تازہ ترین پوسٹس

زیارت اربعین کی تشریح_دوسرا درس۔ولایت کا معنی ومفہوم

السّلام عَلیَ الحُسَین (ع)
وعَلی عَلِِیِ ابن الحُسَین (ع)
وعَلی اوْلادِ الحُسَین (ع)
و عَلی اَصحابِ الحُسَین (ع)

زیارت اربعین

.دوسرا درس
.زیارت اربعین کی تشریح
. وراثت انبیاء سے کیا مراد ہے ؟
.ولایت کا معنی ومفہوم

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

زیارت اربعین کی تشریح

زیارت اربعین کی تشریح کے حوالے سے ہم یہاں پہنچے زائر چاہیے وہ دور سے زیارت کرے یا مولا امام حسین علیہ السلام کے حرم مبارک میں پہنچ کر زیارت کرے تو اپنی زیارت میں مولا پر سلام و درور بھیجنے کے بعد وہ کچھ چیزوں کے گواہی دیتا ہے اللہ کی بارگاہ میں ۔

دوسرا حصہ زیارت اربعین

زائر جو ہے وہ یوں پروردگار کی بارگاہ میں گوائی دیتا ہے

اَللَّهُمَّ إِِنِّي اَشـهَدُ
اے معبود میں گواہی دیتا ہوں کہ
اَللَّهُمَّ إِِنِّي اشْهَدُ انَّهُ وَلِيُّكَ وَٱبْنُ وَلِيِّكَ
وہ تیرے ولی اور تیرے ولی کے فرزند
وَصَفِيُّكَ وَٱبْنُ صَفِيِّكَ
تیرے برگزیدہ اور تیرے برگزیدہ کے فرزند ہیں

ٱلْفَائِزُ بِكَرَامَتِكَ
جنہوں نے تجھ سے عزت پائی

ﺍ كْرَمْتَهُ بِٱلشَّهَادَةِ
تونے انہیں شہادت کی عزت دی

وَحَبَوْتَهُ بِٱلسَّعَادَةِ
ان کو مخصوص سعادت سے نوازا اور کامیاب فرمایا

وَٱجْتَبَيْتَهُ بِطِيبِ ٱلْوِلاَدَةِ
اور میں گواہی دیتا ہوں انہیں پاک ولادت بخشی

وَجَعَلْتَهُ سَيِّداً مِنَ ٱلسَّادَةِ
اور تو نےسادات میں سے بڑا سید قرار دیا

وَقَائِداً مِنَ ٱلْقَادَةِ
دنیا کے رہبروں میں سے بڑا رہبر

وَذَائِداً مِنْ ٱلذَّادَةِ
دین کے مخافظوں میں سے بڑا مخافظ

وَاعْطَيْتَهُ مَوَارِيثَ ٱلانْبِيَاءِ
اور انہیں نبیوں کے ورثے عطا کیے

وَجَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَىٰ خَلْقِكَ مِنَ ٱلاوْصِيَاءِ
تو نے قراردیا ان کو اوصیائ میں سے اپنی مخلوقات
پرحجت

فَاعْذَرَ فِي ٱلدُّعَاءِ
پس انہوں نے اپنی دعوت میں کوئی کمی نہیں کی

وَمَنَحَ ٱلنُّصْحَ
تمام امور میں بہترین خیرخواہی کی
سے سارے امور سر انجام دئیے

امام صادق علیہ السلام اپنے جدِ مبارک سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی تعریف اور مدح فرماتے ہیں

ان کی عظمت کو بیان کرتے ہیں ان کے ولی ہونے کی ان کے منتخب ہونے کو اور ان کی شہادت کی عظمت سعادتوں کا ذکر اور اللہ کی بارگاہ میں امام حسین علیہ السلام کا جو اخلاص ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ

دنیا میں بڑی بڑی ہستیاں مقام شہادت پر پہنچیں ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ جب بھی لفظ شہید آتا ہے سید الشہداء کا خیال اور ان کا تصور اور انسان کا ذہن ان کی طرف کینچھا چلا جاتا ہے

اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے شہادت کے اندر بلند ترین مقام یعنی کرامت پروردگار کو پایا اور اللہ کی بارگاہ میں بے پناہ اخلاص کا سبب بھی ہے
امام نے دنیا کو نہیں چاہا نا ہی دنیا کی کسی چیز کی طرف رغبت کی امام نے صرف خدا کو چاہا اور خدا کے دین کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اپنا مال اپنی اولاد سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کیا سب کچھ اللہ کی را میں فدا کیا اور یہ اخلاص کا اتنا بڑا عالم تھا کہ دشمنوں میں گھیرے ہوئے سب کچھ اللہ کی بارگاہ میں قربان کرتے ہوئے اپنے عزیز ترین بیٹوں اپنی بیٹیوں بہنوں اور اپنے بیمار فرزند کو دشمنوں میں گھرے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں چھوڑ کر چلے گے اور دشمنوں نے اس تھوڑے سے وقت میں بدترین مظالم جو ہیں وہ دنیا کی سب سے بلند ترین ہستی پر کہ جن سے بڑھ کر کوئی بھی اللہ کو پیارا نہیں تھا اور اس وقت پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے زیادہ عزیز ترین جو ہستی تھے وہ امام حسین علیہ السلام تھے کیا کیا ظلم نہیں کیا پیاس دی زخم دیے ان کے سر مبارک کو تن سے جدا کیا ان کے جسد مبارک کو پامال کیا ان کے بچوں کو بھائیوں کو عزیزوں کو اصحاب کو کس طرح ظلم کے ساتھ مارا گیا اور اس کے بعد مخدرات عصمت وہ پاک بیبیاں جن کی نسبت صرف اور صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے کس طریقے سے انہیں اسیر کیا گیا بے پردہ کیا گیا یہ تھوڑے سے ٹائم میں اتنے بڑے مظالم جو شہداء نے اللہ کی بارگاہ میں دین کے دفاع کے لئے برداشت کیے اسی وجہ سے

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ

انہوں نے کوئی عذر باقی نہیں رکھا صرف اور صرف اپنے رب سے خیر خواہی کی اور صرف اور صرف خلق خدا سے خیر خواہی کی اور اپنے رب سے اخلاص کے تمام مراتب کو طے کیا۔

وراثت انبیاء سے کیا مراد ہے؟

امام اس وقت بعنوان وصی خدا آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی کے عنوان سے وارث تھے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام زحمتوں کے اور ان کے دین کے اور پیغمبر خاتم الانبیاء تھے اس سے پہلے جتنے نبی آئے تھے ان سب کی زحمتوں کے وارث تھےانہوں نے جو قربانیاں دیں اور جو ہدایت کے کام کیے سب کے وارث ہمارے پیغمبر اور ان کے وارث اس وقت یعنی 61 ہجری میں سید الشہدا ء تھے اور آپ نے صرف اس وقت کے ظالم یزید کے مدد مقابل جب قیام کیا تو صرف اپنے نانا کی وراثت یعنی دین اسلام کو نہیں بچایا بلکہ تمام انبیاء کی وراثت جنہوں نے اس راہ میں قدم اٹھائے تھے زحمتیں کی تھی قربانیاں دی تھی سب کی وراثت یعنی یہ دین اسلام اس وقت سب کی وراثت تھا سب کو بچایا
اس لئے اس زیارت کے اندر سید الشہداء صرف خاتم الانبیاء کے وارث نہیں بلکہ آدم سے لے کر ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک سب کے وارث قرار پائے۔

سوال

کچھ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ خاندان پیغمبر کے اندر یہ جو وراثت کا مسئلہ ہے اور وہ خلافت کے مسئلے میں یہ آیا ایسا تو نہیں ہے جس طرح شاہی خاندانوں میں ہوتا ہے؟

نہیں بلکل نہیں امام صادق علیہ السلام نے جب آیا اولوا الارحام کی تفسیر فرمائی تو ان سے پوچھا گیا کہ یہ آیا کن کے بارے میں نازل ہوئی
تو آپ نے فرمایا یہ سید الشہداء کی نسل مبارک یعنی ان سے آنے والے جو آئمہ ہیں ان کے بارے میں نازل ہوئی

تو راوی نے یہ سوال کیا کہ آیا اس کے اندر جو وراثت کا ذکر ہے وہ مال کی وراثت کا ذکر ہے؟
فرمایا نہیں یہاں حکومت اور ولایت کا ذکر ہے تو یہاں سمجھ آرہا ہے کہ وراثت سے مراد صرف مال کی وراثت نہیں ہوتی بلکہ وہ عہدہ اور وہ منصب جو اللہ نے کسی ہستی کو عطا کیا ہوتا ہے اس کی بھی وراثت ہوتی ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان کے وارث سے مراد وہ ہستیاں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مانند امت پر حاکم ہونے تھے اور امت کے امور ولی خدا انجام دینے تھے ان کا ذکر ہو رہا ہے

اور یہاں وراثت جو ہے وہ سلاطین یا بادشاہوں کی طرح نہیں ہوتی کہ جہاں تخت و تاج کو حتما اس کے بڑے بیٹے کو یا اس کی نسل کو دینا ہوتا ہے۔
بلکہ یہاں وراثت جو ہے اس کا تعلق لیاقت استعداد اور شائستگی سے ہے کہ اللہ تعالی نے نبوت یا امامت کی وراثت جو ہے وہ حتی کسی بھی امام یا نبی کے سب فرزندوں کو اس کا اہل کا قرار نہیں دیا بلکہ جو ان میں سے لیاقت رکھتا ہے وہ اس مقام کو پائے گا۔

جس طرح حضرت آدم کے وارث حضرت شیث قرار پائے ان کی نسل مبارک میں سے اور اسی طرح بعد میں حضرت نوح اور اسی طرح پھر ان کے وارث حضرت ابراہیم اور یہ سلسلہ چلتا رہا حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ اور یہ وراثت جو ہے نبوت کی جس طرح ہمارے پیغمبر تک پہنچی ان کے بعد یہ امامت کی شکل میں ان کی نسل مبارک میں ہوئی۔

چونکہ امام جو ہے وہ ہر اعتبار سے افضل ہونا چاہیے نسب اعتبار سے بھی بلند ترین نسب رکھے
تاکہ کوئی نسبی اعتبار سے بھی اس پر انگلی نہ اٹھائے اس لئے اللہ تعالیٰ انبیاء کی اولاد میں معمولاً نبیوں کو قرار دیتا تھا
اور اسی اعتبار سے جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نسل کے لئے امامت مانگی تو پروردگار نے واضح فرما دیا کہ یہ ظالمین یعنی گناہگاروں کو نہیں ملے گی بلکہ اگر اس مقام کو لینا ہے تو تیری نسل میں سے وہ ہی لے گا جو عصمت رکھے گا جو گناہوں سے پاک ہوگا۔

ولایت کا معنی و مفہوم

اس لئے امامت کے حوالے سے یہ جو وراثت ہے ولایت کی امامت کی ، امام کے اس فرزند کو ملتی تھی جو مقام عصمت پر فائز ہوتے تھے جو ہر اعتبار سے اپنے آپ کو بلند رکھتے تھے اپنے علم میں ، پاکیزگی میں اور تمام اخلاق حسنہ میں جو بلند ترین مقام پر فائز ہوتے تھے اللہ ان کو امام قرار دیتا تھا بس یہاں جو وراثت ہے وہ صرف نسب کی بنا پر نہیں ہے جس طرح سلاطین اور بادشاہوں میں ہوتی ہے بلکہ وہ شائستگی اور لیاقت اور اہلیت کی بنا پر ہے یہاں جو مولا امام حسین علیہ السلام کو ولی قرار دیا گیا ہے۔
تو یہاں ولایت سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ ہم صرف ان سے محبت کریں ان سے دوستی کریں ان سے عشق کریں بعض لوگ ولایت کا معنی یہی لکھتے ہیں بلکہ یہاں ولایت سے مراد ان کو اپنا آقا اور اپنا سرپرست اور اللہ کی طرف سے اپنے اوپر حجت مانیے اور وہی حقیقی معنوں میں حکومت کے اہل ہیں وہی حقیقی معنوں میں لوگوں کی جان و مال پر حکومت کرنے کے اہل ہیں اللہ نے ہماری جانوں ہمارے اموال کا اختیار ان کے سپرد کیا یعنی وہ خدا کی طرف سے ہماری امور کے سر پرست ہیں اور اسی کا ایک حصہ یہ ہے کہ وہ ہم پر حاکم ہوں اگر ان کے ہوتے ہوئے کوئی اور حکومت کرے گا تو وہ اس کا اہل نہیں ہے بلکہ ہو سکتا ہے وہ ظالم ہو غاصب ہو۔

اور اس لیے امام حسین علیہ السلام نے جب اس وقت دنیا کے حاکموں کو اسلام کے خلاف چلتے ہوئے بلکہ اسلام کو مٹاتے ہوئے دیکھا تو آپ بعنوان وارث پیغمبر اٹھ کھرے ہوئے اور اسی ولایت کے عنوان سے آپ نے قدم اٹھایا اور آپ یہ چاہتے تھے کہ بالآخر امور کو سنبھالیں اور دنیا کے امور کو اسی طرح جس طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جس طرح مولا علی علیہ السلام نے سنبھالا

اور اس لیے آپ نے اشارہ فرمایا
کہ میں اپنے نانا کی اور اپنے والد بزرگوار کی سیرت پر چلوں گا یعنی لوگوں کے اندر حکومت عدل قائم کروں گا لوگوں کے امور کو الہی عدل کی روسے چلاؤں گا اور دین اسلام کی وہی حقیقی تشریح اور تفسیر کروں گا جس طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے جس طرح مولا علی علیہ السلام کرتے تھے اور ان کی مانند حکومت کروں گا حلال خدا حلال رہے گا اور حرام خدا حرام رہے گا۔

مولا جو ہیں وہ اسی حکومت کو بپا کرنا چاہتے تھے جس کو داود، علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام جس کو ہمارے پیغمبر جس کو مولا علی علیہ السلام نے بپا کیا

پھر آخر سید الشہداء نے قدم اٹھایا اور قیام کا آغاز کی اور یہ قیام اگرچہ ان کی شہادت واقع ہوئی لیکن اس قیام کو عظمت ملی اور حسینی تحریک چل پڑی اور یہ ابھی تک چل رہی ہے
اور اربعین کے موقع پر اس کے بے پناہ جلوے دنیا دیکھ رہی ہے اور اس کا اختتام اسی حسین علیہ السلام کے وارث امام مہدی علیہ السلام کے ظہور پر ہوگا کہ جب آپ ظہور فرمائیں گے اپنا اعلان بعنوان وارث حسین ع بعنوان منتقم خون حسین ع کریں گے اور اسی تحریک کو عروج دیں گے اور عظمت دیں گے اور وہ قیام جو سید الشہداء نے 61ہجری میں کیا تھا امام مہدی علیہ السلام بعنوان فرزند حسین ع اس قیام کو پوری دنیا میں پھیلائیں گے مشرق اور مغرب میں اسی اسلام کا غلبہ اور اسی اسلام کا نفوذ دنیا دیکھے گی جس کی خاطر سید الشہداءنے قیام کیا اور بالاخر دنیا کا وہ عالم ہوگا۔

جیسے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے تھے

کہ دنیا کے ہر ہر گوشے سے اشہد اللہ الہ الا اللہ وحدہ لا شریک اللہ و اشہد انہ محمد عبده و رسولولہ کی صدائیں بلند ہوں گی اور اسلام کے پرچم لہرائیں گے اور پوری دنیا عدل و انصاف سے بھرے گی جس کی بشارتیں ہمارے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دیں اور شیعہ سنی کتابوں میں یہ بشارتیں ہیں جب مہدی وارث حسین ع فرزند حسین ع جب آخری وصی ہمارے پیغمبر ص ظہور فرمائیں گے دنیا عدل الہی سے بھرے گی۔

امام رضا علیہ السلام کے فرمان کے مطابق

اشرقت الارض بنور ربها

زمین جو ہے وہ رب کے نور سے چمکے گی اور اس وقت ترازو عدالت پوری دنیا میں قائم ہوگا اور ہر حقدار کو اس کا حق ملے گا
اللہ تعالی ہم سب کو وارث حسین وارث اربعین کی نگاہوں میں اور ان کی دعاوں میں قرار دے اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو وارث حسین کے ظہور کا سبب بنے اور ان کی ہمراہی کا شرف حاصل کریں اور مولا حسین کا پیغام پوری دنیا پر نافذ ہوتا دیکھیں انشاءاللہ

جاری ہے۔۔۔

عالمی مرکز مہدویت _قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *