تازہ ترین پوسٹس

درس اخلاق۔ دنیا کا باطل کیوں شیعت سے خوفزدہ ہے؟ شیعہ میں سرخ اور سبز رنگ کا فلسفہ اور حضرت ام البنین( س) کی عظمت

درس اخلاق
دنیا کا باطل کیوں شیعت سے خوفزدہ ہے؟ شیعہ میں سرخ اور سبز رنگ کا فلسفہ اور حضرت ام البنین( س) کی عظمت

جمعہ 5 دسمبر 2025 کو دعائے ندبہ کے مدرسہ الامام المنتظر قم مقدس کے طلاب سے خطاب

استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ایک حقیقی شیعہ کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے امام کا مشتاق ہوتا ہے ان کے دیدار کا، ان کی خدمت گزاری کا ان کی ہمراہی کا مشتاق ہوتا ہے اور اپنے آپ کو مولاؑ عج کے قریب دیکھنا چاہتا ہے یہ ایک حقیقی شیعہ کی پہچان ہے۔

وقت کے امام کے حوالے سے ایک زیارت جس کا حکم ہے کہ جو مفاتیح الجنان اور اور ہماری دیگر کتب میں بھی ہے کہ نماز صبح کے بعد زیارت مخصوص امام زمانؑ عجل اللہ فرجہ الشریف پڑھی جائے۔
اس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے :

اَللّٰھُمَّ بَلِّغْ مَوْلَایَ صَاحِبَ الزَّمَانِ صَلَوَاتُ ﷲِ عَلَیْہِ
اے معبود پہنچا میرے آقا امام زمانہؑ کو، ان پر خدا کی رحمتیں ہوں
عَنْ جَمِیْعِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ
تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی طرف سے
فِیْ مَشَارِقِ الْاَرْضِ وَمَغَارِبِہَا، وَبَرِّہَا وَبَحْرِہَا
جو زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں ہیں خشکیوں اور سمندروں میں
وَسَھْلِہَا وَجَبَلِہَا، حَیِّھِمْ وَمَیِّتِھِمْ
میدانوں اور پہاڑوں میں ہیں زندہ اور مردہ
وَعَنْ وَالِدَیَّ وَوُلْدِیْ وَعَنِّیْ مِنَ الصَّلَوَاتِ
اور میرے والدین اور میری اولاد اور میری طرف سے بہت درود
وَالتَّحِیَّاتِ زِنَۃَ عَرْشِ ﷲِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِہٖ
اور بہت سلام ہو ہم وزن ہو عرش الہی کے اور اس کے کلمات کی روشنی
وَمُنْتَہٰی رِضَاھُ، وَعَدَدَ مَا ٲَحْصَاھُ كِتَابُہٗ وَٲَحَاطَ بِہٖ عِلْمُہٗ۔
اور اس کی پوری رضا کے اس تعداد میں جو اس کی کتاب میں ہے اور جو اس کے علم میں ہے
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ٲُجَدِّدُ لَہٗ فِیْ ہٰذَا الْیَوْمِ وَفِیْ كُلِّ یَوْمٍ
اے معبود میں تازہ کرتا ہوں آج کے دن میں اور ہر دن میں
عَھْدًا وَعَقْدًا وَبَیْعَۃً فِیْ رَقَبَتِیْ۔
یہ پیمان ،یہ بندھن اور بیعت جو میری گردن پر ہے
اَللّٰھُمَّ كَمَا شَرَّفْتَنِیْ بِہٰذَا التَّشْرِیْفِ
اے معبود جیسے عزت دی تو نے مجھے اس عزت کے ساتھ
وَفَضَّلْتَنِیْ بِہٰذِھِ الْفَضِیْلَۃِ
بڑائی دی تو نے مجھے اس بڑائی کے ساتھ
وَخَصَصْتَنِیْ بِہٰذِھِ النِّعْمَۃِ
اور خصوصیت دی ہے اس نعمت کے ساتھ
فَصَلِّ عَلٰی مَوْلَایَ وَسَیِّدِیْ صَاحِبِ الزَّمَانِ
پس میرے مولاؑ میرے سردار امام زمانؑ پر رحمت کر
وَاجْعَلْنِیْ مِنْ ٲَنْصَارِھٖ وَٲَشْیَاعِہٖ وَالذَّابِّیْنَ عَنْہُ
اور مجھ کو ان کے مددگاروں ان کے ساتھیوں اور ان کا دفاع کرنے والوں میں قرار دے
وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُسْتَشْھَدِیْنَ بَیْنَ یَدَیْہِ
اور مجھے ان میں رکھ جو شہید ہوں گے ان کے روبرو
طَائِعًا غَیْرَ مُكْرَہٍ
فرمانبرداری سے نہ زبردستی سے
فِی الصَّفِّ الَّذِیْ نَعَتَّ ٲَھْلَہٗ فِیْ كِتَابِكَ
اس صف میں جس صف والوں کی تو نے کتاب میں مدح کی
فَقُلْتَ: صَفًّا كَٲَنَّھُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوْصٌ
پس فرمایا: ایسی صف جیسے سیسہ پلائی دیوار ہو
عَلٰی طَاعَتِكَ وَطَاعَۃِ رَسُوْلِكَ وَاٰلِہٖ عَلَیھِمُ السَّلَامُ۔
میرا یہ عمل تیری اطاعت تیرے رسولؐ اور ان کی آلؑ کی اطاعت میں ہو، ان سب پر سلام ہوں
اَللّٰھُمَّ ہٰذِھٖ بَیْعَۃٌ لَہٗ فِیْ عُنُقِیْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔
اے معبود ان کی یہ بیعت روز قیامت تک میری گردن پر ہے۔

اس زیارت میں انسان اپنے امامؑ عج کو سلام بھیجتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ تمام مومنین و مومنات کی جانب سے میرے مولاؑ کو عرض سلام ہو۔

اس کے اختتام پر علامہ مجلسی رحمۃ اللہ علیہ بحارلانوار میں فرماتے ہیں کہ میں نے قدیم کتابوں میں دیکھا ہے کہ جب زیارت کے آخری حصہ میں پہنچے تو تو اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ میں دے اور قرار کرے کہ میں گویا اپنے زمانے کے امامؑ کی بیعت کر رہا ہوں۔ اور یہ آداب زیارت ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ زیارت اپنے زمانے کے امامؑ عج کی بیعت ہے جس طرح ہم دعائے عہد کے بارے میں کہتے ہیں اسی طرح اس زیارت کا ذکر بھی اسی عنوان سے ہے کہ زمانہ غیبت کے بلخصوص زمانہ حاضر کے مومنین اس کی تلاوت کریں۔

جو نکتہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ  اس مختصر سی زیارت میں ایک جملہ ہے جو آج کے دور کی حقیقی تشیع کو بیان کرتا ہے، اس جملے میں زائر اپنے مولاؑ عج کی زیارت کرتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں ایک دعا کر رہا ہے۔

وَاجْعَلْنِیْ مِنْ ٲَنْصَارِھٖ وَٲَشْیَاعِہٖ وَالذَّابِّیْنَ عَنْہُ
اور مجھ کو ان کے مددگاروں ان کے ساتھیوں اور ان کا دفاع کرنے والوں میں قرار دے
وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُسْتَشْھَدِیْنَ بَیْنَ یَدَیْہِ
اور مجھے ان میں رکھ جو شہید ہوں گے ان کے روبرو
طَائِعًا غَیْرَ مُكْرَہٍ
فرمانبرداری سے نہ زبردستی سے

یہ حقیقی تشیع ہے، یہ رمز تشیع ہے۔ دعائے عہد اس جملے کے اندر ایک اور رتبے کا اضافہ کرتی ہے یعنی تشیع کو ایک اور درجے کے اوپر لے کر جاتی ہے، یعنی ایک دعا کرنے والا کہتا ہے کہ:

اَللّٰھُمَّ اِنْ حَالَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ الْمَوْتُ
اے معبود اگر میرے اور میرے امامؑ کے درمیان موت حائل ہو جائے ( جیسا کہ موت حتمی ہے) کل نفس ذائقہ الموت

الَّذِیْ جَعَلْتَہٗ عَلٰی عِبَادِكَ حَتْمًا مَقْضِیًّا
جو تو نے اپنے بندوں کے لیے آمادہ کر رکھی ہے

(اگلا جملہ)
فَٲَخْرِجْنِیْ مِنْ قَبْرِیْ مُؤْتَزِرًا كَفَنِیْ
تو پھر مجھے قبر سے اس طرح نکالنا کہ کفن میرا لباس ہو
شَاھِرًا سَیْفِیْ، مُجَرِّدًا قَنَاتِیْ
و میری تلوار بے نیام ہو، میرا نیزہ بلند ہو
یعنی! یا مہدیؑ لبیک کہتے ہوئے میں اپنی قبر سے نکلوں۔۔۔
مُلَبِّیًا دَعْوَۃَ الدَّاعِیْ فِی الْحَاضِرِ وَالْبَادِیْ
داعئ حق کی دعوت پر لبیک کہوں شہر اور گاؤں میں

یہ دعائے عہد کے جملے تشیع کا عروج ہیں۔ یعنی! اس سے پتہ چل رہاہے کہ امام عج اُس ملت کا انتظار کر رہے ہیں کہ جن کا ذکر زیارات اور دعاؤں میں ہورہا ہے۔سبحان اللہ

یعنی دوسرے الفاظ میں ہمیں یہ دعوت ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس مرحلے تک لے کر جائیں اور ہر روز مولاؑ عج کی نصرت کی دعا کریں اور ہر روز اپنے زمانے کے امامؑ عج سے بیعت کریں اور اپنے پروردگار سے موت جیسے مسئلے میں بھی درخواست کریں اے میرے پروردگار جب میرے مولاؑ عج کا ظہور ہوجائے تو اس وقت موت میں میرے اور میرے امامؑ عج کے درمیان حائل نہ ہو اور فاصلہ نہ بنے۔

اگر میرے اور میرے امامؑ عج کے درمیان موت حائل ہوجائے تو اس وقت بھی مجھے اٹھانا اس حالت میں کہ کفن میرا لباس ہو اور میری تلوار بےنیام ہو اور میں اپنے مولاؑ کی خدمت میں پہنچوں۔الہیٰ آمین

یہی اصل رمز تشیع اور اصل شیعہ منطق یہی ہے کہ ایک شیعہ اپنے اور اپنے امامؑ عج کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں دیکھنا چاہتا حتیٰ موت کو بھی فاصلہ نہیں سمجھتا اس لیے کہتے ہیں کہ شیعہ ہمیشہ آمادہ ہونا چاہیے۔

پچھلے درس میں بھی ذکر کیا تھا کہ ہمارے شیعہ اپنے گھروں میں تلواریں بنا کر بیٹھے ہیں یہ درست ہے کہ جب ہمارے امامؑ عج تشریف لائیں گے ہوسکتا ہے اس زمانے میں تلوار کی جنگ نہ ہو۔ اور اس زمانے میں علم اور ٹیکنالوجی کی جنگ ہے، لیکن اُس کا یہی جذبہ کافی ہے، البتہ یہاں پر ہم اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے آپ کو عملی طور پر تیار کریں اور ہمارے اندر سے اشتیاق ظاہر ہو۔

مستشرقین ( وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہیں لیکن اسلامی کتابوں پر کام کرتے ہیں۔ ) بعض مستشرقین نے اپنی کتابوں میں شیعوں کے جو حالات لکھے ہیں اس کے اندر یہ چیز لکھی ہے کہ :
شیعہ اپنے زمانے کے امامؑ کے لیے تیار ہوتے ہیں اور اس کے اندر یہ چیز لکھی ہے اور یہ بتا رہی کہ آئندہ جہان پر کس مکتب و ملت نے حکمرانی کرنی ہے کیونکہ یہ ایک ایسے امامؑ کے قائل ہیں کہ جو ان کی نگاہوں میں حیّ و حاضر ہے جبکہ باقی امتیں ایک ایسے مسیحا کے انتظار میں ہیں کہ جس نے ابھی آنا ہے جیسا کہ موعود منجی کا عقیدہ تمام ادیان میں ہے عیسائیت، یہودیت حتیٰ ہندو اور بدمت مذہب میں بھی ہے، وہاں نام اور القابات مختلف ہیں (مسیحاٰ، پانچواں بدھا، سوشیانت، سرورِ میکائیلی) یعنی صفات وہی ہیں کہ ایک ہستی نے آنا ہے کہ جس نے پوری دنیا پہ الہیٰ عدل کو قائم کرنا ہے، پوری دنیا پہ ایک حاکم کی حکومت قائم ہوگی۔انشاءاللہ

اس عقیدے کو اسلام میں عقیدہِ مہدویت کہتے ہیں۔ اسلام میں واحد مکتب جو امام مہدیؑ عج کے اس دور میں بھی زندہ ہونے کا قائل ہے وہ مکتب تشیع ہے، باقی تمام ادیان و مکاتب منتظر ہیں کے وہ پیدا ہوں، جوان ہوں اور حکومت قائم کریں۔

 

مستشرقین نے مختلف واقعات نقل کئے
چند صدیوں پہلے کا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ہم حلہ شہر میں گئے تو وہاں ہم نے شیعوں کے اندر ایک عجیب رسم دیکھی کہ ہر جمعہ کو بعد از دعائے ندبہ وہ اپنی سواریوں پر تلواروں کے ساتھ شہر سے باہر نکلتے تھے اور کہتے تھے اے امامؑ وقت عج ہم حاضر ہیں اور انہوں نے کفن باندھے ہوتے تھے اور کہتے تھے مولاؑ ہم تا شہادت حاضر ہیں۔ یعنی ! اس سے وہ تڑپ اور اشتیاق کا اظہار ہوتا تھا۔

اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ دور میں اسلام کا سب بڑا دشمن یہی یہودیت اور صیہونیت سمجھ چکے ہیں کہ اسلام کے اندر ایک زندہ مکتب جس سے حقیقی اسلام نظر آتا ہے کہ جو دنیا کے ظالموں اور مستکبرین کے مدمقابل کھڑا ہے وہ فقط اور فقط تشیع ہے وگرنہ باقی تو ساتھ مل چکے ہیں اور تشیع کے اندر بھی حقیقی شیعہ اثنا عشری ہیں نہ کہ ہر شیعہ مکتب کیونکہ باقی شیعہ مکاتب تو ان کے نوکر اور غلام بنے ہوئے ہیں۔ وہ شیعہ مکتب کے جس کے اندر واقعاً صحیح معنوں میں تمام اسلامی جذبات، احساسات، اور عقائد اور اسلامی حرکت اور جہاد نظر آ رہا ہے وہ شیعہ اثنا عشری مکتب ہے اور وہ اس بات پر توجہ کر رہے ہیں کہ اس مکتب کے اندر دو رنگ ہیں ایک سرخ اور ایک سبز۔

البتہ یہ مستشرقین نے تعبیر کیا ہے وگرنہ ہم تو حضرت ابوالفضل العباسؑ کے سیاہ علم کو ہی مدنظر رکھتے ہیں کہ یہ سوگواری کا عَلم ہے۔ انہوں نے کیا تجزیہ کیا؟؟

شیعہ اثنا عشری مکتب کے اندر دو رنگ ہیں ایک سرخ اور ایک سبز۔ 1۔ سرخ رنگ کس کا ہے؟ جنگ اور خون کی علامت:

یعنی شہید کربلا حسینؑ ابن علیؑ کی شہادت کا رنگ، اور یہ ابھی تک مولا حسینؑ کے نام سے لڑ رہے ہیں اور ان کا انتقام لینا چاہتے ہیں اور ابھی تک انتقام پورا نہیں ہوا اور یہ اس مقدس خون کے وارث ہیں اور اس کی خاطر یہ کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے ظالمین سے انتقام لینا ہے کیونکہ مدمقابل ایسے ظالم ابھی بھی موجود ہیں۔

2۔ تشیع کے اندر سبز رنگ ہے؟ یہ ان کے مولا امام زمانؑ عج کا رنگ ہے۔ جس سے یہ مدد لیتے ہیں اور یا صاحب الزمان ادرکنی کہتے ہیں اور ہر ظالم کے مد مقابل کھڑے ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے اس کو امام زمانؑ عج سے نسبت دی اور شائد اس کی وجہ ہمارے پیغمبرؐ ﷺ کا سبز گنبد ہے یا سادات کہ سادات اپنی سیادت کو سبز رنگ سے ظاہر کرتے ہیں، انہوں نے خود ہی یہ چیزیں بیان کیں جبکہ ہمارے ہاں مذہبی طور پر ان رنگوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کوئی دلیل ہے یہ ایک سیرت میں آگیا ہے، ایک عرف میں آگیا ہے کہ یہ دو رنگ انہوں نے تشیع کے ساتھ خاص کر دیے ہیں اور اس سے وہ خوفزدہ ہیں، یہ وہ دو رنگ بتا رہے ہیں کہ یہ ملت خاموش رہنے والی نہیں ہے یہ ملت متحرک اور تیار ہے اور اس چیز سے وہ ڈرتے ہیں کہ کل یہ دونوں رنگ باعث بنیں گے کہ یہ ملت امام زمانؑ عج کی ہمراہی میں کھڑی ہو اور امام حسینؑ ابن علیؑ کے انتقام میں پوری دنیا کے ظالمین سے ٹکرائیں اور دنیا پر حاکم بن جائیں۔

اگر ہم تمام مستشرقین کی تحریروں کو دیکھیں تو ان کے تجزیے سے یہی نظر آتا ہے کہ اگر کوئی دین، اگر کوئی مکتب آئندہ زمانے پر حکومت کرے گا تو وہی یہی شیعہ اثنا عشری ہیں اور ہمارا تو یقین ہے کہ دنیا میں جو مکتب حکومت کرے گا وہ شیعہ اثنا عشری ہے۔

 

ندائے آسمانی
کہتے ہیں کہ وہ جو ندائے آسمانی آئے گی جیسے پوری دنیا سنے گی اور اس آوازمیں اتنی گرج ہوگی کہ سویا ہوا شخص اٹھ جائے گا اور بیٹھا ہوا شخص کھڑا ہو جائےگا اور کھڑا ہوا بندہ ہیبت سے بیٹھ جائے گا یعنی ایک ردِعمل ہوگا، اس ندائے آسمانی میں ایک تو امام زمانؑ عج کے ظہور کی بشارت ہوگی اور دوسری ندا جو پوری دنیا کو سنائی دے گی وہ یہ ہوگی کہ: (حق شیعان علیؑ کے ساتھ ہے۔)

اس ندا کے آتے ہی مکتب تشیع میں جوش و خروش بڑھے گا اور لوگ آہستہ آہستہ مکہ کی جانب بڑھیں گے کہ ان کے مولاؑ عج کا ظہور مکہ میں ہونے والا ہے، یہ آواز اتنا جوش و خروش پیدا کرے گی کہ حتیٰ گھروں کے اندر جو شیعہ خواتین ہونگی ان میں جوش و خروش ہوگا۔

کہتے ہیں کہ بہنیں اپنے بھائیوں کو، مائیں اپنے بیٹوں کو اور زوجات اپنے شوہروں سے کہیں گی کہ اب فرزند زہراؑ کی مدد کا وقت آچکا ہے لہذا آپ اب اپنے گھروں سے نصرت امامؑ وقت کے لیے نکلیں اور پہنچیں جس کی تھی آرزو وہ گھڑی آگئی۔

اگرچہ وہ کہیں گے کہ آپ خواتین گھر میں اکیلی ہیں اور گھر میں مسائل ہیں تو وہ کہیں گی ہم اپنے امور خود سنبھال لیں گی آپ جائیں اور امامؑ عج کی مدد کریں۔ یعنی خواتین بازو اور ہاتھ سے اپنے مردوں کو پکڑ پکڑ کر باہر نکالیں گی کہ آپ امام کی نصرت کے لیے پہنچیں اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فقط مردوں میں ہی تیاری نہیں بلکہ خواتین میں بھی، مائیں بہنیں، بیٹیاں اور زوجات نصرت امام کے لیے تیار ہونگی، یعنی یہ پوری ایک ملت کی تیاری ہے۔ دعا ہے کہ پروردگار ہمیں اس نقطے تک پہنچائے۔انشاءاللہ

 

شیعہ کی پہچان

عرض خدمت یہ ہے کہ:

۔ ایک شیعہ کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے مولاؑ کے مدمقابل تسلیم ہیں اور ہر لحظہ تیار ہیں۔

۔ وہ ہمیشہ تیار ہے اور اس مسئلے میں ایک لحظہ بھی وہ تردد کا اظہار نہیں کرتا اور جو اس مرحلہ پر نہیں ہے وہ شیعہ نہیں ہے۔

اس طرح کے شیعہ ہمیشہ کم تھے کہ جب آئمہؑ کا زمانہ حضور تھا تو ایسے شیعہ بہت کم تھے، ویسے محبین تھے۔ شائد کہ ان کے غم میں اشک بہانے والے بھی ہوں لیکن جان و مال کے ساتھ اپنے زمانے کے امام کی خدمت میں حاضر ہونا یہ ہر ایک کا کام نہیں ہے۔

ھرثمہ بن سلیم: روز عاشور کربلا میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے تھے اور ابھی جنگ نہیں ہوئی تھی تو ایک شخص کہ جس کا نام تاریخ میں ھرثمہ بن سلیم ذکر ہوا ہے یہ شخص عمر ابن سعد کے لشکر میں تھا اور جب سید الشہداءؑ نے اپنا خطبہ ختم کیا تو اس شخص نے عمر سعد کے لشکر کو چھوڑا اور گھوڑا دوڑا کر امامؑ مظلوم کی خدمت میں پہنچا اور کہنےلگا: اے فرزند رسولؐﷺ میں معافی مانگنا چاہتا ہوں کیا ابھی بھی کوئی معافی کی گنجائش ہے۔ فرمایا: اے شخص ہوا کیا ہے کہ ابھی تو تُو اُدھر تھا یعنی کیا ہوا ہے ؟

کہا : فرزند رسولؐﷺ جب آپ اس جگہ خطبہ دے رہے تھے تو مجھے بیس سال پرانی بات یاد آگئی کہ بیس سال پہلے ہم آپؑ کے والد گرامی امیر کائناتؑ کے ساتھ یہیں سے گذر ہوا تو اسوقت ہم نے دیکھا کہ جس مقام پر آپ کے خیام ہیں مولاؑ اسی مقام پر کھڑے ہوگئے اور ھرثمہ کہتا ہے: امیر کائنات علیہ السلام کی کیفیت یہ تھی

تَرَقْرَقَتْ عَیْنَاهُ لِلْبُکَاءِ،
ان کی مبارک آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور فرمایا:

ثُمَّ قَالَ: هَذَا مُنَاخُ رِکَابِهِمْ، وَ هَذَا مُلْقَی رِحَالِهِمْ، وَ هَاهُنَا تُهَرَاقُ دِمَاؤُهُمْ، طُوبَی لَکَ مِنْ تُرْبَةٍ عَلَیْکَ تُهَرَاقُ دِمَاءُ الْاَحِبَّةِ

یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ اترنے والے ہیں یہ وہ مقام ہے جہاں ان کا سامان اور خیمہ گاہ ہوگی، اسی جگہ ان کا خون بہایا جائے گا۔

پھر آپؑ نے خاک کربلا کو مخاطب کیا کہ اے خاک تجھے بشارت ہو۔ خوش نصیب ہے تُو اے مٹی کہ اللہ کے محبوبوں کا خون تجھ پر بہایا جائے گا۔

کہا: فرزندِ رسولؐ اللہﷺ: آپؑ حق پر ہیں اور میں شرمندہ ہوں۔ تو اب امام نے اس سے پوچھا کہ اے ھرثمہ اب کیا ارادہ ہے؟
کہا مولا مجھے معاف کریں میرے بچے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہ راستہ شہادت کا ہے۔ کہا مولا مجھے معاف کریں۔ فرمایا: اے ھرثمہ تو اب اتنا دور چلا جا کہ جب میں نصرت کے لیے پکاروں تو تیرے کانوں میں میری آواز نہ پہنچے۔اللہ اکبر۔ یا غریب الکربلا یا ابا عبداللہ الحسینؑ

یہ سید الشہداءؑ کی اپنے محب پر لطف ہے کیونکہ امام خدا کی تجلی کا مظہر ہوتا ہے، خدا وہ ہے جو حتی اپنے منکروں اور ملحدوں کو بھی رزق دے رہا ہے۔ امامؑ بھی آخری حد تک کوشش کرتے ہیں کہ ہدایت دے یا حد عقل کوشش کرتے ہیں کہ ابدی جہنم سے بچ جائے۔

فرمایا: ھرثمہ اتنا دور چلا جا، تیرے کانوں میں میرے استغاثہ کی آواز نہ آئے کیونکہ اگر تیرے کانوں میں میرے استغاثہ کی آواز پہنچ گئی تو میری مدد کو نہ پہنچا پھر تو جہنم میں ابدی طور پر رہے گا اور تیرا کوئی چھٹکارا نہیں ہے۔

حق کو جاننا اور ہے اور نصرت اور چیز ہے۔ یہ شخص حق کو جانتا تھا لیکن نصرت امامؑ پر آمادہ نہ تھا۔ یعنی حق کو جاننا اور چیز ہے اور نصرت اور چیز ہے۔ حق کو جاننا فقط کافی نہیں ہے مگر راہ حق میں قدم اٹھانا ہدف ہے۔ ہر دور میں بہت سارے لوگ یہ پہچانتے تھے کہ حق کدھر ہے لیکن نصرت حق کے لیے آمادہ کون ہے۔ امیر کائنات کے لیے چند لوگ تیار تھے، کربلا میں 72 تھے۔ اصل میں یہ تھے شیعہ۔

امام صادقؑ کے زمانے میں چارہزار شاگرد تھے لیکن یہ سارے اہل بزم تھے اہل رزم نہ تھے۔ ان میں سے کتنے تھے جو امامؑ کے ساتھ قیام کے لیے شریک ہوتے شہادت دیتے۔ مولا صادقؑ نے فرمایا ایک روایت کے مطابق پانچ بھی نہیں ہے اور دوسری روایت میں فرمایا سات بھی نہیں ہے۔

چاہنا اور چیز ہے اور قیام اور جان دینا اور چیز ہے۔ لیکن خوش نصیب ہے زمانہ غیبت کے شیعہ۔

امام سید سجادؑ علیہ السلام کا فرمان ہے:قال:
ان اھل زمانہ غیبتہ القائلون بامامتہ المنتظرون لظھورہ ،افضل اھل کل زمانہ؛

ابو خالد کابلی کو امام سید سجادؑ فرما رہے ہیں کہ: کہ ہمارے اصل شیعہ اس وقت آئیں گے کہ جب غیبت کا زمانہ ہوگا کہ انہوں نے ہمیں دیکھا ہوا نہیں ہوگا۔ یہ لوگ تو دیکھتے تھے حق کو سمجھتے تھے پھر بھی اس مقام تک نہیں پہنچے کہ اپنے آپ کو فدا کریں۔

فرماتے ہیں کہ زمانہ غیبت میں ایک ایسی ملت آئے گی جو امام مہدیؑ عج کی امامت پر اعتقاد رکھیں گے اور ان کے ظہور کے منتظر ہوں گے لحظہ شماری کریں گے اپنے آپ کو تیار رکھیں گے اور فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو تمام زمانوں سے افضل ہیں۔سبحان اللہ

اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ زمانہ غیبت کے شیعہ جو مولاؑ عج کی نصرت کا جذبہ رکھتے ہیں ان کا مقام تمام زمانوں کے مسلمانوں سے افضل ہے۔ حتی پیغمبرؐ اسلامﷺ سے لیکر امام حسن عسکریؑ تک جو زمانہ ظہور ہے آئمہؑ کا اور بعد میں امام زمانؑ عج کا زمانہ ظہور ہے یہ لوگ ان زمانوں سے بھی برتر ہیں کیونکہ انہوں نے کسی حجت کو نہیں دیکھا لیکن اس کے باوجود وہ تیار ہیں۔

پھر مولاؑ اس کی علت بھی فرما رہے ہیں:
لان اللہ تعالیٰ ذکرہ اعطاھم من العقول والافھام والمعرفة ما صارت بہ الغیبة عندھم بمنزلة المشاھدة
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ایسی معرفت عطا کی ہے کہ ان کے لیے غیبت اب غیبت نہیں رہی بلکہ مشاہدہ میں بدل گئی ہے۔
یعنی یہ اپنے امامؑ کو محسوس کرتے ہیں اور ہمیشہ خود کو ان کے خیمہ میں پاتے ہیں۔

سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے متقین کی نشانیاں بیان کئیں ہیں۔
یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ
اہل تقویٰ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔
یہ ہے اصل اسلام اور اصل تشیع۔ یعنی صحیح اسناد کے ساتھ خبر ملی ہے اور کسی بھی امامؑ کو نہیں دیکھا ہے لیکن ان پر یقین بھی رکھتا ہے اور ان کی نصرت کے لیے تیار بھی ہے۔ کہتے ہیں کہ:
ہنرِ ولایت، ہنر بندگی یہ ہے کہ انسان دیکھ کر یقین نہ کرے بلکہ بغیر دیکھے یقین کرے، تقویٰ کی نشانی ایمان بالغیب ہے۔

پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہمارے اندر بھی یہ معرفت اور ایمان کی کیفیت پیدا ہو۔

ایام سوگواری بی بی ام البنینؑ، اگر کسی نے واقعاً تشیع کے رمز کو سمجھنا ہے تو اس بی بی سے سمجھے۔ کہ اس بی بی نے چار فرزند زمانے کے امامؑ کی نصرت کے لیے حاضر کر دیے۔ کہتے ہیں کہ جب بشیر خبر لے کر مدینہ آیا تو سب سے پہلی ہستی جسے در مدینہ پر بشیر نے دیکھا وہ ام البنینؑ تھیں۔ بی بی کے چار بیٹے کربلا میں نصرت امام میں شہید ہوئے۔
جناب جعفر، جناب عبداللہ، جناب عثمان اور حضرت عباسؑ۔

جب بشیر نے چاہا کہ بی بی کو ان کے چاروں فرزندوں کا پرسہ دے۔ جیسے ہی بی بی کے پاس پہنچا تو بی بی نے فرمایا:
اخبرنی عن ابی عبداللہ الحسینؑ
مجھے میرے امامؑ کی خبر دو۔

کہا: بی بی آپ کا عباسؑ شہید ہوگیا۔ ایک مرتبہ وجود ام البنینؑ پر لرزہ طاری ہوا لیکن مادر عباسؑ نے کہا:
بشیر مجھے میرے حسینؑ کی خبر دو۔ کہا: میں آپ کو، جعفر، عثمان، عبداللہ کی تعزیت عرض کرتا ہوں۔ بی بی نے اب جو آخری جملہ کہا: یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ خاتون ِ وفا کے بیٹے کیوں شہنشاہ وفا تھے۔ یہ تربیت ام البنینؑ تھی۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ امام زمانؑ کے انقلاب کے اندر ان خواتین کا کتنا کردار ہے۔

اخبرنی عن ابی عبداللہ الحسینؑ
أولادی وَمَن تَحتَ الخَضراء کُلُّهُم فداءُ لأبی عَبدِاللهِ الحُسین

اے بشیر تو مجھے صرف یہ بتا کہ زہراؑ عج کے بیٹے پر کیا گذری۔ اس زمین کی تمام اشیاء، میری اولاد ابا عبداللہ الحسینؑ پر فدا ہو۔

یہ ہے رمز تشیع، یہ ہے رمز وفا۔ عرض خدمت یہ ہے کہ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ بی بی ام البنینؑ کی وفا اور عظمت کا راز کیا ہے۔

پروردگار عالم ہمیں توفیق دے کہ ہمارے اندر اس طرح کی وفا پیدا ہو ہم وہ قوم قرار پائیں کہ جس کا انتظار امام زمانؑ عج کر رہے ہیں، ہم وہ قوم قرار پائیں کہ جو اپنے مولاؑ کی راہ میں اپنا جان و مال خرچ کرنے کے لیے ہر لحظہ آمادہ ہوں۔

سلامتی بر استاد محترم
آمین۔
والسلام
عالمی مرکز مہدویت ۔ قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *