عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ درس عقائد (عدل) – درس 2

درس عقائد
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ درس عقائد (عدل) – درس 2

عدالت کے قائلین مکتب عدلیہ (شیعہ اور معتزلہ)کے دلائل، بدیھی ہونا، اگر عقل سے ثابت نہیں تو شرع سے بھی ثابت نہیں ہوگا، اگر شرعی ہوتے تو تبدیلی ہوتی۔۔۔۔

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ: 
موضوع سخن عدل الہی:
اسلام کے مختلف مکاتب اور مذاہب میں ایک موضوع اٹھا تھا کہ آیا ہمارے افعال ذاتاً حُسن و قبح (اچھائی یا برائی ) رکھتے ہیں یا پھر شریعت کی وجہ سے رکھتے ہیں۔ کچھ شیعہ مکاتب جیسے شیعہ اثناء عشریہ اور اہلسنت میں فرقہ معتزلہ نے کہا کے ہمارے افعال ذاتی اچھائی یا برائی بھی رکھتے ہیں ۔ قطعً نظر اس کے کہ یہ شریعت کہے۔ اور باقی مکاتب جیسے اہل حدیث، اشاعرہ اور ماتریدی کہتے ہیں کہ کوئی فعل ذاتاً نہ اچھا ہے نہ برا ہے جب تک کہ شریعت نہ کہے۔

عدالت کے قائلین مکتب عدلیہ (شیعہ اور معتزلہ)کے دلائل:

۔ پہلی دلیل: 
افعال کا ذاتاً اچھا ہونا حسن ہے اور برا ہونا بدی ہی ہے۔ چاہے ہم دنیا میں کسی بھی جگہ چلے جائیں۔ کسی بھی ملت یا دین اور کسی بھی مکتب میں حتی عالم ، جاہل ، مہذب یا غیر مہذب سب اس بات پر متفق ہیں کہ ظلم برا ہے ۔ کوئی بھی دنیا کے اندر ظلم کو اچھا نہیں کہے گا۔ اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ عدل اور احسان اچھا ہے۔ اس وقت دنیا کے تمام براعظموں میں ظالم کا عمل اور فعل برا سمجھا جاتا ہے اور عادل اور انصاف کرنے والے کو اچھا سمجھا جاتا ہے لہذا یہ بات بہت ہی واضح ہے اور اس پر دلیل دینے کی ضرورت نہیں۔

۔ دوسری دلیل: 
اگر عقل سے ثابت نہیں تو شرع سے بھی ثابت نہیں ہوگا:
اگر ہم انکار کریں کہ کوئی چیز ذاتاً اچھی یا بری نہیں بلکہ شریعت کی وجہ سے اچھی یا بری ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ گویا ہم شریعت کی اچھی اور بری چیز کا بھی ہم انکار کر دیں گے۔ یعنی اگر ہم عقل سے یہ ثابت نہ کریں اور ہماری عقل یہ حکم نہ دے کہ سچائی اچھی ہے اور جھوٹ برا ہے اور اگر ہماری عقل ہمیں یہ حکم نہ دے کہ ہمارا پروردگار ، ہمارے پیغمبرؐ اور ہمارے مولاؑ کبھی بھی برے کام انجام نہیں دیتے اور اگر ہماری عقل ہمیں یہ نہ سمجھا سکے تو پھر کس طرح ثابت ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نیک لوگوں سے ان کے مقام اور درجات کے حوالے سے جتنے وعدے کئے ہیں تو یہ پھر کیسے معلوم ہوگا کہ یہ ساری چیزیں سچی ہیں۔ اور ہم کیسے معلوم کریں گے کہ کوئی جنت اور جہنم بھی ہیں۔ جب ہماری عقل اس چیز کو درک نہیں کر رہی تو ہم کس طرح یہ ثابت کر سکیں گے کہ اللہ گناہگاروں کو سزا بھی دے گا اور نیک لوگوں کو جزا دے گا۔ ۔

اگر آپ کہیں کہ نہیں یہ بات تو قرآن کہہ رہا ہے کہ جنت بھی ہے جہنم بھی ہے اور جزا اور سزا بھی ہیں ۔ تو پھر ہم کہیں گے کہ پھر یہ کیسے ثابت ہو گا کہ قرآن صحیح کہہ رہا ہے اور اللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا۔

اگر آپ کہیں کہ قرآن کہہ رہا ہے کہ اللہ سچا ہے اور وہ اپنے وعدے پورے کرے گا تو ہم کہیں گے کہ خود قرآن کی بات پر بھی یہی اعتراض ہے کہ کیسے معلوم ہو گا کہ قرآن صحیح کہہ رہا ہے ۔ یہ کس دلیل سے ثابت ہوگا کہ قرآن صحیح کہہ رہا ہے۔ آپ جو دلیل لائیں گے ہم کہیں گے کہ یہ دلیل کیسے ثابت کر رہی ہے۔ اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور ہمیں اس کی کوئی انتہا نہیں ملے گی۔ اور ہم ہمیشہ ہر چیز میں شک کریں گے۔

لیکن! آخر میں آپ یہی کہیں گے کہ کیا تمھاری عقل کام نہیں کرتی۔ آخر جھوٹ برا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اللہ جھوٹ بولے اور سچ اچھا ہے لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی بات سچی نہ ہو۔ خدا سے کبھی جھوٹ صادر نہیں ہو سکتا وہ ہمارا خالق و مالک ہے کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خود برائی انجام دے۔ اب یہاں وہی ہماری بات آگئی کہ ہم بھی شروع سے ہی یہی کہہ رہے تھے کہ یہ چیزیں پہلے عقلاً ثابت ہوں تو پھر شریعت اس کے مطابق بات کرتی ہے نہ کہ شریعت نے یہ چیزیں ہمارے لیے بیان کی ہیں۔

دنیا میں ہر جگہ ہر شخص کی عقل جھوٹ کو برا اور سچ کو اچھا سمجھتی ہے تو شریعت بھی آکر اسی کی تائید کرتی ہے۔ اگر ہم کہیں کہ ہم تو شریعت کے مطابق چلیں گے اور عقل اس کو ثابت نہیں کر سکتی تو پھر جب عقل اس بات کو ثابت نہیں کر سکتی تو پھر شریعت کی بات بھی ہمارے لیے ثابت نہیں ہوگی اور نتیجۃً شریعت بھی باطل ہو جائے گی۔

نتیجہ:
اگر عقلی طور پر اشیاء کی خوبی اور برائی ثابت نہیں ہو سکتی تو شرعاً بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔

۔ تیسری دلیل:
اگر شرعی ہوتے تو تبدیلی ہوتی: 
عقل جن چیزوں کو اچھا یا برا کہتی ہے تو وہ پوری تاریخ میں اچھی اور بری ہی رہی ہیں۔ یہ شریعت سے ثابت نہیں ہوا۔ کیونکہ شریعت کے نزدیک معیار ثابت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔ شریعتیں ہرپیغمبرؐ کے زمانے میں تبدیل ہوتی رہیں ہیں۔ جبکہ عقلی احکام میں تبدیلی نہیں۔۔۔۔

حضرت آدمؑ سے لیکر اب تک سب جھوٹ اور ظلم کو برا سمجھتے ہیں۔ اور یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے ۔ حضرت آدم ؑ سے لیکر اب تک ہر دور میں جھوٹ و ظلم برا اور عدل و سچائی حق ہیں۔ اور اس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں آئ۔ کیونکہ یہ چیزیں ذاتاً ایسی ہیں اور عقل کے حکم میں کبھی بھی تبدیلی نہیں آئی۔ اگر یہ چیزیں شرعی ہوتی تو ان میں تبدیلی ہوتی جیسے شریعتوں میں احکام آتے ہیں اور بعد میں نسخ ہو جاتے ہیں۔ اور پھر اس کے برعکس ایک حکم آجاتا ہے تو یہ جو نسخ و منسوخ کی بات ہے جیسے بہت ساری چیزیں حضرت عیسیٰؑ کی شریعت میں تھے اور ہماری شریعت میں نہیں ہیں یا بہت سارے احکامات ہماری شریعت میں شروع میں تھے اور بعد میں نسخ ہوگئے۔

نتیجہ: 
شریعت میں تبدیلی ہے لیکن حکم عقل ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے اور تبدیلی ممکن نہیں۔

یعنی ان چیزوں میں تبدیلی نہ ہونا یہ دلیل ہے کہ یہ عقلی اور ذاتی ہیں اور ہمیشہ سے ہیں اور ایسے ہی رہیں گے۔ انہیں شریعت نے ایسا نہیں کہا بلکہ شریعت نے آکر ان کی تائید کی ہے۔

یہ تین دلائل ہیں کہ جن کی وجہ سے شیعہ اور معتزلہ (عدلیہ) نے کہا کہ اس سے پہلے کہ شریعت افعال پر کوئی حکم لاگو کرے یہ خود ایک حقیقت رکھتے ہیں۔ اور یہ حقیقت عقل درک کرتی ہیں کہ ان افعال پہ یا مذمت ہوگی یا ان کی تعریف ہو گی۔ اور شریعت اس کی تائید کرتی ہے۔ کیونکہ خدا نے ہی ہمیں شعور عطا کیا ہے اور اچھے برے کی تمیز سیکھائی ہے۔ اور شریعت نے آکر اس پہ تاکید کی ہے۔ اور جہاں عقل نہ درک کر سکے تو پھر وہاں شریعت بیان کرتی ہے۔ ہو سکتا ہےکہ بعض چیزوں کے بارے میں کہا گیا کہ فلاں جانور کا گوشت کھاؤ اور فلاں کا نہ کھاؤ ہو سکتا ہے کہ یہاں ہماری عقل درک نہ کر سکے تو وہاں شریعت خود بیان کرتی ہے۔ اور جہاں تمام دنیا کسی چیز کے اچھے برے کو سمجھتی ہے اور متفق ہے تو وہاں شریعت آکر بیان نہیں کرتی بلکہ تائید کرتی ہے۔

یہ وہ مسئلہ ہے کہ جس میں اہل عدالت آکر کر اپنی دلیلیں دیتے ہیں اور اپنے نظریہ کو ثابت کرتے ہیں۔ انشاءاللہ آئندہ درس میں دیکھیں گے کہ مخالفین کیا دلیلیں رکھتے ہیں۔

یہ ایک فکری بحث ہے اور پروردگار ہم سب کو اپنے زمانے کے امامؑ کا فکری سرباز و ناصر بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔
والسلام۔ 

عالمی مرکزمہدویت قم۔ 

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید