کتاب شریف لقاءاللّٰہ
آیت اللہ مرحوم میرزا جواد ملکی تبریزیؒ
درس 31
نکات:
معاتبہ اور معاقبہ
بزرگان اور صالحین کے واقعات
استاد مہدویت: قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب
﷽
موضوع سخن کتاب شریف لقاء اللہ اور ہم سلسلہ بحث میں یہاں پہنچےتھے کہ جب انسان توبہ کر لے، اس کے بعد اپنی زندگی اس انداز سے شروع کرے کہ :
مشارطہ:
یعنی! ہر روز اپنے اعضاء کے ساتھ شرط کرے کہ مجھے گناہ نہیں کرنا ہے۔
مراقبہ :
پھر پورا دن مراقبہ کرے اس کا اپنے آعضاء پر کنٹرول ہو اس کی نگاہ ہو کہ میرا کوئی بھی عضو خدانخواستہ گناہ کا مرتکب تو نہیں ہو رہا۔
محاسبہ:
محاسبہ تیسرا مرحلہ ہے یعنی! رات کو سونے سے پہلے اپنا ایک حساب کتاب کر لے اس میں اگر کوئی گناہ ہوا ہے تو اس کے معافی مانگ کے سوئے اور اگر کوئی نیکی ہوئی ہے تو نیکیوں کے زیادہ ہونے کی دعا مانگ کے سوئے اللہ سے مزید توفیقات مانگے۔
گذشتہ دروس میں یہ تین رکن بیان کئے گئے اور آج مذید دو رکن بیان ہونگے۔ معاتبہ اور معاقبہ
معاتبہ:
جب کوئی شخص محاسبہ کرنے کے بعد دیکھے کہ آج مجھ سے گناہ ہوا ہے تو وہ اس حوالے سے کہ گناہ ہوا ہے اپنے نفس کی سرزنش کرے۔ اور یہ سرزنش کرنا عبادت ہے۔
جیسے لوگ اگر ان کی کوئی تعریف کرے تو وہ بڑے خوش ہوتے ہیں اور یہ خوشی مذموم ہے کیونکہ یہ تکبر اور خود پسندی پیدا کرتی ہے۔
لیکن !بینی و بین اللہ جب انسان بیٹھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ مجھ سے کوئی گناہ ہوا اس گناہ پر اپنے اوپر ناراضگی اور پشیمانی کا اظہار کرتا ہے اپنے آپ کی توبیح اور سرزنش کرتا ہے کہ ایسا کیوں کیا؟؟ آیا اللہ نے تجھے یہ نعمتیں اس لیے دیں ہیں کہ تُو خدا کے مد مقابل اس کی نافرمانی کر؟؟ اور آخر اس نعمت کا تُو نے کس طرح حساب دینا ہے یعنی! اپنے آپ کو معاتبہ کرنا اور اپنے آپ کو سرزنش کرتا ہے۔
اپنی ذات کی سرزنش کرنے کا نتیجہ :
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر پیدا ہونے والے مسئلہ کی جانب اسکی توجہ بڑھ جائے گی۔
بعض لوگوں کی عمریں گزر جاتی ہیں ان کو پتہ نہیں چلتا کہ ہمارے مسئلے کیا ہیں۔۔ وہ لوگوں کے مسئلے ڈھونڈتے رہتے ہیں اپنے مسئلوں کی طرف توجہ نہیں کرتے ان کو سارے پورے محلے کے لوگوں کے بارے میں پتہ ہوتا ہے ، اپنے سارے دوستوں کا پورے رشتہ داروں کا پتہ ہوتا ہے فلاں میں یہ عیب ہے فلاں بہت اچھا آدمی ہے۔ لیکن! کبھی اپنا بھی بیٹھ کر محاسبہ کرنا کہ میں کیسا ہوں؟ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے۔۔؟؟
ایک مومن کی نشانی یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ لوگ اس کا محاسبہ کریں اور اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کریں وہ خود ہی اپنے بارے میں رائے قائم کروں۔
مومن لوگوں کی رائے قائم ہونے سے پہلے ہی خود ہی اپنے بارے میں رائے قائم کر لیتا ہے اور جب وہ اپنے بارے میں رائے قائم کر لیتا ہے کہ میرے اندر یہ مسائل اور پریشانیاں ہیں۔ یعنی! یہاں میں آکے کمزور پڑ جاتا ہوں اور میں شیطان اور اپنے نفس کی یہاں مان کر اللہ کو بھول جاتا ہوں تو وہاں اپنا علاج کرے۔ اور اگر خود علاج نہیں کر سکتا تو کسی صاحب دل دوسرے لفظوں میں طبیبِ روحانی جو کہ معلمِ درسِ اخلاق ہیں ان کے پاس جائے اور رائے حل پوچھے۔ وہ اس کا رائے حل بتاتے ہیں۔
لیکن! اگر آپ معاتبہ نہیں کریں گے مثلا رات کو بیٹھ کے دیکھے کہ یہ گناہ ہوا ہے اور میں اس میں کوئی توجہ نہیں کروں گا۔ اب نتیجہ کیا ہو گا کہ اگر اپنی سرزنش نہ کی تو اگلے دن پھر گناہ کا ارتکاب کروں گا اس کے بعد پھر یہ میری عادت بن جائے گی۔
کہتے ہیں پھر انسان گناہ سے اس طرح مانوس ہو جاتا ہے جیسے نوزاد بچہ اپنی ماں کے سینے سے مانوس ہوتا ہے اور وہ پھر اسے عیب نہیں سمجھتا کیونکہ کچھ لوگ گناہ کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ ان کو گناہ پھر گناہ نظر نہیں آتا اس کے اندر کوئی برائی نظر نہیں آتی پھر آہستہ آہستہ وہ کہتا ہے یہ میری طبیعت کا حصہ ہے میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتا اور یہ میری شخصیت ہے پھر وہ اپنے گناہ کا دفاع کرتا ہے اگر کوئی اسے سرزنش کرے اسے لڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے یہ اب قساوت قلبی حالتیں ہیں یہ اب اس کے حیوانی حالتیں ہیں اور اس کے جری ہونے کی حالتیں ہیں اور یہ بہت بری حالتیں ہیں۔ کیونکہ! اس طرح کی حالت میں بلآخر انسان کی موت کفر پر ہونے کا امکان ہے۔
اسی لیے جناب مصنف فرماتے ہیں کہ اپنے نفس سے لڑے اور اسے کہے اے میرے سرکش نفس کیا آج میں نے تجھ سے عہد نہیں لیا تھا مشارطہ کیا تھا کہ تُو نے اللہ کی راہ میں قدم اٹھانے ہیں۔ اس کے خلاف اس کی نافرمانی میں کوئی قدم نہیں اٹھانا اور تُو نے خدا کی شرم نہیں کی اور مجھے اللہ کی بارگاہ میں بے آبرو کیا ہے اور مجھے ملائکہ کے سامنے گناہ کر کے رسوا و ذلیل کیا ہے۔
اس کے بعد جناب مصنف کہتے ہیں کہ تھوڑی سی توبیح کرے اور اس کے بعد اللہ کی حضور معافی مانگے اور پھر کہے پروردگار آج جو ہو گیا اب انشاءاللہ ! کل سے میں زیادہ مزید سنجیدہ ہو کر کوشش کروں گا۔
یہاں ایک چھوٹا سا واقعہ نقل ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کی حالت کیا ہے۔
شرائطِ محافلِ علماء:
آیت اللہ مرحوم میرزا جواد ملکی تبریزیؒ جو صاحبِ کتاب ہیں، ان کے بارے میں نقل ہوتا ہے کہ:
آقا ایک محفل میں تشریف فرما تھے جہاں ان کے شاگرد اور لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ تو ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کی جو وہاں نہیں تھا اس کی غیبت کر دی لیکن! ہمارے علماء کرام کہ ایسی صاحبان معرفت ہستیاں ہوتے ہیں کہ ان کی جانب سے اجازت نہیں ہوتی وہ پہلے سے منع کرتے ہیں کہ ہماری محفل میں بیٹھ کر کسی کی غیبت نہیں کرنی ہے اور کسی پر تہمت نہیں لگانی کسی کی عیب جوئی نہیں کرنی ہے حتیٰ اس کے اندر عیب ہو بھی تو یہاں ذکر نہیں کرنا یہ ان کی شرط ہوتی ہے محفل کی شرط ہوتی ہے۔
اب جناب آقا میرزا جواد ملکی تبریزیؒ تشریف فرما ہیں اور سامنے ظاہر ہیں شاگرد ہوں گے یا عام مومنین حضرات ہوں گے تو کسی نے کسی کی غیبت کر دی۔ اب جب غیبت کر دی تو کہتے ہیں اس قدر آقا ناراض ہوئے۔ یعنی! اتنا ان کے چہرے پر رنج و ملال آیا اور انہوں نے غیبت کرنے والے کو کہا کہ تُو نے مجھے چالیس دن کے لیے زحمت میں ڈال دیا۔
توجہ کریں:
فرماتے ہیں کہ گناہ اس نے کیا ہے لیکن! چونکہ اب میرے کان میں وہ گناہ پڑا ہے تو میں اب چالیس دن ایک چلہ کاٹوں گا۔ اور ایک ریاضت کروں گا تاکہ یہ جو غیبت میں نے سنی ہے اس کی آلودگی مجھ سے پاک ہو۔ اللہ اکبر!
یہ ایسے ہی مثال ہے: جیسے انسان کسی جگہ پہ جائے اور وہاں وائرس پھیلا ہو اور وہ وائرس اسے لگ جائے اور پھر وہ کتنی ہی دوائیاں کھائے اور کتنا ہی علاج کروائے کہ وہ وائرس اس کے جسم سے نکلے یا وہ ہلاک ہو جس طرح ہم مادی بیماریوں کے بارے میں اس طرح کے مسائل میں مبتلا ہو جاتے ہیں اسی طرح روحانی بیماریاں بھی ہیں کہ ایسی محفل جہاں غیبت ہوتی ہے جب آپ کو پتہ ہے کہ یہ لوگ غیبت کرنے سے باز نہیں آتے ان کی محفل میں نہ بیٹھیں اور اگر وہ آپ کو بلاتے ہیں کہ آپ کیوں نہیں ہمارے ساتھ بیٹھتے تو ان کے ساتھ شرط قائم کریں کہ میں اس شرط پر بیٹھوں گا کہ میرے سامنے کسی کی غیبت نہیں کرنی اور اگر آپ نے غیبت کی تو میں اٹھ کے چلا جاؤں گا۔ اور انہیں بتائیں کہ آغا نے غیبت کرنے والوں کو کہا کہ تم نے مجھے چالیس دن کے لیے زحمتوں میں مبتلا کر دیا ہے۔
ہم اپنے اندر گناہ کا اثر محسوس نہیں کرتے ورنہ جو بزرگان ہیں وہ جانتے ہیں کہ گناہ کیا ہے۔۔ اور آپ کو پتہ اس وقت ہمارے معاشرے میں اکثر جو اس قسم کے گناہ جو منتقل ہوتے ہیں وہ اپنے دوستوں سے ہی اور اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے ہی منتقل ہوتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں کہ اچھا دوست بہشت تک لے کر جاتا ہے اور بیمار دوست ، ایک برا دوست جہنم تک لےکر جاتا ہے۔
ایک فارسی میں شعر ہےکہ:
(دل بیمار شد از دست رفیقان مددی)
میں ویسے بیمار نہیں تھا مجھے میرے دوستوں نے جو میرے ہم محفل ہیں انہوں نے مجھے بیمار کر دیا ہے۔
(تا طبیبش به سر آریم و دوایی بکنیم)
اب مجبور ہوا ہوں کہ کیسی طبیب کے پاس جاؤں تاکہ اپنا علاج کروں۔
انسان جب کسی دوست کے ساتھ بیٹھ کر اگر اپنے اندر تاریکی اور آلودگی محسوس کرتا ہے تو پھر فوراً کوئی ایسا شخص ڈھونڈے کہ جس کے ذریعے اُس کا یہ علاج ہو یہ تاریکی نکلے۔
سرزنش کے بعد بھی گناہ کی لذت اگر باقی ہو تو:
اگر انسان محسوس کرے کہ میں نے اپنے نفس کو جو سرزنش کی ہے اس کے باوجود وہ میری سرزنش کو کوئی توجہ نہیں کررہا بلکہ اُس کے اندر اُسی گناہ کی لذت دوبارہ اُسی طرح باقی ہے یعنی! جیسے بعض مرتبہ تھوڑی دیر کے لیے تو پچھتاوا ہوتا ہے اور پھر دوبارہ وہی کام شروع ہوجاتے ہیں۔
جناب سید فہریؒ فرماتے ہیں کہ پھر فقط معاتبہ سے کام نہیں چلے گا بلکہ پھر معاقبہ بھی کرے۔
معاقبہ:
معاقبہ، یعنی! اپنے آپ کو خود عذاب دے کہ اس سے پہلے کہ اللہ تجھے عذاب دے۔اللہ اکبر!
مثلا کہتے ہیں کہ:
1۔ اگر تم نے کوئی ایسا لقمہ کھا لیا ہے جو نہیں کھانا تھا لقمہ جس میں شبہ ہے کہ یہ پاک بھی تھا یا پاک نہیں تھا تو اس کا معاقبہ کرو یعنی! پھر پورا دن روزہ رکھو تاکہ اس آلودہ لقمے کا اثر زائل ہو۔
2۔ اگر کسی حرام چیز کی طرف نگاہ کی ہے چاہے وہ حرام چیز بازار میں ہو، گلی میں ہو، کوئی نامحرم ہو، یا وہ آپ کے موبائل میں کوئی ویڈیو ہو، کوئی تصویر ہو۔
اگر کسی حرام چیز کی طرف نگاہ کی ہے تو فرماتے ہیں کہ پھر تو کثرت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کر اور آیات الہی کو دیکھ تاکہ اس کا اثر زائل ہو۔ اور اتنی دیر تک وہ قرآن کی تلاوت کرے کہ ہمارے اندر سے وہ تاریکی نکل جائے اور یہ ہمارا دل نورانی ہو جائے۔اللہ اکبر!
اس کے بعد جناب فہری ایک عجیب سی چیز بیان کرتے ہیں کہ جو شاید ہمارے لئے عجیب ہو لیکن! دیکھیں بزرگان اپنے اوپر کتنی زحمتیں کرتے تھے ۔ کہتے ہیں کہ :
بعض بزرگان نے اپنے سجادے کے اندر ایک تازیانہ رکھا ہوتا تھا اور اگر دن میں کوئی گناہ ایسا ہو جائے تو وہ اس سے پہلے کہ روز محشر انہیں کوئی تازیانے مارے وہ اپنا تازیانہ اٹھا کہ اپنے بدن پہ خود مارتے تھے تاکہ اپنے بدن کو رام کریں اپنے نفس کو رام کریں کہ کیوں یہ گناہ ہوا ہے۔ جیسے میں نے ایک استاد حوزہ کے بارے میں پڑھا تھا وہ بہت بڑے استاد تھے وہ بھی استادِ اخلاق تھے ان سے ایک دفعہ کوئی غیبت ہو گئی انہوں نے کچھ پتھر نوکیلے پتھر منہ میں ڈال لیے اور چند دن تک انہیں منہ میں رکھا جس کی وجہ سے ان کی زبان زخمی ہوگئی اور اندر سے منہ زخمی ہوا تاکہ وہ سزا ملے کہ کیوں مجھ سے وہ زبان والا گناہ ہوا ہے۔اللہ اکبر!
یعنی! ظاہراً تو وہ تکلیف تو ہوتی ہے کہ ایک نوکیلا پتھر منہ میں ہو تو وہ کہاں چین لینے دیتا ہے۔ انہوں نے نوکیلے پتھر کو منہ میں رکھا جسے وہ سونے وقت نکال دیتے تھے دن میں منہ میں رکھتے تھے وہ مسلسل چبھتا تھا اور ان کی زبان اور منہ کو خونی رکھتا تھا انہوں نے خود کو سزا دی کہ کیوں یہ عمل مجھ سے ہوا۔ وہ لوگ ایسے اپنا خیال رکھتے ہیں وہ ایسے رکھتے ہیں ہ کہتے ہیں اس سے پہلے کہ قبر کے عذاب ہوں اس سے پہلے کہ عالمِ محشر کے عذاب ہوں وہ معاقبہ یعنی! اپنے آپ کو خود عذاب دیتے تھے۔
سوال:
لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ان چیزوں کا کوئی فائدہ ہے کہ ہم خود کو عذاب دیں۔ تو اللہ اس عذاب دینے کو کیا سمجھتا ہے۔
یہ واقعہ ظاہراً تو اہلِ سنت کی کتابوں میں ہے اور ہماری شیعہ کتابیں بھی اس کی تائید کرتی ہیں کہ یہ باتیں درست ہیں اور حقائق ہیں۔
صحابی رسولؐﷺ کا واقعہ:
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ پیغمؐبرِ اسلام ﷺ اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے تو ایک صحابی مسجد سے اٹھ کر باہر چلا گیا اور اس نے اپنے بدن سے لباس اتارا بس وہی جو ستر کے حد تک کپڑے ہوتے ہیں شرمگاہ کو چھپانے کی حد تک اتنے تھے باقی اس نے اتار دیا اور سخت گرمی تھی اور باہر صحرا اور اس پر تپتے ہوئے سنگریزے عرب کے اس کے اوپر اس نے اپنے آپ کو لٹا لیا اور پلٹنا شروع کر دیا کبھی سینہ، کبھی کمر اور پورا بدن اس کا جگہ جگہ سے جلنے لگ گیا چونکہ صحرا میں تپش ہوتی ہے۔ اور پھر صحرا کے اندر پتھر بھی ہوں ۔
اور وہ اپنے جسم سے خطاب کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس آگ کا مزا چکھ کیونکہ دوزخ کی آگ اس آگ سے زیادہ سخت ہے اور اب تو اس حد تک نافرمان ہو گیا ہے کہ پورا دن تیرا بطالت میں گزرتا ہے یعنی ضائع کرتا ہے اور رات تو مردے کی طرح سوتا ہے۔
یعنی! خود سے خطاب کرنا جیسے ہمارے ہاں اکثر لوگ ایسے ہی ہیں عام روٹین میں لوگ جن کو پورا دن یہی ٹنشن ہوتی ہے کہ کیا کھانا ہے ،صبح کا کھائیں گے پھر کہیں گے دوپیر کو کیا پکے گا پھر اس کا سازوسامان لیا جاتا ہے پھر کہتے ہیں جی رات کو کیا ہوگا پھر وہ کھانے کے بعد پھر سونے سے پہلے بھی انہوں نے کچھ چیز پینی ہوتی کچھ دودھ کچھ میوا کچھ چیز پھر جب وہ سوتے ہیں تو مردوں کی طرح سوتے ہیں یعنی نہ ان کا دل بیدار ہے نہ روح بیدار ہے صبح کی نماز کے لئے بھی بڑی مشکل انہیں اٹھایا جاتا ہے کبھی اٹھتے ہیں اور کبھی نہیں اٹھتے اور سارا دن کمانا اور کھانا یہ ہی دو فکریں ہوتی ہیں کوئی تیسری فکر نہیں ہوتی کہ کوئی عملِ صالح کرنا ہے، کسی کی مدد کرنی ہے، کوئی عبادت کرنی ہے بلاخرہ کوئی دین کا کام بھی نہیں وہ ہی فکریں ہوتی ہیں۔ یہ اپنے آپ کو مخاطب ہو رہا تھا اصحابی کہ رات کو تو مردوں کی طرح سوتا ہے یعنی رات کو اللہ کی عبادت کا کوئی وقت تو نے نہیں رکھا ہوا ہے جیسے کہتے ہیں ہمارے پیغمبرِؐ اسلام ﷺ رات کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ یعنی! شب کا ایک پہر اپنے عیال کے ساتھ، ایک حصے میں سوتے تھے اور ایک حصے میں اٹھ کر عبادت کرتے تھے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ نبیؐ کا دن کیسا ہوتا ہے۔
اب رسولؐ خداﷺ اس صحابی کو دیکھ رہے تھے کہ جو تپتے ہوئے پتھروں پہ غلطان تھا۔ کبھی ادھر کروٹ لیتا تھا کبھی ادھر اور پورا بدن جگہ جگہ سے سرخ اور جل رہا تھا۔ جب اس نے تھوڑا سا ایسا عمل کیا اس کے بعد وہ اٹھا اور پیغمبرؐﷺ کی خدمت میں پہنچا کہنے لگا: یا رسولؐ اللہﷺ: میرا نفس مجھ پہ غالب آ چکا تھا اور میں نے آج اپنے آپ کو سزا دی ہے اور مجھے اس کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آیا اپنے آپ کو سزا دی یعنی! معاقبہ کیا۔ تو پیغمبر اسلام نے فرمایا: اے شخص تو نے جو آج کام کیا ہے تو آسمان کے دروازے تجھ پہ کھل گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں پر فخر کا اظہار کیا ہے کہ دیکھو میرے بندے کو دیکھو یہ جو میری خاطر اپنے اور میری رضائیت کی خاطر اپنے آپ کا معاقبہ کر رہا ہے۔ پھر پیغمبرؐﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
اے لوگو!
اے میرے اصحاب اپنے اس بھائی سے مانگو جو مانگنا ہے یہ اس وقت اس مقام پر ہے کہ اس کی کوئی بھی دعا ہو وہ اللہ مستجاب کرے گا۔ اس وقت یہ اس مقام پر ہے اس کے بعد کہتے ہیں اصحاب نے اس کے گرد گھیرا ڈال لیا کسی نے کہا فلاں میرے لئے یہ دعا کریں کسی نے کہا میری دعا کریں۔
پیغمبرؐﷺ نے فرمایا ان سب کے لئے ایک دعا کرو کیونکہ! آج تو وہ شخص ہے جس پر اللہ اظہار فخر کر رہا ہے تو اس نے پھر سب کے لئے دعا کی کہ: پروردگارا ! سب کا توشہ تقویٰ قرار دے اور سب کو سر چشمہِ ہدایت سے فیضیاب کرو۔
نماز جماعت کی اہمیت:
آغا فہریؒ اپنی کتاب میں بتا رہے ہیں کہ ایک شخص سے نماز عصر چھوٹ گئی وہ بھی جماعت کے ساتھ یعنی! فرادی اس نے پڑھ لی تھی مگر اس سے نماز عصر کی جماعت چھوٹ گئی تو اس نے اس کے عوض میں ایک زمین جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی یعنی ایک لاکھ چاندی کا سکہ وہ اس نے راہ خدا میں صدقہ دی ایک نماز جماعت چھوٹنے کا اتنا نقصان ہے کہتے ہیں کہ کسی نماز کے اندر اگر ایک شخص ساتھ شریک ہو جائے کتنا ثواب دو تین چار اور جب پانچ سے بڑھ جائیں پھر اس کا حساب شمار نہیں ہوتا ہم کیوں بس اوقات مسجد و مدرسے میں کسی جگہ پہ نماز جماعت کا اہتمام کرتے ہیں۔ بلکہ راہ چلتے ہوئے دیکھا جائے کسی مسجد میں نماز پڑھیں اور اگر آپ کو کوئی ایمرجنسی یا کوئی ضروری کام ہے تو ٹھیک ہے اور اگر آپ کو کوئی ضروری کام نہیں ہے اور فارغ بیٹھے ہیں یا مطالعہ کر رہے ہیں تو فرداً نماز سے نماز جماعت کو ترجیح دیں ۔ اس کا اتنا ثواب ہے۔ ہم نے بڑے بڑے بزرگان دیکھے ہیں کہ وہ گاڑی روک دیتے تھے اور مساجد میں ان کے پیچھے جا کر نماز پڑھتے تھے۔
کہتے تھے کوئی بات نہیں نماز جماعت کا ثواب مل جائے اپنی نماز پڑھنی ہے لیکن! نماز جماعت کے ساتھ رکوع سجود ہو جہاں آپ محسوس کرتے ہیں تعصب نہیں ہے تو وہاں دیگر مکاتب کے بھی ساتھ شریک ہو سکتے ہیں لیکن! اگر تعصب کا خوف ہو، جان مال کا خوف ہو تو فردً نماز پڑھیں۔ لیکن کہتے ہیں کہ اگر نماز جماعت کا اہتمام نہیں بھی ہوا اور اگر دو یا تین آدمی ہوں تو فرادی نماز پڑھنے کے بجائے نماز جماعت کا اہتمام کریں کہ کسی ایک آدمی کو آگے کھڑا کریں اور اس کی اقتداء کریں۔ نماز جماعت کا اتنا بڑا ثواب ہے۔ اور مفت کیوں ہاتھوں سے چلا جائے۔
کہتے ہیں اُس شخص کی ایک نماز جماعت عصر البتہ اُس کے اپنی کوتائی تھی وہ محروم ہوا تو اُس نے ایک لاکھ درہم کی زمین کو اللہ کی راہ میں صدقہ دیا۔
نماز قضاء پڑھنے کے باوجود کفارہ دیا:
ایک اور بزرگ کے بارے میں ملتا ہےکہ ایک اور بزرگوار تھے کہ رات کی نماز چھوٹ گئی اُن سے کسی کام میں تھے تو وہ نماز اُن سے چھوٹ گئی بعد میں وہ صبح تک جاگتے رہے وہ نماز قضاء بھی پڑی اور پوری رات باقی اُس کے اپنے ٹائم پہ ادا نہیں کی اُس کا اُنہوں نے اِس طرح کفارہ دیا کہ صبح تک اللہ کی عبادت کرتے رہے۔ یہ جو معاقبہ ہے وہ یہی ہے کہ آپ سے اگر ایک عمل خیر چھوٹ جائے تو اُس کے عوض میں کوئی ایسا عمل کریں تاکہ اُس کا جبران ہو۔
ابن ربیع کا واقعہ:
اسی طرح کہتے ہیں کہ ایک شخص ابن ربیع جن کا نام نقل ہوتا ہے اُن سے صبح کی نماز اُن سے چھوٹ گئی تو اُنہوں نے اپنے ایک غلام آزاد کیا نماز بھی پڑی لیکن اللہ کی راہ میں مالی نقصان دیا تاکہ میں اپنے آپ کو عقاب کروں تاکہ اللہ کو خوشنود کروں۔
مولا امامِ صادقؑ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بشارت ہو اُس میرے بندے کیلئے کہ جو خدا کی خاطر اور اُس کی قربت میں اپنے دل اور نفس سے جہاد کرتا ہے۔ اور اپنے ہوائے نفس کی فوج کو یعنی یہ ایک فوج ہوتی ہےاور اس کا حملہ ہر طرف سے ہوتا ہے۔ یہ شخص اُس کو شکست دیتا ہے۔
اور فرماتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جس کی عقل نے اُس کے نفس پر سبقت کی ہے جسے اللہ کی خدمت میں اُس کی بارگاہ میں کوشش کرنے والا اور خضوع و خشوع کرنے والا اُس کی بارگاہ میں گریہ اور بکا کرنے والا کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے اور یہی شخص کامیاب ہوگا اور جب کوئی شخص اِس حد تک پہنچ جائے تو پھر اِس کے اور اللہ کے درمیان حجاب نہیں رہتا اور پھر خدا اِسے دکھاتا ہے بہت ساری چیزیں اور اگر کوئی شخص اپنے نفس کو وحشت ناک پائے یعنی نفس اُس پر حملہ آور ہے فرماتے ہیں کہ اللہ اور اُس کے بندے کے درمیان تاریک تر اور وحشت ناک تر کوئی چیز اُس کے نفس اور خواہشات نفسانی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اور اگر اس سے جنگ کرنی ہے تو آپ کے پاس دو اسلحہ ہیں:
1۔ خدا کی عبادت اور اس کی بارگاہ میں مانگنا اور اسی سے مدد مانگنا۔
2۔ اپنے آپ کو بھوکا پیاسا رکھا یعنی ! روزے رکھنا۔ کہ یہ ویسے ہمارے بہت سارے علماء اخلاق کہتے ہیں۔
جب انسان نفس کا مقابلہ کرنے سے عاجز آجائے کہ وہ اسے نہیں چھوڑ رہا ہو تو اس نے روزے رکھنے شروع کردیے ،روزے رکھنے سے نفس کمزور پڑ جاتا ہے اور اُس کے اندر جو روحانی قوتیں ہیں وہ طاقت پکڑ لیتی ہیں چونکہ بھوک اور پیاس کا جتنا غلبہ ہوگا خواہشات دبنی شروع ہوجاتی ہیں، روحانیت بڑھنی شروع ہوجاتی ہے تو جتنے زیادہ وہ روزے رکھے گا اتنی روحانیت اُس کی بڑھے گی ہاں جب اُسے کنٹرول ہو گیا ہے تو ٹھیک ہے۔
مقام رضوانِ اکبر:
اُس کے بعد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نفس سے جہاد کرتا ہوا مر جائے تو وہ شہید کی موت مرے اُسے اللہ شہداء میں لکھے گا اور اگر وہ نہ مرا اور اسی طرح جہاد کرتا رہا تو خدا اُسے رضوانِ اکبر تک پہنچائے گا ایک بہت بڑا مقام ہے اللہ کی قربت میں اور مقامِ ولایت میں۔ پھر قرآنِ مجید میں سورہ عنکبوت 69 کی مشہور آیت میں پروردگار نے فرمایا ہے کہ:
وَالَّـذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّـهُـمْ سُبُلَنَا ۚ وَاِنَّ اللّـٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ (69)
اور جنہوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم انہیں ضرور اپنی راہیں سمجھا دیں گے، اور بے شک اللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔
اُس کے بعد ہمارے امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص تمہارا اپنا دوست یا کوئی بھی شخص ہے اگر آپ دیکھیں کہ وہ آپ سے اپنی پاکیزگی اور تقوٰی میں آگے بڑھ گیا ہے تو فرماتے ہیں اُس وقت اپنی ملامت کرو کہ تم کیوں نہیں آگے بڑھے۔
ہمارے ہاں آج کے دور میں اگر کوئی شخص مادی اعتبار سے آگے بڑھ جائے تو ہمیں پریشانی ہوتی ہے کہ اِس کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا اِس نے اتنی اچھی گاڑی کہاں سے لی اتنا اچھا گھر کہاں سے لیا یہ کیسے آگے بڑھ گیا ہے اور پھر وہ کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے پاس بھی یہ وسائل آئیں۔ لیکن جو اللہ کے بندے ہوتے ہیں وہ اِن چیزوں سے نہیں گھبراتے کہ فلاں مادیت میں آگے بڑھ گیا ہے۔
شعر مبارک مولائے کائنات شہنشاہ ولایت امیرالمومنین علؑی علیہ السلام:
“رضينا قسمة الجبار فينا فإنَّ المَالَ يَفْنَى عَنْ قَرِيْبٍ لَنا عِلْمٌ ولِلْجُهَّالِ مَالُ و إنَّ العلم باقٍ لا يزالُ”
ترجمہ :
“ھم راضی ھوئے اپنے رب کی تقسیم سے اس نے ھمیں علم دیا اور جاھلوں کو مال! بیشک مال فناء ھوجائے گا اور علم ھمیشہ باقی رھے گا-”
تو ہمارے اندر پریشانی جو ہونی چاہیے وہ معنوی اعتبار سے ہونی چاہیے۔ اور اس سے حسد کرنے کے بجائے اپنے اوپر کام کرے کہ میرا نفس بھی زیادہ کام کرے۔ بلآخر اللہ کی زیادہ فرمابرداری کر۔ اور فرماتے ہیں کہ جس طرح انسان جو گھوڑا سوار ہوتا ہے گھوڑے کو اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے اِس طرح اپنے نفس کو اپنے کنٹرول میں رکھ تاکہ جب تُو چاہے تو وہ قدم اٹھائے جب تُو چاہے تو وہ دوڑے جب تُو چاہے تو وہ رکے اِسی طرح تیرا نفس تیرے تابع ہو۔ اُس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ دنیا کوئی آسان جگہ نہیں ہے مگر تم نہیں دیکھ رہے کہ رسول اللہؐ اتنا عظیم مقام سردارِ نبی ہیں مقامِ عصمت ہیں لیکن! اللہ کی اتنی عبادت رات کو اٹھ کے کرتے تھے کہ پاؤں میں ورم پیدا ہو گیا۔ اور اعتراض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپ کو اتنی عبادت کی ضرورت کیا ہے کہ آپؐ تو معصومؑ ہیں؟ فرمایا:
کیا میرا دل نہیں کرتا اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنوں۔ جب انبیاء کی یہ حالتیں ہیں تو ہم کیوں مردوں کی طرح ساری رات سوئے رہتے ہیں۔اُس کے بعد فرماتے ہیں کہ پیغمبؐرِ اسلامﷺ نے یہ جو فرمایا:
وہ یہ اِس لئے تھا کہ اُمت جو ہے وہ عبرت لے کہ اپنا کوئی بھی وقت اللہ کی عبادت سے خالی نہ چھوڑیں اور ہمیشہ ہر لحظے کو عبادت کا لحظہ بنائیں۔
جیسا کہ بیان کیا تھا کہ اگر ہم اپنے آپ کو عادت ڈالیں شب روز وضو کی وضو جیسے ہی باطل ہو فوراً دوبارہ وضو کر لیں تو ہر لحظے وضو میں گزر رہے ہیں اپنی زبان کو عادت ڈالیں استغفار کی صلوات کی یہ خود بخود اندر نورانیت بڑھائے گا اور تاریکیاں ختم ہوں گی اور لحظے لحظے عبادت کے۔ اُس کے بعد فرماتے ہیں:
اگر تُو عبادت کی شرینی سے واقف ہو جائے پھر تُو کبھی بھی ایک لحظہ بھی عبادت کو نہیں چھوڑے گا۔
بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم لوگ عبادت کرتے ہیں لیکن دشوار ہوتی ہے بدن پر بوجھ آیا ہوتا ہے نماز بھی بعض اوقات بوجھ کی حالت میں قرآن بھی اسی طرح طرح بڑی بھاری لگ رہی ہوتی ہے چونکہ ہمارے اندر نفس اسے پسند نہیں کر رہا ہوتا اور ہمارے اندر جو گناہ اور تاریکیاں بھری ہوئی ہوتی ہیں ان کی وجہ سے وقت لگے گا۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد پھر یہ حالت ہو جائے گی کہ اس کی لذت محسوس کریں گے آپ جب یہ الفاظ اپنی زبان پر لائیں گے ایک خاص حلاوت محسوس کریں گے اور بدن اس طرح آپ کا وجود نفس روح اس طرح اس کی عادت کر جائے گی کہ امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ:
اگر تیرے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیے جاۓ اور تجھے کہیں گے یہ عبادت کو چھوڑ تو نہیں چھوڑے گا اور ایک لحظہ بھی وہ عبادت کے بغیر نہیں رہے گا۔
فرماتے ہیں کہ:
یہ وہ مقامات ہیں جو اللہ کے بندوں کے ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ!
یہ جو سارے مراحل ہیں مشارطہ ،مراقبہ، محاسبہ معاتبہ اور معاقبہ، کہ یہ علوی اور مہدوی زندگی ہے۔
پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اپنے وجود میں یہ سارے مراحل پیدا کریں اور اللّٰہ ہم سب کو یہ توبہ کے بعد والی نئی زندگی عطا کرے آمین اور ہمیں تائبین میں سے قرار دے۔
ہمیں یقین ہے کہ ہمارے اعمال تو اس قابل نہیں لیکن یہی گفتگو لوگوں کی ہدایت کا باعث بنے تو خدا یہی ہم سے عوض کے طور پر قبول کر لیے آمین
دعا ہے پروردگار ہماری یہ گفتگو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور توبہ گزاروں میں سے قرار دے اور مولا کے خدمت گزار ناصروں میں قرار دے۔
آمین۔
والسلام
عالمی مرکز مہدویت قم۔ ایران