عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید پانچواں درس

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید پانچواں درس

سلسلہ درس تفسیر سورہ حدید

پانچواں درس آیت (5,6)
آیت 5 اور 6 کا ترجمہ ، اللہ کی مالکیت اور کائنات کی اس سے وابستگی، دن و رات اور موسموں کی تبدیلی ، تمام امور اسکی طرف پلٹنے والے اور وہ ہماری نیتوں و عقائد سے واقف ہے۔
مہدوی پیغامات: منتظر ہمیشہ خدا کی ہمراہی کا حساس رکھتا ہے اور اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا ہے اور اپنے باطن کو پاک و حق پر قائم رکھتا ہے۔

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی

سورہ حدید

آیت نمبر 5:
لَّـهٝ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَاِلَى اللّـٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ
آسمانوں اور زمین کی حکومت اسی کے لیے ہے، اور سب امور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

آیت نمبر 6:
*يُوْلِـجُ اللَّيْلَ فِى النَّـهَارِ وَيُوْلِــجُ* *النَّـهَارَ فِى اللَّيْلِ ۚ وَهُوَ عَلِـيْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور وہ سینوں کے بھید خوب جانتا ہے۔

ان دونوں آیات میں پروردگار عالم نے کائنات پر اپنی مالکیت اور اپنی بادشاہت کا ذکر فرمایا ہے یہی بات پروردگار عالم نے آیت نمبر 2 میں بھی بیان فرمائی۔

لَـهٝ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ
خداوند ہم پر واضح کر رہا ہے کہ کائنات میں وہ ہستی جو ہر جگہ پر موجود ہے اور یہ کائنات ہر ہر لحظہ میں اس ہستی سے وابستہ ہے اور وہ اس کائنات کی روح و جان ہے اور پروردگار عالم ہی سب سے برتر ہے۔

ہم انسان جب ایک ذرے کی شکل میں اپنی ماں کے شکم میں قرار پائے تو اس سے لیکر کائنات کے تمام حصوں میں یعنی شکم مادر سے لیکر دنیا میں بچپن جوانی بڑھاپا پھر موت، عالم برزخ اور حشر اور پھر آگے انشاءاللہ بہشت کوئی بھی لحظہ پروردگار سے جدا نہیں۔ ہم ہر ہر لحظہ اسی رب العزت سے وابستہ ہیں اور وہ اللہ ہمارےہر ہر لحظہ کا مالک ہے۔ کائنات میں کوئی شئی بھی پروردگار سے جدا نہیں ۔ لیکن ہم جب یہ احساس رکھتے ہیں تو چند چیزیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں:

1۔ پروردگار عالم کی عظمت اور اس کا شُکوہ (شان و شوکت)، اس کا بلند و بالا ہونا
2۔  ہمیں یہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ اتنی عظیم ہستی کی ہمراہی ہمیں حاصل ہے اور ہم اس سے وابستہ ہیں۔

3۔  ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے احکامات اور اسکے فرامین کے مد مقابل جواب دہ ہیں۔ اور اس کو بجا لانا ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

ان احساسات کہ خدا ہمارے ساتھ ہے، اور اس کے احکامات اور فرامین کو بجا لانا ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے اور
ان احساسات سے انسان کے اندر تقویٰ اور پاکیزگی تشکیل پاتی ہے۔

رسول ؐ اللہ فرماتے ہیں:
کسی بھی انسان کے ایمان کا سب سے برتر مرحلہ یہ ہے کہ وہ یہ جان لے کہ خدا اس کے ساتھ ہے۔

ایک اور مقام پر حضرت موسیٰ ؑ فرماتے ہیں۔
اے پروردگار میں تجھے کہاں کہاں پاؤں۔
فرمایا:اے موسیٰ تو جب بھی میرا ارادہ کرے گا تو مجھے پا لے گا۔

ان تمام موارد میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا ایک لحظہ بھی ہم سے جدا نہیں۔

اسی لیے پروردگار عالم آیت کے آخر میں فرما رہا ہے :

وَاِلَى اللّـٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ
تمام امور کی بازگشت کا انجام یہی ہے کہ وہ خدا کی طرف لوٹ جائیں گے ۔

ہم ایک ایسی منزل کے راہی ہیں کہ جس کا آغاز بھی خدا کی طرف سے ہے اور انجام میں خدا کی جانب ہو گا۔

آیت نمبر 6:
يُوْلِـجُ اللَّيْلَ فِى النَّـهَارِ وَيُوْلِــجُ النَّـهَارَ فِى اللَّيْلِ ۚ وَهُوَ عَلِـيْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور وہ سینوں کے بھید خوب جانتا ہے۔

ہمارے علمائے تفسیر اس سے داخل کرنے کے معنیٰ یوں لیتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے :
کہ کبھی کبھی رات چھوٹی اور دن بڑے ہوتے ہیں اور کبھی دن چھوٹے اور رات بڑی ہوتی ہے۔ وہ رب آہستہ آہستہ دن کی روشنائی کو کم کر کے رات کی تاریکیوں کو بڑھا دیتا ہے۔ اور کبھی آہستہ آہستہ دن کی روشنائی کو بڑھا کر رات کی تاریکی کو گھٹا دیتا ہے یہ سال کے مختلف حصوں میں ہوتا ہے۔

اس سے اللہ کی عظییم قدرت کا احساس ہوتا ہے کہ وہ قادر ہے وہ روشنی اور تاریکی کا مالک ہے۔ یہ سورج چاند ستارے سب اسی کے حکم کے پابند ہیں ۔ ان کی حرکت اور جو بھی ان کا نظام ہے وہ پروردگار عالم کے تابع ہے۔

وَهُوَ عَلِـيْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
آخر میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ جس طرح وہ ظاہر سے واقف ہے اسی طرح جو کچھ ہم اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں پروردگار ان رازوں سے بھی واقف ہے۔ تمام اسرار اس کے سامنے روشن ہیں

علمائے تفسیر کہتے ہیں کہ یہاں مراد ہماری نیتیں ہمارے عقائد اور فکریں ہیں جن سے اللہ واقف ہے۔ اور اسی وجہ سے ہماری نیتوں کے جو اثرات ملتے ہیں وہ اسی وجہ سے ہیں کہ اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور اس کا اثر بھی دے رہا ہے۔

پروردگار عالم کے اس عظیم کے علم کی جانب اشارہ ہے کہ انسان کے جسم و جان میں دور کہیں چھپے ہوئے رازوں تک بھی واقف وہی ذات عظیم ہے۔

اہل انتظار کے لیے درس:
ہمیشہ خدا کی ہمراہی کا احساس رکھتے ہیں یہ وہ مقام ہے کہ جہاں توحید استحکام پاتی ہے۔

خدا کی ہمراہی اطمینان بخش ہے۔ اور بڑی بڑی مشکلات میں یہ احساس شجاعت بخشتا ہے۔

اپنی نیتیں اپنے عقائد اور اپنی فکرکو حقائق پر مبنی رکھتے ہیں اور پاکیزہ رکھتے ہیں۔ انسان جب اندر سے حق پہ قائم ہوتا ہے اور اس کے احساس پاکیزہ ہوتے ہیں تو یہی چیزیں باہر بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ اور باہر کی زندگی بھی اسی طرح گناہوں سے پاک ہوتی ہے اور استوار ہوتی ہے۔

تو اہل انتظار حق پر ہیں کیونکہ ان کی فکر ، نیت اور عقائد پاک ہیں۔

وہ حقیقتاً با ایمان ہیں۔

پروردگار عالم ہمیں صالحین اور اہل انتظار میں سے قرار دے۔
آمین۔

تحریر و پیشکش
سعدیہ شہباز​

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید