سوال:
میرا سوال ھے کہ ایک مشہور خطیب نے امام زمانہ عج کی توقیع مبارک کی ایک حدیث کو بڑے غلط انداز میں ممبر سے بیان کیا۔مجھ سے پہلے میرے تمام آباو یعنی آئمہ کی گردن پر غیروں کی بیعت کا طوق تھا، انہوں نے اس کے تناظر میں یہ تک کہہ دیا کہ امام زین العابدین نے یزید کی بیعت کرلی تھی، واقع کربلا کے بعد تو اسکی وضاحت کردیں؟
جواب:
ہمارے لیے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض اہل منبر خطباء کچھ نہ کچھ حدیثیں تو یاد کر لیتے ہیں لیکن انہیں حدیث کے رجال کے اعتبار سے کہ یہ حدیث صحیح بھی ہے کہ نہیں بھی ایک تو اس پر انہوں نے کافی حد تک عبور نہیں ہوتا اور دوسرا مسئلہ جو اس سے زیادہ اہم ہے وہ فقہ الحدیث یعنی احادیث کو سمجھنا مطلب یہ ہے کہ اپ جب کوئی حدیث اٹھائیں تو اس جیسی ساری حدیثیں لیں اور پھر ان سے ایک نتیجہ لیں جسے ہم حدیث کی فیملی کہتے ہیں یعنی اسی طرح مطلب والی ساری حدیثیں زیر غور ہوں مثلا اپ نے کوئی خمس کا مسئلہ بیان کرنا ہے تو پھر اس کے متعلق جتنی احادیثیں ہو سکتی ہیں دو ڈھائی سو مختلف کتابوں سے لیں اور اپ پھر اس میں دیکھیں گے کہ اصل بات کیا ہے ۔
ایک اور چیز جو فقہ الحدیث میں ہے وہ یہ ہے کہ حدیث اپ کے عقائد سے نہ ٹکرائے عقائد چونکہ قران مجید ، متواتر صحیح احادیث اور عقل سے ہمیں حاصل ہوتے ہیں یعنی اصول دین سے نہ ٹکرائیں مثلا اگر بظاہر کوئی صحیح حدیث بھی ہو یعنی رجالی اور سند کے اعتبار سے صحیح ہو اور اور اس میں کسی معصوم کی خطاء بیان ہو نعوذ باللہ اور ہمارا عقیدہ کیا ہے کہ امام معصوم ہوتے ہیں تو ہم اس حدیث کی طرف نہیں دیکھیں گے چونکہ ہمارا عقیدہ تو قرآن مجید سے ثابت ہے نیز وہ تو عقلی مضبوط دلائل اور برہان سے ثابت ہیں پھر ہم اس روایت کو نہیں دیکھیں گے چاہے وہ جسقدر بھی صحیح ہو بلکہ اسکی توجیہ کریں گے کہ شاید یہاں کوئی اور مطلب تھا۔
اب یہ جو موصوف علامہ صاحب ہیں انہوں نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے ایک تو ان کی واقفیت ہی نہیں ہے کہ اصلا یزید ملعون آیا ہی نہیں تھا مدینہ میں۔اس پر تو علامہ مجلسی نے بھی بحارالانوار میں جب اصول کافی کی اس حدیث کی شرح تو اس میں واضح کیا یہ تو آیا ہی نہیں تھا۔
ہمارے بہت سے علماء نے اس پر گفتگو فرمائی ہے تاریخی اعتبار سے واضح ہے کہ یزید تو آیا ہی نہیں تھا مدینہ میں۔ یہ بات بنائی گئی ہے
یہ دوسری بات یہ ہے کہ خود اصول کافی ساری، ہمارے لیے صحیح نہیں ہے۔
اصول ہے کافی کا حوالہ دینا کافی نہیں ہوتا ۔اصول کافی میں جو دقیق رائے ہے ہمارے علماء حدیث کی کہ وہ نصف سے زیادہ ضعیف ہے۔
ہم احادیث کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہیں اسی لیے اصول کافی میں ہونا یا کسی اور احادیث کی کتابوں میں ہونا،کافی نہیں ہے ۔بلکہ ساری کتابوں میں دیکھنا پڑتا ہے۔ اگر اس کی کوئی اور سند بھی ہے تو ڈھونڈنی پڑتی ہے اور یہ روایت ہے بھی ضعیف اور سب سے بڑی اس کے کمزور ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ایک ایسے تاریخی مسئلے کو بیان کر رہی ہے کہ جو ہوا ہی نہیں ، ایک تو یہ ہے۔
اور جو امام زمان عج سے منسوب بات ہے اس کا مطلب کچھ اور ہے یعنی جب امام عج تشریف لاۓ گے تو وہ تقیہ نہیں کریں گے جسطرح ان کے آباؤ اجداد تقیہ کرتے تھے بلکہ امام زمانہ عج اپنے انصار کے ساتھ مل کر باقاعدہ ظالموں سے لڑیں گے ان کو کسی ظالم کا خوف نہیں ہوگا باقی آئمہ کے انصار نہیں تھے تو اصل دین کو آگے منتقل کرنے کےلیے،دین کے باقی کام کرنے کےلیے وہ تقیہ پر مجبور تھے۔ اس میں کچھ شرائط و کچھ مسائل جو ظالم حکومتیں ان پر عائد کرتی تھی ان کو قبول کر لیتے تھے لیکن یہ کہنا کہ بیعت کرنا !! یہ چیزیں ہمارے آئمہ معصوم کی شان کے خلاف ہیں اس پر اگر کوئی ٹھوس روایات اور دلائل لے آئیں گے تو ہمارے عقیدہ سے ٹکرائے گے لہذا ان چیزوں کی توجیہ ہوتی ہے ایک اور انداز سے تعبیر ہوتی ہے۔
تو یہاں اس موصوف نے بہت ہی غیر ذمہ دارانہ انداز سے ایک چیز کو بیان کیا ہے جو ہمارے عقائد کے بھی خلاف ہے اور روح تشیع کے خلاف ہے۔
*اگر ہمارے آئمہ بیعت کر لیتے تھے تو شہید کیوں ہوتے تھے*؟
*پھر ظالم حکومتیں ان کوکیوں قتل کرتی تھی یا زہر دیتی تھی*
*کیونکہ جس نے بیعت کی ہے اس کو تو کوئی خطرہ نہیں ہے یہ جو ہمارے آئمہ کی مسلسل شہادتیں ہیں یہ بتا رہی ہیں کہ یہ بیعت نہیں کرتے تھے*
بلکہ حق کے موقف پر قائم رہتے تھے اور موقف کیا تھا ظالم کے آگے نہیں جھکنا اور ظلم کے خلاف ہمیشہ تحریک چلانی ہے اس لیے حکومتیں ان سے خطرہ محسوس کرتی تھی اور چھوٹی عمر میں بعض کو نوجوانی میں ہی شہید کر دیا آئمہ کی مظلومانہ تاریخ کی طرف آپ نظر دوڑائیں.
استاد مہدویت علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم