السّلام عَلیَ الحُسَین (ع)
وعَلی عَلِِیِ ابن الحُسَین (ع)
وعَلی اوْلادِ الحُسَین (ع)
و عَلی اَصحابِ الحُسَین (ع)
زیارت اربعین
چھٹا درس
. زیارت اربعین کی تشریح
. تولی اور تبراء کی اہمیت
. اربعین کے بعد زائر کیسا ہو؟
استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب
زیارت اربعین کی تشریح
زیارت اربعین کی تشریح کے حوالے سے ہم چھٹے مرحلہ میں پہنچے ہیں زیارت کے اس حصے میں مولا امام صادق علیہ السلام اپنے جد امجد سید الشہداء علیہ السلام کو اس طرح مخاطب ہوتے ہیں فرماتے ہیں کہ
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ٲُشْھِدُكَ ٲَنِّیْ وَلِیٌّ لِمَنْ وَالَاہُ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاہُ
پروردگارہ میں تجھے گواہ قرار دیتا ہوں کہ جو بھی امام حسین علیہ السلام سے محبت کرے گا میں اس سے محبت کروں گا اور جو ان سے دشمنی کرے گا میں ان سے دشمنی کروں گا۔
بٲَبِیْ ٲَنْتَ وَٲُمِّیْ یَابْنَ رَسُوْلِ ﷲِ
رسول اللہ اس کے بعد فرماتے ہیں اے فرزند رسول آپ پر میرے ماں باپ قربان۔
تولى اور تبراء کی اہمیت
یہاں پہلے حصے میں مولا نے جو فرمایا کہ جو ان سے محبت کرے گا میں ان سے محبت کروں گا اور جو ان سے دشمنی کرے گا میں ان سے دشمنی کروں گا۔
ہمارے فروع دین کے اندر ایک اہم موضوع جس پر عام طور پر توجہ نہیں ہوتی وہ تولی اور تبراء ہے۔
تولی کا مطلب یہی ہےکہ انسان مومن منتظر اپنے مولا سے اسی طرح خاندان اہلیبت سے اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور اسی طرح پروردگار ان سب سے محبت کرے اور جو ان سے محبت کرتا ہے اس سے بھی محبت کرے مثلا جو بھی محمد و آل محمد کے ماننے والے ہیں سب سے محبت کرے کسی کا بغض اپنے دل میں نہ رکھے یعنی مومنین کے اندر کینہ اور بغض نہیں ہونا چاہئے اگر کوئی مسئلہ ہے تو اسے حل کریں مثلا اگر کسی نے کسی کے حق میں زیادتی کی ہے یا اسے اپنا حق لے یا اسے اللہ پر چھوڑ دے لیکن کل اگر اسے کوئی مشکل پیش آگئی ہے اس کی مدد کرے یعنی مومن کو مومن کا کینہ اپنے دل میں رکھنے کی اجازت نہیں ہے،کینہ اگر رکھنا ہے کفار کا رکھے، منافقین کا رکھے ،دشمنان دین کا رکھے۔
تبراء کا مطلب ہےکہ جو اللہ کے دشمن جو رسول کے دشمن ہیں جو محمد و آل محمد کے دشمن ہیں یعنی کفار مشرکین منافقین ناصبین ان سب سے بیزاری نفرت ان کا کینہ اپنے دل میں رکھیں کیونکہ یہ دشمنِ پروردگار ہیں یہ دشمنِ سید الشہداء ہیں یہ دشمنِ محمد و آل محمد ہیں آج بھی آپ دیکھیں دنیا کے اندر جتنے بڑے بڑے ظالم ہیں یہ سارے اللہ کے، اسلام کے ، راہِ حسین کے دشمن ہیں حتی مسلمانوں کے اندر ایسے لوگ بھی ہیں جو کھلم کھلا مولا امام حسین علیہ السلام سے ابھی بھی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں تو ہم بھی ان کے دشمن ہیں یہ ہے تبراء یعنی اگر دل میں عداوت رکھنی ہے تو دشمنانِ خدا دشمنانِ سید الشہداء دشمنانِ اہلِ بیت کی رکھنی چاہیے اس کا ثواب ہے اسے ہم کہتے ہیں تولی اور تبراء۔
اسی کی طرف امامِ صادق علیہ السلام اشارہ کر رہے ہیں کہ ایک زائر ایک مومن جو ہے اسے اس طرح ہونا چاہیے کہ تولی اور تبراء اس کے اندر حقیقی معنوں میں ہو۔
ہمارے بعض علماء وہ یہ فرماتے ہیں کہ امام زمان علیہ السلام کے ظہور میں تاخیر کی ایک وجہ بھی یہی ہے کہ تولی اور تبراء حقیقی معنوں میں ہمارے درمیان ابھی ہمیں حاصل نہیں ہوا۔
ہم تولی اور تبرا کا معنی وہ لعن نفرین یا چند ایک نعرے جو ہیں کہ فلاں مردہ باد مثلا یہ کہہ دیتے ہیں حالانکہ یہ تولی اور تبرا نہیں ہیں۔
تولی اور تبراء وہ یہ ہے کہ ہمارے قول و فعل عمل میں دشمنان اہل بیت سے کوئی شباہت نہ ہو ان سے ہم بیزار ہوں ان کی عداوت رکھیں دشمنانِ خدا کی عداوت رکھیں اور وہ لوگ جو خدا کے چاہنے والے اس کے رسول کے چاہنے والے اہلِ بیت کے چاہنے والے سید الشہداء کے چاہنے والے جیسے ابھی بھی آپ اربعین میں دیکھیں مختلف مذاہب سے لوگ آئے ہوئے ہیں جو مولا امامِ حسین کے عاشق ہیں ہم بھی ان کے عاشق ہیں یہ ہے تولی اس طرح کی جب امت حقیقی معنوں میں تشکیل پائے گی اس وقت امامِ مہدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گے۔
اب یہ ہوتا ہے کہ ہم بعض اوقات اکٹھے ہو جاتے ہیں جیسے اربعین کے موقع پر اکٹھے ہو گئے جیسے کبھی مجلس ہوتی ہے اکٹھے ہو جاتے ہیں نمازِ جماعت میں اکٹھے جاتے ہیں لیکن آپس میں مومنین کے اندر ایک دوسرے سے نفرتیں عداوتیں جھگڑے کینے بغض یہ ختم نہیں ہو پاتے اور وہ امتِ واحدہ اور وہ منتظرین کی ہمدل جماعت جس کا مولا انتظار کر رہے ہیں وہ ابھی بھی دنیا میں ظاہر نہیں ہو رہی جب تک ہم آپس میں یہ چھوٹے موٹے جھگڑے لڑائیاں دنیا کی بعض چیزوں کی خاطر جو مسائل ہیں اس کو ختم نہیں کریں گے یا اس سے بالاتر ہو کر نہیں سوچیں گے اس وقت تک امامِ زمان علیہ السلام کے ظہور کی راہ ہموار نہیں ہوگی پھر وہی جنگِ صفین والے مسائل پیش آئیں گے کہ آپس میں ہی لوگ لڑ پڑیں گے اور دشمن جیت جائے گا تو بس تولی اورتبراء کا مطلب یہ ہے کہ آپس میں ہم ہمدل ہوں ہمارے اندر حقیقی معنوں میں جو ہے وہ وحدت پیدا ہو۔
سب سے پہلے ہمیں یہ درس خود سرکار رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا،وہی حدیثِ کساء کے وقت جب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو تحت الکسا جمع کیا اور جب یہ پنچتن یہ چادر کے نیچے آگئے تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پروردگار یہ میرے اہلِ بیت ہیں
اَللّٰھُمَّ إنَّ ھَؤُلاءِ أَھْلُ بَیْتِی وَخاصَّتِی وَحامَّتِی لَحْمُھُمْ لَحْمِی وَدَمُھُمْ دَمِی یُؤْلِمُنِی مَا یُؤْلِمُھُمْ وَیَحْزُنُنِی مَا یَحْزُنُھُمْ
پروردگارا یہ میرے اہلِ بیت ہیں یہ میرے خاص ہیں یہ میرے مددگار ہیں ان کا گوشت میرا گوشت ہے ان کا خون میرا خون ہے اس کے بعد فرماتے ہیں کہ جو انہیں اذیت دے جو انہیں تکلیف دے وہ مجھے تکلیف دے رہا ہے جو انہیں مشقت میں ڈالے زحمتوں میں ڈالے وہ مجھے زحمتوں میں ڈال رہا ہے۔
اور اس کے بعد نبی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَھُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سالَمَھُمْ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عَاداھُمْ وَمُحِبٌّ لِمَنْ أَحَبَّھُمْ إنَّھُمْ مِنِّی وَأَنَا مِنْھُمْ
جو ان سے لڑے گا میں ان سے لڑوں گا اور جو ان کے ساتھ صلح کرے گا میں ان کے ساتھ صلح کروں گا اور جو ان سے دشمنی کرے گا عداوت رکھے گا میں ان سے دشمنی کروں گا جو ان سے محبت کرے گا جو انہیں دوست رکھے گا میں بھی ان سے محبت رکھوں گا میں بھی انہیں دوست رکھوں گا یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہیں۔
یہ اہم ترین پیغام ہے تولی اور تبراء کا جو سب سے پہلے رسالت مآب کی مبارک لسان سے ظاہر ہوا۔
اس زیارت میں امامِ صادق علیہ السلام اپنے ناناِ بزرگوار کی سیرت پر چلتے ہوئےوہی کلمات جو ہیں سید و شہداء علیہ السلام کی بارگاہ میں دہرآ رہے ہیں یعنی یہ وہی درس تولی اور تبرا ہے جو ایک مومن ایک شیعہ اور ایک منتظر کی پہچان ہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ
بِٲَبِیْ ٲَنْتَ وَٲُمِّیْ یَابْنَ رَسُوْلِ ﷲِ
اے فرزند رسول آپ پر میں امامِ صادق علیہ السلام کے والدین قربان ہوں۔
ہم جب بھی کسی معصوم کی زیارت کے لئے جاتے ہیں تو اس زیارت نامے میں یہ الفاظ ضرور ہوتے ہیں یعنی ایک زائر اپنے مولا کی بارگاہ میں جب حاضر ہوتا ہے تو اپنی قیمتی ترین چیز اور وہ ماں باپ سے بڑھ کر کوئی بھی نہیں ہے ان کو فدا کرتا ہےکس پر معصوم پر جس کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے اور یہ درس ہمیں امامِ صادق علیہ السلام دے رہے ہیں کہ جب بھی حجتِ خدا کو مخاطب ہوں تو ان کی تعظیم کے لئے ان پر اپنے ماں باپ کو قربان کریں۔
ایک زائر بہت کچھ لینے کے لئے معصوم کی بارگاہ میں جاتا ہے لیکن وہ دیتا کیا ہے،وہ وہاں اپنے پاکیزہ احساسات اپنی محبت اور اپنے عشق جو اظہار کرتا ہے وہ اس طرح کرتا ہے کہ اپنے قیمتی ترین ہستیاں جو اللہ نے اسے بخشیں یعنی والدین ان کی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے کہ آپ کا یہ مقام ہے کہ آپ پر میرے ماں باپ قربان ہیں یعنی یہ ایک طرح کا احترام ہے ایک تعظیم ہے یہاں جو ( بابی ) میں با ہےبا اسے اہلِ لغت جو ہیں وہ کہتے ہی فدا ہونے کے معنی کیلئے ہے یعنی انسان اپنے ماں و باپ کو فدا کرتا ہے معصوم کی بارگاہ میں۔
سوالات
اب یہاں دو سوال ہیں
ایک تو یہ ہے کہ معصوم اگر زندہ ہوں تو اس پر میں اپنے ماں و باپ فدا کروں یہ تو اس دنیا سے جا چکے ہیں
جی یہ شہید ہیں اور شہید زندہ ہیں۔
یعنی آپ نے معصوم کی بارگاہ میں یہ اقرار کرنا ہے کہ آپ کا یہ مقام ہے کہ آپ جہاں بھی ہوں چاہیے اس دنیا میں ہوں یا أس دنیا میں آپ کا یہ مقام ہے کہ آپ پر میرے والدین قربان ہوں یعنی یہ انسان اپنی محبت کا اور تعظیم کا ایک خاص اظہار کرتا ہے جو امام صادق علیہ السلام ہمیں سکھا رہے ہیں۔
دوسرا سوال
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ماں وباپ اگر ایک شخص کے زندہ نہ ہوں تو آیا پھر بھی وہ یہ کہے؟
ہاں پھر بھی وہ کہہ سکتا ہے کہ اگر میرے والدین زندہ ہوتے تو آپ کا یہ مقام ہے یعنی وہ اس جملے کے ساتھ اس طرح کے احساسات پیش کر رہےکہ آپ کا یہ مقام ہے کہ میں اپنے ماں باپ کو قربان کروں اب اگر وہ زندہ نہیں ہیں لیکن اگر وہ زندہ ہوتے تو پھر بھی میں ان کو آپ کی بارگاہ میں قربان کرتا یعنی ایک قسم کی تعظیم اور احترام اس طرح کے جو جملے ہیں یہ ایک طرف سے اظہار عشق ہے ایک طرف سے تعظیم کا سب سے اعلیٰ ترین اظہار ہے اور دوسری طرف یہ کلمات جو ہیں وہ بتا رہے ہیں کہ انسان کو کس طرح اپنے امام سے متصل ہونا چاہیے یعنی اپنا سارا کچھ ان پر فدا کرنے کے لئے تیار ہوئے اور جس طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ بیت سے اپنی ہمبستگی اور محبت کا اظہار کیا تو ہمیں بتا رہے ہیں کہ امت کو بھی اسی طرح اہلِ بیت سے اظہار رکھنا چاہئے ان کی راہ کو اپنانا چاہئے۔
اربعین کے بعد زائر کیسا ہو؟
یہاں ایک نکتے کی طرف اشارہ کریں گے کہ اس وقت ہمارے سامنے ایک بہت بڑا دنیا کا واقعہ جو ہے وہ اربعین ہے جس میں ہر مذہب اور ہر مکتب کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
اب یہاں سوال ہے کہ یہ اظہار صرف چند روز کے لئے نہ ہو کہ ہم جمع ہوں ایک بڑا کام کریں پیادہ روی ہو اور زیارت پڑھیں اور وہاں سے کچھ سوغات لے کر واپس آ جائیں اور اس کے بعد پھر ہم اپنی زندگیوں میں گم ہو جائیں اور جس طرح پہلے زندگی گزر رہی تھی ویسے گزاریں نہیں۔
یہ اربعین جو ہے یہ سب سے بڑا درس ہمیں دیتا ہےکہ امام حسین علیہ السلام سے اپنا اتصال پیدا کریں اور اسے برقرار رکھیں اب آپ کی زندگی حسینی ہو اور زمانے کے حسین یعنی امام مہدی علیہ السلام سے اسی طرح متصل ہوں جس طرح آرزو ہے ہماری کہ ہم 61ہجری میں سید الشہداء کی کربلا میں ہوتے۔
اب ہماری زندگی کے جو باقی مسائل ہیں میرا گھر میں رہنا میرا اپنے دفتر میں کاروبار میں جو بھی میں کام کرتا ہوں جس طرح میرا خاندان میں آنا جانا میرے باقی تمام روابط محلہ ہے ہمسایہ ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے بچے اپنا گھر اب میرا ایک کردار جو ہے وہ حسینی شخص جیسا ہو یعنی میری زندگی میں میری گفتار میں میرے عمل میں بھی حسینیت جھلکتی ہوں میں ان کی سیرت کو اپناؤں ان کی طرح زندگی گزاروں تاکہ یہ اتصال مکمل ہو صرف چند دنوں کا نہ ہو چند روزہ نہ ہو تاکہ میری روح میرا جسم و جان جو ہے وہ اپنے مولا سے اور ان کی پاکیزہ آل اور بالخصوص زمانے کے امام سے جڑ جائے اور حقیقی معنوں میں میں ان کی اتباع کرنے والا ہو جاؤں پہر یہ تولی اور تبرا جو ہے وہ حقیقی شکل میں ظاہر ہوگا کہ میں اپنے اندر سے یزیدی اور اس لشکر اشقیاء والی جو آلودگیاں وہ نکالوں اور میرے اندر اصحاب کربلا جیسی پاکیزگی آئیں تاکہ میں ان 313 یا جو مولا کے خاص لشکر ہیں ان کے لائق قرار پاؤں انشاءاللہ الہی آمین۔
جاری ہے ۔۔
عالمی مرکز مہدویت_ قم