عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

گیارھواں کتابچہ عصر ظہور – چوتھا درس – موضوع : شیعہ فرقوں کا عقیدہ

کتابچه 11
مہدی مضامین و مقالات

گیارھواں کتابچہ عصر ظہور – چوتھا درس – موضوع : شیعہ فرقوں کا عقیدہ

کتابچہ عصر ظہور
چوتھا درس
موضوع : شیعہ فرقوں کا عقیدہ

خطابت : 
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ:
ہماری گفتگو عصر ظہور میں ہے مکتب تشیع میں جو مختلف فرقے بنے تاریخ میں اور جو اب بھی موجود ہیں۔ ان کی مہدویت اور امام مہدیؑ عج کے ظہور کے حوالے سے ان کی آراء اور عقائد کیا ہیں۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ حقیقی اسلام مکتب اہلبیتؑ ہے اور مکتب اہلبیتؑ میں شیعہ اثنا عشری یہی صراط مستقیم ہے ، یہی مکتب اہلبیتؑ ہے یہی اسلام ہے۔ کیونکہ شیعہ سنی کتابوں کے اندر جو احادیث ہیں جن میں پیغمبرؐ اسلام نے اپنے بعد بارہ وصی، بارہ امامؑ ، بارہ ولی، بارہ خلفاء کی بشارت دی تھی۔ فقط مکتب اہلبیتؑ شیعہ اثناعشری ہیں جو پیغمبرؐ کی بتائی ہوئی اس راہ پر چل رہے ہیں اور آج الحمدللہ ان بارہ اوصیاؑ میں سے بارویں وصی کے زمانے میں ہیں۔ اور یہ بارویں وصی امام محؑمد ابن حسنؑ عسکریؑ کہ جنہیں ہم امام مہدیؑ ،بقیتہ اللہ، صاحب العصر والزماں، حجت، القائم کہتے ہیں وہی ہیں کہ جو 260 ھ کو پردہ غییبت میں چلے گئے اور 329 ھ کو یہ غیبت صغریٰ غیبت کبریٰ میں بدلی اور جب تک پروردگار کا حکم ہو گا اس وقت تک مولاؑ عج پردہ غیبت میں ہیں اور حکم الہیٰ سے اور یقیناً اس وقت انصار بھی مہیا ہونگے مولاؑ عج ظہور فرمائیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھریں گے۔

مولاؑ عج 255 ھ میں نیمہ شعبان دنیا میں تشریف لا چکے ہیں اور حی اور حاضر امام ہیں۔ یہ ہم شیعہ اثنا عشری جتنی بھی امت ہے اس کا عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اور اس پر بہت سارے عقلی اور منقول دلائل موجود ہیں۔

لیکن ہمارے اندر بنام شیعہ کچھ فرقے موجود ہیں اور وہ اس فرد اور اس ہستی میں گمراہ ہوگئے اور شبہہ کا شکار ہوگئے۔ اگرچہ ان کا عقیدہ مہدویت والا ہے لیکن وہ کسی اور کو مہدی سمجھ بیٹھے۔

فرقہ کسانیہ:
سب سے پہلے جو فرقہ سامنے آتا ہے۔ یہ امام سید سجادؑ کے زمانے میں فرقہ کسانیہ ہے۔
یہ لوگ محمد حنفیہ جو کہ امام علیؑ کے فرزند ہیں ان کی امامت کے قائل ہوئے اور ان میں سے تو بعض نے ان کی موت کا انکار کردیا اور کہا کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور وہ مدینہ کے پاس جو کوہ رضوی ہے اس میں پنہاں ہو چکے ہیں اور جب خدا کا حکم ہوگا تو وہ ظہور کرے گا۔
یہ بات ہماری تاریخ علم کلام کی کتاب الملل والنحل ہے۔۔ یہ کتاب فرقوں اور عقائد کے بارے میں ہے۔

فرقہ کسانیہ یہ وہی لوگ ہیں کہ جنہوں نے قاتلین سید الشہدؑاء سے انتقام لیا اور ایک حکومت بھی قائم کی تھی جو بعد میں عبداللہ ابن زبیر کی فوج کے ہاتھوں ختم ہوئی۔ لیکن کیسانیہ بعد میں بھی کافی عرصہ تک رہے اور محمد حنفیہ کے بعد اس کے بیٹے کی امامت کے قائل رہے جو ابو الھاشم کہلاتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد عبداللہ بن معاویہ اور پھر محمد بن عبداللہ نفس ذکیہ یعنی حسنی سادات میں سے امامت کے قائل ہوئے اور بعد میں بنی عباس ظاہر ہوئے اور انہوں نے ان سے استفادہ کیا اور حکومت قائم کی اور بعد میں پھر انہی لوگوں کا قتل عام کیا۔ اس کی ایک تاریخ ہے ۔ بنی عباس پہلے کسانیہ تھے اور بعد میں انہی لوگوں کا قتل کیا اور تمام علوی اور سادات فاطمی اور شیعہ کا قتل کیا۔

تاریخ تشیع میں سب سے پہلا انحراف: 
محمد حنفیہ امام غائب ہیں

فرقہ زیدیہ:
اسی زمانے میں ایک اورفرقہ جو سامنے آتا ہے وہ فرقہ زیدیہ ہے اور یہ امام سید سجادؑ کے بیٹے زید ابن علی کی امامت کے قائل تھے۔ اور پھر ان کے بیٹے یحیی کی امامت کے قائل ہوئے۔ اور یہ جو فرقہ زیدیہ میں ایک فرقہ آتا ہے فرقہ جارودیہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں ایک شخص حسنی سید محمد بن عبداللہ ابھی زندہ ہیں اوریہ قتل نہیں ہوئے اور یہ خروج کریں گے، قیام کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھریں گے۔

اب یہ محمد بن عبداللہ یعنی ان کا نام رسولؐ اللہ کے نام پر ہے اور والد کا نام بھی رسولؐ اللہ کے والد گرامی کے نام پر ہے تو یہ ان کی امامت کے قائل ہوگئے۔

فرقہ باقریہ:
فرقے تو بہت سارے ہیں اور ان میں سے ایک فرقہ باقریہ بھی ہے جو امام محمد باقرؑ کو امام مہدیؑ سمجھتے ہیں اور قائل ہیں کہ امام محمد باقرؑ رجعت کریں گے۔ یعنی دوبارہ پلٹیں گے اور قیام کریں گے۔

فرقہ ناوسیہء:
یہ امام جعفر صادقؑ کی حیات کے قائل ہیں اوران کا یہ عقیدہ ہے کہ امام صادقؑ ہی وہ مہدی اور قائم ہیں اور آخرالزماں میں ظاہر ہونگے اور دنیا میں حکومت عدل قائم کریں گے۔

فرقہ اسماعیلیہ:
یہ لوگ امام صادقؑ کے بڑے بیٹے اسماعیل کی امامت کے قائل ہیں اور اس کے بعد اس کے بیٹے محمد کی امامت کے قائل ہیں۔ اب یہ جو لوگ ہیں یہ کہتے ہیں کہ امام صادقؑ کے بعد جناب اسماعیل امام ہیں اور وہ زندہ ہیں جب کہ اسماعیل امام صادقؑ کی زندگی میں ہی وفات پا چکے ہیں اور مولاؑ نے کئی مرتبہ لوگوں کو ان کا جسد دیکھایا لیکن اس کے باوجود شیطان کا کام ہے یا ہوائے نفس ہے یا تواہمات ہیں کہ یہ گروہ اسماعیل کی وفات کا منکر ہوگیا اور اسے امام قائم سمجھتے ہیں اور اس کے منتظر ہیں۔

فرقہ واقفیہ: 
یہ امام موسیٰ کاظم ؑ کی حیات کے قائل ہیں اور امام علی رضاؑ کی امامت کے منکر ہوگئے۔ اور یہ امام موسیٰ کاظمؑ کو ہی مہدی منتظر سمجھتے ہیں کہ وہ قائم ہیں اور وہی قیام کریں گے۔

فرقہ موسویہ: 
اسی زمانے میں ایک اور فرقہ سامنے آیا جس میں بعض امام موسیٰ کاظم کی رجعت اور بعض حیات کے قائل ہیں۔

فرقہ مغیریہ:
یہ حسنی سادات کے اندر جو ایک سلسلہ امامت قائم ہے یہ اسی نفس ذکیہ کے قائل ہیں یعنی نفس ذکیہ محمد بن عبداللہ ابن حسن ابن حسنؑ ابن علیؑ ابن ابی طالبؑ ۔
محمد بن عبداللہ، بنی عباس کے زمانے میں قتل ہوگیا تھا لیکن یہ کہتے ہیں کہ محمد بن عبداللہ قتل نہیں ہوا بلکہ کوہ ھاجر میں غائب ہوگئے ہیں اور حکم خدا سے ظاہر ہونگے اور یہ وہی مہدی ہے کہ جس کا نام پیغمبرؐ کے نام کے مشابہہ ہے اور جس کے والد کا نام پیغمبرؐ کے والد گرامی کے نام کے مشابہہ ہے۔

تاریخ علم کلام میں ہماری جو مختلف کتابیں ہیں جیسے الملل والنحل جو کہ عبدالکریم شھرستانی کی کتاب ہے یا دائرہ المعارف یا ایک کتاب ہے فرق الشیعہ یہ ابو محمد موسی بن نوبختی کی کتاب ہے اس میں بھی یہ ساری ابحاث موجود ہیں۔ ایک کتاب ہے الفرق بین الفِرق  جو ابو منصور بغدادی کی کتاب ہے۔ ان تمام کتابوں میں یہ تمام تفصیلات موجود ہیں تو:

خلاصہ یہ ہے کہ شیعہ کے اندر اور بھی جو فرقے ہیں لیکن وہ بھی کسی مہدی کے منتظر ہیں کہ جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھرے گا۔

البتہ یہ فرقے اس مہدی کی شناخت میں گمراہ ہوگئے ہیں۔ اشتباه کا شکار ہوگئے ہیں اور خطا کھا گئے ہیں۔ اور اب اس خطا کی وجہ شیطان ہے، ہوائے نفس ہے،انحرافات ہیں، توہمات ہیں یا ان کی بدعات ہیں وہ علیحدہ ابحاث ہیں۔ یقیناً یہ سب گمراہ ہیں ان میں سے اسماعیلیہ اور جارودیہ موجود ہیں باقی ختم ہو چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم دنیا کے دوسرے مذاہب جیسے یہودیت، عیسائیت، بدھ مت، ہندو، زرتشتی۔ یا پھر اسلام میں سنی، وھابی، اہل حدیث ہیں جس طرح سب میں مہدویت موجود ہے اسی طرح ان میں بھی مہدویت موجود ہے اور یہ بھی مہدی کے ظہور کے قائل ہیں۔تو اصل عقیدہ مہدویت سب میں موجود ہے یعنی ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ سارے مذاہب چاہے وہ حق ہیں یا باطل یہ سارے ایک منجی اور ایک مصلح کے منتظر ہیں۔

البتہ جس طرح مکتب تشیع ، اثنا عشری میں تفصیلات موجود ہیں اور جس طرح شفاف انداز میں گفتگو موجود ہے اس طرح کسی مذہب میں نہیں ہے۔

یہ مکتب تشیع اثنا عشری ہے جو قرآنی آیات اور احادیث کی رو سے آنے والی دنیا اورمستقبل کا نقشہ بیان کر رہا ہے کوئی اور مکتب اور مذہب بیان نہیں کر رہا۔

پروردگار عالم ہم سب کو توفیق دے کہ ہم حقیقی معنوں میں امام زماں کے خدمتگار ناصر بنیں اور ان شیعوں میں سے قرار دے جو مولاؑ عج کے ظہور کا باعث بنیں۔
آمین۔ 

والسلام

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید