عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

کتابچہ 9 – ملاقات امام زمان عج – چوتھا درس – ملاقات کے اثبات پر دلائل دعائیں اور اعمال علما کی گواہی

کتابچه 9
مہدی مضامین و مقالات

کتابچہ 9 – ملاقات امام زمان عج – چوتھا درس – ملاقات کے اثبات پر دلائل دعائیں اور اعمال علما کی گواہی

کتابچہ 9
ملاقات امام زمان عج
چوتھا درس
ملاقات کے اثبات پر دلائل دعائیں اور اعمال
علما کی گواہی

منکرین ملاقات کی پہلی دلیل
امام زماں عج کی چوتھے نائب کو آخری توقیع شریف

استاد محترم علامہ علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ:

موضوع سخن غیبت کبریٰ میں امام زماں عج سے براہ راست ملاقات ہے کہ آیا یہ ملاقات مکمن ہوئی ہے اور واقع ہوئی ہے۔ اور اس کے واقع ہونے پر دلائل دیئے گئے ہیں۔ جس میں دو دلیلیں بیان ہو چکی ہیں۔ ویسے تو ہماری کتابوں میں ایسے سینکڑوں لوگوں کی حکایات و روایات نقل ہوئی ہیں اور یقیناً یہ سب جھوٹ نہیں ہے کہ ایسے سینکڑوں لوگ مولا ؑ عج کی بارگاہ میں خدمت کےلیے پہنچے ہیں۔ اور دوسری دلیل فقہاء اور مجتہدین کی ملاقات ہے کہ جسے اجماع تشرفی کہا گیا ہے۔ اور اس سے باقاعدہ حکم شرعی اور فقہی ثابت ہوتا ہے۔

آج ہم مذید دلائل پر گفتگو کریں گے۔ 

دعائیں اور اعمال:
ایک دلیل دعائیں اور اعمال ہیں جو ملاقات کی صورت میں امام ؑ عج کی جانب سے حکم عطا ہوئے ہیں اور ہماری کتابوں میں نقل ہوئے۔ مثلاً

صحیفہء مھدیہ:
کتاب میں کچھ ایسے اعمال اور دعائیں ہیں کہ جن کا خود امام نے حکم دیا ہے۔ جیسے کوئی نماز یا استخارہ ہے ۔ یا مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ خود مسجد جمکران کے بنانے کا حکم اور اس کی نماز جو ہے یہ امام ؑ نے خود حکم دیا ہے اور ہم تک یہ حکم ایک ملاقات کے ذریعے پہنچا۔ اور اس پر ہر دور میں ہمارے فقہا اور مجتہدین نے اعتماد کیا ہے اور مسجد جمکران خود بھی گئے ہیں اور انہوں نے اس نماز کو ادا بھی کیا ہے۔ اور خود 1200 سال سے علماء نے اپنی کتابوں میں ملاقات کے واقعات لکھے ہیں لیکن کسی نے نہیں کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے اور ملاقات نہیں ہو سکتی۔ البتہ بعض ملاقاتوں میں ہمارے علماء تردید و شک کریں لیکن ہمارے علماء نے ان ملاقاتوں کو بطور کلی قبول کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ یہ سب کچھ ہوا ہے اور ہو سکتا ہے۔ یعنی 1200 سال سے ان تمام ملاقاتوں کے واقعات کہ جن میں صالحین اور فقہاء کی ملاقاتیں بھی ہیں ان واقعات کی ہمارے علماء نےنفی نہیں کی ۔
یعنی کوئی منکر ملاقات نہیں ہے۔

۔۔ منکر ملاقات کی دلیل:
منکر ملاقات کی اہم دلیل امام زماں عج کی آخری توقیع شریف کہ جو انہوں نے اپنے چوتھے اور آخری نائب خاص علی بن محمد سمری کو ان کے آخری ایام میں دی۔

اس خط میں یہ تحریر تھا کہ:

اے علی بن محمد سمرؒی
اللہ تمهارے بارے میں تمهارے دینی بهائیوں کو صبر کرنے پر اجر عظیم عطا دے کہ اب سے چھ دن بعد تمهارا انتقال ہو جائے گا لہذا اپنے امور کو مکمل کر لو اور آئندہ کے لیے اپنا وصی کسی کو مقرر نہ کر نا جو تمهاری وفات کے بعد تمهارا جانشین ہو.اس لیے کہ میری غیبت تامہ واقع ہو چکی یے.اور جب اللہ کا حکم ہو گا اسی وقت ظہور ہوگا اور یہ اہک طویل مدت کے بعد ہوگا اس عرصہ میں لوگوں کے دل سخت ہو جائیں گے زمین ظلم وجور سے بهر جائے گی ہمارے شیعوں میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو مجھے دیکھنے کا دعویٰ کریں گے مگر جو خروج سفیانی اور ندائے آسمانی کے پیدا ہونے سے قبل مشاہدے کا دعویٰ کے وہ جهوٹا ہے،
ولا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔

اس آخری توقیع میں امام زماں نے آخری نائب کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے کہ اب کسی کو وصیت نہیں کرنی کے آپ کے بعد نائب قرار پائے۔ اسی لیے ہمارے علماء کرام کہتے ہیں کہ چوتھے نائب خاص کے بعد کوئی خاص نائب نہیں۔ یعنی غیبت صغریٰ کا اختتام ہے اور غیبت کبریٰ کا آغاز ہے۔

اس کے بعد امامؑ عج فرماتے ہیں کہ اس وقت تک ظہور نہیں ہو گا جب تک اللہ تعالیٰ اجازت نہ دے۔ یعنی ظہور موقوف ہے اللہ کے اذن پر اب یہاں جو جملہ ملاقات کی نفی کرتا ہے وہ یہ ہے کہ امامؑ عج فرماتے ہیں جو بھی مشاہدے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔

مشاہدے سے مراد امام زماں عج کا دیدار ہے تو پس توقیع سے ثابت ہے غیبت کبریٰ کے زمانے میں امام زماں ؑ عج کی ملاقات ممکن نہیں کیونکہ یہ فرمان سے ثابت ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انشاءاللہ آئندہ درس میں اس کا جواب دیں گے۔ اس دلیل کا جواب موجود ہے کیونکہ فارسی اور اردو میں مشاہدہ سے مراد کسی کو دیکھنا لیا گیا ہے حالانکہ مشاہدے کا مطلب کچھ اور ہے۔

والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت قم۔​

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید