عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ دروس انتظار – درس 10

سلسلہ دروس انتظار
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ دروس انتظار – درس 10

موضوع: انتظار کی ضرورت ، اقبال کا معنی و مفہوم ، امام زمان عج کا صدقہ اور اسکا فلسفہ

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ:
موضوع سخن انتظار۔
مرحلے کے اعتبار سے پانچواں موضوع انتظار کی ضروریات:

جہاں انتظار ہے وہاں حر کت ہے جب انسان اپنے ہدف کو جان لیتا ہے وہ حر کت میں آتا ہے وہ اپنے رب سے ہدایت مانگتا ہے اور وقت کے ولىؑ سے راہ پوچھتا ہے ۔ بلآخر اپنی ذمہ داریاں پوچھتا ہے اور ولی کے لیے حرکت کرتا ہے۔

ہميشہ منتظر لوگ اللہ کی ہداىت سے مستفید ہوتے ہیں کىو نکہ وہ اہل ذکر ہیں اہل راز و نیاز ہیں اور منتظر شحض کبھى لا تعلق او ر بے پرواہ نہیں ہوسکتا۔

انتظار حضرت یعقوبؑ:
ہمارے سامنے حضرت یعقوبؑ کی مثال ہے۔ کہ ہمیشہ اپنے بىٹىوں سے کہتے تھے کہ آپ بیکار نہ بیٹھیں اور جائیں کہ اپنے بھائى کو تلاش کریں اور خدا کی رحمت سے نا امید نہ ہوں:

( سورہ یوسف 87)
يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ

خود بھى دائماً راز و نیاز اور دعاؤں میں اورجہاں تک ہو سکتا یوسف ؑ کی تلاش میں تھے۔ اس وقت بھى ایک یوسفؑ زہرؑا عج پردہ غیبت میں ہیں اسوقت ہمارا فریضہ ہے کہ ہم انہیں تلاش کریں اور موؑلا تک پہنچیں۔

امامؑ کہ طرف سے راہنمائى ہوتى ہے۔ ہمارے اردگرد بے پناہ واقعات ہیں ، درس ہیں اور یہ وہی درس ہیں جو ہمیں امامؑ دینا چاہتے ہیں۔

جیسا کہ امام موسیٰ کاظمؑ ایک مومن سے فرماتے ہیں کہ : 
جو چیز بھی تمہاری آنکھیں دیکھتی ہیں اس میں وعظ اور نصیحت ہے۔

ہم اپنے اردگرد لوگوں اور اپنی اجتماعی زندگی کو دیکھیں ہمیں اپنے مکتب اور اپنی زندگی میں مولاؑ کی بےپناہ راہنمائیاں معلوم ہوں گی۔ کیونکہ ہم وہ ہیں جو توسل کرتے ہیں۔

إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلى اللهِ

تو پھر کیوں نہ امامؑ راہنمائی کریں۔ ہمارے بہت سارے مسائل و مشکلات پہلے ہی ختم ہو جاتیں ہیں اور اگر ہیں تو آزمائش ہیں۔

انتظار کى ابحاث میں ایک موضوع جس” اقبال” کہا گیا ہے۔ اب اس کا معنیٰ کیا ہے؟
اس کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ اپنے زمانے کے امامؑ عج پر مکمل توجہ رکھنی ہے۔ ان کی عظمت و جمال کو اپنے وجود میں پانا اور ان کی اطاعت کرنا۔ مولاؑ کی ہر حوالے سے ہمراہی کرنا پھر چاہے وہ مسجد ہو ، گھر ہو یا پھر جنگ کا میدان ہو۔

اور اس سلسلے میں ہمارے لیے امیرالمومنینؑ کی ذات اسوہ ہے کہ وہ کس طرح رسولؐ اللہ کی ہمراہی کرتے تھے۔ ہم بھی اسی طرح اپنے امامؑ کی ہمراہی کریں جیسے مالک و ابوذر کرتے تھے۔

اب اگر ہم اپنے وقت کے امامؑ سے لو لگانا چاہتے ہیں ان کی جانب توجہ کرنا چاہتے ہیں تو چند چیزوں کی جانب ہمیں متوجہ ہونا ہے اور انشاءاللہ عنایت ہوگی اور ان میں سے ایک معرفت ہے۔

1:معرفت یعنی اتنا اپنے مولاؑ کے بارے میں مطالعہ کریں کہ امامؑ پر یقین حاصل ہو۔ ہماری ایک رات بھی معرفت کے بغیر قابل قبول نہیں ہے۔
جیسے امام جعفرصادقؑ نے فرمایا:

“اگر کوئى شحض ایک رات گزارے کہ جس میں اس نے وقت کے امام کی معرفت حاصل نہ کى ہو اور وہ مر جائے تو وہ جہالت کى موت مرا۔”

2۔ حجتؑ اور عنایت کا تجربہ

3۔ دوسرے لوگوں میں کمزوریوں اور کم ظرفیوں کا تجربہ (یعنی آئمہؑ کی تاریخ سے لیکر اب تک کہاں کہاں مسائل ہیں اور کہاں کہاں بے وفائیاں ہوئیں۔)

4۔ ناکامیوں اور مشکلات کا تجربہ۔ یعنی ان مشکلات اور ناکامیوں کے حوالے سے مطالعہ کیا جائے اور کامیابی کی راہ کو ڈھونڈا جائے۔ کیونکہ جب ہم ناکامی کو سمجھیں گے تو ہی مدمقابل کامیابی کو سمجھیں گے۔

مثلاً یہی تو چیز ہے کہ مولاؑ کی جو محبت اور عنایت ہم پر ہے اور دوسروں کے اندر جو ناکامی ہے اگر ہم اس حوالے سے غور کریں تو دنیا میں اس وقت مختلف قومیں ،گروہ اور مکتب ہیں اور سب کا کوئی نہ کوئ راہنما ، اولیا ء اور امام ہے ان کو اگر ہم دیکھیں اور ان کی کمزوریوں پر غور کریں اور پھر اپنے زمانے کے امامؑ کی عظمتیں دیکھیں کہ اللہ نے ہمیں کیسی ہستیاں عطا فرمائیں۔

ان قوموں کے راہنما، اور بڑے اپنی قوموں سے کسطرح لے رہے ہیں اور ہمارے آئمہ کس طرح دے رہے ہیں۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ:
کہ خدا کى قسم ہم تم پر تم سے زیادہ مہربان ہیں۔
( سبحان اللہ!)

ہمارے آئمہؑ تو بے پناہ رحمت ، محبت اپنے ماننے والوں پر نچھاور کرتے تھے۔ خود مشکلات میں رہتے تھے لیکن لوگوں کو دیتے تھے۔

سورہ دھر میں سیدہؑ اور ان کے خانوادے کا کیا عمل عظیم بیان ہوا ہے۔ 

مجھے بھی چاہیے کہ اپنے امامؑ عج کی جانب توجہ کروں۔  صبح اٹھ کر اپنے مولاؑ کو سلام کروں ان کے لیے صدقہ دوں۔ یعنی اپنے اور اپنے بچوں کے صدقے پر اپنے امامؑ کے صدقے کو ترجیح دینا۔ یہ پیغام محبت ہے بہت سارے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا امامؑ کو صدقہ کی ضرورت ہے۔ ایسا بلکل نہیں بلکہ ہمیں ضرورت ہے امامؑ کی توجہ کی۔

ابھی ہمارے مولاؑ پردہ غیبت میں ہیں لیکن جب وہ ظہور فرمائیں گے تو ہماری جانیں اپنے امامؑ کے لیے صدقہ بنیں گی۔
انشاءاللہ !

ابھی تو زمانے کا ولیؑ پردہ غیبت میں ہے۔ تو اس پر پوچھنے کی بات کیا ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ مولاؑ آپ کہاں ہیں لیکن اگر تھوڑا سا مال اگر اپنے مولاؑ پر نچھاور کر دیں کہ میرے مولاؑ یہ صدقہ آپ کی سلامتی کے لیے ہیں اللہ آپ کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔ (الہی آمین)۔

ہمارے مولاؑ کی جان سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ ہماری جانیں ان پر قربان ہوں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ان سے بے پرواہ ہوں۔

مولاؑ وہ ہستی ہیں جو فرماتے ہیں کہ: 
انا خاتم الاوصیاء وبی یرفع اللہ البلاء عن اھلی و شیعتی
خدا میرے وسیلہ سے میرے خاندان اور میرے شیعوں سے مصیبتوں کو دور کرتا ہے۔ اور اہل زمین کے لیے اماں کا باعث ہوں۔

ہمارے امام ہمارے غموں میں غمگین اور ہماری خوشی سے مسرور ہوتے ہیں اور ہمارے شیعوں کے حالات سے واقف ہیں اگرچہ وہ زمین کے مشرق میں آباد ہوں یا مغرب میں۔

امام رضاؑ فرماتے ہیں کہ: 
امن احد من شیعتنا ولا تغتم الا اغتممنا لغمہ ولا یفرح الافر حنا لفرحہ ولا یغیب عنا احد مین شیعتنا (ما) کانا فی شرق الارض و غربھا ومن ترک من شیعتنا دینا فھو علینا

ہمارے شیعوں میں سے جب بھی کوئی غمگین ہوتا ہے تو ہم بھی غمگین ہو جاتے ہیں اور ان کی خوشی سے خوش ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی چاہے مشرق میں ہو یا مغرب میں ہماری نظر کرم سے دور نہیں ہمارے شیعوں میں جو بھی فوت ہو جانے کے بعد مقروض ہو تو اس کی ادائیگی ہمارے اوپر ہے۔
( اللہ اکبر!)

پروردگارعالم ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے اندر معنیٰ اور مفہومِ اقبال اندر پیدا کریں۔ اور مولاؑ کی جانب توجہ کریں اور ان کی توجہ حاصل کریں اور اپنے امام ؑ کی دعاؤں میں شامل ہوں۔
الہیٰ آمین۔
والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید