عالمی مرکز مهدویت – icm313.com

سلسلہ اخلاق منتظرین – اخلاق و تربیت کی اہمیت اور…

سلسلہ اخلاق منتظرین
مہدی مضامین و مقالات

سلسلہ اخلاق منتظرین – اخلاق و تربیت کی اہمیت اور…

موضوع: اخلاق و تربیت کی اہمیت اور اس میں معلمین اخلاق سے استفادہ کریں،اپنی خصلتوں کی پہچان پر دقت کریں۔

استاد محترم آغا اصغر علی سیفی صاحب

خلاصہ:
انسان دوسروں کی تربیت تو آسانی سے کر لیتا ہے لیکن اپنی تربیت کرنا جہاد اکبر ہے۔ اپنی تربیت کےلیے پہلا قدم معلمین اخلاق انبیاؑ اور ان کے اوصیاؑ کی احادیث پڑھیں کیونکہ یہ اسوہ ہیں اور یہ ہماری ہدایت کے لیے بھیجے گئے اور ان کے پاس علوم الہیٰ بھی ہیں اور تذکیہ نفس بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کے فرامین سے انس پیدا کریں اور روزانہ مطالعہ کریں۔

ہم کتنا ہی وقت اپنی زندگی میں سے اپنی اخلاقی تربیت کے لیے مختص کرتے ہیں ایسے فرامین اور اخلاقی کہانیاں جو ہمیں جھنجھوڑیں ۔ قرآن مجید کے اندر انبیاء کے قصے ہیں اور احادیث مبارکہ میں معصومینؑ کے بے پناہ واقعات ہیں اور ان کے اصحاب کے اندر جو صالحین، علما ، اور بزرگوار ہستیوں کے واقعات ہیں جو ہماری تربیت میں کردار ادا کرتے ہیں ۔ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس پر توحیدی رنگ ہوتا ہے۔ لیکن پھر وہ اپنے خاندان اور معاشرے کے رنگ میں ڈھلتا ہے۔ اور اس سے اس کا کردار بنتا ہے۔

علمی اصطلاح میں اسے ملکہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ملکہ سے مراد ایسی صفت جو انسان کی جان پر چھا گئی ہے۔

لیکن ملکہ عادات سے آہستہ آہستہ جان چھڑائی جا سکتی ہے احادیث اور فرامین کے مطالعے سے۔

ملکہ دو طرح کے ہیں
ایک اچھائی کا رنگ اور ایک برائی کا رنگ اور یہ دونوں صفات خدا کی طرف سے نہیں عطا ہوئیں بلکہ یہ اس شخص کا خاندان اور معاشرہ ہے جو اس کو کافر اور فاسق بناتا ہے۔

جس طرح ہم جسمانی اور ذہنی تربیت کرتے ہیں۔ اسی طرح روح کی تربیت بھی ضروری ہے۔ جو ہماری دنیا اور آخرت کے لیے بھی اہم ہے۔ جس پر ہماری لا محدود زندگی انحصار کرتی ہے۔

رسولؐ اللہ نے فرمایا۔
خلقتم للبقاء ولا للفناء “ اے انسانوں تم باقی رہنے کے لیے خلق ہوئے ہو نہ کہ ختم ہونے کے لیے۔

روح کی تربیت کا تعلق دنیا اور عالم برزخ اور آخرت تک ہے۔

دنیا میں روحی تربیت اطمینان و خوشی کا باعث ہے۔

اسے مرنے کے بعد بھی اچھے الفاظ میں یا د کیا جاتا ہے۔
اس کے جنازے میں حقیقی گواہی دی جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے اس مومن سے خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔
ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ ہم ایک ایسی ہستی بنیں کہ جس سے سوائے خیر کے کچھ ممکن نہ ہو ۔ ہم اپنے لیے بھی خیر ہوں اور دوسروں کے لیے بھی خیر ہوں۔ نہ کہ جب ہم انتقال کریں تو جنازے میں جھوٹی گواہی دی جا رہی ہو۔ جسے نہ پروردگار عالم قبول کرتا ہے اور نہ ہی اس کے ملائکہ۔

ہم تب مخلوق خدا کے لیے خیر ہوں گے جب ہم اپنی فکر کریں گے۔ اپنے لیے خیر بنیں گے۔
جو شخص اپنی روح اپنے دل اور اپنےنفس و خواہشات کی تربیت کرے گا ۔ جس کے اندر اچھی صفات ہیں ۔ جس کے اندر سخاوت، شجاعت، علم ، حلم اور اپنے نفس پر کنٹرول ہے، غیبت، منافقت، ریاکاری اور مکر و فریب سے بچاؤ ہے۔ ایسے قلب سلیم کے مالک وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اپنی فکر ہوتی ہے۔ چونکہ جب انسان حقیقی معنوں میں اپنی فکر کرتا ہے ۔ تو ساری دنیا اس کے شر سے محفوظ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ پھر وہ منبع خیر بن جاتا ہے۔
ہمار ے ہاں عموماً اپنی فکر کرنا برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ایک خود غرض انسان جو اپنے پیٹ اور خواہشات کی فکر کرتا ہے۔

اگر ہم اپنے آئندہ کے جہانوں کی فکر کریں یعنی جیسے ایک قطرے کی سمندر کے مقابلے کوئی حیثیت نہیں ایسے ہی ہمارے اور کتنے جہاں ہیں جہاں ہم نے حساب دینے ہیں۔ وہاں دنیا کی زمانے کے اعتبار سے اگلے جہانوں میں کوئی اہمیت نہیں البتہ اس اعتبار سے اہمیت ہے کہ ہم نے اس دنیا میں اس جہاں کو بنانا ہے۔ یہ دنیا فیصلہ کرے گی کہ اگلے جہا ں میں ہم نے کیسے زندگی گزارنی ہے۔

اس لئے ہم نے اپنے اندر موجود ملکہ عادات کے ساتھ جنگ کرنی ہے۔ جنہوں نے ہماری جان اور روح کو اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے۔

ہمیں اپنا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر اچھی خصلتیں ہے تو شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کو مزید بڑھانا چاہیے۔

اور اگر بری خصلتیں ہیں تو اب ان راسخ خصلتوں سے جان چھڑانی ہے۔

اگر ہم بچوں سے چھوٹے پیمانے پر خطا دیکھ کر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں تو یہ خطا پیش خیمہ ہے ایک بہت بڑے ملکہ کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ ہم نے اپنے بچے کیا بنا دیا۔

آغاز سے ہی روکنا آسان ہے ۔ بجائے اس کے کہ یہ خطا ملکہ میں بدل جائے اور پھر اس کو روکنا بہت بڑا جہاد ہے۔ ہمیں اپنی تربیت کرنی چاہیے۔ اپنا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اپنی فکر کرنی چاہیے۔ اپنی خطائیں لکھنی چاہیے اور اپنی حالیہ خطاؤں کو بھی دور کرنے کے لیے اپنی تربیت کرنی چاہیے۔

والسلام

عالمی مرکز مہدویت قم

دیدگاه خود را اینجا قرار دهید