عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس تفسیر سورہ حجرات – درس 1

سلسلہ درس تفسیر سورہ حجرات
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس تفسیر سورہ حجرات – درس 1

سورہ کا مختصر تعارف ، اس سورہ میں دس اہم دینی ، اخلاقی ، قانونی اور فلسفی موضوعات کی آیات کے نمبر کے ساتھ وضاحت

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ : 
موضوع سخن :
سورہ حجرات 

سورہ حجرات، سورہ مجادلہ کے بعد نازل ہوئی اور اس میں تقریباً اٹھارہ (18) آیات ہیں 343 کلمات، اور 1496 حروف ہیں۔اور سوائے آیت نمبر 13 کے جو مکہ میں نازل ہوئی اس کے علاوہ باقی تمام آیات مدنی ہیں۔

اگرچہ یہ سورہ بہت ہی مختصر ہے لیکن اس سورہ میں بہت ساری دینی مباحث ، اسلامی قوانین اور اہم ترین اخلاقی نکات پر مشتمل ہے۔ اس سورہ مبارکہ میں ایمان کی حقیقیت اور اسلام کی رو سے فرق بیان ہوا ہے۔

سورہ کا تعارف بحوالہ مطالب:
اگر ہم مطالب کو دیکھیں تو ہم سورہ حجرات کو دس مباحث میں تقسیم کرتے ہیں ۔ یعنی اس میں دس موضوعات ہیں۔

اللہ تعالی کے اوصاف
اس سورہ مجیدہ میں مثلاً
آیت نمبر 1 میں اگر ہم دیکھیں تو اللہ تعالیٰ کی صفت “بہت سننے والا” بہت ہی دانا” ۔

♦آیت نمبر 4 اور 14 میں جو صفت بیان ہوئی بہت ہی بخشنے والا بیان ہوئی ۔

♦ آیت نمبر 8 میں اللہ تعالیٰ کی صفت کے وہ بہت زیادہ دانا اور صاحب حکمت ہے بیان ہوئی۔

♦آیت نمبر 16 میں اللہ تعالیٰ کی صفت کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے ۔

♦آیت نمبر 12 میں اللہ تعالی کی صفت کہ وہ بہت زیادہ توبہ کو قبول کرنے والا اور بخشنے والا بیان ہوئی۔

♦آیت نمبر 9 میں اللہ تعالیٰ کی صفت کہ وہ عادل ہے اور عادل لوگوں کو پسند کرتا ہے بیان ہوئی۔

♦آیت نمبر 18 میں اللہ تعالیٰ کی صفت کہ وہ آسمان اور زمین کے اندر جو غیب چیزیں ہیں وہ ان کو جانتا ہے یہ بیان ہوئی۔

♦آیت نمبر 18 میں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت کہ وہ انسانوں کے کردار کو دیکھتا ہے بیان ہوئی۔
( سبحان اللہ!)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا موضوع خود پروردگار کے حوالے سے ہے:

♦آیت نمبر 7 میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ پروردگار نے لوگوں کے دل میں ایمان کی قوت اور کفر سے بیزاری کو ایمان کے ہمراہ قرار دیا۔

♦آیت نمبر 16 میں پروردگار عالم یہ فرما رہا ہے کہ مسلمانوں کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنا دین اللہ کو بیان کریں۔ اللہ تو سب چیزوں کو جانتا ہے۔

♦آیت نمبر 17 میں پروردگار مسلمانوں پر یہ احسان فرما رہا ہے کہ انہیں ایمان کی طرف راہمنائی کر رہا ہے۔ (یہ اللہ ہے جو ان کی راہنمائی کرتا ہے۔)

♦اسی طرح آیت 13 نمبر میں پروردگار بیان کر رہا ہے کہ کون خدا کے نزدیک مورد احترام ہے۔

♦آیت نمبر 15 میں اللہ تعالیٰ بیان کر رھا کے تولیٰ اور تبرا یہ عمل خدا کو محبوب ہے،

♦آیت نمبر 1 میں پروردگار واضح کر رہا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ اپنی طرف سے دین میں کسی چیز کا اضافہ کرے۔

♦اسی طرح آیت نمبر 14 میں پروردگار فرما رہا ہے اللہ تعالی کے جتنے بھی احکامات ہیں وہ انسان کے لئے جو مصلحتیں ہیں اس کے مطابق ہیں نہ کہ محض بس خدا کا حکم ہےبلکہ ہر حکم کی ایک مصلحت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے ہے۔

♦مثلاً آیت نمبر 1 میں اللّہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ خدا اور رسولؐ پر اپنے آپ کو مقدم کریں چاہے اپنی گفتار میں چاہے اپنے کردار میں۔

♦آیت نمبر 2 میں پروردگار فرما رہا ہے لوگوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ رسولؐ اللہ کے محضر مبارک میں ان کے حضور میں بلند آواز سے گفتگو کریں۔

♦اسی طرح آیت نمبر 4 میں پروردگار فرما رہا ہے. کہ رسوؐل اللہ کی بے احترامی کا حق نہیں ہے۔

♦ اسی طرح آیت نمبر 3 میں اللہ ان کی تعریف کر رہا ہے کہ جو رسول اللہ کا احترام کرتے تھے۔

♦آیت نمبر 5 میں اللہ تعالی بیان کر رہ گیا آپ لوگ رسول اللہ کے ساتھ کیسے رہیں۔

♦آیت نمبر 6 میں پروردگار فرما رہا ہے کہ رسولؐ اپنا ایک نظام الاوقات رکھتے ہیں اور لوگ ان کا سارا وقت نہ لیں۔

♦اسی طرح آیت نمبر 7 میں پروردگار نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ نبیؐ کریم انکی اطاعت کرے بلکہ مسلمان نبیؐ کریم کے اطاعت کریں،

♦جس طرح آیت نمبر 17میں پروردگار فرما رہا ہے کہ مسلمان رسول اللہ پر آکر یہ احسان نہ جتلایا کریں کہ انہوں نے اسلام لایا ہے یا یہ اسلام قبول کیا ہے۔

♦ آیت نمبر 9 میں اللہ تعالی نے فرمایا ایسے مسلمانوں کے بارے میں کہ جو اسلامی حکومت کے خلاف ہے اور فتنہ بپا کرتے ہیں۔

♦ آیت نمبر 1 ۔2 ۔6 اور 11 میں اللہ تعالی اس بات کی نفی کر رہا ہے کہ صحابہ کے مسٸلہ میں یہ کہنا کہ اصل میں وہ عادل ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام اور ایمان۔

♦آیت نمبر 14 میں اللہ تعالی اسلام اور ایمان کا فرق بیان کر رہا ہے۔

♦آیت نمبر 15 میں ایمان کی حقیقت بیان کر رہا ہے۔

♦اور اسی طرح آیت نمبر 7 اور 14 میں دل کے اندر جو ایمان ہے اسے بیان کر رہا ہے۔

آیت نمبر 15 میں انسان کے عمل اور کردار میں جو ایمان ہے اسے بیان کر رہا ہے۔

♦اور اسی طرح آیت نمبر 15 میں ایسے لوگ جو با ایمان ہیں انہيں پروردگار بیان کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذاتی اور اجتماعی زندگی اور اس کے قوانین:

آیت نمبر 6 میں واضح کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی فاسق گناہگار کے بات کو بغیر تحقیق کے قبول کریں۔

♦ آیت نمبر 9 میں اللہ تعالیٰ یہ واضح کر رھا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان کوئی لڑائی ہوتی ہے تو سب کا یہ وظیفہ ہے کہ وہ اس لڑائی کو صلح میں تبدیل کریں کہ یہ مسئلہ ختم ہو۔

♦آیت نمبر 11 میں پروردگار فرما رہا کہ مسلمانوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کا مذاق اڑائیں۔

♦ اسی آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا مسلمان ایک دوسرے کو برا لفظ نہ کہیں اور گالی نہ دیں یا کوئی نامناسب تعبیر نہ دیں۔

♦ اسی طرح اسی آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ بھی فرما رہا ہے کہ ایک دوسرے کو برے القاب نہ دیں۔

♦ اور اسی طرح آیت نمبر 12 میں پروردگار فرما رہا ہے کہ مسلمان اپنے بارے میں برا گمان پیدا نا کریں اسی آیت میں فرما رھا ہے مسلمان ایک دوسرے کے کاموں میں جاسوسی نہ کریں۔ یہ بداخلاقی ہے اور اس سے منع فرمایا ہے۔

♦اسی آیت نمبر 12 میں اللہ تعالی غیبت کرنے سے بھی مسلمانوں کو منع کر رہا ہے اور انہیں تقوی پرھیزگاری کے لیے ابھار رہا ہے کہ مسلمان ہمیشہ تقویٰ کے ساتھ اور پرہیزگار ہوتا ہے۔

♦آیت نمبر 10 میں اللہ تعالی واضح کر رہا ہے کہ سب مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔

♦ آیت نمبر 17 میں پرورگار فرما رہا ہے کہ کسی چیز کے بارے میں جب خبر دیں تو سب سے پہلے اسکے حوالے سے مکمل معلومات حاصل کریں نامکمل اطلاع کسی چیز کے حوالے سے اس کی خبر دینا جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صالحین اور نیک لوگوں کا تعارف:

♦آیت نمبر 15 میں پروردگار فرما رہا ہے کہ سچے کون ہیں۔

♦آیت نمبر 3 کے اندر اللہ تعالیٰ بیان کر رہا ہے کون ہیں کہ جن کا تقویٰ کے ذریعے امتحان لیا گیا اور متقی لوگوں کی کی جزا کیا ہے۔

♦ آیت نمبر 15 میں وہ لوگ جو کو باایمان ہیں وہ کون ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ظالم لوگ اور ان کے حوالے سے مسلمانوں کا وظیفہ:

♦ آیت نمبر 11 میں اللہ تعالی واضح کر رہا ہے کہ ظالم کون ہے ۔

♦ آیت نمبر 9 میں مسلمانوں کو بتا رہا ہے کہ ظالموں کے مقابلے میں ایک مسلمان کی ذمہ داری کیا ہے۔

♦ آیت نمبر 9 میں اللہ تعالیٰ یہ بیان کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو یہ چاہیے کہ ظالموں سے جنگ کریں تاکہ وہ ظلم کو چھوڑ دیں یعنی جب تک وہ ظلم کو ترک نہیں کرتا اس وقت تک اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ اور یہ ایک قسم کی ظالموں کی تنبیہ ہے جو اللہ تعالیٰ اس آیت میں بیان کر رہا ہے

۔۔۔۔۔۔۔,۔۔۔۔

اسی طرح کچھ قوانين ہیں کہ جن کا تعلق انسانی زندگی سےہے وہ اجتماعی قوانین ہیں۔

♦ اس حوالے سے آیت نمبر 9 میں پروردگار جو فرما رہا ہے کہ جب بھی فیصلہ کریں تو حق تک پہنچنے کے لئے نہ کہ صرف جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے۔

♦ آیت نمبر 13 میں پروردگار فرما رہا ہے کہ مسلمانوں کا حاکم کیسا ہونا چاہیے۔ اور اسی طرح آیت نمبر 13 میں اللہ تعالی واضح کر رہا ہے کہ سب بشر برابر اور مساوی ہیں۔

♦اسی طرح آیت نمبر 13 میں بیان فرما رہا ہے کہ لوگوں کے درمیان کا ذات پات کا فرق ہے یہ صرف پہچاننے کے لئے ہے ورنہ اس کا بعنوان طبقہ کوئی فرق نہیں ہے۔ یعنی اس ذات پات سے کوئی امتیاز حاصل نہیں یہ فقط پہچان ہے۔

♦ آیت نمبر 13 میں طبقاتی نظام کے خلاف بیان کر رہا ہے۔ کہ تمام لوگ چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں کوئی بھی ذات ہو ان کی سب اللہ کے نزدیک قانونی اعتبار سے اور حقوقی طور سے برابر ہیں۔

♦آیت نمبر 10 مسلمانوں پر واضح کر رہا رہے کہ آپ سب بھائی ہیں اور برابر ہیں یہی بات جو ہے وہ آیت نمبر 10 اور 13 دونوں میں بیان ہوئی۔

♦ اسی طرح آیت نمبر 5 میں اللہ تعالی بیان کر رہا ہے کہ کسی مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ یہ توقع رکھیں کہ میرا کام جو ہے وہ مقررہ وقت سے پہلے ہو بلکہ انسان کو منتظر رہنا چاہیے کہ جب اس کا وقت آئے گا اس وقت اس کا کام ہوگا۔ یعنی خود کو دوسروں پر ترجیح دینا ۔

♦آیت نمبر 13 میں اللہ تعالی بیان کر رہا ہے قرآن کی نگاہ میں کون برتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فلسفی مباحث۔
اس سورہ مبارکہ میں کچھ فلسفی مباحث بھی ہوئیں جنہیں ہم نواں موضوع قرار دیتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے علم کے بارے میں کہ آیا وہ علم حضوری ہے یا نہیں۔

علم حصولی جو ہم کسی واسطے سے حاصل کرتے ہیں

علم حضوری جو ہمیں کسی واسطے کے بغیر حاصل ہوتا ہے۔

♦آیت نمبر 16 اور 18 میں اللہ کے علم پر گفتگو ہے

♦آیت نمبر 7 اور 18 پہ جبر کا جو نظریہ ہے کہ انسان مجبور ہے اپنے کاموں میں اس کے بطلان پر گفتگو ہے ۔

♦اور آیت نمبر 17 میں پروردگار واضح کر رہا کہ کہ لوگوں نے اسلام کو اپنے اختیار سے قبول کیا ہے نہ کہ جبری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

10۔ فطری ابحاث:
قدرت اور فطرت سے تعلق رکھنے والی ابحاث ہیں۔

♦ یعنی انسان مخلوق ہے۔ آیت نمبر 13 میں انسان کی تخلیق میں گفتگو ہے۔

♦ اسی طرح نمبر 13 میں اللہ کے خالق ہونے پر گفتگو ہے اور اس آیت میں اللہ بیان کر رہا ہے کہ خدا نے انسان کو نر مادہ کے شکل میں خلق کیاہے۔

یہ دس اہم موضوع ہیں جن سے ہم اس سورہ مبارکہ میں فیض لیتے ہیں۔

• پروردگار عالم ہمیں ان اہل انتظار میں سے قرار دے کہ جو قرآن سے مانوس ہیں اور قرآن ان کی زندگیوں کے اندر حاکم ہیں اور قرآن کا حقیقی مفسر وقت کا امامؑ عج حاکم ہے کہ جو حجت خدا جو قرآن اور عترت کا مصداق ہیں ۔ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔

پروردگار عالم ہم سب کو ان توفیقات سے نوازے۔
آمین۔
والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید