تقوی الہیٰ کیا ہے؟
کیسے روحانیت پیدا ہو؟
درس اخلاق 17 دسمبر 2025
استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الطلاق
وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ يَجْعَلْ لَّـه مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْه مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّـٰهِ فَهُوَ حَسْبُه ۚ اِنَّ اللّـٰهَ بَالِغُ اَمْرِه ۚ قَدْ جَعَلَ اللّـٰهُ لِكُلِّ شَىْءٍ قَدْرًا (3)
درس اخلاق کم از کم ہفتہ میں ایک مرتبہ ضروری ہے۔ حتی کوئی اخلاقیات کو بیان کرنے کا اہل ہو یا نہ ہو وہ درس اخلاق سنے، حتی ایک استاد بھی اپنے شاگرد سے درس اخلاق سن سکتا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ایک مرتبہ جناب سلمان فارسی کو فرما رہے ہیں کہ (اے سلمان مجھے وعظ کر، مجھے نصیحت کر۔) جناب سلمان حیران ہوگئے کہ آپ ﷺ جیسی ہستی اور میں؟؟ ہم نے تو سب کچھ آپ ﷺ سے لیا ہے۔ تو فرمایا کہ میں نبیﷺ ہوں، مجھے بھی ضرورت ہے کہ کوئی آئے اور مجھے نصحیت کرے۔
بالآخر انبیاء نوع بشر سے ہیں اور انسانی گفتگو سے مانوس ہے، معاشرتی تعلق و رابطہ سے مانوس ہیں، ایک دوسرے کی اچھی گفتگو سے مانوس ہے۔ اسلیے ہم دیکھتے ہیں کہ سورہ العصر کے اندر اللہ تعالیٰ نے مومنین کو کتنی بڑی نصحیت کی ہے کہ مومنین کی خاصیت یہ ہے کہ :وہ ایک دوسرے کو نصحیت کرتے ہیں۔
وَالْعَصْرِ (1)
زمانہ کی قسم ہے۔
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِىْ خُسْرٍ (2)
بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔
سورہ کا آغاز اس بات سے ہے۔ معمولاً انسان گھاٹے میں ہے اور تکلیف میں ہے لیکن کون لوگ ہیں جو گھاٹے میں نہیں ہیں۔ یعنی ہم اپنی زندگی سے راضی نہیں ہیں اور رنج اور تکلیف میں ہیں۔ لیکن کون لوگ ہیں جو گھاٹے میں نہیں ہیں۔
پہلی صفت:
اِلَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا
مگر جو لوگ ایمان لائے۔ (خدا، رسولﷺ اور اپنے امامِ وقت عج پراور آخرت پر ایمان ہے)
دوسری صفت:
وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
یعنی تنہا ایمان کافی نہیں بلکہ ساتھ عمل صالح کریں۔
تیسری صفت:
وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ
حق کی نصیحت کرتے رہیں۔
چوتھی صفت:
وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (3)
صبر کرنے کی آپس میں نصیحت و وصیت کرتے رہے۔
یعنی مومن صرف ایک دوسرے کو نصحیت ہی نہ کرے بلکہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ آج ہم نے قرآن مجید سے درس لینا ہے اور ہم نے سورہ الطلاق کی ابتدائی آیات جو آپ کی خدمت میں پیش کئیں ہیں۔
وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ يَجْعَلْ لَّـه مَخْرَجًا (2)
جو بھی تقویٰ الہیٰ اختیار کرے گا۔ خدا اس کے لیے راستے کھولے گا۔
یہ آیت ایسی ہے کہ جسے بار بار تلاوت کرنے اور اس کے مطالب بیان کرنے کو جی چاہتا ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک شخص رسولؐ خداﷺ کی خدمت میں آیا، کہنے لگا کہ مجھے کچھ بتائیں کہ اگر میں عمل کروں تو میری ساری زندگی کے لیے کافی ہے۔ ظاہر ہے کہ پورا قرآن ہمارے لیے عمل کی کتاب ہے لیکن کوئی شخص آئے اور کہے کہ مجھے کوئی ایک آیت بتائیں کہ جس پر میں ساری زندگی عمل کروں۔
نبیؐ کریمﷺ نے فرمایا: قال إني لأعلم آية لو أخذ الناس بها لكفتهم
ہاں قرآن مجید کی ایک خاص آیت ہے جسے میں جانتا ہوں کہ اگر لوگ اس ایک آیت پر عمل شروع کریں اس پر تمسک کریں۔ یعنی لوگوں کے پاس اگر پورے قرآن پر عمل کرنے کا وقت نہیں تو فقط ایک آیت پر تمسک کریں اور اسے اپنی عملی زندگی میں لے آئیں تو وہی کافی ہے۔ پھر آپ نے اس آیت سے تلاوت کی:
وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ يَجْعَلْ لَّـه مَخْرَجًا (2)
جو بھی تقویٰ الہی اختیار کرے، خدا اس کے لیے راستے کھول دے گا اور پھر حدیث میں ہے کہ پیغمبرؐﷺ مسلسل اس آیت مجیدہ کی تلاوت کرتے تھے اور اس کا تکرار کرتے تھے۔ یعنی یہ آیت اتنی مہم ہے کہ رسولؐ اللہﷺ کا ذکر ہے۔
یہ ہمارے لیے بھی ایک ہدیہ ہے کہ پیغمبرﷺ کی لسان مبارک پر جو ہمیشہ ذکر جاری رہتا تھا وہ اسی آیت مجیدہ کا تھا اور اگر اس آیت کے مطالب پر تھوڑا سا توجہ فرمائیں تو یہ آیہ بڑے اہم ترین مطالب رکھتی ہے۔ ایک دینی، ایک الہی زندگی کا سرنامہ عنوان یہ آیت ہے۔
وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ
جو اللہ کا خوف کھائے۔
عام طور پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اللہ سے کیوں خوف کھائیں۔ اللہ کوئی ڈرانے والی چیز ؟؟
اللہ جو کہ سب سے خوبصورت ذات ہے، اللہ سے بڑھ کر کوئی زیبا ذات ہے ہی نہیں، اللہ سے بڑھ کر کوئی کریم نہیں ہے، اللہ سے بڑھ کر کوئی شفیق نہیں ہے کہ جو رحمان اور رحیم ہے، اللہ سے بڑھ کر کوئی منعم نہیں ہے، تو ہم کیسے اللہ سے ڈریں؟۔ یعنی پھر کیوں کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈریں؟
یہاں یہ مراد نہیں کہ خدا کوئی ڈرانے والی چیز ہے، نہیں! بلکہ خدا کے حضور سے ڈریں، خدا کا ادب و احترام کریں۔ یعنی ہم اس چیز کو تو سمجھتے ہیں کہ جب ہمارے سامنے کوئی بزرگ بیٹھا ہو تو ہم خود کو ایسے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے اس بزرگ کی چاہت ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ بزرگ ہمیں کچھ بھی نہ کہے لیکن اس کی ہیبت اور رعب ہے آخر اس نے ہمیں پالا ہے اور ہمیں وسائل زندگی دئے ہے، اس نے ہمارے زندگی کے امور لیے ہیں یا ہمارا کوئی استاد ہے تو انسان اس کے حضور میں تقویٰ کی راہ اختیار کرتا ہے یعنی خوف کھاتا ہے کہ میں اس کے سامنے کوئی ایسا کام نہ کردوں اور کوئی غلطی نہ کر بیٹھوں۔
یعنی اپنی غلطی سے خوف کھاتا ہے نہ کہ اس سے ڈرتا ہے اور اس کے حضور کا احترام کرتا ہے اور اس کا ادب کرتا ہے۔
وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ سے مراد یہی ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ کا ادب کریں اور اللہ کے حضور کا احترام کریں۔
معصوم(ع) فرماتے ہیں کہ تم ہمیشہ اللہ کے حضور میں ہو۔ (مشہور روایت) چاہے ہم اکیلے بیٹھے ہوں یا لوگوں کے ہجوم میں بیٹھے ہوں یا زیر لحاف موبائل کھول کر بیٹھے ہوں وہاں کوئی اور ہو نہ ہو لیکن اللہ ہے۔
ہم ہمیشہ اپنے اللہ کے حضور میں ہیں۔ اسی لیے ہمارے آئمہ(ع) فرمایا کرتے ہیں کہ ہمیشہ تم اللہ کے حضور میں ہو لہذا گناہ کرنے سے، معصیت کرنے سے شرم کرو۔ چونکہ یہ گناہ کس کے سامنے کر رہے ہو؟؟ وہ اللہ جو ہمارا رازق و خالق ہے۔ ہمیشہ ہمارے بزرگان دین، معلم اخلاق، صاحب معرفت اورجو صاحب دل ہیں وہ ہمیشہ یہ کہا کرتے ہیں کہ بالخصوص اللہ کا ادب اس وقت کرو کہ جب کوئی بھی نہ ہو۔
اب اس میں ایک نقطہ ہے کہ جب ہمارے پاس بہت سارے لوگ ہوتے ہیں تو وہاں خدا بھی ہے لیکن ہماری توجہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے اور ہم وہاں مصروف رہتے ہیں لیکن جب لوگ نہ ہوں تو ایک ذات ہوتی ہے کہ جس نے پوری فضا کو پُر کیا ہوتا ہے۔ اور وہ پروردگار ہے اور اس وقت اللہ کے حضور کا بیشتر ادب کرو۔
استاد محترم فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بعض اساتید سے سنا اور انہوں نے اپنے استادوں اور صاحبان معرفت سے سنا کہ: وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض اساتید، صاحبان معرفت، اہل علم اتنے دقیق ہوتے تھے کہ جب تنہا بیٹھے ہوتے تھے تو اپنے پاؤں بھی نہیں پھیلاتے تھے۔ یعنی جیسے اگر استاد زمین پر بیٹھا ہو تو اس کے سامنے پاؤں پھیلا کر بیٹھنا خلاف ادب ہے مثلاً ہمارے والد یا ہمارے کوئی بزرگ یا استاد بیٹھے ہوں تو ہم کبھی بھی ان کے سامنے پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھیں گے؟؟ کبھی بھی نہیں۔ اگرچہ وہ منع نہیں کر رہا لیکن عرف کے اندر، اخلاقی اعتبار سے سب اسے برا سمجھیں گے۔ تو جب ہم ایک دوسرے کا اتنا احترام کرتے ہیں تو جب تنہا بیٹھے ہوں تو اللہ کا کتنا احترام ہے، ہمارے بعض بزرگان کہتے ہیں کہ جب تنہا بیتھے ہوں تو تنہا ذات جو ہمارے سامنے ہے وہ پروردگار عالم کی ذات ہے۔
ہمارے بعض بزرگان کہتے ہیں کہ جب آپ تنہا بیٹھے ہوں تو زیادہ اپنے آپ بارے میں زیادہ غور و فکر کریں اور اپنے آپ پر قابو کریں۔ اپنے پاؤں نہ پھیلائیں چونکہ اللہ کے سامنے پاؤں پھیلا رہے ہو۔ کوئی گناہ نہ کریں چونکہ اس وقت تم اور تمھارا خدا ہیں لیکن جب ہم تنہا ہوتے ہیں تو خود کو آزاد سمجھتے ہیں کہ اب تو کوئی بھی نہیں ہے اور اب تو گناہ کرنے کا وسیلہ بھی بچے بچے کے ہاتھ میں ہے، جب ایک جوان موبائل لے کر سب کے ساتھ بیٹھا ہو تو وہ اور طرح کا ہوتا ہے لیکن جب تنہا بیٹھا ہو تو پھر وہ نہیں دیکھتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ میں کیسی چیٹ کر رہا ہوں حالانکہ اس وقت اس بچے کے قریب جو سب سے زیادہ قریب ترین ذات ہے وہ اللہ ہے۔
اسی لیے ہمارے بعض بزرگان فرماتے ہیں کہ:
خلوت میں خشیت زیادہ پیدا ہوتی ہے اور خوف الہیٰ زیادہ پیدا ہوتا ہے اور اسی لیے اہل معرفت خلوتوں میں زیادہ گریہ کرتے ہیں چونکہ اس وقت فقط وہ ہوتے ہیں اور ان کا خدا ہوتا ہے۔
آئمہ(ع) لوگوں کے درمیان نہیں روتے تھے۔ شائد کبھی کوئی مورد ہو کہ لوگوں کے درمیان ذکر خدا کرتے ہوئے کوئی امام روئے ہوں کیونکہ انسان بے اختیار ہو جاتا ہے۔ لیکن زیادہ تر آئمہ(ع) کی مناجات حالت خلوت میں ہیں کیونکہ اس وقت وہ ہوتے تھے اور خدا ہوتا تھا۔ اگر ہم کسی بھی امام(ع) کی زندگی کی جانب توجہ فرمائیں تو رات کی تاریکی ہوتی تھی اور سید سجاد علیہ السلام خانہ کعبہ کے غلاف کو تھامے ہوتے تھے اور حالت گریہ میں ہوتے تھے۔
مولا علی علیہ السلام ہوتے تھے اور مدینہ کے باہر صحرا ہوتا تھا حتی نہیں چاہتے تھے کہ کوئی اردگرد دور کوئی شخص میری آواز سنے۔ گڑھا کھودتے تھے اور گڑھے کے اندر منہ کر کے حالت مناجات میں ہوتے تھے اور گریہ کی کیفیت طاری ہوتی تھی حتی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ علی(ع) دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ظاہراً ساتھ جناب مقداد تھے، مولا علی(ع) نے فرمایا: مقداد یہاں رک جاؤ، مقداد رک گئے لیکن پھر آگے بڑھے کہ کہیں صحرا میں کوئی دشمن نہ ہو۔ کیا دیکھا کہ آگے ایک گڑھا ہے اور مولا ہیں اور کیا دیکھا کہ مولا خدا سے راز و نیاز کرتے کرتے دنیائے ہوش سے چلے گئے، اب جب جناب مقداد قریب گئے تو کیا دیکھا کہ مولا کا جسم ایسا ہو چکا ہے گویا ایک خشک لکڑی ہو۔ جناب مقداد نے سمجھا مات علی ابن ابی طالب(ع)
اب جناب مقداد دوڑتے ہوئے مدینہ واپس آئے درِ زہرا(س) پر دق الباب کیا کہا:
نبی(ص) کی بیٹی میں مولا علی(ع) کی یہ حالت دیکھ کر آرہا ہوں مجھے لگتا ہے علی دنیا سے چلے گئے، تو بی بی نے فرمایا: اے مقداد لگتا ہے آج آپ نے پہلی بار دیکھا ہے، یہ تو ہر رات کی کہانی ہے۔
کہتے ہیں خدا کو خلوتوں میں یاد کریں۔
خدا ہے، ابھی بھی ہے حتی ہماری نیتوں اور ہمارے باطن کو دیکھ رہا ہے لہذا اہل دل اور اہل معرفت خلوت میں خدا کا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔
وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ
جو اللہ پر زیادہ توجہ کرے، جو اللہ کے حضور کا زیادہ خیال رکھے، جو اللہ کا سب سے زیادہ ادب کرے۔
يَجْعَلْ لَّـه مَخْرَجًا
پروردگار فرما رہا ہے میں اس کے لیے بند دروازے کھول دیتا ہوں۔
مثلاً: بطور علمائے کرام لوگ ان سے اپنے مسائل کا حل پوچھتے ہیں جیسے کاروبار نہیں چل رہا، یا پھر بچی کی شادی نہیں ہو رہی، کوئی گرفتار ہے تو مولوی صاحبات روایات کے ذیل میں اذکار بتاتے ہیں۔
لیکن قرآن کہتا ہے کہ:
اگر بند دروازے کھولنے ہیں، اگر بندشیں کھولنی ہیں تو پھر فقط اور فقط تقویٰ الہیٰ اختیار کرنا ہے اور اپنی زندگی کو حرام سے پاک کر دیں۔
یعنی محرمات سے دوری اور واجبات کی ادائیگی۔ زندگی کو محرمات سے پاک کردیں اور اللہ کے حضور کا خیال رکھیں اور خدا کا ادب رکھیں تو ساری بندشیں کھلنی شروع ہو جائیں گی۔ اور پھر خدا فرما رہا ہے:
وَيَرْزُقْه مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ
اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو ۔
اور رزق کس جگہ سے دے گا؟ من حیثُ لا یحتسب۔
ایسی جگہ سے دے گا کہ جہاں سے انسان شمار بھی نہیں کر سکتا۔
واقعہ حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا
ہماری زندگیوں میں ایک مشکل آتی ہے اور وہ کہاں تک لے جاتی ہے حتی انسان اپنے خدا کو بھی بھول جاتا ہے اور اردگرد جو لوگ ہوتے ہیں ان کی جانب ہاتھ بڑھا دیتا ہے جیسے حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ شکوہ ہے: اے میرے بندے میں سب سے زیادہ تجھے نعمتیں دے رہا ہوں، سب سے زیادہ تیرا خیال رکھ رہا ہوں، تیرے والدین تجھے میں نے عطا کئے، اولاد میں نے تجھے دی، میں نے تجھے رزق دیا، تجھے خوبصورتی، قد و قامت، رنگ و روپ میں نے دیا اور تیری ساری خواہشات میں پوری کرتا ہوں۔ لیکن جب تجھے کوئی مشکل آتی ہے یا آسائش کی حالت میں ہوتا ہے تو سب سے پہلی ہستی جسے تو چھوڑ دیتا ہے وہ میں ہوں۔ اللہ اکبر۔ میں اتنا باوفا ہوں اور تو اتنا بڑا جفاکار۔
درست ہے کہ ہماری بعض دعائیں قبول نہیں ہوتیں اور ہماری بعض مشکلات حل نہیں ہوتیں تو اس میں ہماری پرورش ہوتی ہے۔ ہمارے لیے اصلاح ہے کیونکہ قرار نہیں ہے کہ دنیا میں ہماری ساری خواہشیں پوری ہوں۔ ہاں اللہ اس دعا کو مانگنے کا اجر نہیں ضائع ہونے دیتا اور بعض دعائیں جو ہماری پوری نہیں ہوتیں اللہ انہیں ایک اور جگہ ذخیرہ کر رہا ہے۔
لیکن اگر ہم اپنی خواہشات دیکھیں تو تقریباً ستر فیصد یا پھر نناوے فیصد تو پوری ہوئی ہیں۔ تو یہ کون پوری کر رہا ہے، یقیناً وہ پروردگار ہے۔
حضرت یوسف(ع) جب پریشاہوا تو زلیخا نے سات دروازوں کو نہ صرف بند کروایا بلکہ تالے بھی لگوا دیے۔ یعنی دنیا کی ساری ابلیسیت اور دنیا کا سارا شَر اس ایک عورت کے وجود میں ہے جو کہ ظاہراً خوبصورت ہے، صاحب دولت و مقام ہے۔
یعنی یہ حضرت یوسف(ع) نے بتایا کہ ہر خوبصورتی، خوبصورتی نہیں ہوتی اور ہر مقام، واقعاً مقام نہیں ہوتا۔ کس کے لیے کس چیز کو چھوڑنا ہے۔ ہمارے پاس زندگی میں مختلف مواقع آتے ہیں اور ہو سکتا ہے پھر نہ آئیں اور کہتے ہیں کہ اس طرح کے مواقع انسان کو حرکت میں لاتے ہیں اور وہ مقامات جو اسے سینکڑوں سال کی عبادت سے ملنے ہوتے ہیں وہ اسے صرف ایک فرصت سے مل جاتے ہیں۔
یہ جو بڑے بڑے اولیا گذرے ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ ایک ہی رات میں جو ہزاروں رات کا سفر ہوتا ہے وہ یہی ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ابلیست بھرپور ضرب لگانے کے لیے ہمارے لیے ماحول بناتا ہے اور اگر ہم وہاں تقویٰ الہیٰ یعنی خدا کے حضور کا خیال رکھ لیں تو وہ ہمارے لیے ایک ایسا تحرک ہوتا ہے کہ وہ سفر جو ہم نے اپنی عبادتوں سے سینکڑوں سال میں کرنا تھا وہ اللہ نے اسی ایک تحرک میں کرنا ہوتا ہے اور اسے بونس کہتے ہیں یا پھر بسا اوقات کسی آدمی کو تنخواہ کے علاوہ یا کاروبار میں ایک دم اتنا منافع ہو جائے کہ جو اس کی زندگی کو آسانیوں اورآسائیشوں تک لے جائے۔ تو روحانی زندگی میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک دم ایک عام انسان سے ولی خدا کے مقام تک پہنچ جاتا ہے اور یہ فرصتیں ہر انسان کی زندگی میں آتی ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام گھرے ہوئے ہیں اور زلیخا کہ جس کا خدا بت تھا اس نے اپنے اس جھوٹے خدا پر پردا ڈال دیا اور کہا کہ مجھے اس سے شرم آرہی ہے۔ یہ منظر جب یوسف(ع) نے دیکھا۔اللہ اکبر۔ کہ اس کے نزدیک جھوٹا خدا جو لکڑی و پتھر سے بنا ہے جب یہ اس سے شرم کر رہی ہے تو میرا خدا تو حیّ و حاضر ہے، میں اس کا کیوں نہ حیا کروں۔
بس حضرت یوسف(ع) نے وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ پر عمل کیا۔ اللہ کے حضور کا حیا کیا اور دروازوں کی جانب دوڑ پڑے۔
درس حضرت یوسف(ع) یہ ہے کہ جب جناب یوسف(ع) قفل شدہ دروازوں کی جانب دوڑے تو آیا انہیں معلوم تھا کہ دروازے کھل جائیں گے۔ نہیں، انہوں نے اپنے وظیفے پر عمل کیا، بعض دفعہ لوگ کہتے ہیں کہ پتہ نہیں آگے کیا ہوگا نہیں ایسا نہ سوچیں بلکہ آگے کا کام اس (اللہ) پر چھوڑ دیں کہ جس کے لیے ہم حرکت میں آئیں ہیں۔
فرمان پیغمبرﷺ: من کان للہ کان اللہ لہ ومن کان اللہ لہ کان لہ الکل
جو اللہ کا ہوجاتا ہے، اللہ اس کا ہوجاتا ہے اور جس کا خدا ہوجاتاہے کائنات اس کی ہوجاتی ہے۔
یہ دروازہ اور تالا یوسف(ع) کے لیے سخت تھا کہ کیسے کھلے گا لیکن خدا کے لیے نہ دروازے کی کوئی اہمیت ہے اور نہ تالے کی۔ آیا خدا کے لیے دنیا کا کوئی تالا تالا ہے۔
اس لیے کہتے ہیں کہ ہم جہانِ مادہ میں رہتے ہیں اور اس کے مدمقابل ایک اور جہان ہے جو جہانِ ملکوت ہے۔
جہان ملکوت جو روحانیت اور ملائکہ کا جہان ہے وہ ہمارے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ جہانِ مادہ کے اپنے اصول ہیں اور جہان ملکوت کے اپنے اصول ہیں لیکن یہ جہان مادہ پر قوی اور فوقیت رکھتا ہے۔ جیسے ہمارے اندر روح ہے اور روح دیکھی نہیں جاتی اسی طرح جہان ملکوت دیکھا نہیں جاتا لیکن روح قوی ہے جو ہمارے جسم کو چلا رہی ہے۔ ادھر روح خارج ہوئی تو جسم مردہ ہے۔ اسی طرح جہان ملکوت ہے جو جہان مادہ کو چلا رہا ہے کیونکہ اس کے اندر ملائکہ ہے اور قوت پروردگار ہے۔ مثلاً آگ کا کام ہے جلانا لیکن جب جہان ملکوت کی مرضی ہو تو یہی آگ گلزار بن جاتی ہے، جب اللہ کی مرضی ہو تو اگ کی کیا کیا اہمیت وہ گلزار بن جاتی ہے۔
پانی کا کام بہنا ہے وہ ایک مایع ہے کہ جس میں ہم ڈوب جائیں گے لیکن جب خدا کی مرضی ہو تو یہی پانی دیوار کی مانند کھڑا ہو جائے گا اور موسیٰ(ع) اپنے لشکر کے ہمراہ پار ہوجاتے ہیں۔ چھری کا کام کاٹنا ہے، دنیا میں کب ایسا ہوا ہے کہ چھری نہ چلی ہو۔ لیکن جب اللہ کی مرضی ہو تو چھری چلتی رہی لیکن حضرت اسماعیل(ع) کی گردن نہ کاٹ سکی۔
عرض خدمت ہے کہ اس نکتے پر غور کرنا ہے۔
ہم یہ جو نماز پڑھتے ہیں ہم یہ جو ذکر و اذکار کرتے ہیں ہم یہ جو دعائیں پڑھتے ہیں وہ اس لیے ہے کہ ہم اپنا رابطہ جہان ملکوت سے بہتر کریں اور شدید تر کریں جس طرح کھانا پینا اور ورزش اور اپنی صحت کا خیال رکھتا ہے وہ جہان مادہ میں طویل عمر جیتا ہے، لیکن جہان ملکوتیت کے حوالے سے یعنی جو اس مادہ جہان کو چلا رہا ہے جو فرشتوں کا نظام ہے اس سے رابطہ کس طرح ہوگا، تو وہ یہی دین خدا ہے وہ یہی ہماری عبادات ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ ان پر توجہ کریں کیونکہ یہ اصل رابطے سے آپ کے رابطے کو قوی بنا رہا ہے اور جو اس سے بھی قوی ہے۔
یعنی آگ قوی ہے یا پھر گلزار ہونا قوی ہے، یقیناً وہ قوی ہے جس نے آگ کو گلزار کیا۔ پانی قوی ہے یا پھر وہ قوی ہے کہ جس نے پانی کو مانند دیوار کھڑا کر دیا، یقیناً وہ قوی ہے جس نے پانی کو کھڑا کر دیا۔
عبادات کا ایک فلسفہ یہی ہے اور اس میں بنیادی چیز یہی ہے کہ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ اللہ کی جانب توجہ۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ نماز نماز میں بھی بڑا فرق ہے، ایک نماز کہاں اور دوسری نماز کہاں۔
ایک نماز جو ہماری گردن تک ہوتی ہے اور ایک نماز وہ ہوتی ہے کہ جس میں آثار خشیت ہوتے ہے۔ امام حسن مجتبیٰ(ع) جب نماز کے لیے نکلتے تھے تو چہرے زرد ہوتا تھا، جسم پر لرزا طاری ہوتا تھا، جب لوگ پوچھتے تھے کہ کیا ہوا تو کہتے تھے کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں کس کی بارگاہ میں جا رہا ہوں۔ اس کریم و عظیم و جبار و قہار کی بارگاہ میں جا رہا ہوں وہ نماز جس میں اللہ کی جانب توجہ اور خشیت ہے اس نماز میں اور اِس نماز میں بڑا فرق ہے۔
ہمارا حرم مقدس میں جانے کا ایک ہی ہدف ہونا چاہیے کہ ہم نے ان ہستیوں سے فیض روحانیت اور درس روحانیت لینی ہے۔
ایک بہت بڑی شخصیت: مُلا صَدرا و صدر المتألہین گذرے ہیں وہ کہتے ہیں کہ: انہوں نے حرم معصومہ(س) قم میں مراقبہ کیا تھا، وہ غور و فکر کرتے تھے اور سوچتے تھے یعنی ایسا نہیں کہ حرم میں جائیں روضہ اقدس کو مس کریں پھر چار تصویریں بنائیں اور لوگوں کو بتائیں کہ ہم نے وہاں آپ کے لیے دعا کی، زیارت کی اور ہزار لوگوں کو پیغام دیا۔ درست ہے لیکن میں لے کر کیا آیا ہوں۔ آیا میرے اندر کوئی تبدیلی آئی ہے اور میں نے بی بی سے کیا فیض لیا ہے اور میں کس نیت اور ہدف سے آیا ہوں۔
یعنی ہر روز زیارت کا ایک ہدف ہونا چاہیے۔ آج میں زیارت پر جا رہا ہوں تو اپنے اندر روحانیت کو بڑھانے کے لیے، میں اپنے اندر کے شر سے لڑنے کے لیے جا رہا ہوں، میں توفیق لینے جا رہا ہوں، میں شجاعت لینے جا رہا ہوں، یہ ہستیاں وسیلے ہیں۔
مُلا صَدرا و صدر المتألہین فرماتے ہیں کہ جو حرم معصومہ(س) قم میں مراقبہ سے مجھ پر اسرار و رموز کھلے وہ مجھے کہیں اور میسر نہیں آئے۔ حرم سیدہ معصومہ(س) بہت عظیم حرم ہے اور یہاں بہت بڑی بڑی شخصیات مدفون ہیں۔
عرض خدمت یہ ہے کہ توسل کا ایک ہدف ہونا چاہیے۔ حرم میں کرامات اور دعاؤں کاقبول ہونا حقائق ہیں۔
پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اس عالم ملکوت سے متعلق ہمارے پاس جو چیزیں جو دین اسلام نے بیان کئیں یہ عبادات، حرم ، روضے کہ خدا تعالیٰ ان سے صحیح طور پر مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ پروردگار ہمارے گناہوں کو معاف فرما اورہمیں حقیقی معنوں میں اپنی الہی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین
والسلام
عالمی مرکز مہدویت۔قم