تازہ ترین پوسٹس

زیارت اربعین کی تشریح_ساتواں درس۔امام کا نسب اور صفات کے اعتبار سے پاک اور عظیم ہونا

السّلام عَلیَ الحُسَین (ع)
وعَلی عَلِِِّیِ ابن الحُسَین (ع)
وعَلی اوْلادِ الحُسَین (ع)
و عَلی اَصحابِ الحُسَین (ع)

زیارت اربعین

ساتواں درس

زیارت اربعین کی تشریح
امام کا نسب اور صفات کے اعتبار سے پاک اور عظیم ہونا

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

زیارت اربعین کی تشریح

آج ساتواں موضوع ہے یہ امام حسین علیہ السلام کی نسب کے اعتبار سے جو پاکیزگی ہے اس کو امام صادق علیہ السلام بیان فرماتے ہیں اور اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کی بعنوان امام جو صفات ہیں ان کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں

زیارت کے جملے یہ ہیں کہ

ٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ كُنْتَ نُوْرًا
ؐمیں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نور کی شکل میں رہے

فِی الْاَصْلَابِ الشَّامِخَۃِ، وَالْاَرْحَامِ الْمُطَھَّرَۃِ
آپ بلند مرتبہ اصلاب اور پاکیزہ ارحام میں رہے

اصلاب صلب کی جمع ہےاور ارحام رحم کی جمع ہےیعنی آپ کے جو اباؤ اجداد تا حضرت آدم علیہ السلام سب کے سب کے ماں باپ دونوں وہ پاکیزہ تھے آپ کا نور پاکیزہ والدین کے ذریعے منتقل ہوتا ہوا امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف منتقل ہوا۔
اور اس کے بعد فرماتے ہیں:

لَمْ تُنَجِّسْكَ الْجَاھِلِیَّۃُ بِٲَنْجَاسِھَا
جنہیں جاہلیت نے اپنی نجاست سے آلودہ نہ کیا۔

یعنی اسلام سے پہلے والا جو دور ہے جسے ہم زمانہ جاہلیت کہتے ہیں فرماتے ہیں کہ جاہلیت کی جو ناپاکی ہے اس سے آپ کا نور آلودہ نہیں ہوا یعنی آپ کے ابا و اجداد ہمشہ اس دور میں بھی حقیقی معنوں میں خدا پرست حقیقی معنوں میں مسلمان موحد مومن بلکہ ہمارا تو عقیدہ ہے کہ وہ سب اللہ کے منتخب برگزیدہ بندے تھے۔

وَلَمْ تُلْبِسْكَ الْمُدْلَھِمَّاتُ مِنْ ثِیَابِھَا
انہوں نے کوئی طرح طرح کےلباس نہیں پہنے۔

مراد یہ ہے کہ ان کا جو کردار ہے ان کا جو ظاہر ہے وہ بھی اسی طرح پاک تھا جس طرح کہ ان کے اندر ایک پاک نور کا سفر جاری تھا۔

اس کے بعد امام صادق علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کی صفات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:

وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ مِنْ دَعَائِمِ الدِّیْنِ
وَٲَرْكَانِ الْمُسْلِمِیْنَ، وَمَعْقِلِ الْمُؤْمِنِیْنَ

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دین کے ستونوں میں سے ایک ستون اور مسلمانوں کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد اور مومنین کے لئے پناہ گاہ تھے۔مزید فرماتے ہیں:

وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ الْاِمَامُ الْبَرُّ التَّقِیُّ
الرَّضِیُّ الزَّكِیُّ الْھَادِی الْمَھْدِیُّ

میں گواہی دیتا ہوں آپ نیک صالح امام، باتقوی، اللہ کے مقدر کیے ہوئے امور پر راضی، ہدایت کرنے والے اور ہدایت شدہ ہیں۔

 

امام کا نسب اور صفات کے اعتبار سے پاک اور عظیم ہونا

زیارت اربعین کے اس حصے میں امام صادق علیہ السلام نے بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی نسب اور صفات کے طور سے عظمت کو بیان کیا۔

پہلا جو حصہ ہےاس میں مولا کےنسب کو اور وہ نسب یعنی حضرت آدم تک امام حسین علیہ السلام کا جو نسب ہے وہ پاک ہے اس کی طرف امام صادق علیہ السلام اشارہ فرماتے ہیں:
اور یہ ہمارا شیعہ عقیدہ ہے کہ ہمارے تمام آئمہ معصومین اسی طرح خود سرکار ختمی مرتبت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سب کا نسب تاحضرت آدم پاک ہے۔

اس حوالے سے بزرگانِ تشیع کےکچھ اقوال آپ کی خدمت میں بیان کرتے ہیں اور قرانی آیات اور احادیث سے بھی اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہیں شیخِ صدوق رحمت اللہ جو بزرگ ترین شخصیت ہیں مکتبِ تشیع کی اور ہماری چار کتابوں میں سے ایک کتاب من لا يحضر الفقیہ کے مصنف ہیں وہ فرماتے ہیں:
ہمارا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اباؤ اجداد کے بارے میں جو عقیدہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت عبداللہ تک سب مسلمان تھے اور حضرت ابو طالب علیہ السلام وہ بھی مسلمان تھے اور اسی طرح حضرت آمنہ بنتِ وہب بھی مسلمان تھیں۔
یعنی اس سے پہلے جو الہی دین تھا وہ سب اس کے مطابق تھے یعنی حضرت آدم سے لے کر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جتنی ہستیاں درمیان میں ہیں وہ سب اپنے اپنے زمانے کے مطابق جو الہی دین تھا اس کے مطابق وہ مسلمان تھے اور یہ عقیدہ صرف مکتبِ تشیع میں ہے کسی اور اسلامی مکاتب میں سے کسی اور مکتب میں نہیں ہے اور یہ ہمارا فخر ہے اور ہمارے مکتب کی حقانیت کی دلیل ہےکہ ہم اپنے پیغمبر کو اور اسی طرح ان کے اوصیاء ان سب کے اجداد کی پاکیزگی کے اور اسلام کے قائل ہیں۔

شیخ مفید رحمت اللہ وہ بھی اپنی کتاب اوائل المقالات میں فرماتے ہیں کہ:

امامیہ یعنی مکتبِ تشیع کا اس بات پر اتفاق نظر ہے اور وہ یہ کہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو اباؤ اجداد ہیں وہ حضرت آدم تک یعنی حضرت آدم سے لے کر حضرتِ عبداللہ جو کے والدِ گرامی ہیں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سب کے سب جو ہیں وہ مومن اور موحد تھے اور اس حوالے سے قرآنِ مجید کے اندر آیات ہیں اور خود محمد و آلِ محمد سے احادیث وہ ہمارے پاس نقل ہوئی ہیں۔

شیخ مفید رحمت اللہ فرماتے ہیں:

کہ ہمارا یہ اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو چچا ہیں یعنی حضرتِ ابو طالب علیہ السلام وہ بھی دنیا سے ایمان کی حالت میں گئے ہیں اور حضرتِ آمنہ بنتِ وہب وہ بھی موحدہ تھی اور اہلِ ایمان کے ساتھ محشور ہوں گی۔

قرآنِ مجید میں آیہ مجیدہ سورہِ شوری کی دو سو انیس نمبر آیت* اس میں اللہ تعالیٰ جو ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہے پروردگار فرما رہا ہے:

وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّاجِدِيْنَ

کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جن انساب میں منتقل کیا ہے وہ سب کے سب سجدہ گزار تھے یعنی پروردگار فرما رہا ہے کہ آپ کا نور جو ہے جن جن ہستیوں سے منتقل ہوتا ہوا ظاہر ہوا ہے یعنی حضرتِ عبداللہ تک پہنچا ہے یہ سب کے سب جو ہیں سجدہ گزار ہے۔

حدیث
بحار الانوار کے اندر حدیث موجود ہے کہ جناب ابن عباس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مجھے پاک اصلاب یعنی والد کی طرف سے پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل کیا یعنی باپ کی طرف سے بھی پاک باپ تھے میرے سارے اور ماں کی طرف سے بھی ساری مائیں پاکیزہ تھی اس حالت میں میں منتقل ہوا کہ میں بھی پاک تھا اور اللہ کا منتخب کردہ تھا۔

جناب جابر بن عبداللہ انصاری(رض) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں:
کہ اللہ تعالی نے مجھے ہمیشہ پاکیزہ اصلاب سے پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل کیا ہے اور اس حالت میں منتقل کیا کہ میں ہدایت کرنے والا اور ہدایت شدہ تھا۔

جناب ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ یہ بھی نقل کرتے ہیں:
کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا اللہ تعالی نے ہمیشہ مجھے پاک اصلاب سے پاک ارحام میں منتقل کیا یعنی میں اپنے والد کی طرف سے بھی میرے جتنے بھی والد تھے حضرت آدم سے لے کر اب تک سارے پاک تھے اور مائیں بھی ساری پاکیزہ تھیں۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ امام باقر علیہ السلام سورہ شوری کی اسی آیہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
کہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور جو ہے ایک صلب سے دوسری صلب میں منتقل کیا اور وہ سارے کے سارے پیغمبر تھے اور سب نے اپنی زوجات کے ساتھ نکاح کیا تھا وہاں کسی طرح کی کوئی آلودگی نہیں تھی۔

ہمارے مذہب کی بہت بڑی شخصیت شیخ طوسی رحمت اللہ فرماتے ہیں:
اللہ تعالی نے جب ارادہ کیا کہ حضرت آدم کے صلب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور کو منتقل کرے تو وہ سارے کے سارے موحد تھے اور ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو غیر خدا کو سجدہ کرے اس لیے تو اللہ نے قرآن مجید میں آپ کے اباو اجداد کے سجدہ گزار ہونے کی گواہی دی۔

اور یہ جو پاکیزہ ارحام اور پاکیزہ اصلاب کے حوالے سے جو عقیدہ یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص نہیں بلکہ ہمارے پیغمبر کے تمام اوصیاء بھی ایسے ہی تھے اس لیے تو ہم نے واضح کیا کہ شیعہ کا یہ عقیدہ ہے۔
جناب ابو طالب علیہ السلام اور بی بی آمنہ بنت وہب سلام اللہ علیہا یہ بھی اسی طرح اباو اجداد کے طور سے پاکیزہ تھیں اور اسی وجہ سے ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اوصیاء بھی وہی مقام رکھتے ہیں۔

اپنے اباو اجداد کے حوالے سے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیدہ ہے اس حوالے سے خود نبی کریم کا فرمان ہے فرماتے ہیں کہ:

صرف میں نہیں اور میرے اوصیاء نہیں جتنے بھی نبی آئے اور جتنے بھی اوصیاء آئے یہ سب اللہ کی عظمت کے نور سے خلق ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے انوار کو پاکیزہ اصلاب سے پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل کیا اسی طرح ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو اوصیاء ہیں وہ سارے کے سارے یہی مقام رکھتے ہیں۔

اس لئے ہم سب کے زیارت ناموں میں اس بات کی طرف تاکید ہوئی ہے کہ آپ پاکیزہ اصلاب سے پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل ہوئے اور یہ سارے اولاد پیغمبر ہیں فرزند رسول ہیں اور ہمارا یہ ثابت کرنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور پاکیزہ اصلاب سے پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل ہوا ہے تو یہاں سے خود بخود اہلِ بیت کی عظمت بھی ثابت ہوتی ہے۔

اسی طرح جو دوسرا حصہ ہےاس میں مولا امام حسین علیہ السلام کی کچھ صفات کی طرف امامِ صادق علیہ السلام وہ اشارہ فرماتے ہیں۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ عقیدے کے مطابق امامِ معصوم میں کون سی صفات ہونی چاہیئے ایک نظر جو ہے وہ ہم اپنے عقیدے کی رو سے جو ہے امامِ معصوم پر ڈالیں شیعہ عقیدے کے مطابق قرآن اور احادیث اور اسی طرح عقل سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ امامِ معصوم جو ہیں ان کے اندر یہ چند صفات ہونا ضروری ہے۔

امام کی صفات:
.وہ معصوم ہو
.وہ عالم ہو یعنی ان سے بڑھ کر کوئی اور عالم نہ ہو
.وہ شجاع ہوں ان سے بڑھ کر کوئی شجاع نہ ہو
.اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد اور باتقوی ہوں
.ہر قسم کے عیب سے وہ پاک ہوں اور مزید یہ ہے کہ وہ صاحبِ اعجاز ہوں جس سے پتا چلے کہ وہ اللہ کی طرف سے منصوص ہیں
.آخری صفت یہی کہ وہ خدا کی طرف سے منصوب ہوں امامِ امامت پر فائز ہونے پر دلائل موجود ہونے چاہیں۔
امیر المؤمنین علیہ السلام کی کلام مبارکہ پر کہ جہاں انہوں نے ایک امام کی صفات کو بیان کیا یہ نہج البلاغہ کا خطبہ نمبر 131ہے یہاں سے مولا فرماتے ہیں کہ:
أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْوَالِي عَلَى الْفُرُوجِ وَ الدِّمَاءِ وَ الْمَغَانِمِ وَ الْأَحْكَامِ وَ إِمَامَةِ الْمُسْلِمِينَ الْبَخِيلُ، فَتَكُونَ فِي أَمْوَالِهِمْ نَهْمَتُهُ، وَ لَا الْجَاهِلُ فَيُضِلَّهُمْ بِجَهْلِهِ، وَ لَا الْجَافِي فَيَقْطَعَهُمْ بِجَفَائِهِ، وَ لَا الْحَائِفُ لِلدُّوَلِ فَيَتَّخِذَ قَوْماً دُونَ قَوْمٍ، وَ لَا الْمُرْتَشِي فِي الْحُكْمِ، فَيَذْهَبَ بِالْحُقُوقِ وَ يَقِفَ بِهَا دُونَ الْمَقَاطِعِ، وَ لَا الْمُعَطِّلُ لِلسُّنَّةِ فَيُهْلِكَ الْأُمَّة
فرماتے ہیں کہ: وہ شخص جو مقامِ امامت پر فائز ہے جو کہ لوگوں کی ناموس, لوگوں کی جان، لوگوں کے اموال پر ولی ہو ، اسی طرح دینی احکام اور مسلمانوں کی رہبری۔۔ یہ تمام طرح کی ولایت رکھتا ہے اس نہیں چاہیے کہ وہ بخیل ہو کیونکہ ایسا شخص پھر لوگوں کے مال پر نظریں گاڑ لے گا فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو مسلمانوں کا امام ہے اسے نہیں چاہیے کہ اس کے اندر کوئی جہالت ہو ورنہ وہ اپنی جہالت سے لوگوں کو گمراہ کرے گا اور فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا جو امام ہے اسے جفا کار نہیں ہونا چاہیے بلکہ وہ باوفا ہو ورنہ پھر وہ لوگوں کو پریشان کرے گا۔
فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا جو رہبر ہے وہ باقی حکومتوں سے نہ گھبرائے یعنی اپنے دشمنوں سے ان کی طاقت سے نہ گھبرائے ورنہ پھر وہ جب ان حکومتوں سے کوئی پیمان باندھے گا کوئی معاہدہ کرے گا اس میں مسلمانوں کی اور اسلام کی مصلحتوں کو مد نظر نہیں رکھے گا۔
اسی طرح فرماتے ہیں کہ ایک اسلامی حاکم جو کہ امام ہے اسے رشوت لینے والا نہیں ہونا چاہیے ورنہ لوگوں کی حقوق پامال ہوں گے اور مسلمانوں کا جو امام ہوتا ہے اسے سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غفلت نہیں کرنی چاہیے ورنہ امت ہلاک ہو جائے گی تو یہ ایک مختصر سا اشارہ تھا جو نہج البلاغہ میں امیر المؤمنین علیہ السلام نے ایک کلی نگاہ ڈالی ورنہ امام کے حوالے سے ان کی صفات کے حوالے سے کافی وسیع اس موضوع پر کام ہوا ہے اور کتابیں ہیں اور دروس ہیں وہ لوگ جو اس موضوع میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ امام کی صفات کے حوالے سے جو دروس ہیں ان کو مطالعہ کریں اور اس میں قرآن اور احادیث کی رو سے دلائل دئیے گئے ہیں کہ کیوں امام معصوم ہو اور عصمت کیا ہے اور علم کے حوالے سے امام کا مقام کیا ہے اور اسی طرح جن صفات کی طرف مولا نے اشارہ فرمایا یہ کیوں امام کے اندر ہونا ضروری ہیں اس سب تفصیلات جو ہیں وہ ان دروس میں موجود ہیں۔

ہم زیارت اربعین کے ان مبارک کلمات کی رو سے صرف ایک مختصر سا اشارہ کر رہے تھے کہ مکتب تشیع یہ ہے کہ جس میں امام نسب کے اعتبار سے بھی پاک ہے اور اپنی صفات اور خصوصیات کے اعتبار سے بھی باعظمت ہے یہ ہے مکتب تشیع کے اندر امام کا درجہ اور مقام۔

اللہ تعالی ہم سب کو اپنے امام کی معرفت حاصل کرنے اور ان سے متمسک ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

جاری ہے ۔۔۔

عالمی مرکز مہدویت_ قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *