تمہیدی گفتگو
انسانی تاریخ میں علم، عقل، صنعت اور تمدن نے بے مثال ترقی کی ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی اور اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: کیا صرف مادی ترقی ہی انسانیت کی حقیقی سعادت اور کامیابی ہے؟اگر انسان پوری کائنات کو مسخر بھی کر لے، مگر اپنے نفس، اپنی خواہشات اور اپنے اعمال پر قابو نہ پا سکے، تو اس کی یہی علمی ترقی سعادت کی بجائے اس کی تباہی و بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ علم، عقل اور تمدن انتہائی ضروری ہیں، لیکن انسان ان میں سے کسی ایک کے ذریعے بھی دین اور قرآنِ مجید کی ہدایت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔
نکتہ 1: قرآن سے دوری ہی زوال کا اصل سبب ہےاگر قرآن سے دوری اختیار کی جائے گی تو اس کا نتیجہ صرف اور صرف تنزل اور زوال ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر فکری، اخلاقی اور تمدنی اعتبار سے زوال اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے قرآن کریم کی خالص تعلیمات کو چھوڑ کر غیر اسلامی فلسفوں اور افکار کو اپنایا۔ ارشادِ باری تعالی: وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ (اور بیشک یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو، ورنہ وہ تمہیں اس کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ — سورہ انعام، آیت 153)
نکتہ 2: مادی ترقی حقیقی سعادت نہیں ہےآج دنیا نے علم، طب، صنعت اور قدرتی وسائل میں بے مثال ترقی کر کے عظیم طاقت حاصل کر لی ہے، لیکن اس کے باوجود نہ جنگیں ختم ہوئیں، نہ ظلم کا خاتمہ ہوا، نہ اخلاقی بحران حل ہوا، اور نہ ہی انسان کا اضطراب و بے سکونی دور ہوئی۔ قرآنِ مجید کا اہم اشارہ: وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔) اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دنیاوی علم یا ترقی کا کوئی فائدہ نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان صرف مادی ترقی کو اپنی حتمی سعادت نہ سمجھے۔ اسلام نے دنیا کو ترک کرنے کی اجازت نہیں دی، بلکہ دنیا کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنانے کی تعلیم دی ہے۔
ارشادِ الٰہی: وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنَسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا (اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کے گھر کو تلاش کرو اور دنیا میں سے اپنا حصہ نہ بھولو۔ — سورہ قصص، آیت 77)
نکتہ 3: علم کیا دیتا ہے اور دین کیا فراہم کرتا ہے؟مغرب کے معروف مفکر ڈاکٹر الیکسس کاریل (Alexis Carrel)لکھتے ہیں کہ علم ہمیں کائنات اور موجودات (مخلوقات) کی موجودہ حالت کے بارے میں بتاتا ہے، یعنی جو کچھ ہے اس کی معلومات دیتا ہے۔ جبکہ دین اور وحیہمیں یہ راستہ دکھاتی ہے کہ کیا ہونا چاہیے علمبتاتا ہے کہ کیا ہے؛ دینبتاتا ہے کہ کیا ہونا چاہیے۔ علمانسان کو طاقت دیتا ہے؛ دیناس طاقت کے درست استعمال کا معیار قائم کرتا ہے۔ علمانسان کو کائنات پر تصرف کی صلاحیت دیتا ہے؛ دینانسان کو اپنے نفس پر تصرف کا شعور عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید علم کی نفی نہیں کرتا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے: ارشادِ الٰہی: وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا (اور کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔ — سورہ طہ، آیت 114مسئلہ علم کا نہیں، بلکہ اس کے صحیح استعمال کا ہے۔
نکتہ 4: اسلام میں عقل کا مقاماسلام اور عقل ایک دوسرے کے مخالف یا دشمن نہیں ہیں۔ قرآن کریم انسان کو تفکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ الٰہی: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ (بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کے بدلنے میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ — سورہ آلِ عمران، آیت 190) اور بارہا فرمایا: لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ(تاکہ تم عقل سے کام لو)۔ اسلامی فکر میں عقل اور وحی متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ فرمانِ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام:عقل سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں، تفکر جیسا کوئی علم نہیں، اور علم جیسی کوئی شرافت نہیں।
نکتہ 5: عقل کو وحی سے جدا کرنے کا انجاماسلام عقل کو استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے، لیکن عقل وحی سے بے نیاز نہیں ہو سکتی، کیونکہ انسان کا علم محدود ہے۔ عقل تجربے اور مشاہدے سے بہت کچھ دریافت تو کر سکتی ہے، مگر درج ذیل حقائق تک اکیلی نہیں پہنچ سکتی:
آخرت کی حقیقت کا علممقصدِ حیات اور خدا سے تعلق کا درست طریقہحلال و حرام کے قطعی اصولاخلاقی زندگی کی حتمی بنیادیںآج کی دنیا ٹیکنالوجی میں تندتر ہے مگر اخلاقی زوال، بے رحمی، اور ظلم و استحصال کا شکار ہے۔ قرآن کا فرمان: وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (اور تمہیں علم میں سے بہت کم دیا گیا ہے۔ — سورہ اسراء، آیت 85) یہ آیت علم کی نفی نہیں کرتی، بلکہ انسان کو اس کے علمی حدود کا شعور دیتی ہے۔
نکتہ 6: علم اگر عمل نہ بنے تو ناقص ہےصرف علم ہونا ہی انسان کی سعادت کے لیے کافی نہیں، علم کو عمل اور اخلاق میں تبدیل ہونا چاہیے۔ فرمانِ امیر المؤمنین علی علیہ السلام:اپنے علم کو جہالت اور اپنے یقین کو شک نہ بناؤ؛ جب علم حاصل ہو جائے تو عمل کرو اور جب یقین حاصل ہو جائے تو آگے بڑھو۔ نیز فرمایاسب سے پست علم وہ ہے جو صرف زبان پر ٹھہر جائے، اور سب سے بلند علم وہ ہے جو انسان کے اعضا و جوارح سے ظاہر ہو۔
نکتہ 7: نفس پر کنٹرول ہی حقیقی کامیابی ہےقرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ زلیخا کے پاس دنیا کا سب کچھ تھا لیکن اپنے نفس پر قابو نہیں تھا، لہٰذا وہ ذلیل ہوئی۔ جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس ظاہری کچھ نہ تھا، مگر نفس پر کنٹرول کی وجہ سے انہوں نے عظیم عزت پائی۔ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ ہر خواہش پوری ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ انسان جانے کہ اسے کیا چاہنا چاہیے۔ قرآن اسے تزکیہ نفسقرار دیتا ہے۔ ارشادِ الٰہی: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا (یقیناً وہی کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاکیزہ کیا، اور وہی ناکام ہوا جس نے اسے آلودہ کیا۔ — سورہ شمس، آیات 9-10)
نکتہ 8: اندرونی دنیا پر فتح ہی اصل ترقی ہےل علم انسان کو فطرت پر مسلط کرتا ہے، جبکہ دین انسان کو اس کے اپنے نفس پر مسلط کرتا ہے۔ اگر انسان سمندر کی گہرائیوں تک پہنچ جائے، خلا کو مسخر کر لے اور بیماریوں کا علاج ڈھونڈ لے، لیکن اپنے غصے، حرص، شہوت، تکبر اور ظلم پر قابو نہ پا سکے تو اس کی یہ بیرونی ترقی اندرونی شکست کو نہیں چھپا سکتی۔ امیر المؤمنین علیہ السلام کا فرمان:تفکر جیسا کوئی علم نہیں… (یعنی غور و فکر کرو کہ تم کیا کر رہے ہو)۔
نکتہ 9: علم، اخلاق اور تقویٰقرآن و حدیث جہاں علم کا ذکر کرتے ہیں، وہاں اس کے ساتھ اخلاق اور تقویٰ کا ذکر لازمی فرماتے ہیں۔ علم اگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ ایک خطرناک اور تباہ کن ہتھیار بن جاتا ہے۔
نکتہ 10: ہدایت اور کامیابی کا اصل مرجع — قرآن کریمان تمام چیزوں کو حاصل کرنے کا واحد سرچشمہ قرآن کریم ہے۔ قرآن محض معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ تزکیہ، علم اور ہدایت کا ایک جامع نظام ہے۔ ارشادِ الٰہی: إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ (بیشک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ درست ہے۔ — سورہ اسراء، آیت 9) قرآن فکر کو درست کرتا ہے، عقیدے کو نکھارتا ہے، نفس اور معاشرے کی اصلاح کرتا ہے اور دنیا و آخرت کی سعادت دکھاتا ہے۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا فرمان:قرآن میں آئندہ امور کی معرفت، گزشتہ اقوام کے واقعات، اور انسان کی روحانی بیماریوں کا علاج موجود ہے۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی اور علم کے سرچشموں کا نام ہے۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ علم اور عقل کو چھوڑ کر صرف مذہب اختیار کیا جائے، بلکہ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ: علم اور عقل ضروری ہیںلیکن انہیں وحی (قرآن) اور اخلاق کی رہنمائی درکار ہے۔ اگر علم ہو اور اخلاق نہ ہو، تو علم خطرناک طاقتبن جاتا ہے۔ اگر عقل ہو اور وحی نہ ہو، تو انسان اپنی محدود عقل کو حتمی معیار سمجھ کر گمراہہو جاتا ہے۔ اگر مذہب کا نام ہو مگر علم و عقل نہ ہو، تو مذہب محض ایک رسمبن کر رہ جاتا ہے۔ جب قرآن، علم، عقل، تزکیہ نفس اور اخلاق ایک ساتھ جمع ہو جائیں، تب ہی انسان کو حقیقی اور ابدی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں علم و عقل کے ساتھ قرآن کی سچی ہدایت اور اپنے نفس پر قابو پانے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں امامِ زمانہ (عج) کے حقیقی منتظرین اور مددگاروں میں شامل فرما۔
آمین یا رب العالمین
از قلم سیدہ عالیہ شیرازی