سلسلہ سو سوال و جواب
پانچواں سوال اور جواب
قرآن کی رو سے انسانوں کی تخلیق اور پھر ان کے اندر ارتقاء
استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
انسانوں کی تخلیق اور پھر ان کے اندر ارتقاء، یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پر سائنسدانوں، فلسفیوں اور آسمانی دین والوں کے درمیان ہمیشہ گفتگو رہی ہے۔
سائنس
سائنس اسے حیاتیات میں بیان کرتی ہے۔ یعنی! انسان کسی ایک چیز سے منظم انداز سے کامل ہوتا ہوا اور ارتقاء ہوتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔ یعنی انسان شروع سے انسان نہیں تھا۔
چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقاء: وہ کہتا ہے کہ:
تمام جاندار جس میں انسان اور حیوان ہیں۔ ان کا پیچھے سے سرچشمہ ایک ذرہ تھا جو ارتقاء پایا اور انسان بھی ایک حیوان سے ارتقاء پایا مثلاً بندر کو بعنوان مثال پیش کرتے ہیں کہ بندر کی ارتقائی شکل انسان ہے۔
یہ ایک عجیب بات ہے۔ کہ جو ہم جدید دور میں دیکھ رہے ہیں۔
البتہ یہاں فلفسفی اور دینی لوگ اس کو رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں آپ کی بات پر کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ کوئی ایسا تجربہ ہمارے سامنے موجود نہیں ہے کہ ہم کسی حیوان سے کسی انسان کو ارتقائی شکل میں ہوتا ہوا دیکھیں۔ کوی چیز ایسی نہ دیکھی گئی نہ سنی گئی اور آپ کا نظریہ صرف گمان ہے۔
سوال
اگر ہم اس کو مان بھی لیں تو یہ بتائیں کہ انسان میں یہ روح، شعور، اخلاق کے یہ رنگ کہاں سے آئے ہیں کہ جو حیوانات میں نہیں ہیں اور اس سے بڑھ کر اگر ہم کہیں کہ انسان فقط حیوانی ارتقاء کا نتیجہ ہے تو پھر وحی، نبوت، اخلاقیات ان چیزوں کی تو کوئی وجہ رہتی ہی نہیں ہے۔
قرآن مجید انسان کے بارے میں بیان کرتا ہے۔ سورہ سجدہ:
اَلَّـذِىٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَىْءٍ خَلَقَهٝ ۖ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ (7)
جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی، اور انسان کی پیدائش مٹی سے شروع کی۔
اب یہاں یہ آیت بیان کرتی ہے کہ انسان کا جو آغاز ہے وہ مٹی سے ہے۔
جیسے ڈارون کہتا ہے کہ انسان حیوان سے ہے لیکن! قرآن کہتا ہے کہ انسان کسی حیوانی نسل سے نہی نہیں ہے بلکہ مٹی سے براہ راست بنا ہے۔
سورہ آل عمران 59:
اِنَّ مَثَلَ عِيسٰى عِنْدَ اللّـٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۖ خَلَقَهٝ مِنْ تُرَابٍ ثُـمَّ قَالَ لَـهٝ كُنْ فَيَكُـوْنُ (59)
بے شک عیسٰی کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے، اسے مٹی سے بنایا پھر اسے کہا کہ ہو جا پھر ہو گیا۔
اب یہاں اللہ تعالیٰ براہ راست حضرت آدمؑ کی خلقت کو بیان کر رہا ہے کہ خدا نے براہ راست حضرت آدمؑ کو مٹی سے خلق کیا۔ یعنی کوئی ارتقائی سلسلہ نظر نہیں آرہا۔
پھر قرآن مجید ایک اور مقام پر سورہ مومنون میں فرما رہا ہے کہ:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلَالَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ (12)
اور البتہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔
یعنی انسان کی جو مادی، جسمانی ترکیب مٹی سے ہی ہے اگرچہ انسان کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ بلند ہے۔
اب ظاہر ہے کہ شروع کا انسان تو مٹی سے ہی پیدا ہوا جیسا کہ ہمارے جد حضرت آدمؑ ۔ لیکن! اس کے بعد جو اگلا سلسلہ ہے اس کو قرآن مادہ منی سے بیان کر رہا ہے۔
سورہ السجدہ میں فرما رہا ہے کہ:
ثُـمَّ جَعَلَ نَسْلَـهٝ مِنْ سُلَالَـةٍ مِّنْ مَّـآءٍ مَّهِيْنٍ (8)
پھر اس کی اولاد نچڑے ہوئے حقیر پانی سے بنائی۔
اب یہاں اس خاص پانی کا ذکر ہو رہا ہے کہ جس سے انسانی نسل آگے بڑھی، سورہ المومنون میں پروردگار فرما رہا ہے کہ:
ثُـمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِىْ قَـرَارٍ مَّكِـيْـنٍ (13)
پھر ہم نے اسے حفاظت کی جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا۔
اب یہاں پروردگار مٹی سے انسانی تخلیق اور پھر اسے نطفے کی شکل میں انسانی رحموں میں بیان کر رہا ہے۔
پروردگار سورہ مومنون میں اگلی شکل بھی بیان کرتا ہے:
ثُـمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ۖ ثُـمَّ اَنْشَاْنَاهُ خَلْقًا اٰخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللّـٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ (14)
پھر ہم نے نطفہ کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے لوتھڑے سے گوشت کی بوٹی بنائی پھر ہم نے اس بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے ایک نئی صورت میں بنا دیا، سو اللہ بڑی برکت والا سب سے بہتر بنانے والا ہے۔
پھر پروردگار سورہ الحجر 29 میں فرماتا ہے کہ:
فَاِذَا سَوَّيْتُهٝ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِىْ
پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں۔
اور یہ روح کا مقام اتنا بلند ہے کہ پھر یہاں فرشتوں کو حکم ہوتا ہے کہ سجدہ کریں۔
فَقَعُوْا لَـهٝ سَاجِدِيْنَ (29)
تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا۔
پروردگار فرما رہا ہے کہ پھر تم اس (آدمؑ) کے آگے سجدہ کرنا۔
یہ روح کا پھونکا جانا اور فرشتوں کا سجدہ کرنا :
یہ آیت اصل عظمت روح کو بیان کر رہی ہے کہ جس سے انسان تمام حیوانات سے بلند ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ کئی مقامات پر بیان کرتا ہے کہ میں نے انسان کو کیوں تخلیق کیا؟؟
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (56)
اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے۔
سورہ الذاریات: یعنی انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت اور معرفت کے لیے پیدا کیا۔
پروردگار خود تخلیق انسان بھی بیان کر رہا ہے اور خود فلسفہ تخلیق بھی بیان کر رہا ہے۔
ہمارے جدید علوم اور سائنس ہوسکتا ہے کہ یہ تو بیان کریں کہ تخلیق کیسےہوئی لیکن! تخلیق کیوں ہوئی، اس کو یہ بیان نہیں کرتے اور یہ فلسفہ تخلیق کو بیان نہیں کرتے۔
یہ قرآن ہے، یہ دین ہے جو یہ کہتا ہے کہ یہ انسان ہے، یہ حیوان نہیں بلکہ اس زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے اور یہ زمین انسان کا نقطہ آغاز ہے اور اس انسان نے کئی جہانوں کا سفر کرنا ہے۔ اور ابدی زندگی پانی ہے۔
یہ چیز نہ تو سائنس بیان کر سکتی ہے اور نہ ہی قدیم فلسفہ بیان کر سکتا ہے۔ تو بس یہاں واضح ہوا سائنس یا ڈارون جیسے اشخاص یہ نظریہ تو دے رہے ہیں کہ انسان شائد حیوان کا ارتقائی عمل ہے۔ لیکن ان کے پاس بھی کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا تجربہ ہے۔ اور اس کے مدمقابل خالق اکبر نے ادیان میں اور کتاب میں پوری کہانی بیان کی ہے اور واضح کیا ہے کہ:
میں (اللہ) ہوں جس نے مٹی سے براہ راست پیدا کیا اور پھر تمھارا ظاہری ڈھانچہ اور پھر جو اس کے اندر عظمت ہے یعنی! روح میں نے خود براہ راست ڈالی کہ جس کا تعلق مٹی سے بھی نہیں ہے۔
یہاں سے معلوم ہوتا ہے انسان کیوں خلیفۃ اللہ ہے کیونکہ اس کے اندر روحِ پروردگار ہے۔ اور یہ علیحدہ بات ہے کہ ہم گناہ کرنے سے اور اپنے برے اعمال سے اور اللہ کو ناراض کرنے سے وہ تقدس اور عظمتِ روح کھو دیتے ہیں اور حیوانوں سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں لیکن! اگر خدا کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں تو یہی روح ہمیں عظمت کے بلند مقامات پر پہنچاتی ہے اور اسی روح کی بدولت انسان نبؑی اور امامؑ بنتا ہے اور اتنی ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ اس کی اور بھی ترقی کے سفر ہیں کہ جو ہماری اس وقت فکر سے بالا ہیں۔
پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم ان ساری چیزوں سے حقائق کو سمجھیں اور اپنی تخلیق اور بلخصوص اس کے ہدف پر غور و فکر کریں ۔انشاءاللہ ۔
والسلام
عالمی مرکز مہدویت_قم