بسمِ اللہِ الرحمٰنِ الرحیم
موضوع: عصر ظہور
استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب
اس درس میں استاد صاحب نے عصر ظہور کی خوبصورتی اور اس کی تیاری پہ روشنی ڈالی۔
درس کے آغاز میں
سورة النور۔ آیت نمبر 55 کا حوالہ پیش کیا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡۖ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا ؕ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا ؕ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۞
ترجمہ: جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو زمین کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے (اور) میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بد کردار ہیں۔
اس آیت میں پروردگار واضح طور پر اعلان کر رہا ہے کہ ایک دور ایسا آئے گا جب اس کرہ ارض پہ الہی حکومت قائم ہو گی اور نیک لوگوں ( امامت) گی حکمرانی ہوگی۔ اس دور کی زمینہ سازی کیلئے ایک مومن کو، منتظرین امام کو کیا عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
عصرِ ظہور عملی زندگی میں تبدیلی اور انفرادی و اجتماعی اصلاح کی ضرورت۔ امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عالمی عادلانہ حکومت کی تیاری یا عصرِ ظہور کی تیاری محض ایک عقیدے یا انتظار کا نام نہیں بلکہ یہ اپنی ذات، گھر، معاشرہ اور فکر میں مسلسل اور بامقصد اصلاح کا تقاضا کرتی ہے۔ امامِ زمانہ(عج) کی حکومت عدل، امن، علم اور عوامی خوشحالی پر قائم ہوگی اور اس حکومت کا حصہ بننے کے لیے ہمیں آج سے اپنے کردار کو اس معیار کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
عصرِ ظہور کی تیاری
ذیل میں عصر ظہور کی تیاری کیلیے کچھ عملی رہنما نکات بیان کیے گیۓ ہیں۔
عملِ صالح اور ایمان کی پختگی (کردار سازی)
خوفِ خدا اور تقویٰ: زندگی کے ہر فیصلے میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا ہر لمحہ یہ خیال رکھنا کہ حضور الہی میں موجود ہیں۔ کہیں کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو جاے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب بنے اور مجھے خدا سے دور کر دے، یہی تقویٰ ہے جو انسان کو لغزش سے بچاتا ہے۔
گناہوں سے دوری: صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچنے کے لیے روزانہ محاسبۂ نفس کریں، کیا آج میرے قول یا فعل سے کسی کو نقصان تو نہیں پہنچا؟
خلوصِ نیت:عبادت ہو یا دنیاوی ذمہ داریاں، ہر عمل کو ریاکاری اور شرک سے پاک رکھ کر صرف اللہ کی رضا کے لیے انجام دینے کی نیت رکھیں۔
معرفتِ امام(عج) اور قلبی تعلق
شعوری وابستگی: امام عج کا نام جاننا کافی نہیں؛ ان کے مشن، اہداف اور تعلیمات کا گہرا مطالعہ ضروری ہے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ امام عج ہم سے کیا چاہتے ہیں، اپنی زندگی کو امام کی پسند میں ڈھالنے کی کوشش کرتے رہیں، اگر کوئی کام مشکل لگے تو امام زمانہ علیہ السلام سے مدد مانگیں کہ مولا یہ میرا نیک ارادہ ہے اور یہ کام مجھ سے نہیں ہو رہا اپ ہی اس معاملے میں میری مدد فرمائیں۔
دعاوں کا مفہوم سمجھیں: دعائے عہد، دعائے توسل اور دیگر ادعیہ کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ان میں کیے گئے عہدِ نصرت اور وفاداری کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔
معاشرتی عدل اور انسانی حقوق (حقوق العباد)
عدل و انصاف کا قیام: گھر، خاندان، تعلیم گاہ اور کام کی جگہ، ہر سطح پر انصاف کو اپنا شعار بنائیں اور کسی کی حق تلفی نہ کریں۔
خوف و ہراس کا خاتمہ: اپنی زبان اور عمل سے دوسروں کے لیے تحفظ اور اطمینان کا سبب بنیں تاکہ لوگ آپ کے شر سے محفوظ رہیں۔
قول معصوم ہے کہ مومن وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ لہذا حسن کلام، خوش اخلاقی اور عملی طور پہ ایسا رویہ رکھیں کہ لوگ آپکی موجودگی سے سکون اطمینان محسوس کریں، ناکہ خوف اور ٹینشن میں رہیں۔خدمتِ خلق: ضرورت مندوں کی مدد اور معاشرتی فلاح میں حصہ لینا، کیونکہ امام عج کی حکومت کی بنیاد عوامی خوشحالی ہے۔
علمی، سائنسی اور طبی میدان میں جستجو
حصولِ علم: عصرِ ظہور علم و ٹیکنالوجی کے عروج کا دور ہوگا؛ اس لیے مسلمانوں کو جدید علوم، بالخصوص سائنس اور طب میں مہارت حاصل کرنی چاہیے تاکہ عالمی سطح پر اسلام کی خدمت اور انسانیت کی بھلائی ممکن ہو۔
صحت مند طرزِ زندگی: ہمیں چاہیے کہ اپنے جسم اور روح کی حفاظت کریں، تندرست جسم کیلئے صحت مندانہ طرز زندگی اپنائیں اور روحانی صحت و ترقی کیلیے گناہوں سے بچیں تاکہ ظہور کے وقت ہم جسمانی و ذہنی طور پر توانا ہو کر امام عج کی خدمت کے لیے تیار ہوں۔
اجتماعی تیاری (صالح معاشرے کی تشکیل)
نیکی کی دعوت: اپنے اردگرد کے لوگوں کو عملِ صالح کی ترغیب دیں اور ایک صالح معاشرہ، ایک مہدوی ماحول کی تشکیل میں حصہ لیں جو امام عج کے مشن میں مددگار بن سکے۔
استقامت اور امید: فتنوں اور آزمائشوں میں ایمان پر ثابت قدم رہیں، مایوسی کے بجائے امیدِ ظہور کے ساتھ متحرک اور باعمل رہیں۔
حاصل کلام
اگر ہم ظہور کے بعد کی برکتوں اور امن کے خواہاں ہیں، تو ہمیں آج ہی اپنی ذات اور اپنے گھر کو عدل و انصاف اور اطاعتِ الٰہی کا نمونہ بنانا ہوگا۔ یہی حقیقی انتظار ہے، اور یہی امامِ زمانہ(عج) کی نصرت کا راستہ ہے ۔
بارِ الٰہا ہمیں ان عملی تبدیلیوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرما جو تیرے ولی، امامِ زمانہ (عج) کی خوشنودی کا باعث بنیں۔
الٰہی آمین یا ربّ العالمین۔ اللھم عجل لولیک الفرج۔
والسلام
عالمی مرکز مہدویت۔قم