عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک) – درس اول(پہلا حصہ)

سلسلہ دروس لقاء الله
کتاب لقاء اللہ کے دروس مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس کتاب لقاء اللہ (سیر و سلوک) – درس اول(پہلا حصہ)

آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزی رح)

درس اول(پہلا حصہ)
نکات :امام خمینی رح کے چند کلمات،اہل معرفت کا مقام

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ: 
سیر و سلوک اور باطنی پاکیزگی کے حوالے سے ایک بہترین کتاب ” رسالہ لقاءاللہ” کہ جسے امام خمینیؒ کے اساتذہ میں سے ایک بہت بڑی شخصیت عظیم فقیہ، عالی قدر عارف، آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزیؒ نے تحریر کیا ہے اور اس میں مذید کاوش ایک بہت بڑی ہستی سید احمد فہری نے اس کا پیش لفظ ،اس رسالے کا ترجمہ اور اس میں مذید حاشیے اور وضاحتیں بیان کیں۔

دور حاضر میں بہت سارے لوگ پریشان ہیں کہ ہم اعمال تو کرتے ہیں اور عبادات بھی انجام دیتے ہیں لیکن ہمارا باطن مطمئن نہیں۔ ہمیں گناہوں کی آلودگی نے اندر سے اضطراب میں مبتلا کیا ہوا ہے اور ہمارے ذہن و روح پریشان ہیں۔

یہ کیسی زندگی ہے کہ جس میں ہم گناہوں کو انجام بھی دے رہے ہیں اور گناہوں کے سبب موت سے خوفزدہ بھی ہیں کہ خدا کو کیسے منہ دکھائیں گے۔

اگر امام ؑ عج بھی ظہور فرمائیں تو ان کی بارگاہ میں کیسے جائیں گے۔

ماہ رمضان چونکہ خود ماہ پاکیزگی ہے اس میں شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے اور اللہ کی خصوصی رحمتیں روزہ داروں کے شامل حال ہوتی ہیں تو ہم نے بھی بہت ساری کتابوں میں سے اس کتاب کا انتخاب کیا تاکہ بارگاہِ پروردگار میں محمدؐ و آل محمدؑ سے توسل کرتے ہوئے ان بزرگان کی سیرت پر چلیں اور خدا کی معرفت اور پاکیزگی کا جو روحانی سفر ہے اس میں چند قدم اٹھائیں تو ہوسکتا ہے کہ ہمارے دلوں سے گناہوں کے حجاب اٹھ جائیں اور پروردگار کا وہ نورانی فیض جو اولیائے خدا کی خیموں میں اور ان کے قدموں میں ایک انسان کو لے جاتا ہے ہم اس فیض کے حقدار بن جائیں۔
اللہ اکبر!

 کتاب لقاء اللہ ( سیر و سلوک)

تمہیدی گفتگو :

امام خمینیؒ فرماتے ہیں۔
قرآن کریم کی سورہ فصلت آیت 53 میں ارشاد پروردگار عالم ہو رہا ہے۔

سَنُرِيْهِـمْ اٰيَاتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَتّـٰى يَتَبَيَّنَ لَـهُـمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۗ اَوَلَمْ يَكْـفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٝ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ ( 53)
عنقریب ہم اپنی نشانیاں انہیں کائنات میں دکھائیں گے اور خود ان کے نفس میں یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہی حق ہے، کیا ان کے رب کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

امام خمینیؒ فرماتے ہیں :
_پورا عالم ، پورا جہان اندر سے اور باہر سے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے بھرا ہوا ہے۔ پروردگار ہر چیز میں سب سے زیادہ واضح اور آشکار اپنی تجلی فرما رہا ہے۔ کائنات کے ذرہ ذرہ پر خداوند سے بڑھ کر کون حاضر و ناظر اور شاہد موجود ہے۔ کہ اگر ایک معمولی سے ذرے کو بھی توڑیں گے تو اس میں خداوند کی تجلی کو دیکھیں گے۔_

پھر فرماتے ہیں کہ :
_یہ جو کائنات اتنی خوبصورت ہے۔ اور اللہ کی نشانیوں سے بھری ہے اگر ہم اس کو نسبت دیں اس کے بعد والا عالم کہ جسے ہم عالم ملکوت کہتے ہیں۔ جس میں ارواح مرنے کے بعد منتقل ہونگی۔ تو یہ پوری کائنات اس عالم کے مدمقابل ایسی ہی ہے جیسے اس عالم میں ایک سیکنڈ کی حیثیت۔_
اللہ اکبر!

پھر فرماتے ہیں کہ :
_عالم ملکوت کی حثیت بھی عالم جبروت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان شائد کوئی نسبت ہی نہ ہو۔ (شرح دعائے سحر امام خمینی رح)_

اللہ نے مختلف عالم خلق کئے۔
عالم جبروت
عالم ملکوت
عالم مادہ ( کہ جس میں ہم زندگی گذار رہے ہیں۔)
یہاں سے جناب سید احمد فہری لکھتے ہیں کہ :
کائنات اتنی بڑی ہے کہ جس میں انسان فقط حیران اور سرگرداں ہے کہ اسکا سرچشمہ کہاں ہے۔ یہ اتنا بڑا جہاں جو کہ پروردگار کی نشانیوں کا پُر طلاطم سمندر ہے کہ جس میں انسان کی عقل و درک حیران ہے۔

انسان نہ تو حقیقت پروردگار کو درک کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی صفات پر اس کی فکر کسی نتیجے پر پہنچتی ہے۔ وہ اپنے فہم میں اپنے پروازِ خیال میں بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا ۔ ذات پرودگار اتنی لامحدود ہے۔

پھر فرماتے ہیں کہ : 
اس تمام حیرت و سرگردانی میں آفرین ہے ان چند ہستیوں پر کہ جنہوں نے اس دنیا کے اندر پروردگار عالم کے قرب کو بلآخر پالیا۔ اور کسی حیرت، اضطراب اور سرگردانی میں نہیں گئے۔ اور اس عظیم مقصد تک پہنچنے سے کسی چیز سے نہیں ڈرے اور یہ خوبصورت دنیا جو بظاہر اتنی پرکشش ہے کہ انسان کو اپنی جانب کھینچنے والی ہے وہ ان ہستیوں کو خدا کے قرب اور معرفت تک پہنچنے سے نہیں روک سکی۔
اللہ اکبر !

سورہ آل عمران آیت نمبر 14 میں پروردگار عالم فرما رہا ہے کہ:

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْـرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا ۖ
لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے فریفتہ کیا ہوا ہے جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان کیے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی، یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے ۔
پروردگار فرماتا ہے کہ یہ دنیا کی چیزیں جن سے تم مرغوب ہو اللہ کے پاس اس سے زیادہ ہے۔
اور اس دنیا نے ان عظیم ہستیوں کو دھوکا نہیں دیا۔
_یہ اتنی بڑی ہستیاں تھیں کہ جنہوں نے اس دنیا کو ذرا برابر بھی اپنے قابل نہیں سمجھا بلکہ جنت جس کی قرآن و حدیث میں اتنی توصیف ہوئی ہے۔ اس کے لیے بھی بےقرار نہیں ہوئے۔ بلکہ یہی کہتے رہے کہ: خدایا ہم ان چیزوں پر صبر نہیں کریں گے ہم تو تیرا قرب چاہتے ہیں۔” اور یہ ہستیاں اللہ کے قرب کے شوق میں یہ ہستیاں سانس لیتی تھیں اور بلآخر اپنے محبوب کے پاس پہنچے اور اس وصل کو حاصل کیا۔_

ان شخصیات میں سے ایک بڑی شخصیت عارف باللہ، آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزؒی کہ یہ وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے گناہوں سے پاکیزہ زندگی گذاری۔
جاری ہے۔

عالمی مرکز مہدویت قم 

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید