تازہ ترین پوسٹس

سلسله دروس امامت_درس 8_آئمہ علیہم السلام کی عصمت پر ایک تجزیاتی مطالعہ

درس امامت:8

آئمہ علیہم السلام کی عصمت پر  ایک تجزیاتی مطالعہ

استاد محترم علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمہید:امامت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے عصمت (Infallibility) ایک بنیادی نکتہ ہے۔ پچھلے دروس میں ہم نے مختلف نظریات پر بحث کی کہ آئمہؑ کی عصمت کا منبع کیا ہے؟ کیا یہ جبری ہے جیسے ملائکہ کی، یا کسبی اور اختیاری ہے جو انہوں نے خود حاصل کی؟ آج ہم ان نظریات کا مزید تجزیہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ عصمت کو حاصل کرنے کا کیا فلسفہ ہے۔

عصمت پردو بڑے نظریات

1۔ عصمت جبری (Like Angels)

اس نظریہ کے مطابق، آئمہؑ اور انبیاؑ مجبور ہیں کہ وہ گناہ نہ کریں، بالکل جیسے فرشتے معصیت نہیں کرتے۔ ان کے اختیار کو اللہ نے ختم کر دیا ہے، اس لیے وہ گناہ کے قریب جا ہی نہیں سکتے۔

2۔ عصمت اختیاری(کسبی)

یہ نظریہ کہتا ہے کہ آئمہؑ اور انبیاؑ معصوم ہونے کے باوجود مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ وہ گناہ کے قابل ہوتے ہیں، لیکن خود اسے ترک کرتے ہیں۔ مسلسل نیکیوں میں مشغول رہنے اور اللہ کی معرفت میں ترقی کرتے کرتے وہ ملکہ عصمت حاصل کر لیتے ہیں۔

عصمت جبری کا تجزیہ: تین بنیادی اعتراضات

اگر یہ کہا جائے کہ آئمہؑ مجبور ہیں کہ وہ نیکی کریں اور گناہ نہ کریں، تو اس پر درج ذیل تین بڑے اعتراضات وارد ہوتے ہیں:

1۔ تعریف کے لائق نہ ہونا

اگر کوئی نیکی پر مجبور ہو تو وہ تعریف کے قابل نہیں ہوتا۔ قرآن میں اللہ نے انبیاؑ اور آئمہؑ کی تعریف کی ہے اور لوگوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ یہ اسی وقت معنی رکھتا ہے جب وہ اپنے اختیار سے نیکی کر رہے ہوں۔

2۔ جنت اور اجر بے معنی ہو جاتا ہے

جنت کا وعدہ جزا و سزا کے اصول پر ہے، یعنی جو اختیار سے نیکیاں کرے گا وہ جزا پائے گا۔ اگر آئمہؑ مجبور ہوں کہ وہ گناہ نہ کریں، تو پھر جنت میں ان کے بلند مقامات بے معنی ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے نیکی اپنی مرضی سے نہیں کی بلکہ ان سے زبردستی کرائی گئی۔

3۔ عبادات اور ذمہ داریوں کا کوئی فائدہ نہیں

اگر آئمہؑ مجبور ہوں، تو پھر ان پر عبادات اور ذمہ داریاں لاگو نہیں ہوتیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ عبادت گزار تھے، سب سے زیادہ حق الناس کا خیال رکھنے والے تھے، سب سے زیادہ زحمتیں اٹھانے والے تھے۔ اگر وہ مجبور ہوتے، تو ان کے لیے کوئی مشقت نہیں ہونی چاہیے تھی۔

نتیجہ: عصمت جبری کا نظریہ باطل ہے کیونکہ یہ قرآن، عقل اور منطق کے خلاف ہے۔

آئمہؑ کی عصمت: حقیقی فلسفہ

آئمہؑ معصوم ہیں، لیکن مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے خود اپنے علم، معرفت اور مجاہدہ سے گناہ سے بچنے کا ملکہ پیدا کیا اور بلند ترین مقامِ عصمت پر فائز ہوئے۔

کیا کوئی انسان اپنے اختیار سے معصوم بن سکتا ہے؟

جی ہاں! آئمہؑ نے یہی ثابت کیا ہے۔

آئمہؑ عام انسانوں کی طرح پیدا ہوئے۔

ان کے گھرانوں میں دوسرے افراد غیر معصوم تھے، لیکن یہ خود معصوم بنے۔

انہوں نے اپنے اختیار سے تقویٰ اور معرفت میں ترقی کی اور اس درجے پر پہنچے کہ معصوم کہلائے۔

قرآنی دلیل: وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ( سورہ نجم آیت 39)

” اور یہ کہ انسان کو صرف وہی ملتا ہے جس کی وہ سعی کرتا ہے۔۔”

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (سورہ رعد آیت 11)

“اللہ کسی قوم کا حال یقینا اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے”

یہ سب آیات بتاتی ہیں  کہ نبیؑ اور امامؑ بھی  اپنی ریاضت، زحمت اور معرفت سے اعلیٰ درجے پر پہنچے۔

معصومینؑ نے عصمت کیسے حاصل کی؟

1۔ گناہ کی حقیقی شناخت

سب سے پہلے حرام و حلال کا مکمل شعور پیدا کیا۔بچپن سے ہی ان کے والد امام نے انہیں  دینی تعلیم و تربیت دی ۔

امیر المومنین امام علی (ع) فرماتے ہیں: إنّ رسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله علّمَني ألفَ بابٍ مِن الحلالِ و الحرامِ…(کتاب خصال ، صفحہ664)

اللہ کے رسول نے مجھے حلال و حرام کے ہزار باب تعلیم دئیے…

خطبہ قاصعہ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: یرفع لی فی کل یوم من أخلاقه علما و یأمرنی بالاقتداء به…

نبی کریم (ص)ہر روز مجھے اخلاقیات کی تعلیم دیتے تھے اور مجھے ان خلاقی اصولوں کی اتباع کا حکم دیتے تھے…

2۔ اللہ کی حقیقی معرفت

جتنا اللہ کی معرفت بڑھے گی، اتنا ہی گناہ کی کراہت محسوس ہوگی۔

امام علیؑ کا فرمان:   ” اگر میرے سامنے جتنے بھی پردے ہٹا دیے جائیں تو میرے یقین میں کوئی اضافہ نہ ہوگا۔”

امام حسینؑ:     ”    پروردگار! آیا تیرا کوئی غیر ظاہر ہے؟ بلکہ تو سب کے ظاہر ہونے کی وجہ ہے!”

3۔ اپنی ذات کی حقیقی شناخت

امام علیؑ   :  “جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔”

خود پر قابو رکھنا سب سے بڑی طاقت ہے۔معصومینؑ نے اپنے اوپر مکمل کنٹرول کر لیا، اور اپنے نفس کو گناہ سے بچا لیا۔

نتیجہ:

یہ تین چیزیں آئمہؑ کی عصمت کی بنیاد ہیں:

1۔گناہ کی حقیقی شناخت

2۔ اللہ کی معرفت

3۔اپنی ذات کی پہچان

یہی وجہ ہے کہ آئمہؑ معصوم ہونے کے باوجود اختیار رکھتے ہیں اور نیکی کا انتخاب کرتے ہیں۔

کیا ہم بھی عصمت حاصل کر سکتے ہیں؟

جی ہاں! ایک حد تک۔ہم سب بھی کچھ گناہوں سے معصوم ہیں۔

کچھ گناہ ایسے ہیں جو ہم کر ہی نہیں سکتے، کیونکہ وہ ہمارے لیے اتنے ناپسندیدہ ہیں کہ ہم انہیں سوچ بھی نہیں سکتے۔

اگر ہم اپنے گناہ کم کرتے جائیں اور معرفت بڑھاتے جائیں، تو ہم جزوی عصمت حاصل کر سکتے ہیں۔

جتنا اللہ کو سمجھیں گے، اتنا ہی گناہ کی کراہت محسوس ہوگی!

نتیجہ اور خلاصہ:

1۔صمت جبری نہیں بلکہ اختیاری ہے۔

2۔ آئمہؑ نے خود اپنی معرفت اور ریاضت سے اسے حاصل کیا۔

3۔ انسان گناہ کو ترک کرکے، معرفتِ الٰہی میں ترقی کرکے جزوی عصمت حاصل کر سکتا ہے۔

4۔ جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہے، وہ کبھی اس کی نافرمانی نہیں کرے گا۔

پروردگار ہمیں آئمہؑ کی عصمت سے الہام لینے، پاکیزہ زندگی گزارنے اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین!

والسلام علیکم

عالمی مرکز مهدویت قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *