موضوع : جھوٹے انحرافی فرقوں اور فتنوں کا مقابلہ
موضوع درس: گوھر شاہی سے آشنائی
درس11
نکات : گوھر شاھی کے باطل نظریات اور بے اساس دعوے،نہایت کمزور دلائل اور انکا جواب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
موضوع گفتگو مہدویت کے موضوع پر جو باطل مہذہب، باطل گروہ اور باطل فرقے تشکیل پائے ہیں کہ جو خود بھی گمراہ ہوئے اور لاکھوں مسلمانوں کی گمراہی کا باعث بنے۔ اس حوالے سے موضوع قادیانیت پر بحث مکمل ہو چکی ہے اور قادیانیت کے بعد اہلسنت کے اندر ایک اور صوفی فرقہ ہے کہ جنہوں نے مہدویت کو موضوع بنایا اور گمراہ ہوئے وہ ریاض احمد گوہر شاہی کا گروہ ہے کہ جس نے مہدویت کا دعویٰ کیا اور قرآن کی تحریف کا قائل ہوا اور پروردگار عالم، گذشتہ انبیاؑء اور پیغمبرؐ کی نعوذ باللہ اِہانت کی اور اسلام کے اندر بہت ساری گمراہیوں اور انحرافات کا باعث بنا۔
اس حوالے سے کچھ مطالب بیان ہو چکے ہیں اور آج ہم اس گفتگو کو مکمل کریں گے۔
ریاض احمد گوہر شاہی خود تو فنار ہو چکا ہے لیکن اس کا نمائندہ یونس الگوہری ہے جو کہ دنیا کے اندر اسی کے مکتب کو بڑھا رہا ہے اور ان لوگوں نے امام مہدیؑ کے نام سے ایک بہت بڑی ویب سائٹ امام مہدی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے نام سے بنائی اور اس میں گوہر شاہی کے دعوے اور کتابوں کو اس ویب سائٹ پر جمع کیا ہوا ہے۔
ریاض احمد گوہر شاہی کے مہدی ہونے کی دلیل یہ لوگ یہ دیتے ہیں کہ چاند، سورج، حجراسود میں اس کی تصویر نظر آئی ہے۔
گوھر شاھی کے باطل نظریات اور بے اساس دعوے، نہایت کمزور دلائل اور انکا جواب
کچھ اور دلائل جو گوہر شاہی کے مہدی ہونے کے حوالے سے ان کی ویب سائٹ پر ذکر ہوئے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لکھتے ہیں کہ :
امام صادقؑ نے یہ فرمایا تھا کہ مہدیؑ عج کا چہرہ چاند میں دیکھا جائے گا اور اسی لیے گوہر شاہی کی تصویر چاند میں قابل رویت ہے۔
اب یہ روایت کس کتاب میں لکھی ہوئی ہے یہ انہیں معلوم نہیں۔
اسی طرح یہ لکھتے ہیں کہ مولا علیؑ نے یہ لکھا تھا کہ مہدی کی پشت پر مہر مہدویت ہو گی اور گوہر شاہی کی پشت پر بھی اسی طرح کی مہر تھی اور اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر پیغمبرؐ اسلام کا نام تھا اور اس کی بائیں ہاتھ کی انگلیوں پر خدا کا نام تھا۔ (نعوذ باللہ) اب یہ خرافات بھی انہوں نے گوہر شاہی کے حوالے سے بیان کیں ہیں اور وہ انہیں پھیلا رہے ہیں۔
اس کے بعد یہ لکھتے ہیں کہ رسولؐ اللہ کی یہ حدیث ہے کہ مہدیؑ عج کعبہ میں ظاہر ہونگے (یہاں تک تو بات درست ہے) لیکن آگے اپنی خرافات کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ حجرہ اسود اس کی شناخت میں مدد کرے گا اور کعبہ میں حجرہ اسود میں گوہر شاہی کا چہرہ ظاہر ہوا تھا۔ نعوذ باللہ۔
امام زمانہؑ عج کا ظہور:
مولاؑ عج نے کعبہ میں ظہور کرنا ہے۔
انصار نے ان کی بیعت کرنی ہے۔
مولاؑ عج نے اپنی حرکت اور قیام کا آغاز کرنا ہے۔
پوری دنیا پر حکومت قائم کرنی ہے۔
جبکہ گوہر شاہی فرقہ کہتا ہے کہ یہ کعبہ میں ظہور یعنی حجرہ اسود میں گوہر شاہی کی تصور ظاہر ہوگی ۔
اس کے بعد اپنی کتاب ارجع المطالب میں لکھتے ہیں کہ :
امام مہدیؑ عج تمام مذاہب اور فرقوں کو اللہ کے نام پر جمع کریں گے اور گوہر شاہی بھی پوری دنیا کے فرقوں اور مذاہب میں اللہ کے نام کی ہی تبلیغ کرتا رہا۔ اور اسکے ماننے والے بھی پوری دنیا کے فرقوں اور مذاہب میں سے ہیں۔ تو بس یہی امام مہدی ہے ( *نعوذ باللہ ! )
یہ مذید لکھتے ہیں کہ گوہر شاہی نے پوری دنیا کے لوگوں کو اللہ کے عشق اور اس کے مذہب کی جانب دعوت دی ہے اور عشق الہیٰ ہدیہ کیا ہے۔ یہی کام امام مہدیؑ عج نے کرنا تھا اور یہی کام گوہر شاہی کر رہا ہے۔ نعوذ باللہ !
اسی طرح کہتے ہیں کہ:
گوہر شاہی نے یہ کہا کہ جتنے بھی دریا اور سمندر آپس میں مل جاتے ہیں اور اسی طرح جب دنیا کے تمام ادیان اور فرقے آپس میں مل جاتے ہیں تو وہ چیز جو اس میں گم ہو جاتی ہے وہ عشق اور دین الہیٰ ہے اور میں اس کو زندہ کرنے آیا ہوں۔
نعوذ باللہ!
اسی طرح لکھتے ہیں کہ:
امام مہدیؑ عج کے پاس علم لدنی ہے اور اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ گوہر شاہی کے علم لدنی کو پہچانے تو چاہیے کہ کہ گوہر شاہی کی کتاب الہیٰ کو پڑھے۔ نعوذ باللہ!
اس طرح انہوں نے امام مہدیؑ کے ساتھ گوہر شاہی کا موازنہ کر رہے ہیں۔
پھر اسی طرح لکھتے ہیں کہ بریلویوں کے امام احمد رضا نے لکھا تھا کہ امام مہدی نبیؐ اکرم سے براہ راست حکم لیں گے اور اجراء کریں گے اور ہمارے گوہر شاہی نے 1998 میں کوٹری کے مقام پر گوہر شاہی مرکز کی ایک نشست میں یہ کہا تھا کہ میں نے نبیؐ اکرم سے بلمشافہ ملاقات کی ہے اور وہ جو کہتے ہیں میں وہ لوگوں سے کہتا ہے۔ یہ ایک باطل دعویٰ ہے کہ جس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
اس کا نائب یونس الگوہری اپنی سائٹ میں بیان کرتا ہے کہ ریاض احمد گوہر شاہی امام مہدی ہے، کالکی ہے، اوتار ہے، مسیح ہے کہ جس کا ذکر آسمانی کتابوں میں آیا ہے یعنی وہ سارے عالمی نجات دہندہ کے حوالے سے خبریں جو دیگر ادیان میں موجود تھیں وہ انہوں نے گوہر شاہی کے بارے میں تطبیق کر دیں۔ اور پھر یہ لکھتا ہے کہ گوہرشاہی 27 نومبر 2001 کو غائب ہو گیا اور اب یہ حضرت عیسیٰ کے ساتھ مل کر دوبارہ ظہور کرے گا۔ یہی امام مہدی ہے یہ اللہ کے حکم سے غیبت میں چلے گئے ہیں اور معین مدت میں ظہور کرے گا۔
یعنی اس کی موت، جنازے اور اس کی قبر کو انہوں نے غیبت قرار دے دیا ہے۔ نعوذ باللہ !
امام مہدیؑ کے حوالے سے شیعہ اور سنی میں جتنی بھی روایات موجود ہیں ان کے اندر امام مہدیؑ عج کے ظہور کی علامات بیان ہوئی ہیں ان میں سے کوئی بھی گوہر شاہی کے حوالے سے تطبیق نہیں کرتی نہ ہی اس کا نسب ملتا ہے، نہ ہی اس کی ظاہری صفات اور نہ ہی معنوی صفات ملتی ہیں۔
امام مہدیؑ عج اولاد پیغمبرؐ اکرم اور اولاد سیدہ فاطمہ زہراؑ ہیں۔
اور گوہر شاہی سید نہیں بلکہ مغل ہے۔
اس کی تیس سالہ زندگی گناہوں سے آلودہ ہے، کاروباری ہے، حلال و حرام کا کوئی خیال نہیں اور نہ ہی نماز اور نہ ہی عبادت ہے اور خود یہ اپنی کتاب روحانی سفر میں لکھتا ہے کہ میں تو کمائی میں حلال و حرام کی بھی رعایت نہیں کرتا تھا۔ تو اب یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ امام مہدی ہو۔
اس کے احمقانہ دلائل اور جھوٹے دعوؤں پر کوئی انسان بحث ہی نہیں کر سکتا یہ تو واضح طور پر بچگانہ گفتگو ہے۔ یہ کہتا ہے کہ گوہر شاہی نے حضرت عیسیٰ سے امریکہ میں ملاقات کی ہے۔ یہ عجیب اور کذب دعویٰ ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ جب حضرت عیسیٰؑ امام مہدیؑ عج کے دور میں آئیں گے تو بلآخر ان کے معجزات واضح ہونگے اور ساری دنیا پہچان لے گی کہ یہ حضرت عیسیٰؑ ہیں۔
ریاض احمد گوہر شاہی نے خود ہی کسی شخص کو امریکہ میں عیسیٰ بنا لیا اور یہ دعویٰ کر دیا۔
گوہر شاہی کے کافر ہونے پر دلیل:
غرض کہ گوہر شاہی کے یہ جھوٹے دعوے کچھ لوگوں کی گمراہی کا باعث بن گئے لیکن علمائے اسلام نے یہاں سخت ردعمل دکھایا اور اس کے تمام جھوٹے دعوؤں کو باطل قرار دیا۔ اور اس کی تکفیر کی۔
اس وقت اس کے پیروکار ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مھدی تھا اور اب مھدی کا زمانہ ہے لیکن تمام سنی شیعہ علمائے کرام نے انہیں ایک گمراہ فرقہ قرار دیا ہے اور خود گوہر شاہی بھی فتنہ تھا اور یہ کافر ہیں۔
گوہر شاہی اگرچہ بظاہر مسلمان ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس نے اسلام کے خلاف الاعلان کام کیا اور جھوٹے دعوؤں کے ساتھ یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ اسلام فقط نجات کی تنہا راہ نہیں جبکہ قرآن اسلام کو راہ نجات قرار دے رہا ہے۔ لیکن اس نے کہا کہ اسلام واحد راہ نجات نہیں بلکہ آپ اپنے اندر روحانیت اور تصوف پیدا کر لیں جس مذہب میں ہونگے چاہے جس مذہب سے بھی ہوں آپ جنت میں جائیں گے۔ ( کتاب مینارہ نور)
ایک اور جگہ پر کہتا ہے کہ اگر کوئی عیسائی، ہندو، سکھ اور یہودی یہی روحانیت اور تصوف یاد کر لے اگرچہ وہ شہادتین اسلام نہ بھی پڑھے تو وہ خدا تک پہنچ جائے گا۔ (نعوذ باللہ!)
پھر ایک مقام پر کہتا ہے کہ نماز، روزہ، حج ، زکوۃٰ تمام عبادات روحانیت سے خالی ہیں اور روحانیت انسان کے دل کے اندر ہے کہ جو انسان کا دل حرکت کرتا ہے اور اس دل سے جو دھک دھک کی آواز آتی ہے روحانیت اس کے اندر ہے۔ نعوذ باللہ!
جعلی کلمہ
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ گوہر شاہی کے پیروکاروں کا کلمہ جو وہ پڑھتے ہیں لا الا الہ اللہ کے بعد کلمہ میں محمد رسول اللہ کی جگہ اس ظالم نے گوہر شاہی رسول اللہ لکھوایا۔( نعوذ باللہ !)۔
اگرچہ اس گمراہ فرقے کے ماننے والے محدود ہیں لیکن یہ بھی مغربی سازشوں میں سے ایک سازش اور ایک فتنہ ہے جو امام مہدیؑ کے نام سے اٹھا جو کتنے ہی لوگوں کی گمراہی کا باعث بھی بنا اور آج بھی بن رہا ہے۔
اس ضمن میں ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ان کے باطل دعوے اور جھوٹی بے اساسی دلیلیں کہ جن کا کوئی سر پاؤں نہیں ان کے مدمقابل لوگوں کو آگاہی دیں اور ان جیسے لوگوں کی خرافات کو واضح کر کے پیش کریں تاکہ ہمارے بچے اور جوان ان حقائق سے آشنا ہوں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ حقائق کے دفاع اور پرچار کے لیے ہماری ذمہ داری کیا ہے اور وہ اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھا سکیں۔
والسلام
عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔