زیارت آل یاسین
درس:7
امام مہدیؑ عج آج باب اللہ ہیں۔
استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب
۔۔ ﷽۔۔
موضوع سخن زیارت مبارکہ زیارت آل یاسین ہے اور سلسلہ دروس میں اس زیارت کا اہم ترین سلام *اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا دَاعِیَ ﷲِ وَرَبَّانِیَّ اٰیَاتِہٖ* یہ ہمارا موضوع سخن رہا۔ اور ہم نے دَاعِیَ اللہ سے واضح کیا کہ اس سے مراد امام زمانؑ عج ہیں اوریہ عہدہ اللہ کی جانب سے معین ہوتا ہے۔ *وَرَبَّانِیَّ اٰیَاتِہٖ* سے مراد خدا کی آیات سے آگاہ وہ ہستیاں کہ جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور جن سے علم لینا چاہیے کہ ان کے پاس اللہ کا وسیع علم ہے اور یہاں *اٰیَاتِہٖ* سے مراد اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جو انسان کو اطمینان کے مقام تک پہنچاتی ہیں۔
قرآن مجید میں لفظ آیاتہ اور کبھی لفظ آیت بار بار آیا ہے ۔ اور پروردگار نے بہت ہی وسعت کے ساتھ اپنی نشانیوں پر گفتگو فرمائی ہے۔ قرآن مجید بہت ساری اقسام آیات کو بیان کرتا ہے۔
کچھ آیات ہیں کہ جنہیں اللہ اپنے نبیوںؑ کے لیے تلاوت کرتا ہے جیسا آپ ملاحظہ فرمائیں سورہ البقرہ کی آیت 252 میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ:
تِلْكَ اٰيَاتُ اللّـٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ وَاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ (252)
یہ اللہ کی آیتیں ہیں ہم تمہیں ٹھیک طور پر پڑھ کر سناتے ہیں، اور بے شک تو ہمارے رسولوں میں سے ہے۔
اور بعض مقامات پر پیغمبرؐﷺ ہیں جو اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔ جیسا کہ سورہ جمعہ کی آیت نمبر 2 میں پروردگار فرما رہا ہے کہ:
هُوَ الَّـذِىْ بَعَثَ فِى الْاُمِّيِّيْنَ رَسُوْلًا مِّنْـهُـمْ يَتْلُوْا عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتِهٖ وَيُزَكِّـيْـهِـمْ وَيُعَلِّمُهُـمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَۖ وَاِنْ كَانُـوْا مِنْ قَبْلُ لَفِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (2)
وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسولؐ مبعوث فرمایا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، اور بے شک وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے۔
اسی طرح قرآن مجید کے اندر آیات ہیں کہ جن میں پروردگار فرماتا ہے کہ یہ آیات محکمات (جو واضح طور پر ہدایت دی رہی ہیں) اور یہ آیات متشابہات (کہ جن سے اگر ہدایت لینی ہے تو یہاں معلمین قرآن محمدؑ ﷺ و آل محمدؑ ﷺ کی جانب رجوع کرنا چاہیے۔
اسی طرح پروردگار بعض مقامات پر آیات کبریٰ کی بات کر رہا ہے اور بعض مقام پر ایسی آیات کی بات کر رہا ہے کہ جو ساری دنیا کے لیے ہیں اور بعض مقامات پر کچھ ایسے خاص لوگوں کے لیے آیات میں بات کر رہا ہے۔ جیسے آیات اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ، آیات لقوم یعقلون ہے۔ آیاتہٍ لقوم یومنون اور اسی طرح بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ کائنات کی گفتگو کر رہا ہے اور بعض مقامات پر لوگوں کی روحوں اور جان میں جو نشانیاں ہیں ان کی گفتگو کر رہا ہے۔
فرمایا:
سَنُرِيْهِـمْ اٰيَاتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِىٓ اَنْفُسِهِـمْ
عنقریب ہم اپنی نشانیاں انہیں کائنات میں دکھائیں گے اور خود ان کے نفس میں
کائنات میں پروردگار کی بے پناہ نشانیاں ہیں اور خود امام زمانؑ عج جو ان تمام آیات الہیٰ کے ربانی ہیں۔ اور جو آگاہ ہیں اور جن کے پاس تمام علوم الہیٰ ہیں اور یہ وہ ہستی ہیں کہ جو ان آیات کی لوگوں کے لیے تلاوت کرتے ہیں اور لوگوں کو علم الہیٰ دیتے ہیں اور ان آیات کی تفسیر اور تشریح کرتے ہیں۔ اور قرآن مجید کی تعلیم اوردین کی ہدایت کی ذمہ داری امام زمانؑ عج پر ہے۔
سبحان اللہ!
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا بَابَ ﷲِ وَدَیَّانَ دِیْنِہٖ
یہ سلام بتا رہا ہے کہ امام زمانؑ عج اللہ کے باب ہیں۔
باب کسے کہتے ہیں؟
باب یعنی وہ راستہ ، وہ دروازہ کہ جس سے انسان اللہ کی عبادت تک پہنچے، اللہ کی معرفت تک پہنچے، اور اللہ کے دین تک پہنچے اور یہ فقط ایک ہی باب ہے۔
ہمارے جو مد مقابل مکتب اور مذہب اہلسنت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہر راہ صحیح ہے آپ کسی بھی صحابی کے ذریعے اللہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
لیکن!
مکتب اہلبیتؑ میں ہے کہ اللہ نے اپنے تک پہنچے کے لیے خود ہی راستہ واضح کیا ہے اور اگر ہم ہر راستے سے پہنچیں تو یہ راہیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور نتیجہ گمراہی ہے۔ یعنی! راہ ایک ہی ہونی چاہیے اور وہ صراط مستقیم ہے اور وہ ایک ہی ہونا چاہیے اور اگر ہم اس سے ہٹ کی کسی اور راہ سے جائیں گے تو ممکن ہے کہ ہم گمراہ ہوجائیں۔
جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مختلف مکاتب اور مذاہب بن رہے ہیں حتی کہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں، ایک دوسرے کی تکفیر بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے ہیں۔ اور اللہ کے بارے میں ان کے عجیب اعتقادات ہیں ۔ یہ خدا کو تشبیہ دیتے ہیں اور خدا کے جسم کے قائل ہیں۔ اور اِنہوں نے اپنے لیے عجیب عجیب خیالی خدا بنائے ہوئے ہیں۔
تو اس سے پتہ چل رہا ہے کہ خدا نے خود تک پہنچنے لیے لیے خود ہی راہ معین کی ہوئی ہے اور ہمیں چاہیے کہ اس راہ کو ڈھونڈیں اور اس راہ کے ذریعے خود توحیدِ پروردگار حاصل کرنی چاہیے اور دین الہیٰ جو دین حق ہے اس تک پہنچنا چاہیے۔ اور وہ راہ وہی باب اللہ والی راہ ہے۔
کتاب شریف الکافی میں امام محمد باقرؑ سے روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبرؐ اسلامﷺ اصل میں وہ باب الہیٰ ہیں کہ جن کے علاوہ اللہ تک نہیں پہنچا جاسکتا اور اگر کسی نے پہنچنا ہے تو وہ پیغمبرؐﷺ کے ذریعے پہنچے اور ان کے بعد امیرالمومنینؑ وہ راہ خدا اور باب اللہ ہیں۔ اور ان کے بعد تمام آئمہ بالترتیب باب اللہ ہیں اور یہ وہ ہستیاں ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے سکون قرار دیا تاکہ زمین اپنے اوپر رہنے والوں کو تباہ نہ کرے کیونکہ جب حجت خدا زمین پر ہو تو زمین اپنے مقام پر قائم و دائم اور ثابت رہتی ہے اور اپنے اوپر رہنے والوں کو ہلاک نہیں کرتی ۔
یعنی ! اللہ کا عذاب زمین پر نازل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ حجت خدا زمین پر ہیں اور راہ ہدایت کھلا ہوا ہے۔ لوگوں کی نجات کا راستہ موجود ہے اور اگر کسی قسم کی ہدایت نہ ہو اور لوگوں کی نجات کا کوئی راستہ موجود نہ ہو اور لوگ مسلسل معصیت میں غرق ہوں اور خدا کو مسلسل اپنے گناہوں سے غضب ناک کر رہے ہوں تو اس وقت یقیناً اللہ کا عذاب نازل ہو اور یہ زمین اپنے اوپر رہنےوالوں کو نگل لے۔
یہ حجت خدا کا وجود باعث بنتا ہے اور زمین پر کچھ لوگوں کا اطاعت پروردگار میں مشغول اور تسلیم ہونا اور اس حجت خدا کی ہمراہی کرنا باعث بنتا ہے کہ زمین اور یہ تمام چیزیں اپنے مقام پر قائم رہتی ہیں۔
یہ ہستیاں باب اللہ ہیں اور یہ ہستیاں اللہ کی طرف سے حجت ہیں اور امین ہیں اور جو کچھ خدا کی جانب سے نازل ہوا یہ ہستیاں وہ لوگوں تک پہنچاتی ہیں۔ تو بس! باب اللہ سے مراد یعنی امام وقت عج ہیں اور یہ لقب پیغمبرؐ اسلام ﷺ کا بھی لقب ہے اور ان کے بعد ان کے اوصیاؑ کا بھی لقب ہے اور آج امام زمانؑ عج باب اللہ ہیں۔ اور امامؑ عج اسی راہ پر لے کر جانے والے ہیں کہ جس راہ پر پیغمبرؐﷺ اپنی امت کو لے کر جاتے تھے اور یہ وہ راہ ہے جو ہر قسم کی خطا سے پاک ہے اور اس میں کسی قسم کی گمراہی اور انحراف نہیں ہے۔
تو، باب اللہ کا ایک کا ایک معنی اللہ کی راہ کی جانب ہدایت دینے والے اور اس کا سورہ نور کی آیت 35 میں ذکر ہے کہ اللہ نے اسے اپنا نور قرار دیا ہے یعنی راہ ہدایت اسی باب اللہ کے ذریعے روشن ہوتی ہے اور جہالت کی تاریکیاں ختم ہوتی ہیں۔
اَللّهُ نُـوْرُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ مَثَلُ نُـوْرِهٖ كَمِشْكَاةٍ فِيْـهَا مِصْبَاحٌ ۖ اَلْمِصْبَاحُ فِىْ زُجَاجَةٍ ۖ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّـهَا كَوْكَبٌ دُرِّىٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُـوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ ۙ يَكَادُ زَيْتُـهَا يُضِيٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُّوْرٌ عَلٰى نُـوْرٍ ۗ يَـهْدِى اللّـٰهُ لِنُـوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللّـٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْـمٌ (35)
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق میں چراغ ہو، چراغ شیشے کی قندیل میں ہے، قندیل گویا کہ موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف، اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے اگرچہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو، روشنی پر روشنی ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اپنی روشنی کی راہ دکھاتا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
2۔۔
باب اللہ کا ایک معنیٰ وہ امام ہے کہ قیامت کے دن جسکے کے ساتھ محشور ہوں۔ (انشاءاللہ!)
سورہ الاسراء 71 میں پروردگار فرما رہا ہے۔
يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِـمْ ۖ
جس دن ہم ہر فرقہ کو ان کے اماموں کے ساتھ بلائیں گے،
یعنی! یہ باب اللہ ہیں کہ جن کے ساتھ ہم نے محشور ہونا ہے اور دنیا میں ان کی ہمراہی کرنی ہے۔ اور ان کی اقتداء کرنی ہے کہ قیامت والے دن ان کے پیچھے کھڑے ہوں۔
3۔۔
اور اسی طرح باب اللہ کا ایک اور معنیٰ ہے کہ *امام وہ ہستی ہے کہ جس کے ذریعے انسان خدا کی بارگاہ میں پہنچتا ہے اور دوسرے لفظوں میں الہیٰ نعمتوں کو حاصل کرتا ہے یعنی اللہ کی شفاعت ان ہستیوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ یہ ہیں واسطہ الہیٰ* ۔
خدا کی راہ میں توسل اور شفاعت جو کچھ بھی ہے تو یہ وہ راہ اور در ہیں کہ جن کی جانب پروردگار نے ہماری توجہ دلائی۔ خود ہمارے آئمہؑ جب بارگاہ پروردگار میں دعا کیا کرتے تھے تو پیغمبرؐﷺ کا واسطہ دیتے تھے۔
مثلاً!
اصول کافی جلد 3:
امام محمد باقرؑ کی یہ دعا ہے کہ:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ وَ اَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَامُحَمَّدُ یارسُول اللہ اِنِّیْ تَوَجَّھْتُ بِکَ اِلٰی اللہ
یہ دعائیں موجود ہیں اور ہم نے جب دعا میں واسطہ دینا ہے تو امام زمانؑ عج کا واسطہ دینا ہے کیونکہ وہ وصی رسولؐ ﷺ ہیں اور اس وقت حجت خدا ہیں اور باب اللہ ہیں۔
زیارت جامعہ کبیرہ میں امام ہمیں سیکھا رہے ہیں کہ بارگاہ خدا میں اس طرح دعا کرو:
اَللّٰھُمَّ إنِّی لَوْ وَجَدْتُ شُفَعاءَ أَقْرَبَ إلَیْکَ مِنْ مُحَمَّدٍ وَأَھْلِ بَیْتِہِ الْاَخْیارِ الاَئِمَّةِ الاَبْرارِ
اے معبود یقیناً جب میں نے ایسے سفارشی پا لیے ہیں جو تیرے مقرب ہیں یعنی حضرت محمد(ص) اور انکے اہلبیتؑ جو نیک اور خوش کردار امام(ع) ہیں
لَجَعَلْتُھُمْ شُفَعائِی فَبِحَقِّھِمْ الَّذِی ٲوْجَبْتَ لَھُم عَلَیْکَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُدْخِلَنِی فِی جُمْلَةِ الْعارِفِینَ بِھِمْ
ضرور میں نےانہیں اپنے سفارشی بنایا ہے پس انکے حق کے واسطے سے جو تو نے خود پر لازم کرر کھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں داخل فرما
وَبِحَقِّھِمْ وَفِی زُمْرَةِ الْمَرْحُومِینَ بِشَفاعَتِھِمْ إنَّکَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
جو انکی اور انکے حق کی معرفت رکھتے ہیں اور مجھے اس گروہ میں رکھ جس پر انکی سفارش سے رحم کیا گیا ہے بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
وَصَلَّی اللہُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً وَحَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ۔
اور خدا محمد(ص) پر اور انکی پاکیزہ آل(ع) پر درود بھیجے اور بہت بہت سلام بھیجے سلام اور کافی ہے ہمارے لیے خدا جو بہترین کارساز ہے۔
یہاں بہت بڑا درس ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے زمانے کی حجت جو کہ باب اللہ ہیں ان سے متمسک ہوں، ان سے توسل کریں۔ ان کے پیچھے روز قیامت محشور ہوں اور ان کے ذریعے ہمیں شفاعت الہیٰ نصیب ہو۔
والسلام
عالمی مرکز مہدویت – قم ایران