تازہ ترین پوسٹس

عصر ظہور _ درس دوم

موضوع:عصر ظہور

درس دوم

شیعہ و سنی رو سے عصر ظہور کی اجمالی تصویر۔

عصر ظہور اور عقیدۂ مہدویت کی اہمیت

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عقیدۂ مہدویت اسلامی عقائد میں ایک نہایت بنیادی اور مشترک عقیدہ ہے، جس پر شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر کا اتفاق پایا جاتا ہے۔  عصرِ ظہور اور امام مہدیؑ کی آمد کی بشارتیں صدرِ اسلام ہی سے چلی آ رہی ہیں جو نہ صرف مکتبِ تشیع بلکہ اہلِ سنت کی معتبر کتبِ حدیث میں بھی کثرت سے موجود ہیں۔ یہ عقیدہ امتِ مسلمہ کے لیے امید، عدل اور نجات کی علامت ہے۔

 

احادیثِ نبویؐ میں امام مہدیؑ کا تذکرہ

نبی کریم ﷺ سے متعدد صحیح اور مشہور احادیث مروی ہیں جن میں امام مہدیؑ کے ظہور کی خبر دی گئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ آپؐ کے بعد بارہ امام ہوں گے، جن میں سب سے پہلے امیرالمؤمنین علیؑ اور آخری امام قائمؑ ہوں گے جن کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ مشرق و مغرب کو فتح کرے گا۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو طویل کر دے گا، یہاں تک کہ ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔

یہ احادیث اہلِ سنت کی کتب جیسے مسند احمد بن حنبل، مستدرک حاکم نیشاپوری، صحیح مسلم اور دیگر معتبر مصادر میں بھی نقل ہوئی ہیں۔

 

عقیدۂ مہدویت: شیعہ و سنی کا مشترکہ نظریہ ہے

علمائے اہلِ سنت اور شیعہ اس بات پر متفق ہیں کہ امام مہدیؑ آخر الزمان میں قیام کریں گے اور ایک عالمی عادلانہ حکومت قائم کریں گے۔

آیت اللہ صافی گلپایگانی نے اپنی کتاب امامت و مہدویت میں نقل کیا ہے کہ اہلِ سنت کے علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام مہدیؑ کا ظہور ایک قطعی حقیقت ہے۔ مشہور سنی عالم ابن حجر ھیثمی لکھتے ہیں کہ امام مہدیؑ پر ایمان صحیح احادیث کی بنا پر لازم ہے، اور انہی کے زمانے میں حضرت عیسیٰؑ کا نزول اور دجال کا خاتمہ ہوگا۔

 

امام مہدیؑ کا نسب اور اہلِ بیتؑ سے تعلق

شیعہ اور سنی روایات کے مطابق امام مہدیؑ کا نسب رسول اللہ ﷺ سے ملتا ہے، آپؐ نے فرمایا کہ مہدیؑ میرے خاندان سے ہوں گے، میری بیٹی فاطمہؑ کی اولاد سے ہوں گے اور حضرت امام حسینؑ کی نسل سے ہوں گے۔

یہ روایات اہلِ سنت کی متعدد کتب میں بھی موجود ہیں جو اس عقیدے کے مشترک ہونے کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

 

حضرت عیسیٰؑ کا نزول اور امام مہدیؑ کی اقتداء

اہلِ سنت اور شیعہ دونوں کے نزدیک یہ مسلم عقیدہ ہے کہ امام مہدیؑ کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰؑ نزول فرمائیں گے اور امام مہدیؑ کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ جلال الدین سیوطی سمیت متعدد سنی علما نے اس موضوع پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔

یہ واقعہ امام مہدیؑ کی عالمی امامت اور روحانی عظمت کی واضح دلیل ہے۔

 

عصرِ ظہور میں عدل، سخاوت اور عالمی حکومت

روایات کے مطابق امام مہدیؑ کے دور میں زمین اپنے خزانے ظاہر کرے گی، نعمتیں عام ہوں گی اور عدل و انصاف اس قدر رائج ہوگا کہ ظلم کا نام و نشان مٹ جائے گا، لوگ بے مثال آسودگی اور امن محسوس کریں گے، حتیٰ کہ حیوانات اور نباتات میں بھی برکت ہوگی۔

پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ امام مہدیؑ پوری دنیا پر حکومت کریں گے، کفر کو شکست دیں گے اور توحیدِ الٰہی کا پیغام پوری زمین پر غالب ہوگا۔

 

حکومتِ مہدیؑ کی مدت اور بعد کا نظام

بعض اہل سنت کی روایات میں امام مہدیؑ کی حکومت کی مدت سات سال بیان ہوئی ہے، جبکہ مکتبِ تشیع میں اس کی تشریح ستر سال سے کی جاتی ہے۔ یعنی امام مہدیؑ کا ایک سال عام انسانوں کے دس سال کے برابر ہوگا۔

حضرت عیسیٰؑ کی وفات امام مہدیؑ کی زندگی میں ہوگی اور اس کے بعد حکومت اہلِ بیتؑ کے مخصوص افراد یا رجعت کرنے والے ائمہؑ کے ذریعے جاری رہے گی حتیٰ کہ قیامت قائم ہو جائے۔

 

ماحصل : مہدویت امتِ مسلمہ کا متفقہ سرمایہ ہے

ان تمام دلائل، احادیث اور اقوالِ علما سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عقیدۂ مہدویت کوئی فرقہ وارانہ نظریہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ عقیدہ ہے۔

امام مہدیؑ کا ظہور، ان کی عالمی عادلانہ حکومت، حضرت عیسیٰؑ کا نزول اور دنیا میں توحید و عدل کا غلبہ۔ یہ سب ایسے حقائق ہیں جن پر شیعہ اور سنی دونوں کا ایمان ہے۔

عصرِ ظہور دراصل انسانیت کے لیے عدل، امن، آسودگی اور ہدایت کا آخری عظیم دور ہوگا جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے فرمایا ہے۔

 

دعا ہے کہ پروردگار ہمارے وقت کے امام کے ظہور میں تعجیل و اسانی عطا فرمائے اور ہماری انکھوں کو عصر ظہور کی خوشیوں سے روشن کرے الٰہی آمین ثم امین۔ اللھم عجل لولیک الفرج

والسلام علیکم

عالمی مرکز مہدویت_قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *