نور کائنات میں آیات پروردگار ہیں۔ یعنی پوری کائنات پروردگار کی نشانیوں سے بھری ہوئے ہے اور یہ جو روشن نشانیاں جو نور پروردگار ہیں ان کو ہم دنیاوی نور سے تشبیہہ نہیں دے سکتے جیسے سورج چاند ستارے یا پھر ہمارے اردگرد جو چراغ یا بجلی کا نور ہے۔یہاں یہ نور مراد نہیں۔

لیکن اس سے مراد ایک نور ہیں جس سے ہمارا دل مطمئن ہے۔ کیونکہ ہم اس نور کو درک نہیں کر پا رہے تو اس کی مخالفت کر بیٹھتے ہیں لیکن ہم دلی طور پر یقین رکھتے ہیں کہ خدا ایک نور رکھتا ہے۔ اب وہ کیسا ہے ہم اس کو سمجھ نہیں پا رہے ۔ اور یہ نور اتنا واضح ہے کہ امام صادقؑ کا فرمان ہے کہ :

میں نے تو کبھی کسی چیز کو نہیں دیکھا مگر کہ خدا کو پہلے دیکھتا ہوں اور اس کے بعد بھی اور اس کے ساتھ بھی”۔

انسان اللہ کے بارے میں ایک معرفت رکھتا ہے اور اس معرفت کی وجہ سے ہمیشہ اللہ کی جانب اپنی توجہ رکھتا ہے اور اس کی بارگاہ میں گڑگڑاتا ہے۔

اگر کوئ چیز ہمیں سمجھ نہیں آرہی تو اس کو رد کرتے ہوئے اس کے مدمقابل کوئی نظریہ نہیں بنانا چاہیے۔ بلکہ ان مسائل کے اندر مرحوم آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزیؒ فرماتے ہیں کہ انبیاءؑ کے فرامین، اولیاء کے کلمات اور علمائے حقہ کے کلمات کو پڑھنا چاہیے۔

اور اگر کوئی مشکل ہے تو پھر اس مشکل مین پھر اللہ کی بارگاہ میں دعا کرنی چاہیے جیسے دعائے معرفت ہے۔

اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِیَّکَ اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی *رَسُولَکَ، فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَک اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ
فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِینِی۔

اب یہاں بندہ اپنے رب کی بارگاہ میں کیا مانگ رہا ہے کیونکہ خدا ہے جو واھب العلم ہے واھب العقل ہے۔ خدا ہے جو علم دینے والا اور عقل کو بڑھانے والا ہماری عقل و فکر کے اندر جو سوچ اور پیچیدگیاں ہیں ان کو کھولنے والا۔ ہمارے ذہنوں میں جو رمز ، الجھنیں اور الہمات ہیں ان کو روشن کرنے والا وہ خدا ہی ہے۔

اور اگر ہم کسی صاحب معرفت و پرہیزگار عالم تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو اس سے سوال کرنا چاہیے یہ اسرار ، اسرارِ ربانی ہیں یہ اور یہ دین حق ہیں اور یہ انسان کو حق ملنا چاہیے۔

فرماتے ہیں :
البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ اس طرح کی معرفت تقوٰی کے تزکیہ کے بغیر اور بلآخر ریاضیات شریعہ یعنی ریاضتوں کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ کیونکہ جب ہم ریاضتوں سے خود کو پاک کرتے ہیں اور مسلسل ذکر میں رہتے ہیں تو ہماری حیوانی قوتیں آہستہ آہستہ کمزور ہوتی ہیں اور ان کے مد مقابل ہمارے روحانی اور ایمانی قوتیں بڑھ جاتی ہیں۔ کیونکہ پھر بصیرت کی آنکھ کھل جاتی ہے جسے مکاشفہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

سورہ العنکبوت 79 پروردگار عالم فرما رہا ہے۔
وَالَّـذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّـهُـمْ سُبُلَنَا ۚ وَاِنَّ اللّـٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ (69)
اور جنہوں نے ہمارے لیے کوشش (جہاد) کی ہم انہیں ضرور اپنی راہیں سمجھا دیں گے، اور بے شک اللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔

رسول ؐ اللہ کا فرمان ہے کہ :
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر انسان کے بدن میں دو آنکھیں ہیں جن سے وہ غیب کو دیکھتا ہے اور اگر اللہ اپنے بندے پر ارادہ خیر کرے تو وہ اس کی باطنی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ اس حوالے سے ایک روایت ہے کہ جو سید سجادؑ سے نقل کی ہے کہ جسے مرحوم فیض کاشانی نے تفسیر صافی میں نقل کیا ہے:

البتہ یہ روایت شیخ صدوق کی کتاب توحید میں بھی ہے

امام سجاد ؑ فرماتے ہیں کہ:

اصل میں انسان کی چار آنکھیں ہیں۔

دو آنکھیں ظاہری ہیں جن سے وہ دین و دنیا کے امور دیکھتا ہے ۔ اور دو آنکھیں ایسی ہیں کہ جو اللہ نے اس کے وجود میں اخروی امور دیکھنے کے لیے رکھی ہیں اور جب اللہ کسی اپنے عبد کے حق میں ارادہ خیر کرتا ہے (اس کے تقوٰی عبادتوں، ریاضتوں کو دیکھتا ہے تو اللہ وہ قلبی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ تو پھران آنکھوں سے وہ ایسی چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے جو ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھی جا سکتیں۔

یعنی وہ غیب کے امور کو دیکھتا ہے ۔

اور اس کے بارے میں حدیث نبوی بھی ہے اور آئمہؑ کا بھی فرمان ہے کہ:
جس نے اپنی معرفت پیدا کر لی اس نے خود کو جان لیا گویا اس نے اپنے رب کو جان لیا۔

سبحان اللہ!

جب ہم اپنے اوپر کام کریں گے اور اپنی معرفت پیدا کریں گے اور اس جانب متوجہ ہونگے کہ ہمارے اندر بھی کوئی آنکھیں ہیں اور ہم اس کو اپنی ریاضتوں ، عبادتوں اور پاکیزگی سے کھولیں گے تو پھر اللہ بصیرت والی ان قلبی آنکھوں کو کھول دے گا اور ہم اس کائنات میں بہت سے حقائق کو دیکھیں گے اور پھراپنے رب کی بیشتر معرفت پیدا کریں گے اور یہ معرفت اب فقط علمی و فکری معرفت نہیں ہوگی بلکہ اب یہ معرفت عمیق ہوگی اور پھر انسان اپنے رب کا عاشق و دیوانہ ہو جائے گا اور پھر اسے لحظہ بھر بھی چین نہیں آئے گا۔ کیونکہ جتنے حقائق اسکے رب کے اس کے سامنے ظاہر ہونگے اتنا ہی وہ اپنے رب کی جانب کھینچا چلا جائے گا۔

البتہ بعض لوگ اس روایت پر بھی اشکال رکھتے ہیں۔ ۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔ ▪️▪️▪️

پروردگار عالم سے دعا ہے کہ امام سجادؑ کے اس فرمان کی روشنی میں اللہ تعالیٰ ہماری قلبی دو آنکھوں کو اس ماہ رمضان کے روزوں، عبادات اور اذکار کے صدقے میں کھول دے تاکہ ہم حقائق ربانی کو اس سے بہتر انداز میں درک کریں۔

والسلام۔ 

استاد محترم کی صحت و سلامتی کے لیے صلواٰۃ۔

عالمی مرکز مہدویت قم۔​

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید