تازہ ترین پوسٹس

دروس دعاۓ عہد_ درس 1

دروس دعاۓ عہد

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

درس 1

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی محمد و آلہ الطاہرین

اہلِ انتظار کا سب سے بنیادی اور اہم فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے وقت کے امام حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ ہر اعتبار سے اپنا رابطہ مضبوط رکھیں۔ یہ رابطہ صرف زبانی نہیں بلکہ روحانی، قلبی، فکری، عملی اور اخلاقی سطح پر ہونا چاہیے۔ امام اور امت کا رشتہ اسی وقت مستحکم ہوتا ہے جب امت اپنے امام کے ساتھ عہد، وفاداری اور اطاعت کا عملی اظہار کرے۔

 

 قرآنِ مجید کی روشنی میں امام سے رابطہ

اللہ تعالیٰ سورۂ آلِ عمران، آیت نمبر 200 میں ارشاد فرماتا ہے:
یا أیھا الذین آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون
یعنی: اے ایمان والو! صبر کرو، دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہو، رابطہ مضبوط رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔

 

امام محمد باقرؑ کی تفسیر

امام محمد باقر علیہ السلام نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ رابطہ مضبوط رکھنے سے مراد وقت کے امامِ علیہ السلام کے ساتھ رابطہ قائم رکھنا ہے۔
یہ رابطہ دعا، بیعت، اطاعت اور انتظار کے ذریعے قائم رہتا ہے۔

 

اہلِ انتظار کا عملی فریضہ

عقل اور شریعت کی حد تک اہلِ ایمان جو سب سے اہم کام اپنے زمانے کے امام کے لیے کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ:
_روزانہ اپنے امام سے عہد و پیمان کریں۔
_اپنی زندگی کو امام کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔
_امام کے ظہور کے لیے مسلسل دعا کریں۔
یہ تمام امور دعائے عہد کے ذریعے بہترین انداز میں انجام پاتے ہیں۔

 

دعائے عہد کیا ہے؟

دعائے عہد وہ عظیم دعا ہے جو امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے شیعوں کو تعلیم فرمائی۔

یہ دعا:
-ہر صبح پڑھی جاتی ہے۔
-مومن کو پورے دن اپنے امام کی نگاہ میں رکھتی ہے۔
-امام سے تجدیدِ بیعت کا ذریعہ بنتی ہے۔

 

دعائے عہد کس کی تعلیم ہے؟

دعائے عہد: چھٹے امام، امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیم ہے، یہ دعا مفاتیح الجنان میں معتبر سند کے ساتھ موجود ہے، یہ دعا اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں کے لیے ایک عظیم روحانی سرمایہ ہے۔

 

دعائے عہد پڑھنے کی اہمیت

دعائے عہد کی اہمیت کو چند نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:
1. امام سے روزانہ بیعت دعائے عہد کے ذریعے مومن ہر دن اپنے امام سے نئی بیعت کرتا ہے۔
اپنی وفاداری اور اطاعت کا اعلان کرتا ہے۔

2. امام اور امت کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے یہ دعا امام زماں علیہ السلام سے ہمارے قلبی تعلق کو مضبوط کرتی ہے اور
امام ع کو اپنی زندگی کا مرکز بنانے کا شعور دیتی ہے۔

3. انتظار کو عملی بناتی ہے، دعائے عہد صرف زبانی انتظار نہیں، بلکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ذمہ دارانہ انتظار کیا ہے، عملی تیاری اخلاقی اصلاح اور تربیت نفس کیسے کرنی ہے۔

 

دعائے عہد پڑھنے کے فوائد (روایات کی روشنی میں)

1. امام کے ناصروں میں شمار
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص چالیس دن تک دعائے عہد کی تلاوت کرے گا، وہ قائمؑ کے ناصروں میں سے ہوگا۔

2. رجعت کا شرف
اگر کوئی مومن: دعائے عہد پڑھتا رہے اور ظہور سے پہلے وفات پا جائے تو اللہ تعالیٰ اسے رجعت کے ذریعے دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ امام زمانہؑ کے ساتھ جہاد اور نصرت کا شرف حاصل کرے۔

3. عظیم اجر و ثواب اس کے ہر لفظ کے بدلے ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، ہزار گناہ نامۂ اعمال سے مٹا دیے جاتے ہیں۔

 

دعائے عہد کے مضامین

دعائے عہد ایک جامع دعا ہے جس میں مندرجہ ذیل اہم ترین نکات پائے جاتے ہیں:
درود و سلام ہے، پوری کائنات (مشرق، مغرب، خشکی، تری) کے تمام مومن مرد و عورت کی طرف سے امام زمانہ علیہ السلام کے لیے درود و سلام ہے۔ والدین کی طرف سے اولاد کی نمائندگی ہے۔ امام سے قیامت تک وفاداری کا عہد ہے ظہور کے بعد نصرت کی دعا ہے۔ دینِ حق کی عالمی حاکمیت کی تمنا ہے۔

 

مومن کے لیے دعائے عہد کیوں ضروری ہے؟

دعائے عہد مومن کے لیے اس لیے ضروری ہے کیونکہ:

-یہ تہذیبِ نفس کا ذریعہ ہے۔
-انسان کو گناہوں سے روکتی ہے۔
-نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہے۔
-امام کی نگرانی کا احساس زندہ رکھتی ہے۔
-زندگی کو مقصد اور سمت عطا کرتی ہے۔

 

ظہورِ امام اور عالمی عدل کی دعا

دعائے عہد:
_ظہور میں تعجیل کی دعا ہے
_عدل و انصاف سے بھری دنیا کی آرزو ہے
_انسانیت کی روحانی بیداری کا ذریعہ ہے اور دینِ اسلام کے حقائق کو زندہ کرنے کی دعا ہے۔

پروردگارِ عالم سے دعا ہے کہ ہمیں دعائے عہد کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے۔
ہمارے اور ہمارے مولا امام زمانہ علیہ السلام کے درمیان رابطے کو مضبوط کرے۔ ہمیں حقیقی منتظرین میں شمار فرمائے۔آمین ثم آمین۔
بہ وسیلۂ محمد و آلِ محمد علیہم السلام۔

اللھم عجل لولیک الفرج

عالمی مرکز مہدویت_قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *