تازہ ترین پوسٹس

مہدوی پیغامات

  مہدوی پیغامات

(استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب)

 

ہمارا فرض ہے کہ ہم مولا امام زمانہ علیہ السلام کے انتظار کو صرف ایک جذباتی کیفیت نہ بنائیں بلکہ ہر طرح کی شعوری آمادگی، عمل اور تیاری کا زمانہ قرار دیں۔

کتاب غیبت نعمانی میں ایک روایت ہے کہ

متنِ روایت:

 لَا یُعِدَّنَّ أَحَدُکُمْ لِخُرُوجِ القَائِمِ وَلَوْ سَھْمًا۔(غیبتِ نعمانی)

ترجمہ:

“تم میں سے ہر ایک کو امام قائمؑ کے ظہور کے لیے تیار رہنا چاہیے، چاہے یہ تیاری ایک تیر ہی کیوں نہ ہو۔”

 

وضاحت: یہ روایت کسی جنگی تیاری کی نہیں، بلکہ ہر فرد کو اپنی صلاحیت، مہارت اور میدان میں آمادگی کی ترغیب دے رہی ہے۔ کہ ہر شخص نے اپنے اپنے شعبے میں پوری ایمانداری اور مہارت کے ساتھ کام کرنا ہے۔ کیونکہ جب ظہور امام ہوگا تو تمام دنیا میں ہر شعبہ زندگی میں ایسے ماہر اور فعال افراد کی فوری ضرورت ہوگی کہ جو دنیا کا نظام امام مہدی علیہ السلام کی سرپرستی میں چلا سکیں۔۔ وہ وقت ایسا نہیں ہوگا کہ اس وقت انسان اپنی ٹریننگ کرے اس کے لیے ہمیں پہلے سے تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔

امامؑ عج کو صرف فوج کی ضرورت نہیں، بلکہ تعلیم، طب، میڈیا، معیشت ، سائنس ٹیکنالوجی اور دوسرے تمام شعبہ جات میں مددگار چاہیۓ ہوں گے۔

کلیدی نکتہ: امادگی + تیاری + عمل = انتظار۔

لقب “قائمؑ” اور قیام کی حکمت۔

 

“قائمؑ” کا ذکر سن کر قیام کرنا ( یعنی سر پہ ہاتھ رکھ کے کھڑے ہو جانا ) اہل تشیع کے امام مہدی علیہ السلام کیلیے عظیم ادب کی علامت ہے۔

یہ قیام صرف احترام نہیں، بلکہ ہر طرح سے آمادگی اور عملی طور پہ حمایت کا اعلان ہے۔ یہ عمل روحانی طور ہہ اس نکتے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ جیسے ہی مومن صدائے ظہور سنے گا وہ فورا کھڑے ہو کر اپنے امام کو لبیک کہے اور امام کی نصرت کے لیے نکل کھڑا ہو

آیت اللہ طالقانیؒ کہتے ہیں”یہ قیام امامؑ کی تحریک کے لیے عملی حمایت کا اظہار ہے”۔

 

 ایک غلط تصور

جب امام علیہ السلام کا ظہور ہوگا تو اللہ تعالی معجزے سے سب کچھ خود بخود ٹھیک کر دے گا، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک غلط تصور ہے جبکہ قران کہتا ہے کہ

: “إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ”(سورۃ الرعد، آیت 11)

 

مفہوم

اللہ کسی قوم کی حالت اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔

نتیجہ: ظہور کے لیے ہر محب اہلبیت کو اور ہر منتظر امام کو حتما عمل، قربانی اور اجتماعی اصلاح میں شریک ہونا ہوگا۔ ہمارے پانچویں مولا سے ایک راوی نے سوال کیا کہ”لوگ کہتے ہیں جب امام مہدیؑ آئیں گے تو سب کچھ خودبخود بہتر ہو جائے گا، خونریزی نہیں ہوگی۔” جوابِ امام محمد باقر علیہ السلام: “کلا، واللہ! ما یکون ذٰلک حتی تمسحوا العرق والدم، حتی یمسح العرق والدم“(بحارالانوار، ج52)۔

ترجمہ: “ہرگز نہیں! خدا کی قسم، جب تک تم اور ہم خون و پسینے میں نہ ڈوبیں، کچھ بھی خودبخود ٹھیک نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو یہ سب رسول اللہؐ ص کے لیے ہوتا۔”

کتنا واضح پیغام ہے کہ اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ معجزے کے ذریعے اپنا دین رائج کرنا چاہتا، توحید اور احکام الہی کا نفاذ معجزے کے ذریعے کرنا ہوتا تو اللہ تعالی یہ سب سے پہلے اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے کرتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تاجدار رسل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تبلیغ اسلام کے لیے کتنی مشکلیں سہیں، کتنی تکالیف برداشت کیں اور کتنے صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے مسلسل جدوجہد کی، تب کہیں جا کر ایک اسلامی معاشرہ قائم ہوا تھا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر تبدیلی قربانی چاہتی ہے جیسے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت کے قیام میں کتنے جانثاروں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

اسی طرح امام مہدیؑ عج کے عالمی انقلاب میں بھی عمل و حرکت اور جہاد و قربانی کی ضرورت ہوگی۔

حقیقی انتظار کا مطلب یہ ہے کہ ظہور امام اور سلامتی امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ: 1_مسلسل تیاری 2_ اصلاحِ نفس و معاشرہ 3_ عملی جدوجہد 3_ قربانی و ایثار پہ امادگی۔  یہ سب بہت ضروری ہیں۔

احادیث معصومین علیہم السلام میں حقیقی منتظرین کو رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کے مجاہدین کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ گویا کہ جس طرح اس دور میں اسلام پھیلانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار نے اپنے گھر چھوڑے تھے، ہجرت کی تھی، تکلیفیں سہی تھیں، جان و مال کی قربانیاں پیش کی تھیں، تب کہیں جا کے ایک اسلامی مملکت قائم ہوئی تھی۔ تو اسی طرح حقیقی منتظر جو آج ان سب باتوں کے لیے امادہ ہے، ان قربانیوں کے لیے آمادہ ہے، جب وہ یہ سب قربانیاں دے گا تب اس کا رتبہ بھی رسول اللہ کے دور کے مجاہدین کے برابر ہی ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کی توفیقات خیر میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں اپنے وقت کے امام ع کے ظہور کے لیے زمینہ سازی کرنے والوں میں قرار دے الہی آمین ثم آمین۔

والسلام

عالمی مرکز مہدویت_قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *