تازہ ترین پوسٹس

تخلیق کائنات کا مقصد کیا ہے؟

100 سوال جواب ورکشاپ

خلاصہ درس استاد محترم جناب علی اصغر سیفی صاحب

سوال چہارم: تخلیق کائنات کا مقصد کیا ہے؟

 

 

 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اہم ترین سوال: خلقتِ کائنات اور انسان کا مقصد کیا ہے؟؟ یہ سوال کہ ہم کیوں پیدا کیے گئے؟ کائنات کی خلقت کا ہدف کیا ہے؟اور کیا اللہ کو ہماری ضرورت تھی؟

انسانی فکر کا سب سے بنیادی اور گہرا سوال ہے۔

جواب: اسلامی تعلیمات، قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ کائنات اور انسان کی تخلیق کسی اتفاقی حادثہ (Accident) یا بے مقصد عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ کائنات ایک عظیم حکمت، مقصد اور ہدف کے تحت بنائی گئی ہے۔

 

مادی و الحادی نظریات کا جائزہ

مادی فکر رکھنے والے یا ملحد افراد عام طور پر دو نظریات پیش کرتے ہیں:

1۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ سب کچھ خود بخود وجود میں آ گیا

یہ کائنات خود بخود پیدا ہوئی اور ایک دن خود بخود ختم ہو جائے گی۔

2۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ کسی خالق نے بنایا، پھر وہ خالق ختم ہو گیا لیکن پھر نظام خود چلنے لگا۔۔۔

جیسے پنڈولم والی گھڑی کہ کسی نے بنایا مگر اب وہ خود ہی چل رہی ہے، خالق کا اس سے کوئی تعلق باقی نہیں۔

یہ دونوں نظریات ناقص، سطحی اور خدا سے دور کرنے والے ہیں، کیونکہ ہم خود اپنی زندگی میں کوئی بھی کام بغیر مقصد کے نہیں کرتے، تو یہ وسیع و منظم کائنات کیسے بے مقصد ہو سکتی ہے؟

 

کائنات کا مقصد: انسان

قرآن مجید بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ:

یہ کائنات انسان کے لیے خلق کی گئی ہے۔سورۃ البقرہ، آیت 29۔

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا

ترجمہ: وہی ذات ہے جس نےزمین میں جو کچھ ہے سب تمہارے لیے پیدا کیا۔

درخت،  نباتات، حیوانات،  زمین،  آسمان، سب کسی نہ کسی شکل میں انسان کے فائدے کے لیے ہیں: غذا، لباس، شفا، حسن و جمال۔

بظاہر نقصان دہ چیزوں میں بھی اللہ کی حکمت ہے۔

ایک شاگرد نے استاد سے سوال کیا: زمین کے زہریلے کیڑے، سانپ اور بچھو کیوں پیدا کیے گئے؟ استاد نے نہایت حکیمانہ جواب دیا:  یہ کیڑے زمین کے اندر موجود زہریلے مادّوں کو جذب کرتے ہیں اگر یہ نہ ہوں تو زمین کی فصلیں زہریلی ہو جائیں اور انسانوں اور سبزی خور جانداروں کو شدید نقصان پہنچے۔

مزید یہ کہ: انہیں زہریلے جانوروں سے دوائیں تیار کی جاتی ہیں، شہد کی مکھی کی طرح، جو کڑوا رس چوس کر میٹھا شہد بناتی ہے جو بنی نوع انسان کے فائدے کے لیے کام اتا ہے۔

 

نتیجہ

اللہ نے کوئی چیز بھی بے حکمت پیدا نہیں کی۔

کیا اللہ کو ہماری ضرورت تھی؟ ہرگز نہیں!۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے، بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں، تمام مخلوق اللہ کی محتاج ہے، اللہ کسی کا محتاج نہیں۔

تو سوال یہ نہیں کہ کئی اللہ کا ہدف کیا تھا؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا ہدف کیا ہے؟

اس میں ایک بہترین نکتہ بیان کیا گیا فاعل کا ہدف اور عمل کا ہدف۔ کبھی کوئی کام اپنے لیے کیا جاتا ہے اور کبھی کام دوسروں کے لیے کیا جاتا ہے، کوئی کھانا خود کھانے کے لیے بناتا ہے اور کوئی دوسروں کو کھلانے کے لیے بناتا ہے۔

جو دوسروں کے لیے جیتا ہے وہی کریم ہوتا ہے اور اللہ تعالی کی ذات کریم ہے اور ہر قسم کی کرامت کا منبع ہے۔

 

اللہ کی عبادت کی تین اقسام(فرمانِ امام علیؑ)

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:1۔ کچھ لوگ جہنم کے خوف سے عبادت کرتے ہیں۔ 2۔کچھ لوگ جنت کی لالچ میں عبادت کرتے ہیں۔ 3۔اور کچھ لوگ اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ اللہ عبادت کے لائق ہےاس نے ہمیں پیدا کیا، نعمتیں دیں، لہٰذا اس کا شکر اور احترام لازم ہے۔

تیسری قسم کی عبادت سب سے اعلیٰ ہے۔

 

انبیاء و ائمہؑ: کمال یافتہ انسان

جو لوگ اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جیتے ہیں وہی صاحبِ کمال ہوتے ہیں۔

انبیاء اور ائمہ ایسے ہی انسان ہوتے ہیں …اور اللہ تعالی ہم سب کا خالق اس فہرست میں سب سے اوپر ہے وہ صاحب کمال ہے اور ہر طرح سے بے نیاز ہے۔

خدا کے تمام افعال بھی مخلوق کے فائدے کے لیے ہیں،  ہمیں بھی یہی راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اصل بندگی کیا ہے؟  دوسروں کو فائدہ پہنچانا، انسانوں کو کمال تک پہنچانا،  خیر کے معاملے میں ان کی مدد کرنا، اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر جینا،  یہی حقیقی بندگی ہے

دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے، یہ دنیا مستقل ٹھکانہ نہیں ایک عارضی سفر ہے۔ اصل منزل برزخ، قیامت، ابدی آخرت۔

ہم یہاں اس لیے آئے ہیں تاکہ اگلی زندگی کے لیے خود کو تیار کریں۔

 

خلاصۂ کلام

کائنات کا مقصد انسان ہے اور انسان کا مقصد دوسروں کو فائدہ پہنچانا ہے، اپنے روحانی و اخلاقی کمال تک پہنچنا ہے۔

اللہ خود صاحبِ کمال ہےاور چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنی حقیقت کو پہچانے اور کمال تک پہنچے تاکہ آخرت کی ابدی زندگی میں اس کے درجات اعلی ہوں اور وہ زندگی بہترین اس سے بسر ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ یہ معارف ہماری تربیت کریں ہمیں مادی اور روحانی کمال تک پہنچائیں، ہم اپنے رب اور اپنے وقت کے امامؑ کے منظورِ نظر بن سکیں۔

آمین ثم آمین۔ اَللّٰهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَج

والسلام علیکم

عالمی مرکز مہدویت_قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *