تازہ ترین پوسٹس

سلسلۂ دروسِ امامت_ درس 6_عصمت پر مزید اقوال اور سوالات

درس امامت:6

عصمت پر مزید اقوال اور سوالات

استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمہید:بحثِ امامت میں ہمارا موضوع عصمت ہے، جو امام کے لیے اسی طرح ضروری ہے جیسے نبی کے لیے۔ عصمت نہ ہو تو امام پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اگر امام غلطی کر سکتا ہو تو اس کی بات میں جھوٹ یا خطا کا احتمال باقی رہے گا۔ لہٰذا، جس طرح نبی معصوم ہوتا ہے، اسی طرح امام بھی معصوم ہونا چاہیے۔

اس درس میں ہم عصمت کےبارے  مختلف نظریات، اس پر اعتراضات اور اس کے فلسفے کو مختصر بیان کریں گے۔

عصمت کے بارے میں بنیادی سوالات:

1۔ عصمت کی تعریف اور اس کا مفہوم

سوال: عصمت کیا ہے اور ہم اسے نبی یا امام میں کیسے تصور کر سکتے ہیں؟

جواب:عصمت کا مطلب یہ ہے کہ انسان گناہ اور خطا سے مکمل طور پر محفوظ ہو۔ مختلف مکاتب فکر نے عصمت کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے، جنہیں تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

پہلا نظریہ: امام اور نبی مجبور ہوتے ہیں

یہ نظریہ کہتا ہے کہ نبی اور امام معصیت کر ہی نہیں سکتے، کیونکہ اللہ نے ان کی روح میں ایسا اثر پیدا کیا ہے کہ وہ اطاعت کو ترک نہیں کر سکتے اور گناہ کے قریب نہیں جا سکتے۔

یہ نظریہ) ملائکہ (فرشتوں کے بارے میں درست ہو سکتا ہے، کیونکہ ملائکہ میں  ہوائے نفس( خواہشات( نہیں ہوتی، لیکن انسان کے لیے یہ نظریہ درست نہیں۔

ابلیس کا قصہ اور اسباق

قرآن میں واضح ہے کہ ابلیس، فرشتوں میں سے نہیں تھا بلکہ جنات میں سے تھا) سورہ کہف ( 50

ابلیس نے ہزاروں سال عبادت کی، لیکن تکبر میں آ کر اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور گمراہ ہو گیا۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:صرف عبادت کافی نہیں، بلکہ معرفت اور توحید پر مضبوط یقین ضروری ہے۔

انسان کو ہمیشہ اپنی اصلاح کرتے رہنا چاہیے، کیونکہ نفس بہت چالاک ہوتا ہے اور عبادت کے باوجود تکبر میں ڈال

سکتا ہے۔عبادت پر غرور نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہمیشہ اللہ کی رضا اور ہدایت کے طلبگار رہنا چاہیے۔

دوسرا نظریہ: امام اور نبی اختیار رکھتے ہیں لیکن عنایت الہی سے  گناہ نہیں کرتے

اس نظریے کے مطابق، امام اور نبی گناہ کرنے پر قدرت رکھتے ہیں لیکن عنایت الہی سے گناہ نہیں کرتے۔

عصمت اور معرفتِ الٰہی

انبیاء اور آئمہ اللہ کی معرفت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں، اور یہاں عنایت الہی  انہیں شامل حال ہوتی ہے اور  ہر برے کام سے دور رکھتی ہے۔

یہاں عنایت الہی سے مراد کیا ہے؟یہ مجمل سی بات ہے ،اگر یہاں مراد وہی اللہ کا دخل دینا ہے تو  یہ بھی  جبر کہلائے گا۔

تیسرا نظریہ: عصمت ایک ملکہ(پختہ عادت) ہے

یہ نظریہ کہتا ہے کہ عصمت ایک روحانی ملکہ ہے، یعنی علم و معرفت ، مسلسل عبادت، ریاضت اور تقویٰ سے ایک انسان اپنے آپ کو اس مقام پر لے آتا ہے کہ وہ گناہ کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

ایک بزرگ عالم دین کی مثال

ایک طالب علم نے ایک بزرگ عالم سے پوچھا:

“کیا آپ گناہ کر سکتے ہیں؟”

عالم نے جواب دیا:

“ہوسکتا ہے، لیکن میں گناہ کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔”

طالب علم نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟

عالم نے مثال دی:

“کیا تم انسانی) فضلات (گندگی کھانے کا تصور کر سکتے ہو؟”

طالب علم نے کہا:

“استغفراللہ! یہ کیسے ممکن ہے؟ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا!”

عالم نے کہا:

“جس طرح تمہیں یہ چیز ناپسند ہے، اسی طرح ہمارے لیے گناہ کا تصور بھی ناپسندیدہ ہے۔”

یہی عصمت کا فلسفہ ہے کہ انبیاء اور آئمہ علم و معرفت کے ساتھ ساتھ  مسلسل عبادت اور تقویٰ کے ذریعے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ گناہ کا خیال بھی ان کے ذہن میں نہیں آتا۔

اہلسنت اور شیعہ نظریات کا موازنہ

اہلسنت کا نظریہ:اہلسنت کے کچھ علماء یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اللہ نے انبیاء اور اوصیاء کے دلوں سے معصیت کا امکان ختم کر دیا ہے، یعنی وہ فطری طور پر گناہ نہیں کر سکتے۔

یہ نظریہ) جبر (زبردستی کے مترادف ہو جاتا ہے، کیونکہ اگر کسی میں گناہ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں تو اس کے تقویٰ اور پاکیزگی کی کیا فضیلت؟

شیعہ اثنا عشریہ کا نظریہ:شیعہ کہتے ہیں کہ انبیاء اور آئمہ گناہ کر سکتے ہیں، لیکن وہ اپنے اختیار اور اللہ کی معرفت کے سبب گناہ نہیں کرتے۔

یہ نظریہ عدالتِ الٰہی کے مطابق بھی ہے، کیونکہ:

اگر امام یا نبی مجبور ہوتے، تو ان کا نیک ہونا کوئی فضیلت نہ ہوتی۔

اللہ نے ہر انسان کو آزادیِ ارادہ دی ہے، اور نبی و امام بھی اسی اصول کے تحت گناہ نہیں کرتے۔

نتائج اور خلاصہ:

عصمت کا مطلب یہ نہیں کہ نبی یا امام گناہ پر قادر نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ گناہ کے قریب بھی نہیں جاتے۔

عصمت کا سب سے بڑا سبب اللہ کی معرفت ہے، جس کی وجہ سے گناہ کا تصور بھی ناقابل برداشت بن جاتا ہے۔

عصمت ایک جبری کیفیت نہیں بلکہ مسلسل تقویٰ اور روحانی ترقی کا نتیجہ ہے۔

شیعہ نظریہ زیادہ منطقی ہے، کیونکہ اس میں اختیار اور معرفتِ الٰہی دونوں شامل ہیں۔

والسلام علیکم

عالمی مرکز مهدویت

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *