عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ اخلاق منتظرین – نفس لوامہ

سلسلہ اخلاق منتظرین
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ اخلاق منتظرین – نفس لوامہ

استاد مہدویت آغا علی اصغر سیفی صاحب

خلاصہ: درس نفس لوامہ

قرآن مجید میں سورہ قیامت میں پروردگار عالم نے سب سے پہلے روز محشر کی قسم کھائی اور پھر نفسہ لوامہ کی قسم کھائی ۔ یہ پرور دگار عالم کا خاص لطف ہے کہ اس نے ہمارے اندر یہ نفس رکھا۔ جیسے نفس امارہ ہے ، نفس مطمئنہ ہے اسی طرح نفس لوامہ ہے۔ یہ ہمارا ضمیر ہمارا وجدان ، ہمارے اندر ایک نورانی حالت ہے ۔ جب ہم کسی کے حق میں بدی کرتے ہیں۔ظلم کرتے ہیں ۔ یا ہم جب پروردگار عالم کو ناراض کرتے ہیں یا اپنے زمانے کے امامؑ کے قلب مبارک کو جب دکھ دیتے ہیں اور جب ہمارے اندر سے کوئی چیز ہماری مذمت کرے وہ نفس لوامہ ہے۔

روایات یہ بتاتی ہیں کہ کسی بھی انسان کے زندہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے اندر نفس لوامہ کام کر رہا ہو۔ یعنی اس کے اندر انسانیت زندہ ہے۔
اور اگر کوئی شخص مر چکا ہو یعنی روح انسانیت مر چکی ہے اور وہ ایک چلتی پھرتی لاش ہے تو پھر اس کے اندر نفس لوامہ نہیں ہے ۔ یعنی وہ جو کچھ کر رہا ہے مثل حیوان کر رہا ہے۔ وہ پروردگار کا تابع نہیں بلکہ اپنی ہوائے نفس اور اپنے شکم اور خواہش نفسانی کا تابع ہے۔ تو وہ حیوان سے بھی بدتر ہے۔
کسی بھی انسان کے اندر اس کے ضمیر کا زندہ ہونا، اس میں پشیمانی کے آثار ہونا۔ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنا۔ اور دوسروں سے معافی مانگنا۔ یہ ساری علامتیں کسی مومن کے زندہ ہونے کی علامات ہیںَ

امیر المونین علی ابن ابی طالبؑ فرماتے ہیں ” کوئی مومن ایسا نہیں جو صبح اور رات گذارے لیکن اس کے مومن ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر بدگمان ہے۔ وہ مسلسل اپنی سرزنش کر رہاہے۔ اور اپنی اصلاح چاہتاہے۔ انسان وہی ہوتا ہے جو اپنی ملامت کرتا ہے نہ کہ دوسروں کی اور اگر کوئی شخص اپنے نفس کو اپنے اوپر متہم کرے اپنی کوتاہیاں یاد کر کے اپنی مذمت کرے یہ وہ ہے جس نے شیطان پر فتح حاصل کرلی۔ یہ غافل نہیں۔ اپنے اعمال کی نگرانی کر رہا ہے۔ کسی شخص کے کامل ہونے اور انسانی فضائل کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے اندر کے نقائص کو درک کرے۔ انسان کامل ہے جو اپنے نفس کی مذمت کرتا ہے۔ اصلاح کرتا ہے اور ان نقائص کو دور کرتا ہے۔

مومن خود کو کوستا ہے کہ یہ گناہ کیوں کیا۔ جو دوسروں پر بدگمان ہو وہ گنہگار ہے۔ وہ منافق ہے۔

مومن سوچتا رہتا ہے۔ کہ میں نے کتنا وقت ضائع کر دیا۔ مجھے قیامت کے روز خدا سے ملاقات کرنی ہے میں کیا اعمال بارگاہ خداوندی میں پیش کروں گا۔ مجھے ایک دن قبر میں جانا ہے۔
*امام محمد باقرؑ* نے ہمارے اخلاص اور نفس کی جانب ایک خاص مثال سے اشارہ کیا۔
فرماتے ہیں کہ:

” جب تو روزہ رکھے اور جب اور اگر تیرے لیے ممکن ہو کہ تو نماز کو توجہ کے ساتھ افطار سے پہلے پڑھ لے تو یہ بہتر ہے۔ لیکن اگر تیرا نفس تجھ سے جھگڑا کرے کہ افطار پہلے کر لے اور اگر تو پھر بھی نماز کو ترجیح دیتا ہے اور دوران نماز تجھے یہی خیال آتے رہیں اور تیری توجہ خدا سے ہٹادے۔ تو بہتر ہے کہ تو پہلے افطار کر تاکہ تیرے اندر نفسانی وسوسے تنگ نہ کریں۔
یہاں امام کا مقصود ہے کہ اگر نفس امارہ طاقتور ہے پس اسکا اور چارہ سوچا جائے نماز کا خشوع اسکی بناء پر ختم نہ ہو ۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں
اپنے نفس اور خواہشات نفسانی کو آزاد نہ چھوڑو کیونکہ یہ انسان کو پستی کی جانب لے جاتے ہیں۔ جہاں انسان کو اذیت ہو۔ اور اگر تم اپنی خواہش نفسانی کی مخالفت کرتے ہو تو گویا یہ اس کے لیے دوا ہے۔

اگر ہم جسمانی بیماری پر توجہ نہ کریں تو وہ چھوٹی بیماری آہستہ آہستہ بڑی بیماری بن جاتی ہے۔ اور انسان کو قبر میں لے جاتی ہے۔ اور اگر علاج بر وقت ہو جائے تو وہ بیماری ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح روح کی بیماریاں ہیں۔ اگر ان کا علاج بر وقت نہ ہو۔ تو یہ انسان کو حیوان سے بھی بدتر کر دیتی ہیں۔ اور بلاآخر جہنم کا ایندھن بنا ڈالتی ہے اور اگر ان پر پابندی لگا دی جائے تو یہ انسان کو جہنم کی خوراک بننے سے محفوظ رکھتی ہے۔ اور وہ روح حیوانی سے روح انسانی میں بدل جائے گی۔ اور اسے اللہ کے مقرب بندوں میں لے آئے گی۔
ہمارا اصل وظیفہ نفس کی اصلاح اور خواہش نفسانی کو روکنا ہے ۔

رسول ؐ خدا نے اپنے صحابی کو اس انداز سے نصحیت فرمائی
اے ابن مسعود عمل صالح اور نیکیوں کو بڑھا کیونکہ نیک لوگ اور برے لوگ دونوں قیامت والے دن نادم ہونگے کیونکہ محسن کہے گا کاش میں نیکیاں زیادہ کرتا۔ اور گناہ گار نادم ہوگا کہ میں نے کوتاہی میں زندگی میں گذاری۔
اور اس پر سورہ قیامت کی آیت شاہد ہے۔

رسولؐ خدا نے فرمایا ” جہنم کے ساتویں دروازے پر تین کلمات لکھے ہوئے ہیں۔

1 ۔  اپنا حساب خود کریں کہ اس سے پہلے آپ کا حساب کیا جائے۔

2۔ اپنے نفس کی روک تھام خود کریں کہ اس سے پہلے کوئی اور آپ کے نفس کی روک تھام کرے

3۔ اپنے پروردگار کو پکاریں کہ جس نے ہمیں نعمتیں عطا کیں قبل اس کے کہ ہم جب پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو ہمارے پاس کوئی طاقت نہ ہو۔
ابھی وقت ہے اپنے پروردگار عالم سے طاقت مانگیں تاکہ ہم گناہوں کی روک تھام کر سکیں اور اپنے نفس کی اصلاح کر سکیں۔ اور ایک نیک اور کامل انسان میں تبدیل ہوں جائیں

روایات میں ہے کہ جب ایک انسان گناہ کی حالت میں مرے گا اور پروردگار سے مدد طلب کرے گا تو پھر اس کا پروردگار اسے مدد نہیں دے گا۔
ایک منتظر جو اپنے مولا کی قیادت میں ایک عظیم الہیٰ انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے اور پوری دنیا کے اندر نیکیاں پھیلانا چاہتا ہے اور توحید کا پرچار کرنا چاہتا ہے۔ ایک کامل انسان کی شکل میں اور مولا ؑ کے اصحاب و انصار کی شکل میں آنا چاہتا ہے۔ تو اس کا نفس لوامہ زندہ اور بیدار ہونا چاہیے ۔ اور وہ اپنے نقائص کو دور کرے۔ اپنی روحانی بیماریوں کو دور کرے توبہ کرے اصلاح کرے ۔ اور اگر کوئی گناہ سرزد ہو گئے ہیں تو خالصاً اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرے۔ اور 24 گھنٹے خود پر توجہ کرے۔

والسلام۔

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید