درسِ امامت:2
امامت، خدائی منصب یا عوامی انتخاب؟
استاد محترم: آغا علی اصغر سیفی صاحب
موضوع: امامت، خدائی منصب یا عوامی انتخاب
اہم نکات:امامت، خدا کی طرف سے مقرر ہوتی ہے یا عوامی انتخاب سے؟،امامت کا وجوب عقلی ہے یا شرعی؟،امام کو “لطفِ الٰہی” قرار دینے کی دلیل،لطف کی تعریف اور اس کی اقسام،خدا پر لطف واجب کیوں ہے؟،ان اقوام کا انجام جن تک دین نہیں پہنچا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہماری آج کی گفتگو بحثِ امامت کے تسلسل میں ہے۔ گزشتہ درس میں ہم نے امامت کی تعریف، اس کے وجوب اور اہل سنت و اہل تشیع کے نظریات کا جائزہ لیا۔ اب ہم مزید گہرائی میں جا کر دیکھیں گے کہ:
کیا امام کو خدا مقرر کرتا ہے یا عوامی انتخاب پر چھوڑ دیا گیا ہے؟
کیا امامت صرف ایک دینی معاملہ ہے یا اس کا عقلی طور پر بھی ثبوت موجود ہے؟
امامت کو “لطفِ الٰہی” کیوں کہا جاتا ہے اور لطف کی کیا اہمیت ہے؟
1۔ امامت: خدائی منصب یا عوامی انتخاب؟
اہل سنت کے نظریات:اہل سنت میں مختلف مکاتب فکر امامت کے حوالے سے الگ الگ نظریات رکھتے ہیں:
اشاعرہ، ماتریدیہ اور اہل حدیث: امامت کو واجب سمجھتے ہیں، مگر اسے عوامی انتخاب قرار دیتے ہیں۔
معتزلہ: امامت کو ایک عقلی ضرورت مانتے ہیں، لیکن وہ بھی انتخاب کے قائل ہیں۔
اہل تشیع کا نظریہ:مکتبِ تشیع میں واحد موقف یہ ہے کہ امامت خدا کی طرف سے مقرر ہوتی ہے، جیسے نبوت مقرر کی جاتی ہے۔”جس پروردگار کے اختیار میں نبیوں کی بعثت ہے، اسی کے اختیار میں اماموں کا تقرر بھی ہے۔”
یہ نظریہ درج ذیل عقلی و شرعی دلائل پر مبنی ہے:
1۔ نبوت کی طرح امامت بھی ایک الٰہی منصب ہے، جسے انسان اپنی مرضی سے منتخب نہیں کر سکتا۔
۲۔ اگر عوام کو امام چننے کا اختیار دیا جائے، تو ہر دور میں مختلف نظریات اور خواہشات کی بنیاد پر قیادت میں تبدیلی
آتی رہے گی، جو دین میں تحریف کا سبب بنے گی۔
3۔ قرآن و حدیث میں متعدد مواقع پر اماموں کا ذکر کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ امامت عوام کے سپرد نہیں کی گئی۔
2۔ امامت کا وجوب: عقلی یا شرعی؟
عقل کے مطابق امامت کی ضرورت:مکتب تشیع اور معتزلہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ امامت ایک عقلی ضرورت ہے، کیونکہ:کسی بھی معاشرے میں نظم و نسق کے لیے ایک قائد ضروری ہوتا ہے۔
اگر معاشرہ کسی ایک نظام کے تحت نہ ہو، تو بدامنی اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔
عدل و انصاف کے قیام کے لیے ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے، جو حق و باطل میں تمیز کر سکے۔
شریعت کے مطابق امامت کی ضرورت:جب کوئی چیز عقلی طور پر واجب ہو، تو شریعت اسے دوبارہ فرض قرار نہیں دیتی بلکہ اس کی تائید کرتی ہے۔مثلاً:
عدل ایک عقلی امر ہے، یعنی ہر انسان فطری طور پر عدل کو ضروری سمجھتا ہے۔توشریعت نے عدل کو مزید تقویت دی اور اس کے نفاذ کے احکام دیے۔اسی طرح، امامت بھی ایک عقلی ضرورت ہے، جس کی تائید شریعت نے کی ہے۔
3۔امام کو “لطفِ الٰہی” قرار دینے کی دلیل
کتاب کشف المراد کی دلیل اور برہان:علامہ حلیؒ نے کشف المراد میں برہانِ عقلی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ امامت لطفِ الٰہی ہے اور خدا پر لازم ہے کہ وہ امام مقرر کرے۔
برہان کا صغریٰ”:امت کے اندر امام کو مقرر کرنا اللہ کا لطف ہے، جیسا کہ نبی کو بھیجنا لطف ہے۔”
برہان کا کبریٰ:“لطف ہمیشہ اللہ پر واجب ہوتا ہے”۔
نتیجہ:“چونکہ امامت بھی لطف ہے، لہٰذا امام کو مقرر کرنا بھی خدا پر واجب ہے۔”
لطف سے کیا مراد ہے؟
لغوی معنی:کسی کے ساتھ مہربانی و محبت کا برتاؤ کرنا۔
علمِ کلام میں اصطلاحی معنی: “لطف وہ چیز ہے، جو بندے کو اطاعت کے قریب اور معصیت سے دور کر دے، جبکہ اس
میں جبر و اکراہ نہ ہو۔”مثلاً:اگر اللہ تعالیٰ نبیوں اور کتابوں کو نہ بھیجتا، تو ہمیں ہدایت کے اصول معلوم نہ ہوتے۔
انبیاؑ اور کتابیں ہمیں اطاعت کے راستے پر لاتے ہیں اور معصیت سے دور رکھتے ہیں، لہٰذا یہ سب لطفِ الٰہی ہیں۔
4۔لطف کی اقسام
1۔ لطفِ عام:یہ ہر انسان کے لیے ہے، خواہ وہ مومن ہو یا مشرک۔اسکی مثالیں:انبیاؑ کی بعثت،آسمانی کتابوں کا نزول،
جنت اور جہنم کے وعدے اور وعیدیں
2۔ لطفِ خاص:یہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اطاعت اور قربِ الٰہی کے سفر میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
جب کوئی شخص واجبات پر عمل کرتا ہے، تو اللہ اسے مزید ہدایت دیتا ہے۔جیسے نمازِ شب، صدقہ، اور ولایتِ اہل بیتؑ کی معرفت، جو انسان کو مزید بلندی عطا کرتی ہے۔
5۔خدا پر لطف واجب کیوں ہے؟
اہل سنت کا اعتراض: “تم شیعہ کہتے ہو کہ خدا پر لطف واجب ہے، جبکہ خدا بے نیاز ہے۔ اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہو سکتی!”
جواب: “ہم خدا پر لطف کو واجب نہیں کرتے، بلکہ خدا کی اپنی صفات اس پر لطف کو واجب کرتی ہیں۔”
مثلاً:اللہ عادل ہے، تو اس پر عدل کرنا لازم ہے۔
اسی طرح، اگر اللہ ہدایت کے تمام ذرائع نہ بھیجے، تو یہ عدل کے خلاف ہوگا۔
اگر خدا کسی قوم کو نبی بھیجے بغیر عذاب دے، تو یہ ظلم ہوگا، جو خدا کے شایانِ شان نہیں۔
اسی لیے قرآن کہتا ہے:
“وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا” (بنی اسرائیل،آیت 15)
“ہم کسی قوم کو عذاب نہیں دیتے، جب تک کہ ان کے پاس کوئی رسول نہ بھیج دیں۔”
6۔ ان اقوام کا انجام جن تک دین نہیں پہنچا
ایک اہم سوال یہ ہے: “وہ اقوام جو دور دراز کے علاقوں میں رہتی ہیں، جہاں تک دینِ اسلام نہیں پہنچا، ان کا روزِ قیامت کیا انجام ہوگا؟”
جواب:ایسی اقوام پر عذاب نہیں ہوگا، کیونکہ ان پر حجت تمام نہیں ہوئی۔
عذاب صرف ان پر ہوگا، جن تک حق کی دعوت واضح طور پر پہنچ چکی ہو۔
خدا کا عدل یہ تقاضا کرتا ہے کہ جس پر دلیل قائم نہ ہوئی ہو، اس سے بازپُرس نہ کی جائے۔
نتیجہ:
امامت ایک الٰہی منصب ہے، جسے عوام منتخب نہیں کر سکتے۔
عقلی اور شرعی طور پر امامت واجب ہے۔
وجوب امام خدا کا “لطف” ہے، کیونکہ وہ ہدایت کا ذریعہ ہے۔
خدا کا عدل تقاضا کرتا ہے کہ کسی قوم کو عذاب دینے سے پہلے ان پر حجت تمام ہو۔
والسلام علیکم
علمی مرکز مهدویت قم