توحید یعنی تم اپنی زندگی میں تمام کاموں میں ایک خدا پر یقین رکھو، نہ کہنے میں کہو کہ میں اللہ واحد کو مانتا ہوں اور اپنے کاموں میں ہزاروں چیزوں جائز و نہ جائز سے مدد لو۔
خدا حق ہے خود قران میں فرمایا: ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ۔۔۔
وہی خدا ہی حق ہے اس کے علاوہ جس کو پکارتے ہو وہ باطل ہے۔۔۔
جب انسان اپنے کاموں میں جھوٹ سے مدد لیتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ توحید پر یقین نہیں رکھتا ہے وہ اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے جو کہ باطل ہے اسی لیے اہل توحید کی سب سے بڑی نشانی صداقت ہے۔
پس ایاک نعبد و ایاک نستعین کہاں ہے
کیسے ہوسکتا ہے نعبد باللہ اور نستعین بالکذب
کہنے میں اللہ کی عبادت کرے اور مدد جھوٹ سے لے
جو لوگ کہنے میں اللہ کی بات کرتے ہیں اور زندگی کے کاموں میں ہزاروں وسائل سے ناجائز سہارا لیتے ہیں وہ توحید پر نہیں ہیں
ہمارے فردی و اجتماعی سارے مسائل و برائیوں اور مظالم کی جڑ توحید سے دوری ہے۔
استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب۔
عالمی مرکز مهدویت_ قم